پاکیزہ خاتون — حسن غزالی

0

ہم سب چاہتے ہیں کہ ہماری عزّت کی جائے، لیکن اس کے لیے اقدار اور اعمال کی کسوٹی پر ہمارا کھرا اترنا ضروری ہے۔ کسی بھی شخص کی سوچ تعیّن کرتی ہے کہ وہ عزّت کا حق دار ہے یا نہیں، اور اس کا عمل اس کے لیے عزّت کماتا ہے۔

کسی مرد کے باعزت ہونے کا پتا اس سے چلتا ہے کہ وہ عورت کو کیا سمجھتا ہے اور اس کے ساتھ کس طرح پیش آتا ہے۔ جتنا وہ مرد کی غیرت کے تقاضوں اور عورت کی حُرمت کی نازکی کو سمجھتا ہے اُتنا ہی وہ باعزّت ہے۔ غیرت کا مطلب انا، جھوٹی آن، اور جبر نہیں ہے بلکہ احساس اور پاسِ نامُوس ہے، اور نہ ہی غیرت کا مطلب حاکمیت اور عورت کو نیچا دکھانا ہے بلکہ عورت کے حقوق کی ادائیگی اور حفاظتِ نسواں ہے۔ اسی طرح عورت کے باعزت ہونے کا پتا اس سے چلتا ہے کہ وہ اپنی نسوانیت کو کتنی اہمیت دیتی ہے اور ایک عورت کے دائرہءکار کا کتنا شعور رکھتی ہے۔ کسی بھی عورت کے باعزت ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ خود اپنی نسوانیت کا احترام کرتی ہو، لیکن اگر کوئی عورت ہے جسے مردوں کو نیچا دکھانے کا جنون ہو تو اس کی بھی مردوں کو عزت کرنی چاہیے۔ (ماروی سرمد صاحبہ جیسی خواتین سے بھی نرمی سے اور شائستہ الفاظ میں بات کرنی چاہیے، ان کے جارحانہ رویے کے باوجود ان کی عزّت کرنی چاہیے، مگر ان جیسی خواتین کو اہمیت نہیں دینی چاہیے۔)

اسی طرح، کسی بھی قوم کے باعزّت ہونے کا ایک انتہائی اہم پیمانہ یہ ہے کہ وہ قوم عورت کو کیا مقام دیتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں دن بدن عورت کی عزّت میں کمی ہورہی ہے، اور عورت کے بارے میں کچھ بھی کہہ دینا عام ہوتا جارہا ہے۔ ہمارا دین کسی کی غیبت کرنے یعنی کسی میں جو برائی ہے وہ بھی بیان کرنے سے منع کرتا ہے، لیکن ہمارا حال یہ ہے کہ ہم غیبت تو کرتے ہی ہیں، اور اس سے بڑا گناہ بھی کرتے ہیں__ ہم بدگمانیاں پالتے ہیں بلکہ بدگمانیاں کاشت کرتے ہیں۔

عمران خان کی اہلیہ محترمہ بشریٰ بی بی کے بارے میں بھی بڑی بدگمانیاں ہیں اور بہ ظاہر اس کی ایک معقول وجہ بھی نظر آتی ہے۔ یہاں اسی پر گفتگو کی گئی ہے۔

عمران خان نے تیسری شادی محترمہ بشریٰ بی بی صاحبہ کی ہے۔ اس شادی کی بنیاد کیا ہے؟

رحمتہ للعالمین صلّی اللہ علیہ وسلّم کی ایک حدیثِ پاک کے مطابق شادی کی چار بنیادیں ہیں: حسن، پیسہ، نسب، دین، حسن

حسن:
یہ بات عمران خان کے بدترین مخالفین بھی تسلیم کریں گے کہ عمران خان اگر چاہتے تو انھیں کم عمر کی بہت زیادہ حسین لڑکیوں کے رشتے مل جاتے۔ اس لیے محترمہ بشریٰ بی بی سے ان کی شادی کی وجہ حسن ہرگز نہیں ہے۔

پیسہ:
عمران خان پیسے کے اعتبار سے ایک بہت مضبوط شخص ہیں، اور ان کی زندگی بتاتی ہے کہ انھیں امیر سے امیر تر ہونے کی خواہش نہیں ہے۔ اس شادی سے عمران خان کو کوئی پیسہ نہیں ملا ہے۔ غالباً ایک بھی شخص ایسا نہیں ملے گا جو یہ کہے کہ عمران خان نے یہ شادی پیسے کی وجہ سے کی ہے۔

نسب:
محترمہ بشریٰ بی بی ایک عزت دار گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں، لیکن اگر عمران خان چاہتے تو نسبی اعتبار سے انھیں اس سے اونچے گھرانے کا رشتہ بہ آسانی مل جاتا۔ اس لیے یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ عمران خان نے نسب کی وجہ سے شادی کی ہے۔

دین:
عمران خان کی محترمہ بشریٰ بی بی سے شادی کی ایک ہی وجہ ہے، اور وہ ہے دین؛ عمران خان ان کے پاس اپنے روحانی مسائل کے حل کے لیے جاتے تھے۔ عمران خان کے انتہائی جھوٹے مخالفین بھی یہ سچ کہنے پر مجبور ہیں کہ عمران خان نے یہ شادی دین کی وجہ سے کی ہے۔

عمران خان کی زندگی میں کئی ان ہونی ہیں جو ممکن ہوئیں۔

ورلڈ کپ کی جیت:
1987 میں آسٹریلیا سے سیمی فائنل میں شکست کہ بعد عمران خان نے ریٹائرمنٹ لے لی تھی اور بہ ظاہر یہ خواب دفن ہوگیا تھا، مگر عمران خان کی تقدیر میں ورلڈکپ کی جیت لکھی تھی۔

کینسر اسپتال:
یہ مُہم ورلڈ کپ جیتنے سے زیادہ کٹھن تھی اور راہ میں پھول کم کانٹے اور گڑھے زیادہ تھے، مگر عمران خان اپنی منزل پر پہنچ گئے۔

وزیرِاعظم کا منصب:
سیاست جیسے ٹیڑھے میدان میں عمران خان جیسے سیدھے آدمی کا اپنی اننگز کی ابتدا کرنا بہت سے لوگوں کے لیے ایک لطیفہ تھا، مگر عمران خان کی ناہموار وکٹ پر صبرآزما بیٹنگ سے اتنے رنز بن گئے کہ وہ وزیرِاعظم بن سکیں۔ اب وہ بولنگ کررہے ہیں، اور ان کے باؤنسروں سے قومی لُٹیروں کے لیے سر بچانا مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔

لیکن عمران خان کی زندگی میں سب سے بڑی ان ہونی جو ہوئی وہ ان کی محترمہ بشریٰ بی بی صاحبہ سے شادی ہے۔ اس شادی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ ریحام خان سے رِہائی کے بعد، اگر ایک لاکھ، دس لاکھ بلکہ ایک کروڑ افراد سے پوچھا جاتا:

کیا عمران خان اپنی تیسری شادی ایک پردے کی پابندی کرنے والی، دین کو عشق سمجھنے والی، اور جائے نماز پر زندگی گزارنے والی ایک روحانی خاتون سے کریں گے جو پانچ بچوں کی ماں بھی ہیں؟

