پاکستان میں فیمنزم کا مقصد: عورت کے حقوق یا ہم جنس پرستوں LGBT کے؟ —- ڈاکٹر مریم عرفان

0

رواں سال بھی ۸ مارچ کا دن ایک متنازعہ سورج کی صورت مشرق سے ابھر کر مغرب میں ڈوب گیا۔ اگرچہ کرونا کی وجہ سے اس دن زیادہ جوش و خروش نہیں دیکھا گیا لیکن سوشل میڈیا پر چلنے والی بحث و تکرار ماضی جیسی ہی رہی۔ عورتوں اور مردوں کے مابین بننے والے دو گروہ متصادم ہیں۔ عورتیں یہ ثابت کرنے میں سرگرداں ہیں کہ مرد ان کا استحصال کرتے ہیں اور مرد حضرات اپنے احسانات کے ٹوکرے دنیا بھر کی عورتوں کے سروں پر رکھنے پر بضد ہیں۔ اس بے نام دوڑ میں جیت کسی کی بھی نہیں ہو گی بس اتنا ہو گا کہ آیندہ آنے والے سال کسی نئے فتنے کو پروان چڑھانے میں کوشاں رہیں گے۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جس فتنے کو پروان چڑھانے میں کوششوں کی ضرورت ہے وہ پیدا ہو چکا ہے۔ اس فتنے کو ایل جی بی ٹی LGBT یعنی لیزبین، گئے، بائی سیکس شوایل اینڈ ٹرانس جینڈر کہا جاتا ہے اور عرف عام میں ہم جنس پرستی۔

Aurat March organisers demand judicial probe into stone peltingنعرہ، جسے آپ دشمن کو للکارنے سے بھی تعبیر کر سکتے ہیں گویا آپ کے غصے کا اظہار دوسرے کی توہین سے ہی ہو سکتا ہے۔ اس مرتبہ بھی عورت مارچ میں لگائے جانے والے نعرے حیا سوز رہے۔ جو نگاہیں بے حیائی کی دبیز تہہ تلے بند تھیں وہ یکدم کھلیں اور پھر سو نہیں سکیں۔ گزشتہ سال تو ہم نے سنا تھا کہ ’’اپنا کھانا خود گرم کر لو‘‘، ’’میں ٹائر بھی بدل سکتی ہوں‘‘ اور ’’لو میں بیٹھ گئی‘‘ جیسے نعرے انسانیت اور نسائیت کو شرما گئے۔ اسی طرح رواں برس کے نعرے بھی خاصے متنازعہ رہے جن میں سے ایک نعرہ قابل گرفت ہی نہیں بلکہ ناقابل معافی بھی ہے یعنی ’’مردوں کی نس بندی کر دو‘‘۔ یہ معاشرے کی اس ابتر صورت حال کی عکاسی ہے جس سے ہمیں جلد یا بدیر نبٹنا پڑے گا۔ کراچی میں منعقدہ ریلی میں فرانس کے جھنڈے کی موجودگی نے بہت سے سوالات کو جنم دے دیا ہے جس کا جواب دیتے ہوئے عورت مارچ کی منتظمین کا کہنا تھا کہ یہ فرانس کا جھنڈا نہیں ہے بلکہ یہ ویمن ڈیموکریٹک فرنٹ کا جھنڈا ہے جو سال ۲۰۱۸ ء سے اس مارچ کا حصہ رہا ہے۔ اس مرتبہ قوس قزاح کے رنگوں سے مزین جھنڈوں کی موجودگی نے واضح طور پر اس بات کا عندیہ پیش کیا کہ یہ نشان ہم جنس پرستوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ کراچی میں ہونے والے مارچ میں شریک بیس سے تیس سال کی عمروں کے مرد و خواتین اور خواجہ سراؤں نے یہ رنگ برنگ جھنڈے لہرائے اور نعرے بھی لگائے۔

