کیا آپ بچے کو ہوم سکولنگ طرزِ تعلیم پر آپریٹ کر رہے ہیں؟  چند مشورے — ہمایوں تارڑ

0

بچے کی تعمیر: چند مشورے چند تجاویز

اس تحریر کا مخاطب ایسے والدین ہیں جن کا واسطہ پرائمری سطح کے بچوں سے ہے۔ اگرچہ توقع کی جاتی ہے کہ سب والدین کے حق میں یہ پیغام اتنا ہی مؤثر ہو گا۔

  • ایک دن میں آپ کوئی سے دو عدد مضامین پر major subjects کے بطور فوکس رکھیں۔ جیسے آج 13 فروری بروز ہفتہ آپ صرف اُردو اور سائنس پر کام کریں گے۔ صبح 9 بجے سے 2 بجے تک 15 سے 20 منٹ والی breaks کے ساتھ طویل دورانیے کے سیشنز منعقد کریں۔ جبکہ دو بجے کے بعد شام کے اوقات میں باقی مضامین کو ہلکے پھلکے انداز میں چھیڑا جائے۔ کیسے؟ آئیں اس پر بات کرتے ہیں۔
  • ٹائم ٹیبل اور مقدارِ کام جیسی شے بس آپ کے اپنے ذہن یا نوٹ بُک وغیرہ میں ہو۔ بچے کے روبرو لمبی چوڑی فہرست کا اعلان نہ کیا جائے: ‘آپ نے یہ کرنا ہے، پھر وہ کرنا ہے، پھر وہ کرنا ہے۔ ۔ ۔ وغیرہ۔ ایسا کرنے سے لَرننگ کا عمل نفسیاتی بوجھ بن کر سزا کا سا تاثر پیدا کرتا ہے۔ بچے کا ننھا دل switch off ہو جاتا ہے۔
  • پڑھائی کا اعلان ذرا پُرجوش اور تخلیقی نوعیت کا ہو، جیسے: ‘چلو جی، بیڈمنٹن کھیلتے ہیں، پھر اُردو کی کتاب میں سےپانچ سطروں کی ریڈنگ کرناہے۔ ‘ اس طرز کا اعلان نفسیاتی اعتبار سے مفید ہے: آپ نے بچے کے دل و دماغ کو ایکسائٹمنٹ دی، ساتھ میں حد بندی والے اَینکر کے ساتھ hook بھی کر دیا کہ میاں! یہ کھیل کُود لامحدود نہیں ہے۔ نیز، پڑھائی والا کام بھی بہت زیادہ نہیں بلکہ بس پانچ سطریں ہی تو پڑھنا ہیں۔۔۔ یعنی گھیر گھار کر بٹھانے کی غرض سے اناؤنسمنٹ کو ہلکا پھلکا رکھیں۔ جب بیٹھ جائیں تو بھلے سارا دن بٹھائے رکھیں۔ یہ آپ کی مہارت، دلچسپی، بچے کو جوش دلا کر قدم بہ قدم آگے بڑھانے، مزید کام کروائے چلے جانےکے ہُنر پر منحصر ہے۔
  • یہ بہانے فضول ہیں ہے کہ ہم تو جوائنٹ فیملی سسٹم میں ہیں، نیز گھر کے کام کریں یا پڑھائی۔ ۔ ۔ وغیرہ۔ ہر کسی کے اپنے مخصوص حالات ہیں۔ پہلے سے تھوڑی منصوبہ بندی، دانائی، صبر، دعا، عملیت پسندی جیسے ہتھیار انسان کو اسی لیے عطا ہوئے ہیں کہ اپنا راستہ نکالے، اور راستہ تلاش کرنے والے کو راستہ مل جاتا ہے۔ بطور والدین آپ اپنے بچوں کے لیے لیڈرشپ رول لیے ہوئے ہیں، اور یاد رہے کہ:

Leadership is all about responsibility.