ایک کروڑ میں سے غالباً ایک شخص بھی نہیں کہتا کہ ایسا ممکن ہے۔

پھر یہ ممکن کیسے ہوا؟

عمران خان کی پہلی شادی مئی 1995 میں ہوئی جو جون 2004 میں ختم ہوگئی۔

جنوری 2015 میں عمران خان نے ریحام خان سے دوسری شادی کی۔ اس شادی کے تصوّر سے ہی عمران خان بہت خوش تھے۔ اتنے زیادہ خوش کہ انھوں نے مزاحاً ایک جلسے میں کہا تھا، “میں نیا پاکستان اس لیے بنانا چاہتا ہوں کہ شادی کرلوں۔ ”

اس شادی کے لیے عمران خان بڑے پرجوش تھے اور انھوں نے کچھ جلدی بھی کی۔ یہ شادی سانحہء آرمی پبلک اسکول کے کچھ دن بعد ہوئی تھی، اور لوگوں نے اس پر بڑی ملامت کی تھی کہ عمران خان چہلم تو ہونے دیتے۔ (یہ ملامت سو فیصد درست تھی۔ عمران خان کو سانحے کے شہدا کے چہلم کے کم از کم دس پندرہ دن کے بعد شادی کرنی چاہیے تھی۔)

یہ شادی ناکام ہوگئی۔ اس شادی نے عمران خان کو بڑی ذہنی اذیتیں دیں، دل پر چِرکے لگائے، اور بڑے مسائل پیدا کردیے۔ عمران خان نے ریحام خان کی قید سے آزادی اپنا مشن بنایا اور اسے برق رفتاری سے مکمل کیا۔

یہاں یہ سوال ڈٹ کر کھڑا ہوجاتا ہے:
عمران خان کو تیسری شادی اعلیٰ صفات کی کسی دنیادار خاتون سے کرنی چاہیے تھی!
محترمہ بشریٰ بی بی سے کیوں کی اور یہ شادی کیسے ہوگئی؟

اس سوال کے جواب کے لیے دو باتوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے:
1 عمران خان کا مزاج
2 حالات
1 عمران خان کا مزاج

1 عمران خان کا مزاج:
عمران خان کا مزاج یہ ہے کہ وہ غمی اور خوشی کے جذبات کا اظہار نہیں کرتے اگر کبھی کرتے بھی ہیں تو بھرپور اظہار نہیں کرتے۔

غم کے جذبات پر قابو رکھنے کی مثال یہ ہے کہ انھوں نے اپنی والدہ کے بارے میں لوگوں کے سامنے اپنے جذبات کا اظہار نہ ہونے کے برابر کیا ہے۔ حالانکہ، دنیا جانتی ہے کہ عمران خان اپنی والدہ سے دلی طور پر بندھے ہوئے تھے، اور ان کی والدہ کی کینسر سے ہونے والی موت نے ان کی زندگی میں انقلاب برپا کردیا تھا۔

خوشی کے جذبات کو قابو میں رکھنے کی مثال ورلڈکپ کی فتح ہے۔ پاکستانی ٹیم پوائنٹ ٹیبل پر بہت پیچھے تھی اور اس کا ورلڈ کپ جیتنا ایک دیوانے کا خواب نظر آتا تھا۔ عوام کی دعائیں، پاکستانی ٹیم کا جذبہ اور کارکردگی؛ عمران خان کا کارٹی زون کےانجکشن لگوا کر بولنگ کرنا، اور کیپٹن کی حیثیت سے مشکل فیصلے؛ اور اللہ کی مدد نے یہ ممکن بنایا کہ 25 مارچ 1992 کو پاکستان کرکٹ کا عالمی چمپیئن بن گیا۔ انگلینڈ کے آخری کھلاڑی کا کیچ رمیز راجہ نے لیا، اور عمران خان کے خواب کی تعبیر کرسٹل کی ٹرافی کی صورت میں ساری دنیا نے دیکھی۔

میچ جیتنے کے بعد، عمران خان گراؤنڈ سے باہر آرہے تھے کہ جاوید میاں داد پاکستانی جھنڈا لیے عمران خان کے پاس آئے اور دونوں گلے لگ گئے۔ اس موقعے پر عمران خان چند لمحوں کے لیے جذباتی نظر آئے، پھر انھوں نے خود پر قابو پالیا۔

یہ مثالیں بتاتی ہیں کہ دل کو چیر دینے والے غم میں اور برسوں سے جس خوشی کے لیے ترس رہے تھے وہ خوشی مل جانے پر بھی عمران خان نے اپنے جذبات کا بھرپور اظہار نہیں کیا۔

2 حالات:
عمران خان نے ریحام خان کے ساتھ ایک بھرپور اور آسودہ زندگی گزارنے کے خواب دیکھے تھے، وہ سمجھتے تھے کہ ان کی زندگی پھولوں کا بستر بن جائے گی، مگر ان کی زندگی میں انگارے بھر گئے۔ ریحام خان کی غلیظ کتاب پوری پاکستانی قوم کو بتاتی ہے کہ ریحام خان جیسی عورت کسی سادہ مزاج اور غیرت مند شخص کے لیے محض ایک سزا نہیں بلکہ ایک عذاب ہے۔

عمران خان کی کیفیت کی عکّاسی احمد فراز کا یہ شعر بہ خوبی کرتا ہے۔

ٹوٹا تو ہوں مگر ابھی بکھرا نہیں فراز
میرے بدن پہ جیسے شِکستوں کا جال ہو

ایسے موقعے پر عمران خان کو کسی مسیحا کی ضرورت تھی۔ کوئی ایسا ہوتا جسے وہ اپنے دل کے زخم دکھا سکتے، اور وہ انھیں بکھرنے سے بچا لیتا۔

یہاں سیاست دانوں کی ایک محرومی سمجھ لینی چاہیے۔ ایک مقبول سیاست دان کے حامی بےشمار ہوتے ہیں، کچھ جان نثار بھی ہوتے ہیں، اور چند مخلص مشیر بھی ہوتے ہیں، لیکن ایک ہم نفس دوست سے وہ عام طور پر محروم ہوتے ہیں۔

اس سفّاک حقیقت کا اظہار الطاف حسین نے اپنے ایک انٹرویو میں کِیا۔ یہ ایک غیرسیاسی انٹرویو تھا جو بشریٰ انصاری صاحبہ نے لیا تھا اور جیو پر نشر ہوا تھا۔ اس میں الطاف حسین نے بڑے دکھ سے کہا تھا:

“میرا کوئی دوست نہیں ہے!”

