وومن اسٹڈیز شعبہ جات: صنفی عقائد کے تبلیغی سینٹر — وحید مراد

0

فیمنزم کی دوسری لہر (second wave) کو متاثر کرنے والی مشہور فرانسیسی لیڈر و اسکالر سیمون دی بووا نے کہا تھا کہ ‘ایک عورت پیدا نہیں ہوتی بلکہ سماجی و معاشرتی تشکیل سے اسےعورت بنا دیا جاتا ہے’۔ دی بووا کے اس جملےسے یہ تصور ابھرا کہ جینڈر اسٹڈیز میں صنف کی اصطلاح کو مردو زن کی معاشرتی اور ثقافتی تشکیل (Social and cultural constructions) کیلئے استعمال کیا جانا چاہیے نہ کہ اس مکمل مرد یا عورت کے تصور کیلئے جس کی بنیاد فطری اور حیاتیاتی جنس پر ہے۔ صنف کے اس نئے تصور کی ترویج وتبلیغ کیلئے ساٹھ اورستر کے عشروں میں حقوق نسواں کی تحریک اورفیمنسٹ اسکالرز نے مروجہ تاریخی تصورات میں تبدیلی کا پروگرام بنایا۔ ان کے خیال میں مردو زن کی خصوصیات کے بارے میں صدیوں سے رائج تصورات کو ہدف تنقید بنا کر ان پر سوال اٹھانا اور از سر نو جائزہ لیاجانا ضروری تھا۔ بعد ازاں جب حقوق نسواں کے ساتھ ساتھ ہم جنس پرستوں اور لزبئین کے حقوق کی بات شروع ہوئی توفیمنسٹ اسکالرز نے سوچا کہ ‘اصناف کا نظریہ’ کالج اور یونیورسٹی کےنصاب میں شامل کیا جانا چاہیے۔ چنانچہ اس غرض سے جینڈر اسٹڈیز اور وومن اسٹڈیز کےشعبہ جات قائم کئے گئے اورکئی کورسز متعارف کرائے گئے۔

امریکہ میں وومن اورجینڈر اسٹڈیز کے پہلے تسلیم شدہ نصاب کا آغاز 1969 میں کارنیل یونیورسٹی (Cornell University) سے ہوا تھا اور 1980 کےعشرے میں اسے ملک بھر میں ترقی اور نشوونما دی گئی۔ پہلا آفیشل پی ایچ ڈی پروگرام 1990 میں Emory University نے شروع کیا تھا اور آج امریکہ میں سات سو سے زیادہ اداروں میں اور عالمی سطح پر چالیس سے زیادہ ممالک میں وومن اسٹڈیز کے کورسز پڑھائے جاتے ہیں۔ یہ کورسز اور شعبہ جات زیادہ تر ‘یو ایس ایڈ’، دیگر عالمی مالیاتی اداروں اور وزارت تعلیم کے تعاون سے چلتے ہیں۔

فیمنزم کے جن مفروضات، تصورات و نظریات کا مطالعہ ان کورسز میں کرایا جاتا ہے ان میں فیمنسٹ تھیوری، سٹینڈ پوائنٹ تھیوری (standpoint theory)، کثیر الثقافتی (multiculturalism)، معاشرتی انصاف (social justice)، بائیو پالیٹیکس (bio-politics)، قومی حدود سے بلند فیمنزم (transnational feminism)، intersectionality اور مادیت وغیرہ شامل ہیں۔ ان کے علاوہ اصناف کے درمیان طاقت، شناخت، نسل، جنسی رجحان، سماجی و معاشی طبقات، قومیت، عدم مساوات، معاشرتی اصول اور معذوری کے تعلقات کو مطالعہ کا موضوع بنائے جانے کا دعوی بھی کیا جاتا ہے۔ ان شعبہ جات کا یہ دعوی بھی ہے کہ یہاں صنف کی معاشرتی و ثقافتی تشکیل کا جائزہ لیتے ہوئے، استحقاق، مراعات اور ظلم و جبر کےنظام کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔

جینڈر اسٹڈیز شعبہ جات، مغرب کے نقادوں کی نظر میں:

جبر اور ظلم کے وجود سے انکار ممکن نہیں ہے لیکن اسکی تلاش ایک بہت پیچیدہ عمل ہے۔ جس سادگی کے ساتھ طالب علموں کو وومن اسٹیڈیز اور جینڈر اسٹڈیز کے مضامین میں یہ تھیوریز بتائی جاتی ہیں، ظلم و جبر کا نظام یقیناً اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ عمل ہے۔ طالب علموں کو یہ سکھانا کہ دنیا کو ظلم کی عینک سے کس طرح دیکھنا چاہیے یہ صرف خطرناک ہی نہیں بلکہ خود ایک ظالمانہ فعل ہے۔ اس سے زیادہ ظلم کی کوئی اور بات نہیں ہو سکتی کہ پروفیسرز صاحبان ہر سبق کا مطلب صرف یہ بتا رہے ہوں کہ آپ بحثیت عورت ایک وکٹم ہیں۔

Toni Airaksinen اپنے ایک مضمون بعنوان ‘میں نے وومن اسٹڈیز کلاس میں کیا سیکھا؟’ میں لکھتی ہیں کہ فیمنسٹ ماہرین جو ڈسکورس تخلیق کر رہے ہیں وہ سیاسی پروپیگنڈے سے مشابہت رکھتا ہے اور یہ کسی صنف کو بھی بااختیار بنانے میں ناکام ثابت ہوگا۔ پدرسری نظام کی تھیوری میں بتایا جاتا ہے کہ خواتین پر مردوں کا ادارہ جاتی کنٹرول اور حکومت ہے اور اسکے نتیجے میں خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک اور ہر قسم کا جبر و ظلم روا رکھا جاتا ہے۔ لیکن فیمنسٹ اسکالرز کے اپنے حلقوں کے بہت سے لوگ مثلاً کیٹ ملٹ Kate Millet ظلم اور جبر کو صرف صنفی امتیازات کے ساتھ ہی وابستہ نہیں سمجھتی۔ کمبرلی کرینشا Kimberle Crenshaw نے بھی اس تصور کو چیلنج کیا کہ جبر اور ظلم کا واحد محور صنفی امتیاز ہوتا ہے۔ اس نے صنفی امتیا ز کی بجائے ظلم و ستم کا محور ‘نسل پرستی’ کو قرار دیا۔ وومن اسٹڈیز میں یہ بات ہرگز نہیں بتائی جاتی کہ ظلم و جبر تاریخ میں ہر جگہ پایا جاتا ہے۔ فیمنسٹ ماہرین ظلم کی تلاش کا کام سائنسی مطالعہ کے طور پر نہیں کرنا چاہتے کہ یہ جہاں کہیں نظر آئے اسکی نشاندہی کی جائے بلکہ وہ ہر قسم کے ظلم کو صرف ایک خاص جگہ پر دکھانا چاہتے ہیں۔

الزبتھ سگران (Elizabeth Segran) ایک مشہور مصنفہ ہیں۔ وہ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے سے پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے بعد کچھ عرصہ تک وہیں وومن اسٹڈیز شعبے میں تدریس کےفرائض سرانجام دیتی رہیں۔ وہ اپنے ایک مضمون میں لکھتی ہیں کہ وومن اسٹڈیز ڈیپارٹمنٹس کھولتے وقت بتایاگیا تھا کہ انکا مقصد طالب علموں کو اس بات کیلئے تیار کرنا ہے کہ وہ اپنی کمیونٹی میں پیش آنے والے جنسی مسائل پر مشتعل ہونے یا جذباتی اظہارکرنےکے بجائے علم اور مہارت کی بنیاد پر کیسے نبٹیں۔ یہ دعو ی کیا گیاتھا کہ ہم ان تمام امور پرطالب علموں کو کھل کر اظہار خیال کرنے کا موقع فراہم کریں گے جو انکی زندگیوں پر اثر انداز ہو کر پیچیدگیاں پیدا کرتے ہیں مثلا رضامندی اور جبر کا تعلق، عصمت دری، مانع حمل و اسقاط حمل کے اعمال و ذرائع وغیرہ۔

یہ شعبہ جات قائم کرتے وقت یہ دعوی بھی کیا گیا تھا کہ یہاں طالب علموں کو ایسے مواقع فراہم کئے جائیں گے کہ وہ جنسی امور میں اپنے ہم جماعتوں کے سامنے بحث و مباحثہ کے بعد ایک دوسرے کی عزت کرنا سیکھیں گے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد آج بھی کلاس روم کے اندر حقیقی زندگی کے مسائل پر بحث کرنا ایک دھماکے سے کم نہیں۔ جنسی سیاست، صنفی تعصب و حقارت کے نظریات، جنسی نوعیت کی ثقافتی تعبیر کے بارے میں تجریدی نظریات پر بات کرنا تو بہت آسان ہے لیکن ایک استاد کی حیثیت سے اس جنسی انقلاب پر بات کرنا جو نوجوانوں کی زندگی میں عملی طور پر اثر پذیر ہوچکا ہے بہت مشکل ہے۔ ایسا ارادہ کرتے وقت یہ محسوس ہوتا ہے کہ ہم بحثیت استاد اپنی ذمہ داری سے انحراف کر رہے ہیں۔