پڑھائی کا آغاز کرنے سے پہلے فزیکل ایگزرشن یا بھاگ دوڑ والی کوئی ایکٹوٹی مفید ہے، جیسے چھت پر جا کر یا لاؤنج میں بیڈمنٹن کھیل لی جائے۔ ایسے کھیل میں بھی تھوڑی کرئیٹوٹی، تھوڑا چیلنج رکھ دیا جائے، جیسے: ‘پورے تین منٹ شَٹل نیچے نہ گرنے پائے۔ پہلے حامد اور ماما کا میچ ہو گا، تب فارہہ اور حامد کا، تب فارہہ اور ماما کا۔ ہر ٹیم کو تین attempts ملیں گی۔ پھر دوسری ٹیم باری لے گی۔

پڑھائی کا آغاز کرتے ہوئے ‘آپشن’ دیا جا سکتا ہے جو بہت broad نہ ہو جیسے ‘آپ پڑھنا چاہیں گے یا کھیلنا چاہیں گے؟’

بلکہ کچھ ایسا کہ ‘آپ پہلے اردو کا کام کرنا چاہیں گے یا میتھ کا؟ آپ پہلے ریڈنگ کرنا چاہتے ہیں یا رائٹنگ ؟’ تھوڑی آزادی کا احساس دیں۔ بچہ پابندی اور قید والی نفسیات کا شکار نہ ہو۔

اب ایک مضمون، جیسےاُردو یا کوئی بھی زبان، سے متعلق آپ اپنی سطح پر کوئی سے دس عدد اسباق کا انتخاب کر لیں، یعنی ایک بڑا ٹارگٹ متعین کریں۔ تب اسے چھوٹے چھوٹے ٹارگٹس میں تقسیم کر لیں، جیسےرواں ہفتے میں آپ کُل ایک سبق کی ریڈنگ مکمل کرائیں گے۔

اور اسی طرح، رائٹنگ کے لیے فلاں پانچ عدد مشقیں ختم کرائیں گے۔ ابتدا صرف ایک سطر سے بھی کی جا سکتی ہے۔ کم مقدار یا تھوڑے سے کام والا تاثر ہمیشہ برقرار رہے، پھر ہمت افزائی کرتے ہوئے اس طور آگے لے کر چلیں کہ بچہ خود اپنے جوش و خروش کے ساتھ کام کرے۔

8۔ مسلسل پاس بیٹھنا ممکن نہ ہو توآدھ صفحے کی ریڈنگ ریکارڈ کر کے دی جا سکتی ہے جس کی مدد سے بچہ آپ والی ریکارڈنگ سن سن کر دی گئی سطروں کو پڑھنے کی مشق کرے۔ یوں ٹیکنالو جی کو شامل کر لینا ذرا ورائٹی پیدا کر دیتا ہے۔ نیز، بچے سے کہیں کہ وہ اپنی آواز میں بھی یہی سطریں ریکارڈ کرے۔ اپنی آواز ریکارڈ کر کے سننے کا عمل جوش و خروش پیدا کرتا ہے۔

ذخیرہ الفاظ بنانا بہت ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے دو کام کرنا ہوں گے۔ اوّل، ہر سبق میں سے 5 سے 10 عدد الفاظ نکال کر ووکیبلری کارڈز پر لکھوا لیں۔ یہ کارڈز بازار میں دستیاب کَلرڈ شیٹس کو کاٹ کر بنائے جا سکتے ہیں۔ کارڈز کی پُشت پر اُس لفظ کا ایک عدد مترادف لفظ لکھ دیں۔ یوں، یہ دس الفاظ بیس الفاظ میں بدل جائیں گے۔ سبق میں پڑھے یہ الفاظ زیادہ اہم ہیں چونکہ بچہ اِن کے سیاق و سباق سے آگاہ ہے۔ یوں، دس اسباق میں سے اگر آپ نے کُل 100 الفاظ نکالے ہیں تو مترادف الفاظ کی موجودی اُنہیں 200 الفاظ میں بدل ڈالے گی۔ گاہے گاہے آپ اس ذخیرہ الفاظ پر تحریری اور زبانی کوئز کراتے رہیں تو یہ سارے الفاظ بچے کو ازبر ہو جائیں گے۔ دوم، الفاظ کی ساخت، اقسام، اور گرامر کے اعتبار سے حیثیت پر بات کرنا اہم ہے۔ بچے رفتہ رفتہ جان لیں کہ فعل، اسم، اسمِ صفت وغیرہ کیا ہیں۔ نیز محاورات، ضرب الامثال یہ بنیاد یہیں سے رکھنا ہو گی۔ آگے چل کر یہ بچے جب بڑے امتحانات میں بیٹھیں گے، بالخصوص مقابلے کے امتحانات میں، تو ایسی مضبوط بنیاد بہت کام آئے گی۔