عمران خان شاید الطاف حسین کی طرح محروم نہ ہوں، اور ان کے دوست ہوں، لیکن ان کے سیاسی دوست کارِ مسیحائی کیا جانیں!
ہاں، یہ ہوا کہ ایک مخلص نے عمران خان کو محترمہ بشریٰ بی بی کا در دکھا دیا۔
عمران خان کی شکستگی اور دل کے آبلوں کو دیکھنا محترمہ بشریٰ بی بی کے لیے بہت آسان تھا۔
اس کی وجہ بڑی سادہ ہے۔

کسی بھی روحانی شخصیت کے پاس لوگ زیادہ تر تین مسائل کے حل کے لیے آتے ہیں:
گھریلو مسائل
روزگار
بیماری
(لوگ یہ مسائل دعا اور تعویذ سے حل کروانا چاہتے ہیں، لیکن محترمہ بشریٰ بی بی سائلین کو دین کی طرف لانے کی بھی کوشش کرتی ہیں۔)

اسی وجہ سے، محترمہ بشریٰ بی بی کو گھریلو مسائل کے حل کا وسیع اور گہرا تجربہ تھا، اور پھر ایک باشعور عورت ہونے کی حیثیت سے وہ عمران خان کا مسئلہ دس سائیکاٹرِسٹ کے ایک بورڈ سے بہتر سمجھ سکتی تھیں۔ (محترمہ بشریٰ بی بی کے باشعور ہونے پر گفتگو آگے کی جائے گی۔)

دوسری اہم ترین بات یہ تھی کہ محترمہ بشریٰ بی بی ایک عبادت گزار خاتون تھیں، اس لیے عمران خان ان پر کچھ اعتبار کرسکتے تھے۔ انھیں محترمہ بشریٰ بی بی سے کسی ضرر کا اندیشہ نہیں تھا، جبکہ کسی اور سے بات کرنے میں یہ خدشہ ضرور تھا کہ ان کی نِجی زندگی کی معلومات کو ان کے خلاف استعمال کیا جاسکے۔ پھر محترمہ بشریٰ بی بی ایک دردمند خاتون تھیں اور عمران خان کی دلی اذیت کو محسوس کرسکتی تھیں، اس لیے عمران خان نے کسی حد تک اپنے دل کے زخم انھیں دکھا دیے۔

یہاں تک بھی بات سمجھ میں آتی ہے کہ عمران خان اپنے علاج کے لیے ان کے پاس چلے گئے، لیکن بات علاج تک ہی رہنی چاہیے تھی۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا کہ عمران خان محترمہ بشریٰ بی بی سے اپنا روحانی تعلق قائم رکھتے اور کبھی کبھی اپنے ذاتی مسائل کے حل کے لیے ان سے ملاقات کے لیے جاتے۔ مگر ہوا یہ کہ محترمہ بشریٰ بی بی کی علیحدگی ہوئی اور پھر عمران خان سے شادی ہوئی۔

اس شادی سے لوگوں کے ذہنوں میں سوال اٹھتے ہیں، اور ان سوالوں کا اٹھنا فطری بات ہے۔

عمران خان نے پہلی اور دوسری شادی دنیاوی اعتبار سے مشہور اور کامیاب خواتین سے کی تھیں، اور محترمہ بشریٰ بی بی تو اس معیار سے ہزاورں بلکہ لاکھوں مِیل دور ہیں، پھر ان میں میں ایسی کون سی خوبیاں تھیں جن کی وجہ یہ شادی ہوئی؟

خود عمران خان جب پہلی مرتبہ محترمہ بشریٰ بی بی سے اپنے زخموں کے لیے مرہم لینے گئے تو ان کے ذہن میں ایک لاکھ میں سے اعشاریہ ایک فیصد بھی ان سے شادی کا خیال نہیں ہوگا۔

بہ ظاہر یہ ایک بڑی الجھی ہوئی گُتھی نظر آتی ہے، لیکن ایک دو آسان سی بنیادی باتیں سمجھ لیں تو یہ گُتھی چند سیکنڈ میں کھل جاتی ہے۔

عمران خان کا سیاست میں آنے کا قطعاً ارادہ نہیں تھا، کیونکہ وہ سیاست میں آکر اپنی شہزادوں جیسی زندگی برباد کرنا نہیں چاہتے تھے، لیکن کینسر اسپتال کی تعمیر کے لیے وہ عوام کے پاس گئے تو انھوں نے عوام کے دکھ درد کو قریب سے دیکھا اور محسوس کیا۔ عوام کے مسائل سے ان کے سینے میں دردمندی کی چنگاری پہلے شعلہ بنی، پھر آہستہ آہستہ الاؤ میں ڈھل گئی، اور اس الاؤ کی مسلسل تپش نے عمران خان کو میدانِ سیاست میں اترنے پر مجبور کردیا۔

عمران خان سمجھتے تھے کہ ان میں اہلیت ہے (قائدانہ صلاحیتیں ہیں)، اور وہ سیاسی جنگ بھی جیت سکتے ہیں۔ عمران خان کا بڑا مذاق اڑایا گیا۔ (یہ ایک طویل داستان ہے۔) آج بھی بہت لوگ ہیں جو عمران خان کو لیڈر نہیں مانتے بلکہ انھیں بےوقوف سمجھتے ہیں۔

عمران خان کی پہلی اہلیہ جمائما خان نے عمران خان کو ایک لیڈر کی حیثیت سے کوئی خاص اہمیت نہیں دی، اور ریحام خان نے تو عمران خان کو ایک انگوٹھا چھاپ دیہاتی جیسا بُدّھو سمجھا اور اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہا۔ لیکن محترمہ بشریٰ بی بی کا ندیم ملک کو دیا گیا انٹرویو دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ وہ دل کی گہرائیوں سے عمران خان کو اصلی قائد مانتی ہیں اور پوری شعوری قوت سے یقین رکھتی ہیں کہ عمران خان پاکستان کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔

محترمہ بشریٰ بی بی کا عمران خان کی قیادت پر یہ چٹانی یقین ایک دن میں تو نہیں ڈھلا ہوگا۔ محترمہ بشریٰ بی بی کی ایک صفت سب کو نظر آتی ہے کہ وہ ایک صاحبِ رائے خاتون ہیں۔ عمران خان کے بارے میں وہ پہلے سے ایک اچھی رائے رکھتی ہوں گی، اور پھر جب عمران خان نے ان کے پاس اپنے روحانی مسائل کی وجہ سے حاضری دینی شروع کی تو انھیں عمران خان کی شخصیت کو سمجھنے کا موقع ملا، عمران خان کے مزاج کی جان کاری ملی، اور عمران خان کی اہلیت کا شعور بڑھا۔ اسی وجہ سے ان کے دل میں عمران خان کی بہت زیادہ عزّت بڑھی۔

پھر عمران خان کی ایک صفت اور تھی جس نے ان کا محترمہ بشریٰ بی بی سے روحانی تعلق مضبوط تر کردیا۔

اس صفت کے بارے میں مشہور موٹیویشنل اسیپکر جناب جاوید اقبال نے اپنی ویڈیو “جب میں عمران خان سے ملا” میں گفتگو کی ہے۔ وہ زور دے کر کہتے ہیں، “پہلی بات تو یہ ہے کہ عمران خان میں ایک بچّے کی سی معصومیت ہے۔”

عمران خان کو جو لوگ بےوقوف سمجھتے ہیں وہ بےوقوفی نہیں ہے بلکہ معصومیت ہے۔ عمران خان بےوقوف نہیں بلکہ ایک باشعور شخص ہیں۔

اگر عمران خان کی سادگی کی وجہ سے کیے گئے دعووں کو معاف کردیا جائے، اور ان کے انٹرویوز توجہ سے دیکھے جائیں تو پتا چلتا ہے بلکہ بڑی حیرت ہوتی ہے کہ عمران خان کو پاکستان کے مسائل کا کتنا گہرا شعور ہے۔ اس وقت کسی بھی پاکستانی سیاست دان میں پاکستان کے مسائل کا عمران خان کی نسبت 25 فیصد بھی شعور نہیں ہے۔ جماعتِ اسلامی میں بھی نہیں ہے! (اس پر کوئی چاہے تو ایک شان دار مضمون بلکہ کتاب لکھ سکتا ہے۔) (جماعتِ اسلامی کی نااہل قیادت پر “بدنصیب جماعت” کے نام سے میرا ایک نثر پارہ یعنی ایک مختصر تحریر میری وال پر موجود ہے۔ Date: 27 June 2020)