دوسری بات یہ ہےکہ یونیورسٹی انتظامیہ اور قوانین ایک استاد کو اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ وہ کلاس روم میں ذاتی جنسی تجربات اور تعلقات کو موضوع بحث بنائے کیونکہ یہ ڈسکشن جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزمات کا دروازہ کھولتی ہے۔ جنسی ہراسانی کی تعریف میں اس زبانی طرز عمل کو بھی شامل کر لیا گیا ہے جو کسی فرد کیلئے ناگواری اور ناپسندیدگی کا باعث ہو۔ جنسی ہراسانی کی یہ تعریف اتنی وسیع ہے کہ جنسی نوعیت کے کسی ذاتی موضوع پر بحث کرنے کے عمل کو ناممکن بنا دیتی ہے۔

جب طالب علموں کے درمیان پائے جانے والےجنسی تعلقات اور خیالات کو علمی طورپر چیلنج کرنے، انہیں وسعت نظری سکھانے کی بات آتی ہے جس میں کوئی بحث انکے گوشہ عافیت (کمفرٹ زون) سے باہر جانے کا امکان ہو تو یہ پالیسی وومن اسٹڈیز کے اساتذہ کی سخت حوصلہ شکنی کرتی ہے اور وہ اپنا منہ نہیں کھول سکتے۔ اس لئے اساتذہ اسی میں عافیت سمجھتے ہیں کہ نظریاتی باتیں کرکے وقت گزاریں اور کسی عملی پہلو پر بات کرنے سے پرہیز کریں۔ جب طالب علموں نے صنفی نظریات و سیاست فیمنسٹ تحریک سے سیکھنی ہے، جنسی تعلقات ومعاملات میں معاشرے کے غالب رویوں سے متاثر ہونا ہے اور وومن اسٹڈیز ڈیپارٹمنٹ میں اس پر کوئی بات نہیں ہو سکتی تو یہ شعبہ جات چلانے کا کیا مقصد باقی رہ جاتا ہے؟

کرسٹینا سمرز (Christina Marie Hoff Sommers) معاصر فیمنزم کی معروف نقاد ہیں، وہ اپنی کتاب Who Stole Feminism میں لکھتی ہیں کہ ماڈرن فیمنزم معاشرے کے تمام افراد کے حقوق کی بات کرنے کے بجائےصرف جنس اور صنف کے چشمے لگا کر دیکھتا ہے اور اس نے معاشرے کو اصناف کی لڑائی کے ایک اکھاڑے میں تبدیل کر دیا ہے۔ مرد اور عورت کی تفریق اس لئے ابھاری گئی کہ فیمنزم کے جھنڈے تلے زیادہ سے زیادہ عورتیں بھرتی ہوں اور انہیں ‘پدر سری’ کے انجانے دشمن کے خلاف مہم میں استعمال کیا جا سکے۔ اس وقت امریکہ میں فیمنزم پر خواتین کے ایک خاص گروہ کا غلبہ ہے جو عوام کو ہر وقت یہ باور کرانے کی کوشش میں ہے کہ امریکی خواتین آزاد مخلوق نہیں بلکہ پدرسری نظام کے تحت مردوں کے جبر اور ظلم کا شکار ہیں۔ امریکی معاشرے میں اس دعوے کی کوئی حقیقت اور بنیاد نظر نہیں آتی۔

کرسٹیناسمرز کے خیال میں یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے حقوق نسواں کی تحریک کو چوری کیا اور فلاح و بہبود کے کام کرنے کے بجائے خواتین کو مرد دشمنی پر لگا دیا۔ اس حکمت عملی کے تحت معاشرے کے تمام مظلوم طبقات کے حقوق کی بات ختم کر دی گئی اور کچھ مخصوص لوگوں نے ذاتی مفادات کے ایجنڈے پر کام کرتے ہوئے تعلیم، صنعت اور حکومتی شعبوں میں مراعات حاصل کر لیں۔ بہت سے فیمنسٹ اسکالرز نے سرکاری اور نجی ذرائع سے مالی امداد حاصل کرنے اور تحقیقی مراکز، وومن اسٹڈی کمیٹیز، انتظامی امور وغیرہ میں اعلیٰ عہدوں پر تقرریوں کا اعتراف بھی کیا ہے۔