گویا ایک طرف تو فیمنسٹ ٹولہ ہے اور دوسری جانب ہم جنس پرستی میں ملوث لوگ جنہیں ریاست مدینہ سے امید ہے کہ معاشرہ انھیں ان کے حقوق کے ساتھ قبول کرے گا۔ اس تمام بحث کا مقصد پڑھنے والوں کی توجہ صرف اس بات کی طرف مرکوز کرنا تھا کہ آخر عورت مارچ سے شروع ہونے والا جلوس ایل جی بی ٹی پر جا کر کیوں ختم ہوا؟ مردوں کی نس بندی اور عورتوں کے لیے طلاق کی پرزور حمایت کس بات کا شاخسانہ ہے؟ ہمارے ہاں ابھی تک بروقت شادی جیسے مسائل موجود ہیں اور ایسی صورت حال میں طلاق مانگنے کا جو سگنل دیا جا رہا ہے اس کے پیچھے کیا پروپیگنڈا ہے اسے سمجھنا اب مشکل نہیں ہے۔ وطن عزیز میں اب ہم جنس پرستی کا شکار ہونے والے افراد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس کمیونٹی کا اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانا بھی اب معتبر ٹھہرنے لگا ہے جبھی تو ایسے بے باک نعرے اور پوسٹرز آزادی کے ساتھ سامنے آئے۔ ہمارے انٹلیکچوئل حضرات ابھی تک عورت اورمرد کارڈ کھیلنے پر جتے ہوئے ہیں جنہیں اس بات کا اندازہ ہی نہیں ہو پا رہا کہ کیا کچھ ہونے جارہا ہے۔ جن جوان بچوں اور بچیوں نے کل کو شادی جیسے مقدس بندھن میں بندھنا ہے وہ ہم جنس پرستی کا سبق پڑھنے پر مجبور ہیں کیوں کہ آزادی رائے پر ان کا حق سب سے زیادہ ہے۔ مذہبی جماعتیں بھی اپنی ذمہ داریوں سے آنکھیں بندکیے بیٹھی ہیں جب پانی سر سے اونچا ہونے لگتا ہے تو اچانک ان میں سے کچھ ڈنڈوں اور سوٹوں کے ساتھ سڑکوں پر آ کھڑے ہوتے ہیں۔ دن منانے کا اتنا ہی شوق ہے تو مرد حضرات ویمن ڈے منایا کریں اور خواتین مردوں کا دن منا لیا کریں شاید اس سے ایک دوسرے کی اہمیت کا اندازہ ہو سکے۔

دنیا بھر میں ہم جنس پرست ثقافتی اور سیاسی بیساکھیوں کے بل بوتے پر اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اوبامہ انتظامیہ کے دوران بھی امریکی سفارت خانوں کو ایل جی بی ٹی کے حقوق کی حمایت کرنے کا واضح مینڈیٹ ملا۔ یہ بات بھی قابل فہم ہے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں ہم جنس پرستوں کے حقوق کے کارکنان دنیا بھر میں اپنے بھائیوں اور بہنوں کو اسی طرح کی حفاظت اور عوامی قبولیت حاصل کرتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے ان کا لوگو یعنی علامت اور آئی ایل جی اے کی رپورٹ ایک یاد دہانی ہے کہ دنیا بھر کی نقل و حرکت کو اپنے پیغامات اور آگے کی راہیں تلاش کرنا پڑ سکتی ہیں۔ گویا ہم جنس پرستی مغربی رجحان ہے جس کی جڑیں اب ایشیا ئی ممالک کی طرف تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ اس سال عورت مارچ کے شرکا نے بھی اپنے مطالبات سامنے رکھ کر مزید ثابت کیا ہے کہ وہ پاکستان میں کیسا نظام چاہتے ہیں۔ ہمارا ہمسایہ بھارت سیکولر ملک ہے جہاں سیکشن ۳۷۷ انڈین پینل کورڈ کے تحت سپریم کورٹ نے ہم جنس پرستی کو قانونی حیثیت دے دی ہے۔ جہاں برطانوی راج کے دوران اس پر پابندی عائد کی گئی تھی اب وہاں ایل جی بی ٹی کمیونٹی کو بھی اپنی شناخت مل چکی ہے۔ پاکستان کو اسلامی مملکت تسلیم نہ کرنے والے یہی چاہتے ہیں کہ کسی طرح یہاں بھی آزادی رائے کی آڑ میں ہم جنس پرستی کا کھیل کھیلا جائے۔ اس کے لیے سوشل میڈیا پر چلنے والی تحریکیں اور مواد کافی ہے۔