عمران خان کی اس فطری معصومیت کو سیاسی لوگوں کے لیے سمجھنا غالب کی شاعری سمجھنے کے برابر ہے، لیکن محترمہ بشریٰ بی بی میں اس معصومیت کو سمجھنے کی اہلیت تھی۔ انھوں نے اسے دیکھا، سمجھا، اور اس کی حقیقی قدر کی۔

بہ ظاہر یہ سادہ اور بےضرر سی بات ہے لیکن اسی نے جناب خاور مانیکا کے دل میں شک کے بیج اور دماغ میں بدگمانی کے کانٹے بوئے۔

ایک مرد کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنی اہلیہ کا ہیرو بلکہ شہزادہ ہو۔ مرد اور عورت کے درمیان طبعی فرق پر انقلابی نظریہ پیش کرنے والے John Gray نے اپنی ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ بکنے والی کتاب Men from mars and women from venus میں اس نکتے کی بڑی عمدگی سے وضاحت کی ہے۔

محترمہ بشریٰ بی بی کے دل میں عمران خان کے لیے بڑھتی ہوئی عزّت اور اہمیت کو جناب خاور مانیکا نے منفی لیا، اور وہ اپنی اہلیہ سے بدگمان ہوگئے۔ مرد کی اس کیفیت کو عورتیں کم ہی سمجھتی ہیں۔ اکثر خواتین جسے شک سمجھتی ہیں وہ شک نہیں ہوتا بلکہ بات صرف یہ ہوتی ہے کہ مرد چاہتا ہے کہ اس کی بیوی کسی دوسرے مرد کو زیادہ اہمیت نہیں دے۔ لیکن جب وہ مسلسل اہمیت دیتی رہتی ہے تو پھر مرد شک میں مبتلا ہوجاتا ہے۔

ابتداً محترمہ بشریٰ بی بی کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا کہ ان کے شوہر ان سے بدگمان ہو جائیں گے، اس لیے بدگمانی پر وہ سکتے میں آگئی ہوں گی اور زندگی کی سب سے زیادہ ذہنی اور قلبی اذیت اٹھائی ہوگی۔ پھر جب آہستہ آہستہ سنبھلی ہوں گی تو انھوں نے جناب خاور مانیکا کی بد گمانی دور کرنے کی کوشش کی ہوگی۔

اُس وقت اگر وہ عمران خان سے معذرت کرلیتیں اور انھیں آنے سے منع کر دیتیں تو غالباً بدگمانیاں آہستہ آہستہ دم توڑ دیتیں، لیکن انھوں نے منع نہیں کیا۔

اس کی بہت ہی معقول وُجوہ ہیں:
1۔ ان کی شادی کو تیس سال ہو چکے تھے اور ان کے پانچ بچّے تھے۔ اس کی مثالیں عام ملتی ہیں کہ ایک بچے کی وجہ سے بھی اختلافات ختم ہوجاتے ہیں یا اختلافات کے باوجود ازدواجی بندھن قائم رکھا جاتا ہے۔ محترمہ بشریٰ بی بی کے تو پانچ بچّے تھے اس لیے ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا کہ عمران خان کو زیادہ اہمیت اور وقت دینے کے نتیجے میں علیحدگی ہوسکتی ہے۔

2۔ یہ دوسری بےشمار دین دار خواتین سے زیادہ پاکیزہ زندگی گزارتی تھیں اس لیے انھوں نے یہی سمجھا کہ ان کے شوہر کی بدگمانی دور ہوجائے گی۔

3۔ یہ ایک مضبوط خاتون ہیں اس لیے انھیں یہ اعتماد رہا کہ وہ غلط فہمی کے کانٹے نکال دیں گی۔

4۔ یہ عمران خان کی قائدانہ صلاحیتوں کو مانتی تھیں اور یہ سمجھتی تھیں کہ عمران خان کی پاکستان کو ضرورت ہے۔ اس لیے وہ اپنا یہ فرض سمجھتی تھیں کہ شکستہ عمران خان کی چارہ گری کرتی رہیں۔

محترمہ بشریٰ بی بی اپنی جگہ صحیح تھیں، لیکن ایسی کافی مثالیں مل جاتی ہیں کہ ایک عورت اپنے شوہر کی ناراضگی کی شِدّت نہیں سمجھ سکی یا اس نے شوہر کی دوری کو زیادہ اہمیت نہیں دی تو اس کا نتیجہ علیحدگی کی صورت میں نکلا۔ عورت بڑی حیران ہوتی ہے اور یہ سمجھتی ہے کہ اس کے شوہر کو اس سے محبت نہیں رہی۔ لیکن اس علیحدگی کی وجہ صرف یہ ہوتی ہے کہ عورت اپنے شوہر کی ناراضگی کی شدّت نہیں سمجھی یا اس نے شوہر کی دوری کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔

علیحدگی کی ممکنہ طور پر تین وُجوہ ہیں:
1۔ محترمہ بشریٰ بی بی کی ہزار کوششوں کے باوجود جناب خاور مانیکا کی بدگمانی دور نہیں ہوئی، اور انھوں نے طلاق دے دی۔
2۔ خلع لیا۔
3۔ محترمہ بشریٰ بی بی جب کسی طرح بھی اپنے شوہر جناب خاور مانیکا کی بدگمانی دور نہیں کرسکیں تو ان کا دل ٹوٹ گیا، اور انھوں سوچا کہ اب جو بھی تقدیر کا فیصلہ ہو__ مجھے منظور ہے۔

لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ محترمہ بشریٰ بی بی نے دنیاوی عزّت اور شہرت کی خاطر خلع لے کر شادی کی ہے، لیکن اس پاکیزہ خاتون میں خدا کا بڑا خوف ہے، اس لیے غالب گمان یہی ہے کہ علیحدگی بدگمانی کی وجہ سے ہوئی۔

اپنے انٹرویو میں انھوں نے بتایا ہے کہ عمران خان کے وزیرِ اعظم بننے کے بعد جب وہ سرکاری اولڈ ہاؤس گئیں تو وہاں پر لوگوں کی بُری حالت اور تکلیف دہ زندگی دیکھ کر انھیں شدید ڈِپریشن ہوا، اور انھیں اتنی تکلیف ہورہی تھی کہ زندگی میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ عشاء کی نماز کے بعد ان سے جائے نماز پر بیٹھا نہیں گیا۔ انھیں یہی خیال آرہا تھا کہ خدا کو جواب کیا دیں گے۔ بہت مرتبہ انھوں نے دعا مانگی کہ خدا تو مجھے اٹھا لے۔

محترمہ بشریٰ بی بی کو جب یتیم خانوں اور اولڈ ہاوس میں لوگوں کی حالت دیکھ کر خدا کو جواب دینے کا اتنا خوف ہے تو یہ بہت مشکل نظر آتا ہے کہ وہ دنیاوی عزت اور شہرت کی خاطر خلع لیں۔

سوفیصد یقین سے تو نہیں کہا جاسکتا ہے کہ انھوں نے خلع نہیں لیا، لیکن اس کا امکان بہت ہی کم نظر آتا ہے۔

ان تینوں وُجوہ میں غالباً پہلی وجہ درست ہے کہ جناب خاور مانیکا کی بدگمانی کسی طرح دور نہیں ہوئی اور انھوں نے طلاق دے دی۔
لیکن حقیقی وجہ یہی ہے یا کوئی اور؟
یہ اللہ جانتا ہے!