سمرز، وومن اسٹڈیز اورجینڈر اسٹڈیز ڈیپارٹمنٹس پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ‘وومن اسٹڈیز اور جینڈر اسٹڈیز کے پروفیسر صاحبان، مردوں کے خلاف جتنا زیادہ غصہ نکالتےاور جتنی زیادہ اونچی آواز میں رونا روتے ہیں، معاشرے میں خواتین کو اتنی ہی زیادہ مراعات حاصل ہوتی چلی جارہی ہیں’۔ ان مطالعاتی محکموں میں، غلط اعداد و شمار پیش کرنے والے نسائی ماہرین اپنا لبرل ایجنڈا آگے بڑھانے کیلئے آگ بڑھکانے والے ایسے پیغام جاری کر رہے ہیں کہ ‘عورتیں وینس سیارے کی مخلوق نہیں کہ حدت برداشت کر یں، جہنم میں جانے کے اصل حقدار مرد ہیں’۔

وومن اسٹڈیز شعبہ جات صنفی تعصب پھیلا رہے ہیں:

کمیل پالیہ (Camille Anna Paglia) معاصر فیمنزم پر اتنی سخت تنقید کرتی ہیں کہ فیمنسٹ حلقے انہیں اپنا دشمن تصور کرتے ہیں۔ وہ اپنی کتاب Provocations میں وہ وومن اسٹڈیز اور پالیٹکس پر تنقید کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ ‘وومن اسٹڈیز کے مضامین ایسے گروہ کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں جو پہلے سے آرام دہ اور پرسکون ماحول میں رہنے کا عادی ہے۔ اس گروہ کی سیاست رومانوی، جذباتی اور زبانی جمع خرچ پر مبنی ہے اور ہر روز تبدیل ہونے والے رجحانات کے ساتھ فیشن کی طرح بدلتی رہتی ہے۔ یہ خواتین کا ایک ایسا مراعات یافتہ طبقہ ہے جو اپنے ضمیر پر مراعات کے بوجھ کو تو محسوس کرتا ہے لیکن اسکے نتیجے میں پیدا ہونے والا احساس ندامت و شرمندگی، محروم طبقات کو گلے لگانے کے بجائے انکا مقابلہ کرکےتشفی پاتاہے۔

وومن اسٹڈیز کی تعلیم کا ارتکا ز صرف سیکسزم اور صنفی تعصب پر ہے۔ فیمزم میں کام کرنے والی خواتین نہ عام خواتین کی نمائندگی کرتی ہیں اور نہ ہی قومی اور عالمی جذبات و احساسات کی۔ اکیڈیمک فیمنسٹ ماہرین یہ سوچتی ہیں کہ انکے معصوم اورکتابی کیڑے نما شوہر ہی دنیا بھر میں پائی جانی والی مردانگی کا مثالی نمونہ ہیں۔ جینڈر اسٹڈیز کے ڈیپارٹمنٹ میں خدمت پیش کرنے والے لوگ منظم اجارہ داری Cartel پر مشتمل ہوتے ہیں۔ اسکا واحد مقصد یہ ہوتا ہے کہ یونیورسٹیوں میں خواتین فیکلٹی ممبرز کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا رہے۔ زیادہ تر یونیورسٹیز میں مستند لوگوں کا وجود ہی نہیں، چند بوژوا چیئرز پر جو ماہرین تعلیم براجمان ہیں انکے زیر نگرانی کیپمس ‘نرسری اسکول’ کا سماں پیش کرتے ہیں۔ یہاں کے طالب علموں کی مثال انکوبیٹر سے پیدا ہونے والے بطخ کے بچوں کی سی ہے جو ویکیوم کلینر کو بھی دیکھ کر اپنی ماں تصور کرنے لگتے ہیں۔