10۔ ریاضی/میتھ کے لیے خان اکیڈمی والوں کی ویب سائٹ پر دئیے ویڈیو ٹیوٹوریلز سے مدد لیں۔ اگرچہ یہ سب مواد انگریزی زبان میں ہے۔ بات نہ بنے تو آپ sabaq.pk والوں کی ویڈیوز سے استفادہ کریں۔ یہ مواد اُردو زبان میں ہے۔ اس کے علاوہ دیگر پلیٹ فارمز بھی انٹرنیٹ پر موجود ہیں۔ اور براہ راست کوئی ٹاپک لکھ کر یوٹیوب ویڈیوز سے بھی استفادہ کیا جا سکتا ہے۔

11۔ اپنے طور پر طے کر لیں کہ گریڈ 5 کے میتھ میں سے دو چیپٹرز اس رواں ہفتے میں مکمل کرانا ہیں۔ ان دو مضامین کا کچھ مشقی کام کل کے لیے رہنے دیں۔ دن دو بجے کے بعد تین گھنٹوں کی لانگ بریک دے ڈالیں۔ اور شام چھ بجے آپ پچھلے روز والے مضامین کا مشقی کام کروا لیں۔ اس مقصد کے لیے آدھ پون گھنٹہ کافی ہے۔ اب اگلا دن انگلش اور سوشل سٹڈیز/معاشرتی علوم کا ہے جوآپ دن 2 بجے تک کروائیں گے۔ اس وقت سے آگے دو تین گھنٹوں کی بریک دی جا سکتی ہے۔ تب شام چھ بجے آپ پچھلے روز والےدو مضامین یعنی اُردو اور میتھ کی باقی ماندہ مشقیں کروا سکتے ہیں۔

12۔ اپنے بچے کا ہر گز ہر گز کسی دوسرے بچے سے موازنہ نہ کریں۔ ہر بچہ منفرد ہے، اور اس کے اپنے مخصوص مسائل ہیں۔ آپ کے بچے کی پراگریس صرف یہ ہے کہ گذشتہ کل کے مقابلے میں وہ آج کس قدر آگے بڑھ پایا۔ نیز، طعنہ دینے سے گریز کریں۔ سیدھی بات، اصل پیغام، جو کرنا ہے بس اتنی بات، خواہ آپ کو دس مرتبہ ایک جملہ دوہرانا پڑے۔ تحمّل، سنجیدگی، فراخدلی، اور معاف کر دینے والا رویّہ۔ چڑچڑے پن سے، چیخنے چِلّانے سے گریز! پڑھانا ایک چیز ہے، تربیت کرنا دوسری۔ آپ کے رویّے بچے کی تربیت ہیں۔ وہ دوسروں کے ساتھ اپنے تمام معاملات میں یہی رویّے برتے گا جو اُس نے اپنی ماں، اپنے والد اور بڑے بہن بھائیوں میں دیکھ رکھے ہیں۔

13۔ کوئی کوئی بچہ ایسا ہوتا ہے کہ آپ لاکھ کوشش کر لیں، اُس کا ذہن، اُس کا مزاج کتابی اور تحریر ی دنیا سے مطابقت پیدا کر کے نہیں دیتا۔ ایسی صورت حال میں آپ ایسا مت سوچیں کہ وہ غبی ہے۔ ہر بچہ اپنے طرز کی مخصوص ذہانت رکھتا ہے۔ تعلیمی دنیا کے ماہرین کے مطابق کوئی بچہ کُند ذہن نہیں۔ خیر، اس حوالے سے آپ کی کوشش یہ ہونی چاہئیے کہ بچہ لکھ پڑھ سکنے کی بنیادی مہارت حاصل کر لے۔ حساب کتاب کے لیے ضرب، جمع، تقسیم، اَیوریج، اور پرسنٹیج نکالنا جیسی سکِلز اُسے کسی طور آ جائیں تا کہ زندگی بھر وہ اِس معاملے میں دوسروں کا محتاج نہ ہوا پھرے۔