یہاں یہ بات بھی ذہن میں آتی ہے کہ چلیے، علیحدگی بدگمانی کی وجہ سے ہی ہوئی، لیکن انھیں عمران خان سے شادی نہیں کرنی چاہیے تھی۔ اس طرح تو بدگمانی کو تقویت ملتی ہے۔

شادی انسان کی فطری اور معاشرتی ضرورت ہے۔ اگر شریکِ حیات کا انتقال ہوجائے یا علیحدگی ہوجائے تو زندگی تنہا نہیں گزارنی چاہیے، بلکہ شادی کرلینی چاہیے۔ ہمارا دین بھی اس کی ہدایت کرتا ہے، مگر بہت سی خواتین ہیں جو کم عمری میں بیوہ ہوجاتی ہیں مگر پھر دوسری شادی نہیں کرتیں۔ اسی طرح بہت سے مرد ہیں جو دوسری شادی نہیں کرتے۔

اس کی کئی وُجوہ ہیں مگر سب سے بڑی وجہ اپنوں کی مخالفت اور لوگوں کے باتیں بنانے کا خوف ہوتا ہے، اور اس خوف کی وجہ سے بہت سے لوگ چاہنے کے باوجود شادی نہیں کرتے، مگر جن مردوں اور عورتوں میں مضبوطی ہوتی ہے وہ دوسری شادی کرلیتے ہیں۔ محترمہ بشریٰ بی بی بھی ایک مضبوط خاتون ہیں، اس لیے جب عمران خان کا رشتہ آیا تو انھوں نے اس پر کئی مہینے غور کیا اور اپنوں سے مشورے کے بعد اسے قبول کرلیا۔ (ان کا انٹرویو دیکھیں تو یہ واضح نظر آتا ہے کہ وہ ذہنی اعتبار سے بہت مضبوط ہیں اور قلبی طور بہت زیادہ مطمئن اور بڑی پرسکون ہیں۔ )

محترمہ بشریٰ بی بی کی سخت ترین مخالفت کی وجہ سیاسی ہے اور جن حالات میں ان کی عمران خان سے شادی ہوئی اس سے بدگمانی کی وجہ سمجھ میں آتی ہے، مگر لوگ تو بڑے یقین سے ان کے خلاف بات کرتے ہیں۔

کس تیقُّن سے بات کرتا ہے
جیسے روشن ضمیر ہے ہر شخص
زاہد رائلوی

لوگوں کے یقین کی وجہ تو وہ ظاہری حالات جن میں یہ شادی ہوئی، اور روشن ضمیری کی وجہ غالباً یہ ہے کہ جناب خاور مانیکا نے بدگمانی کی وجہ سے گھر میں جو کچھ باتیں کہی ہوں گی ان میں سے دو تین آدھی ادھوری باتیں کسی طرح میڈیا اور مخالفین تک پہنچ گئیں۔ میڈیا کی غذا اتفاق میں بھی کوئی سنگین اختلاف دیکھنا اور شدید مبالغہ ہے، اس لیے میڈیا نے رائی کا پہاڑ بنایا، اور مخالفت کا ایندھن بُغض ہے، سو مخالفین نے بغض میں اُجلی سفید چادر کو سیاہ بنا کر دکھایا۔

بہ حیثیتِ قوم ہم زیادہ غور و فکر نہیں کرتے اور نہ ہی اچھی طرح تحقیق کرتے ہیں۔ ہمارا حال یہ ہے کہ ہم عاملوں اور باباؤں کی باتوں پر یقین کرکے اپنوں کو دشمن سمجھنے لگتے ہیں۔ ایسی مثالیں بہت ملتی ہیں کہ کسی بابا یا عامل نے کہا کہ تم پر تمھارے بھائی، بہن، بھابی، خالہ یا کسی قریبی عزیز نے جادو کروایا ہے۔ ہم اس کی تحقیق نہیں کرتے بلکہ اسے سچ سمجھ لیتے ہیں، بلکہ عامل کی کہی ہوئی بات پر اتنا یقین ہوتا ہے کہ ہم اپنے خونی رشتوں سے بدگمان ہوجاتے ہیں اور بعض اوقات اس بدگمانی کی بِنا پر اپنوں سے جھگڑا بھی کر لیتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اطمینان سے غور کریں اور دیانت داری سے تحقیق کریں، پھر کسی کے اچھے برے ہونے کے بارے میں رائے قائم کریں۔ محترمہ بشریٰ بی بی کے بارے میں میڈیا اور عمران خان کے مخالفین نے اتنا ذہن خراب کر دیا ہے کہ اللہ کی پناہ!

ہم مسلمان ہیں اور دنیا میں ہمارے شرف کی بنیاد اسلامی اقدار ہیں: ان اقدار کی پاس داری ہمیں عزّت سے جینے کا حق دیتی ہے، اور امتیازی شان عطا کرتی ہے۔ (پاکستان میں بڑھتی ہوئی بےحیائی کے باوجود ہم انڈیا سے بےحیائی میں ہزاروں میل پیچھے ہیں۔)

اس لیے ہماری اقدار کے خلاف کسی عمل پر یقیناً شدید ردّعمل ہونا چاہیے۔

یہاں ایک قول یاد آتا ہے:
“دنیا میں بہت زیادہ عقل ہے لیکن یہ کسی ایک جگہ نہیں ہے بلکہ بکھری ہوئی ہے۔”
اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی عقلِ کُل نہیں ہے بلکہ اللہ نے سب کو عقل دی ہے۔
اس لیے یہ ضروری ہے کہ اس تحریر میں جو دِفاعی نکات پیش کیے گئے ہیں ان کا بھرپور جائزہ لیا جائے، پوری توجہ سے ان کا تجزیہ کیا جائے، اور یہ دیکھا جائے کہ ان میں کتنی معقولیت ہے۔

آسان الفاظ میں درخواست یہ ہے کہ اس مضمون پر بےرحمانہ تنقید کی جائے۔

اس تحریر میں ایک مختلف زاویہء نگاہ پیش کیا گیا ہے۔ زاویہء نگاہ (perception) کی بہت ہی زیادہ اہمیت ہے۔ ہم کسی بند ذہن شخص کے لیے ایک بات کہتے ہیں کہ یہ لکیرکا فقیر ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ شخص ایک ہی زاویے سے سوچتا ہے۔ کشادہ ذہن ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ہم کسی معاملے کا جائزہ دوسرے زاویوں سے بھی لے سکیں۔ کسی معاملے کا جب کئی زاویوں سے جائزہ لیا جائے تو اسے ہم زیادہ بہتر سمجھ سکتے ہیں اور غلطی کا امکان کم ہوجاتا ہے۔