کمیل پالیہ کا دعویٰ ہے کہ وومن اسٹڈیز میں پڑھانے والوں کی اکثریت بیہودہ، اناڑی، لکیر کے فقیر، خوشامدی، پائی ان دی اسکائی یوٹوپئین، رونے رلانے والے، شکوے شکائتیں کرنے والے، اودھم پارٹی کے جیالے اورخفیہ ایجنسی کے کارندوں کی طرح ہوتی ہے۔ اعتدال پسند اور معقول فیمنسٹ اسکالر اس پاپولر فیمنزم سے پیچھے ہٹ گئے ہیں اور وہ اچھے جرمنوں کی طرح فاشزم کے سامنے خاموشی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ وومن اسٹڈیز آرام دہ ماحول، سہولیات و مراعات سے آراستہ، آرام و سکون سےفیض یاب ہونے والے لوگوں پر مشتمل ایک دلدل ہے جس میں پھنسنے والے افراد اسی کے ہو جاتے ہیں۔ اس میں ایک آدھ کےعلاوہ کوئی غیر معمولی شخصیت شامل نہیں۔ اکیڈیمک فیمنسٹ ماہرین سے مرادڈھیٹ، خاموش اور ہاں میں ہاں ملانےوالے مردوں اور بڑبڑانے والی عورتوں کا گٹھ جوڑ ہے۔ جب اس گروہ کو وومن اسٹڈیز کیلئے نصاب کی ضرورت پیش آئی تو راتوں رات انہوں نے اختلافات، تعصبات اور الزامات کی توپیں ایجاد کر لیں۔ معاصر خواتین رائٹرز کے ناموں کو زبردستی اس حلقے کے ساتھ نتھی کیا گیا اور یونیورسٹی کی اچھی طالبات کو زبردستی، بہلا پھسلا کر اس میں شامل کیا جاتا ہے۔

مشرقی یورپ میں جینڈر اسٹڈیز شعبہ جات پر تالے:

امریکہ اور یورپ کے کئی نقاد، وومن اسٹڈیز ڈیپارٹمنٹس پر برسوں سے تنقید کر رہے تھے۔ لیکن ان شعبہ جات کی حقیقت عام لوگوں پر اس وقت عیاں ہوئی جب اکتوبر 2018 میں ہنگری کی حکومت کی جانب سے جینڈر اسٹڈیز پروگراموں کی منظوری واپس لے کر ان پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا گیا۔ ہنگری کے وزیر اعظم کے ایک نائب زالٹ سیمجین (Zsolt Semjen) نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وومن اسٹڈیز اور جینڈر اسٹڈیز کی تعلیم کا کوئی مصرف نہیں کیونکہ یہ ایک نظریہ، آئیڈیالوجی اور بے بنیاد مفروضات ہیں کوئی سائنسی علم نہیں۔ لیبر مارکیٹ میں اسکی طلب صفر کے برابر ہے اس لئے یونیورسٹیز میں اسے بطور مضمون پڑھانے کا کوئی مقصد نہیں۔

ان شعبہ جات میں تیار ہونے والے گریجوئیٹس اور ماہرین کو کوئی جاب دینے کو تیار نہیں اس لئے انہیں تربیت دینا وقت اور پیسے کا ضیاع ہے۔ طالب علموں کی انرولمنٹ نہ ہونے کے برابر ہے اور خواہ مخواہ ٹیکس دہندگان کا پیسہ ان شعبہ جات اور پروگرامز پر ضائع ہورہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہنگری کی حکومت اس بات کی قائل ہے کہ مغربی یورپ میں مذہبی اور روایتی معاشرہ زوال پذیر ہے۔ وہاں اب خاندان، کنبہ، وطن اور قوم جیسی بنیادی اقدار کو برقرار رکھنا ممکن نہیں۔ اور اس سارے عمل میں فیمنسٹ تحریک کی صنفی مساوات اور جنسی انحراف نے تمام معمولات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ مغربی یورپ کے نوآبادیاتی ذہن رکھنے والے ممالک چاہتے ہیں کہ مشرقی یورپ میں بھی وہی صورتحال پیدا ہو۔

اس سے قبل 2015 میں فیڈز پارٹی (Fidesz Party) کے بانی رہنما لیزلا کوویر (Laszlo Kover) نے ایک اجلاس میں کہا تھا کہ ہم صنف کا جنون اور پاگل پن نہیں پالنا چاہتے۔ ہم اپنے ملک ہنگری کو مردوں سے نفرت کرنے والی خواتین کی آماجگاہ نہین بنانا چاہتے۔ ہم ایسے مرد نہیں چاہتے جو اپنی مردانگی سے دستبردار ہو کر پوری زندگی عورتوں کے خوف کے سائے میں رہتے ہوئے انکی ہاں میں ہاں ملاتے رہیں۔ ہم ایسے والدین نہیں چاہتے جو خاندان اور بچوں کو اپنی نفسانی و جنسی خواہشات اور عیاشی کی تکمیل کے راستے میں رکاوٹ سمجھیں۔ ہم چاہتے ہیں ہماری قوم کی بیٹیاں اس بات کو سمجھیں کہ انسان کی ذات اس وقت مکمل ہوتی ہے جب اسکی شادی ہو، اسکا گھر بسے، اسکے بچے، پوتے، پوتیاں ہوں، وہ اپنی زندگی خاندان کے ساتھ ہنسی خوشی گزارے اور یہ سلسلہ اسی طرح آگے رواں دواں رہے۔

ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان (Viktor Orban) کے ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ حکومت اور ہنگری کی عوام کا موقف ہے کہ تمام انسان مرد یا عورت کے طور پر پیدا ہوتے ہیں اور انکی جنس وہی ہوتی ہے جو قدرت کی طرف سے انہیں فطری طور پر عطا ہوتی ہے۔ ہم حیاتیاتی جنس کے علاوہ کسی سماجی طور پر تشکیل پانے والی صنف کے قائل نہیں ہیں اور نہ ہی ہمیں اس پر بات کرنا قابل قبول ہے۔ چنانچہ حکومت نے ہنگری کی د وبڑی یونیورسٹیوں میں چلنے والے جینڈر اسٹڈیز کے ماسٹرز اور پی ایچ ڈی پروگرامز کیلئے مختص فنڈز منسوخ کر دئے۔ اس پابندی کے خلاف مقامی اور عالمی فیمنسٹ لابی نےشور مچاتے ہوئے اسے جمہوریت اور لبرل ازم پر حملہ قرار دیا۔ جینڈر اسٹڈیز کے ان پروگرامز میں بیس سے بھی کم طالب علم تھے لیکن فیمنسٹ لابی نے دیگر شعبہ جات کے طلباء کو پکڑ دحکڑ کر اپنے احتجاج میں شریک کیا اور حکومت کے خلاف نفرت کا اظہار کرتے ہوئے ننگی گالیاں دیں۔ فیمنسٹ لابی کی ایماء پر یورپی یونین نے بھی ہنگری کے وزیر اعظم کو سزا دینے کے حق میں ووٹ ڈالا۔

ہنگری کی پیروی کرتے ہوئےجون ۲۰۲۰ میں رومانیہ میں بھی ایک قانون کے ذریعے تعلیمی اداروں کو صنفی شناخت پر مبنی نظریات اور رائے کی تبلیغ پر پابندی عائد کر دی گئی جس کے تحت صنفی تصور کو حیاتیاتی جنسی تصور سے الگ مانا جاتا ہے۔ رومانیہ کا یہ قانون ہنگری کی طرز کا ہی ہے جس کے تحت ٹرانجینڈر اور انٹر سیکس لوگوں کی قانونی شناخت کو ختم کر دیا گیا۔ رومانیہ اور ہنگری کے ان اقدامات کے خلاف انسانی حقوق کے گروپوں نے بہت واویلا کیا کہ ان ممالک کے یہ اقدامات انہیں قرون وسطی میں پہنچا دیں گے۔

ہنگری اور رومانیہ کی طرح یورپ کے کئی دیگر ممالک میں بھی صنفی معاملات پر تنازعات بڑھ رہے ہیں۔ اٹلی میں جب صنفی امتیاز کے حوالے سے اسکولوں میں ایک سوالنامہ بھروانے کی تجویز پیش ہوئی تو کئی سیاسی جماعتوں نے اسے صنفی تعصب قرار دیتے ہوئے اسکی کھلی مذمت کی اور ایک اخبار (Daily La Verita) نے اسے صنفی پاگل پن کا نظریہ قرار دیا۔ اسکے بعد اٹلی کے وزیر تعلیم کو یہ سوالنامہ بند کرنا پڑا۔ اگست ۲۰۱۸ میں بلغاریہ میں اسکولوں میں صنفی مساوات کے بارے میں یونیسکو کے ایک پروجیکٹ پر وزارت تعلیم نے پابندی عائد کر دی۔

مشرقی یورپ کے تمام ممالک میں جینڈر اسٹڈیزکے تحت چلنے والے نوآبادیاتی مشنری پروگرامز کی مخالفت پائی جاتی ہے لیکن ہر ملک میں اسکی نوعیت ذرا سی مختلف ہے۔ مشرقی جرمنی میں جینڈر اسٹڈیز کو سوشلز م کی طرح کی ایک آئیڈیالوجی سمجھا جاتا ہے۔ ایسٹونیا کی کئی ویب سائٹس صنفی نظریہ کو مارکسزم اور لینن ازم سے تقابل اور تماثل کرتے ہوئے مضامین شائع کرتی ہیں۔ بائیں بازو کے خیالات رکھنے والے سیاستدان بھی ‘صنفی نظریہ’ کو سرمایہ دارانہ ایجنڈا تصور کرتے ہیں۔