مزید یہ کہ ایسے بچے کو ہاتھ والا ہُنر سیکھنے کی راہ پر ڈال دیں۔ آپ اُسے بتائیں کہ وہ ایک عمدہ بزنس مین بن سکتا ہے۔ ایک اچھا سافٹ ویئر ڈویلپر بن سکتا ہے۔ ممکن ہے اس بچے میں عمدہ managerial شعور و صلاحیت ہو۔

جیسی اُس کی صلاحیت ہے، ویسے رول ماڈل افراد سے اُس کی ملاقات کا بندوبست کریں، اور بار بار کریں۔ آپ دیکھیے گا، اُس بچے میں برقی رَو دوڑ جائے گی۔ وہ اِنسپائر ہو گا اور کچھ نہ کچھ مثبت انجام دینے کے ٹریک پر آ جائے گا۔

بچہ تھوڑا بڑا ہو جائے توآپ اُسے اچھی شہرت والی کسی شخصیت کی تحویل apprenticeship میں دے دیں۔ وہ کچھ گھنٹے کسی ورکشاپ، کسی دکان، کسی ہوٹل، کسی بڑے ریستوران، کسی ڈیپارٹمنٹل سٹور وغیرہ پر لگا لیا کرے۔ یوں، بچے کااپنا تجربہ و مشاہدہ اب اُس کا ادارہ ہے۔ یہ تجرباتی اور عملی تعلیم اسکول والی تعلیم سے کہیں بڑھ کر ہے۔ انشااللہ، بہت جلد وہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو گا، اور گھر بھر کا فخر بنے گا۔ آپ اس کے دوست بن جائیں، اُس کی دنیا کو سمجھیں، اس کا رُجحان دیکھیں، اُس کا دُکھ توجہ سے سنیں۔ اُسے بتائیں:

“آپ جو کچھ بھی کرنا چاہتے ہیں، ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ ”

روایتی تعلیم کے مطابق نہ پڑھ سکنے کا طعنہ اُسے کبھی نہ دیں۔ ایسا رویہ ہی اُس بچے کو اُس کی مخصوص تعمیر دے سکتا ہے۔

راقم کی طرف سے سب والدین کے لیے سلام اور رحمت کی دعا۔

یہ بھی پڑھیں: مخلوط طرز تعلیم: لڑکوں کا دشمن۔ ایک سائنسی تجزیہ------ شریف اللہ محمد
(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

ہمایوں مجاہد تارڑ شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں۔ اولیول سسٹم آف ایجوکیشن میں انگریزی مضمون کے استاد ہیں۔ بیکن ہاؤس، سٹی سکول ایسے متعدّد پرائیویٹ اداروں سے منسلک رہ چکے۔ ان دنوں بھی اسلام آباد کے ایک پرائیویٹ ادارے کے کیمبرج سیکشن میں تدریسی فرائض انجام دے رہے ہیں۔سوشل میڈیا پر خاصے ایکٹو رہے ہیں۔تاہم، کسی قلبی واردات کا شکار ہو کر نئے سال 2017 کے طلوع سے ٹھیک ایک روز قبل یہ غروب ہو گئے تھے۔ پردہ نشینی کی وجوہات میں ایک خاص وجہ ان کا ایک نئے تعلیمی ماڈل کا قیام پر کام کرنا تھا، جو خاصی مقدار میں ہو بھی چکا۔اِن دنوں اس انقلاب آفریں نئے ماڈل کے خواب کو تعبیر دینے کے لیے کوشاں ہیں۔ اس موضوع پر ان کی تحریر 'بچوں کی تعلیم کا جبر: آزادی کا ایک ماڈل' دانش ویب سائٹ پر ہی ظاہر ہو کر اچھا رسپانس وصول کر چکی۔اندرون اور بیرون ملک مقیم کچھ احباب نے بھرپور دلچسپی کا اظہار کیا، اور ان کےہمرکاب ہو جانے کا دم بھر ا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20