سو چ کی تعلیم دینے والے اور سوچنے کے کئی روایتی طریقوں میں انقلاب برپا کردینے والے جناب ایڈورڈ ڈی بونو نے زاویہء نگاہ (perception) پر بہت زور دیا ہے اور اسے فکر کا لازمی حصّہ قرار دیا ہے۔ (ان کا شمار اُن 250 افراد میں ہوتا ہے جنھوں نے دنیا کی فلاح کے لیے بہت زیادہ کام کیا ہے۔)

اب یہاں مختلف زاویہءنگاہ سے دیکھنے کی چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں۔

1۔ فیس بک کے موجد اور مالک مارک زکر برگ دنیا کے ایک مشہور ترین اور کامیاب ترین شخص ہیں، لیکن حقیقت میں ان کی کامیابی کی بنیاد محض فیس بک کی ایجاد ہے۔ یہ کوئی باقاعدہ سائنس دان نہیں ہیں۔ بس یہ ہوا کہ فیس بک کی صورت میں ان کی سونے سے بھری ایک وادی کی لاٹری کھل گئی ہے۔ انھیں وہ عزت نہیں دی جاسکتی جو ایک سائنس دان کی ہوتی ہے۔ جناب تھامس ایڈیسن نے اپنی پوری زندگی انسان کی فلاح کے لیے وقف کردی اور شعوری طور پر انسانی فلاح کے لیے ایجادات کیں۔ مارک زکر برگ کی حیثیت اس عظیم شاہ کے سامنے محض ایک درباری کی ہے۔

2۔ قائدِاعظم ایک بہت ہی طاقتور اور بااختیار شخص سمجھے جاتے ہیں، لیکن اپنی ذاتی زندگی میں وہ ایک قیدی سے بھی زیادہ مجبور اور بےبس رہے ہیں۔ قائدِاعظم نے محبت کی شادی کی اور تین چار سال خوابوں جیسی زندگی گزاری، پھر غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔ قائداعظم نے ہر ممکن کوشش کی مگر کسی طرح بھی محترمہ رتّی جناح کی غلط فہمیاں دور نہیں کرسکے۔ انھوں نے پھولوں کی شہزادی رتّی جناح کی بڑی ناز برداری کی، مگر انھیں یقین نہیں دلا سکے کہ اب بھی وہ ان سے اتنی ہی محبت کرتے ہیں۔ قائداعظم کی قوتِ استدلال کو دنیا نے مانا ہے، مگر وہ اپنے محبوب کو کسی صورت اپنی سیاسی مجبوریاں نہیں سمجھا سکے۔

قائدِاعظم کی بیٹی دِینا جناح نے ایک غیر مسلم سے پسند کی شادی کرنے کا فیصلہ کیا۔ قائدِاعظم کو اپنی بیٹی کے پسند کی شادی کرنے پر کوئی اعتراض نہیں تھا، مگر وہ چاہتے تھے کہ دِینا جناح کسی مسلمان سے شادی کریں انھوں نے کہا،

“کیا پورے ہندوستان میں تمھیں شادی کے لیے ایک بھی مسلمان لڑکا نہیں ملا؟”
قائدِاعظم، ایک عظیم وکیل، سوفیصد تو کیا ہزار فیصد بلکہ لاکھ فیصد درست بات پر بھی اپنی بیٹی کو قائل نہیں کرسکے۔
قائداعظم اپنی زندگی کی بچی ہوئی خوشیوں کا کیس ایک منٹ میں ہار گئے۔

قائدِاعظم نے کروڑوں لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی، پاکستان بنایا، تاریخ بنائی، لیکن اپنی بہن محترمہ فاطمہ جناح کی زندگی نہیں بناسکے۔ وہ اتنے بےبس تھے کہ چاہنے کے باوجود بھی اپنی بہن کی شادی نہیں کرسکے۔ (مادرِ ملّت نے اپنے بھائی کا خیال رکھنے کی خاطر شادی نہیں کی؛ اپنی خوشیوں کی قربانی کے علاوہ انھوں نے کیریئر کی بھی قربانی دی۔ یہ ڈینٹل سرجن تھیں مگر محترمہ رتّی جناح کے انتقال کے بعد انھوں نے اپنا کلینک بند کردیا اور زندگی بھائی کے لیے وقف کردی۔ مادرِ ملّت اگر یہ قربانیاں نہیں دیتیں تو شاید، شاید، شاید پاکستان نہیں بن پاتا۔)

اگر ہم قائداعظم کی شخصیت کو اس زاویے سے دیکھیں تو آسانی سے سمجھ سکتے ہیں کہ انھیں ٹی بی کیوں ہوئی۔

3۔ پاکستان کا مشرقی حصّہ 1971 میں پاکستان سے الگ ہوگیا، اور اسے آزادی کا نام دیا گیا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس آزادی نے بنگلہ دیشیوں کو اپنے مقدّس خوابوں سے محروم کردیا ہے۔ ان کی مثال اس شخص کی ہے جس کا مسجد کے امام سے جھگڑا ہوا تو اس نے نماز پڑھنا ہی چھوڑ دی۔ یہ جائے ماتم ہے کہ انھوں نے اسلامی قومیت کے خواب کو ذبح کر کے آزادی حاصل کی ہے۔ بنگلہ دیشیوں کی منزل اب اسلامی ریاست کا قیام نہیں ہے، اس لیےاب بنگلہ دیش محض ایک عام مسلم ملک ہے، اور پاکستان اب بھی اسلام کا قلعہ ہے۔

4۔ پاکستان پر قرضوں کا پہاڑ ہے، ہماری نوجوان نسل باہر جانے کے لیے تڑپتی ہے، علمی طبقے کی ایک بڑی تعداد مغرب کی مادّی کامیابیوں کو سجدے کرتی ہے، دنیا میں پاکستان کا امیج بڑا ہی منفی ہے اور پاکستانیوں کو عزت کم ذِلّت زیادہ، بہت زیادہ ملتی ہے۔

اب پاکستان کو اس زاویے سے دیکھیے کہ پاکستان دنیا کی ایک بڑی فوجی طاقت ہے اور باطل قوّتیں اس بدحال پاکستان کو اپنی راہ میں رکاوٹ سمجھتی ہیں۔

(پاکستان کی اہمیت پر میرا ایک مختصر مضمون “بیسویں صدی کا انتہائی درست سیاسی فیصلہ” میری وال پر موجود ہے۔ Date: 16 December 2019)