یورپ کے وہ ممالک جہاں انگریزی زبان نہین بولی جاتی وہ ‘صنف، جینڈر’ کی اصطلاحات کو مغربی یورپ کی تخلیق کردہ سازش تصور کرتے ہوئے اس سےنفرت کرتے ہیں کیونکہ انکی اپنی زبانوں میں یہ اجنبی تصورات موجود نہیں۔ پولینڈ میں ان اصطلاحات کو غیر ملکی اور درآمد شدہ تصور کیا جاتا ہے۔ وارسا یونیورسٹی کے ایک لیکچرار (Agneszka Graff) کا کہنا ہے کہ یہ لفظ غیر ملکی ہے اور اسے زوال پذیر مغرب سے برآمد کرنے کا مقصد مقامی ثقافت میں زہر گھولنا ہے۔ 2000کے عشرے سے ویٹیکن صنفی نظریہ کی کھل کر مخالفت کر رہا ہے اور اس خیال کو رد کرتا ہے کہ اصناف کی تشکیل معاشرتی عوامل اور قوتیں کرتی ہیں۔ ۲۰۱۶ میں پوپ فرانسس نے اس نظریہ کو نوآبادیاتی نظام کا حیلہ قرار دیا۔ پولینڈمیں ایک پارٹی کے رہنما Kaczynski نے صنفی نظریہ کو خاندان اور بچوں پر براہ راست حملہ قرار دیتےہوئے اسے LGBTQ کے ایجنڈے کا حصہ قرار دیا۔

وومن اسٹڈیز میں پڑھائی جانے والی فیمنسٹ آئیڈیالوجی کا سائنس اور علم سے کوئی واسطہ نہیں:

یورپین تنظیم برائے نیوکلئیر ریسرچ (CERN)کے ایک سنئیر سائنسدان اور Pisa University کے پروفیسر Alessandro Strumia نے 28 ستمبر 2018 کو ایک گفتگو میں کہا کہ فیمنزم کے عقائد کے پرچار کیلئے جو ورکشاپس منعقد کی جاتی ہیں ان میں بتایا جاتا ہے کہ مرد صنفی تعصب و سیکسزم کا شکار ہیں اور وہ عورتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرتے ہیں اور عورتوں کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ وہ وکٹم ہیں حالانکہ اس کا حقیقت سے دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں۔ پروفیسر اسٹرومیا نے مزید کہا کہ طبیعات اور دیگر سائنسز میں مروں کا کام زیادہ ہے اور اسکی تاریخی وجوہات جو بھی ہوں لیکن آج تک فزکس میں خواتین نے صرف تین نوبل انعام جیتےہیں اور مردوں نے 207۔ پروفیسر اسٹرومیا کے اس بیان کے فوری بعد انہیں نوکری سے برخواست کر دیا گیا اور انکے خلاف انکوائری شروع ہو گئی۔

انکے خلاف 1600 سائنسدانوں سے ایک پٹیشن پر دستخط کروائے گئے جس میں لکھا گیا کہ پروفیسر اسٹرومیا کے دلائل فیمنسٹ اخلاقیات کے مطابق قابل مذمت ہیں اور نکی طرف سے سفید فام خواتین سائنسدانوں کی صلاحیتوں پر سوال اٹھانے کا عمل شرمناک ہے۔ پروفیسر اسٹرومیا نے تو سائنسدانوں کے رنگ، نسل، زبان، وطن، مذہب اورجنسی شناخت کے بارے میں کوئی بات نہیں کی اس نے تو صرف اعداد و شمار اور حوالہ جات سے متعلق کہا کہ طبعیات میں خواتین کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جاتا اور صنف سے قطع نظر میرٹ پر فیصلے ہوتے ہیں۔ لیکن انکے خلاف فیمنسٹ لابیز کی طرف سے جو رد عمل ظاہر کیا گیا وہ سراسر تعصب، ، ناانصافی، فاشزم، سائنس دشمنی اور ا س امتیازی عقیدے پر مبنی تھا کہ ہر شعبے میں میرٹ کو مد نظر رکھے بغیر لازمی طور پر 50 فیصد خواتین کوشامل کیا جانا چاہیے اور اس عمل کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو دبا دینا چاہیے۔