عورت مارچ کو منانے کا مقصد بھی اب بدل چکا ہے اور اسی لیے اس کا رخ ان نعروں نے اپنی جانب موڑ لیا ہے۔ تماشائیوں کو بگل بجنے کا انتظار ہے کہ اس طرح اپنی اپنی بین لے کر بجانے میں جو لطف ہے وہ ابھی بولنے میں کہاں۔ یہ ایک ایسے معاشرے کا فروغ چاہتے ہیں جہاں شادی کو جبر سے تعبیر کر کے اورخواتین کو طلاق سے ڈرا کر عورت کو عورت اور مرد کو مرد کے قریب کیا جائے۔ احسن عمل تو یہی ہے کہ آیندہ سال ۸ مارچ کو منانے کا تاریخ ساز رجحان ترک کرنے کے بجائے اس میں کمی کی طرف توجہ دی جائے۔ اس دن کو اپنی توجہ سے ہٹا کر کسی مثبت سرگرمی میں صرف کیا جائے اور عورت کارڈ کے بجائے اپنے تیروں کا رخ اس کمیونٹی کی طرف کریں جن کی بندوقیں ۸ مارچ کے کندھوں پر ٹکی ہیں۔ ایل جی بی ٹی کمیونٹی اب آٹے میں نمک کے برابر نہیں بلکہ اس سے کچھ آگے بڑھ چکی ہے انھیں اپنے مطالبات پیش کرنے کے لیے بس مزید کچھ اور سال چاہئیں پھر آپ ان کے تحفظ کا دن مناتے نظر آئیں گے۔ عورت مارچ کے علاوہ یہ طبقہ کسی اور دن اپنے رنگ برنگ جھنڈے لے کر نکلنے کی جرأت نہیں کر سکتا کیونکہ اس ملک میں ہر عقیدے کا ایک مولوی ضرور موجود ہے جو فی زمانہ ہمارے لیے شاید کسی نعمت سے کم نہیں۔ عورت مارچ کا بائیکاٹ ایل بی جی ٹی کے منہ پر ایسا زور دار طمانچہ ہو گا جس کی گونج ان کے آقاؤں کے گال بھی محسوس کریں گے۔

ابھی یہ قوم لال مسجد کا سانحہ نہیں بھولی جسے سرخ کرنے میں اتنی دیر نہیں لگی تھی جتنی اس کمیونٹی کے بڑھنے پھولنے میں لگے گی۔ وہاں بات چائینز سپا سینٹرز سے شروع ہوئی تھی اور فحاشی کے اڈوں پر جا کر ختم ہونے کے بجائے سروں کو ڈھانپنے والیوں کے خون سے لت پت ہو گئی۔ اس قوم کو غریب کی اوقات تو جلدی یاد آتی ہے لیکن امیرِ شہر کے کرتوت بھول جاتے ہیں۔ یہاں امیر شہر سے مراد یہ کمیونٹی ہے کیونکہ غریب آدمی اس جسمانی تلذذ کے بجائے بھوک مٹانے کی کوشش کرتا ہے نفس کے گھوڑے دوڑانا عام آدمی کے بس کی بات نہیں ہے۔ فیمنزم کا چورن بیچنے والوں کی دکانیں بند کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ایل جی بی ٹی کا زہر نکال دیا جائے جس کے لیے ۸ مارچ کو خدا حافظ کہنا کافی ہو گا۔

یہ مضمون بھی اس سلسلہ میں ایک اہم دستاویز ہے:
 استشراق نو کی خواہش: عالمی ہم جنس پرست اور عرب دنیا ------ Joseph Massad
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20