محترمہ بشریٰ بی بی کے خلاف یوٹیوب پر بہت سے ویڈیو کلپ موجود ہیں۔ اگر انھیں توجہ سے دیکھا جائے تو محترمہ بشریٰ بی بی کے خلاف کہی گئی باتوں کا کھوکھلا پن اور جھوٹ صاف نظر آتا ہے۔ اگر بیس پچیس کِلپ بھی توجہ سے دیکھے جائیں تو محترمہ بشریٰ بی بی کے خلاف بدگمانیاں ساٹھ ستّر فیصد خود ہی ختم ہوجاتی ہیں۔ مثال کے طور پر، یہ بات بڑی زور دے کر کہی جاتی ہے کہ محترمہ بشریٰ بی بی نوجوانی میں بڑی فیشن ایبل تھیں، لیکن ان کے بہت زیادہ فیشن ایبل ہونے کے کوئی ثبوت نہیں دیے گئے ہیں، اور نہ ہی گُوگل پر ان کی نوجوانی کی اصلی تو کیا کوئی فرضی تصویر دی گئی ہے۔ ان کی پیدائش ایک چھوٹے شہر میں ہوئی تھی، اور ان کا تعلق ایک قدامت پرست خاندان سے ہے۔ اس پس منظر کی کوئی لڑکی بہت زیادہ فیشن ایبل نہیں ہوسکتی۔ بالفرض، بہت زیادہ فیشن ایبل تھیں بھی تو زیادہ عمر تک نہیں رہیں۔ اپنے انٹرویو میں انھوں نے بتایا ہے کہ دین کی طرف رجحان اٹھارہ سال کی عمر میں ہوا۔ کسی نے اگر لازماً محترمہ بشریٰ بی بی کو فیشن ایبل کہنا ہی ہے تو دیانت داری سے زیادہ سے زیادہ یہ کہ سکتا ہے:

“محترمہ بشریٰ بی بی کی ابتدائی زندگی کے بارے میں جو کچی پکی معلومات ملی ہیں اس کے مطابق وہ نوجوانی میں فیشن کرتی تھیں، لیکن اٹھارہ سال کی عمر میں ان کا دینی رجحان بڑھنے لگا اور آہستہ آہستہ انھوں نے فیشن چھوڑ دیا۔”

عوام سے ذمےداری اور میڈیا سے دیانت کی زیادہ توقع نہیں رکھی جاسکتی، لیکن دینی شخصیات کے غیرذمےدارانہ تبصرے تکلیف دیتے ہیں۔ اس کی ایک مثال یوٹیوب کی ایک مشہور دینی شخصیت جناب مفتی طارق مسعود ہیں جنھوں نے کہا،
“یہ پیرنی عمران خان کو مروائے گی۔ ”

کاش! معاشرے کے ذمےدار لوگ سطحی باتیں نہ کریں۔

شیشے کی بنی ہوئی عورت فولاد کے بنے ہوئے مرد کو کیسے سہارا دیتی ہے
اس کی ایک مثال مادرِ ملّت نے پیش کی ہے اور دوسری مثال اس پاکیزہ خاتون کی ہے۔

محترمہ بشریٰ بی بی نے عمران خان کی زندگی کی بنیادوں کو مستحکم کردیا ہے، ان کے پاکستان کی تعمیر کے خواب کو روشن تر کردیا ہے، اور ان کا دین سے رشتہ مضبوط تر کردیا۔ (دینی شخصیات اور مذہبی سیاسی رہنماؤں کا رویہ تو عمران خان کا دین سے رشتہ کم زور بلکہ بدظن کر دینے والا ہے۔ البتہ، جناب مولانا طارق جمیل ایک مرتبہ عمران خان سے اپنی منفرد طبعیت کی وجہ سے ملنے چلے گئے تھے۔)

محترمہ بشریٰ بی بی کا اللہ سے تعلق بندگی اور شکر گزاری کا ہے۔ ندیم ملک نے ان سے سوال کیا، “آپ کی پہلی زندگی بہتر تھی یا یہ ہے؟”

انھوں نے کہا، “یہ تو اللہ کی ناشکری ہو جائے گی اگر میں کہوں کہ وہ لائف اچھی نہیں تھی۔ مجھے اپنے رب سے کبھی کوئی شکوہ یا شکایت نہیں رہی۔ رب نے مجھے ہمیشہ مہارانیوں کی طرح رکھا ہے، وہاں اور یہاں، ہرجگہ۔”

مہارانی کا لفظ اور ان کا سرشار لہجہ ان کی اپنے رب سے والہانہ محبت کی گواہی ہیں۔

کہتے ہیں ایک اور ایک دو بھی ہوتے ہیں اور گیارہ بھی۔ عمران خان اور محترمہ بشریٰ بی بی کو دیکھیں تو لگتا ہے کہ یہ 11=1+1 ہیں۔

اس 11 کے عدد کے ساتھ، عوام جو نواز شریف، زرداری، اور مولانا فضل الرحمٰن کی نظر میں محض صفر ہے اس صفر کو بھی لگا لیں تو یہ کتنے ہوجاتے ہیں!

اور کتنی صفر لگانی ہیں؟
دو چار صفر نہیں__زیادہ لگانی پڑیں گی۔

یو ٹیوب پر محترمہ بشریٰ بی بی کی کرامتوں اور روحانی طاقتوں پر بھی بڑی گفتگو کی گئی ہے۔ ان میں کتنی کرامتیں ہیں؟ یہ اللہ جانتا ہے! لیکن ان کی سب سے بڑی کرامت جو نظر آتی ہے وہ ان کا شعور ہے، اور ان کی سب سے بڑی طاقت ان کی ایمانی قوّت ہے۔

شعور:
ان کے شعور کی پختگی کی ایک مثال تو یہ ہے کہ انھوں نے انٹرویو دینے کا فیصلہ کِیا۔ ان کے خلاف بڑی بدگمانیاں تھیں، اس لیے یہ ضروری تھا کہ وہ انٹرویو دیں اور ان کا مؤقف عوام کے سامنے آئے۔ انٹرویو کے لیے ندیم ملک کو منتخب کرنا بھی ان کے باشعور ہونے کی ایک مضبوط دلیل ہے۔ اپنے انٹرویو میں انھوں نے بتایا ہے کہ ندیم ملک کی شائستہ درخواست دیکھ کر انھوں نے کہا تھا کہ اگر کبھی انٹرویو دیا تو آپ کو دوں گی۔

ندیم ملک واقعی ایک نفیس شخص ہیں۔ ایک مرتبہ ان کے ساتھ پینل میں مولانا حمد اللہ کے علاوہ زرتاج گل صاحبہ بھی تھیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر انھیں پتا ہوتا کہ مولانا بھی اس پروگرام میں موجود ہیں تو وہ نہیں آتیں۔ انھوں نے مولانا کے اپنے بارے میں کیے گئے ایک تبصرے کی بڑی شدّت سے مذّمت کی اور کہا کہ وہ جانا چاہتی ہیں۔ ندیم ملک نے مولانا پر زور دیا کہ وہ معذرت کریں اور مولانا نے معذرت کی۔ ندیم ملک نے زرتاج گل صاحبہ کے مولانا کی وجہ سے پروگرام چھوڑ کر جانے کی بھی بھرپور اخلاقی حمایت کی۔

انسان کے باشعور ہونے کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ اس میں ماحول، حالات اور وقت کے تقاضوں کو سمجھنے اور اصولی طور پر مضبوط رہتے ہوئے ان سے مطابقت کرنے کی کتنی صلاحیت ہے۔ انسان کی درخت کے تنے جیسی مضبوطی اسے زندگی میں عزت دلاتی ہے اور شاخ جیسی لچک کی وجہ سے وہ حالات اور وقت کے تقاضوں کے مطابق خود میں خوش گوار تبدیلیاں لاتا ہے۔

محترمہ بشریٰ بی بی میں یہ مضبوطی اور لچک دونوں ہیں۔

عمران خان کے بارے میں یہ تاثر ہے کہ وہ محترمہ بشریٰ بی بی کے تابع ہیں، لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ محترمہ بشریٰ بی بی نے اپنے انٹرویو میں گھر کو جنّت بنا دینے والی ایک بات کہی کہ ہم دونوں نے ایک دوسرے سے سیکھا ہے، اور انھوں نے اس پر بڑی جگمگاتی ہوئی گفتگو کی ہے۔ کسی بھی شادی کو مثالی شادی بنانے کی یقینی ضمانت یہی ہے کہ شوہر اور بیوی دونوں ایک دوسرے سے سیکھتے رہیں۔ (یو ٹیوب پر موجود سما ٹی وی کے 31 اکتوبر 2020 کے ایک ویڈیو کِلپ کے مطابق عمران خان نے یہ کہا: “میں سیاسی معاملات میں بھی ان سے مشورہ کرتا ہوں، اور کوئی “بےوقوف” ہی ہوگا جو اپنی بیوی سے مشورہ نہ کرے۔”)

انھوں نے بتایا کہ خان صاحب سے انھوں نے دردمندی سیکھی ہے۔ محترمہ بشریٰ بی بی میں پہلے ہی بڑی انسانی ہم دردی تھی، لیکن ان کا زور دے کر یہ کہنا کہ انھوں نے عمران خان سے دردمندی سیکھی ہے__ان کے باشعور یونے کی ایک بڑی ہی مضبوط دلیل ہے۔

ان سے سوال کیا گیا کہ یہ خبریں چھپی ہیں کہ انھوں نے عمران خان کے کتے موٹو کو گھر سے نکال دیا ہے۔ (محترمہ بشریٰ بی بی کے خلاف پروپیگنڈے کی ایک مثال)۔ انھوں نے اس خبر کی تردید کی اور یہ حیرت انگیز بات بتائی کہ موٹو کا خیال اب وہی رکھتی ہیں۔ ایک انتہائی دین دار اور عبادت گزار خاتون میں ایسی تبدیلی واقعی ایک بڑی بات ہے۔ اس تبدیلی کی وجہ بھی انھوں نے انٹرویو میں بتائی ہے کہ ایک مرتبہ انھوں نے موٹو کو ہاتھ کے اشارے سے جِھڑک دیا تو وہ خاموشی سے ایک طرف بیٹھ گیا اور اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اس دن کے بعد سے انھوں نے موٹو کا باقاعدہ خیال رکھنا شروع کردیا۔

یہاں یہ خیال ذہن میں آتا ہے کہ ہوسکتا ہے یہ تبدیلی وقتی ہو، کیونکہ ایسی مثالیں دیکھنے میں آتی ہیں کہ شادی کے ابتدائی دنوں میں کچھ تبدیلی آتی ہے مگر وہ وقتی ہوتی ہے۔

غالب گمان تو یہی ہے کہ یہ تبدیلی مستقل ہے لیکن بہتر اللہ ہی جانتا ہے۔

ایمانی قوت:
محترمہ بشریٰ بی بی کا انٹرویو اگر دوتین بار توجہ سے دیکھا جائے تو دل ان کی ایمانی قوت کی گواہی دیتا ہے۔

ہم لوگ عام طور پر سنی سنائی بات کو ہی ثبوت سمجھ لیتے ہیں اور تحقیق نہیں کرتے۔ اس کی ایک تکلیف دہ مثال کافی سننے میں آتی ہے کہ کسی شخص نے محض یہ دیکھ کر کہ لڑکا باہر ملک میں اچھا کما رہا ہے، ملک میں ہی ایک اچھا بزنس کر رہا ہے، یا ایک اچھی پوسٹ پر ہے اپنی بیٹی کی اس سے شادی کردی__اچھی طرح تحقیق کیے بِغیر! شادی کے بعد لڑکے کی یا اس کے گھر والوں کی حقیقت کھلی تو پھر لڑکی کے گھر والے بڑا پچھتائے۔

جب لوگ اپنی بہن بیٹی کے بارے میں اتنے لاپروا ہیں کہ ان کی شادی جیسے نازک اور اہم کام کے لیے ذمےداری سے فیصلہ نہیں کرتے تو وہ دوسروں کی بہن بیٹی کے بارے میں ذمےدار کیسے ہوسکتے ہیں! آپ سو افراد سے پوچھیے،

“کیا آپ نے محترمہ بشریٰ بی بی کے بارے میں رائے تحقیق اور غورو فکر کے بعد قائم کی ہے؟”

شاید کچھ کہیں کہ ہم نے چند ویڈیو کلپ دیکھے ہیں یا کچھ پڑھا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا آپ نے اچھی طرح غور کیا کہ ویڈیو میں یا اخبار میں جو کچھ بشریٰ بی بی کے بارے میں بتایا گیا ہے اس میں کتنی سچائی ہے؟

سو میں شاید ایک بھی شخص ایسا نہ ہو جس نے ذمےداری سے غور کیا ہو۔

اب آخر میں، ایک طریقہ پیش کرتا ہوں جس سے سوفیصد تو نہیں لیکن بڑی حد تک سچائی کا پتا چل جائے گا۔

دنیا میں کافی personality analysts ہیں۔ یہ کسی بھی شخص کی باڈی لینگویج، بولنے کے انداز، اس کی لفظیات، اس کے لہجے کے اتارچڑھاؤ، لہجے میں جذباتی عناصر اور کئی دوسری چیزوں سے کسی شخص کے سچ یا جھوٹ کا اسّی نوّے فیصد یا اس سے بھی زیادہ اندازہ لگا لیتے ہیں۔

محترمہ بشریٰ بی بی کا یوٹیوب پر انٹرویو موجود ہے۔ عمران خان کے سیاسی مخالفین کے وسائل ہیں وہ اس کا آسانی سے تجزیہ کروا سکتے ہیں۔ دو چار سے نہیں بلکہ دس بیس ماہرین سے تجزیہ کروائیں۔

پولیس، وکیل وغیرہ میں ایسے اہل افراد ہوتے ہیں جو سچ یا جھوٹ کا بڑی حد تک اندازہ لگا سکتے ہیں۔ پاکستان میں ان پیشوں سے متعلق بہت قابل لوگوں سے رابطہ کیا جائے اور ان سے محترمہ بشریٰ بی بی کے انٹرویو پر رائے لی جائے۔

عوام بھی کافی حد تک سچ یا جھوٹ کا فیصلہ کرسکتی ہے۔

محترمہ بشریٰ بی بی کا انٹرویو اکیلے یا گروپ کی شکل میں دو تین مرتبہ دیکھا جائے اور اس کا تجزیہ کیا جائے تو پچاس ساٹھ فیصد سچ یا جھوٹ ایک عام آدمی پر بھی ضرور واضح ہوجائے گا، کیونکہ اس انٹرویو میں محترمہ بشریٰ بی بی نے اپنے خیالات اور احساسات کا بھرپور اظہار کِیا ہے۔ ان میں بناوٹ نظر نہیں آتی۔

اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ محترمہ بشریٰ بی بی کی علیحدگی حالات کی وجہ سے نہیں ہوئی بلکہ انھوں نے دنیاوی عزّت اور شہرت کے لیے خود کوشش کرکے خلع لیا ہے تو وہ اپنی رائے پر قائم رہے، لیکن یہ رائے پوری ذمےداری سے قائم کی جانی چاہیے، اور اس رائے کی بنیاد دِیانت اور صرف دِیانت پر ہونی چاہیے!

 

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20