ایک امریکی اسکالر مارگریٹالیون Margarita Levin کا کہنا ہے کہ آج کے مغرب میں فیمنسٹ آئیڈیالوجی نے تعلیمی اور علمی آزادی کو مجروح کر دیاہے۔ پچاس، ساٹھ سال قبل اعلیٰ تعلیم کی درسگاہیں ایک کھلی ثقافت کا منظر پیش کرتی تھیں جہاں طلباء اور پروفیسرز بہت سے مختلف معاشرتی اور سیاسی نقطہ نظر، آراء و اقدر اور نظریات پر بحث مباحثہ کرتے تھے لیکن اب یونیورسٹیاں ایک بند ثقافت میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ کچھ خاص نظریات، عقائد اور اقدار کو اپنا لیا گیا ہے اور دیگر کو خارج کر دیا گیا ہے اور جب بھی کوئی متبادل نظریات، دلائل، شواہد کی بات کرتا ہے تو اس کی آواز کو دبا دیا جاتا ہے اس لئے اب نارتھ امریکہ کے کالجز اور یونیورسٹیاں بہت تیزی کے ساتھ کمیونسٹ سویت یونین اور مائو کے چین جیسے معاشروں کی طرف بڑھتی جارہی ہیں۔

جو چیز علوم کو سائنسی بناتی ہے وہ صرف یہ نہیں کہ یہ علوم متعلقہ ثبوت اکٹھا کرتے ہیں بلکہ اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ صرف مفروضے کی حمایت کرنے والے ثبوتوں پر غور نہیں کیا جاتا بلکہ ہر قسم کے ثبوتوں پر غور کیا جاتا ہے۔ جب ثبوت کسی مفروضے کے خلاف جاتے ہیں تو مفروضے کو یا تو ان مخالف شواہد کا جواب دینا پڑتا ہے ورنہ وہ مفروضہ مسترد کر دیا جاتا ہے۔ محقیقین اپنے مفروضے کی خواہ مخواہ تصدیق کرنے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ اگر ثبوت ا س مفروضے کی حمایت نہیں کرتے تو اس مفروضے کو ایک طرف رکھ دیا جاتا ہے۔ اسی طرح نتائج اور جوابات جانچ کے عمل کے اختتام پر پیش کئے جاتے ہیں تحقیق کے آغاز میں دعوے نہیں کئے جاتے۔

لیکن سائنسی علوم کے برعکس فیمنسٹ ریسرچ کی ابتدا اس مفروضے اور دعوے سے ہوتی ہے کہ عورتیں جسمانی طور پر مردوں کے برابر مضبوط ہوتی ہیں لیکن مرد کی وکٹم ہوتی ہیں اور تمام فیمنسٹ ریسرچز ہمیشہ یہی وضاحت کرتی ہیں، اور ہمیشہ ہر متبادل کومسترد کر دیا جاتا ہے۔ فیمنزم میں جس قسم کی حکمت عملی استعمال کی جاتی ہے وہ اس مفروضے سے شروع ہوتی ہے کہ کچھ سچائیاں پہلے سے طے شدہ اورعیاں ہیں اور پھر ایسی مثالوں کی تلاش کی جاتی ہیں یا گھڑی جاتی ہیں جو ان مفروضوں کی سچائیوں کی شکل میں تفہیم کر سکیں۔ یہ خود اثباتی کی حکمت عملی ہوتی ہے جو تصدیق کے تعصب کو ادارہ جاتی جہت دیتی ہے۔ یہ ذاتی آراء پر مبنی ایک ایسی حکمت عملی ہوتی ہے جس میں ثبوت کی ہر منتخب شکل مفروضوں کی تصدیق کرتی ہے اور تفہیم کو زیادہ سے زیادہ انتہائی پوزیشن پر لے جاتی ہے۔ اس حکممت عملی کو استعمال کرنے والافیمنزم سائنس تو کیا کسی عام علم کے درجے پر بھی پورا نہیں اترتا۔

فیمنسٹ ماہرین، فیمنزم کو سائنس ثابت کرنے کیلئے ہر قسم کے حیلے آزما رہےہیں اور بلند و بانگ دعوے کررہے ہیں لیکن فیمنزم نہ سائنس ہے اور نہ سوشل سائنس سے اسکا کوئی واسطہ ہے۔ یہ تعصب پر مبنی عقائد کا ایک نظام ہے اور اسے زیادہ سے زیادہ ایک آئیدیالوجی تو کہہ سکتے ہیں لیکن اسکا شمار علوم میں نہیں ہوتا کیونکہ علم میں تحقیق، مشاہدات اور ثبوتوں سے پہلے دعوے نہیں کئے جاتے۔ علم کےحصول میں سوال اس طرح اٹھائے جاتے ہیں کہ انکے جوابات تلاش کئے جا سکیں بجائے اسکے کہ پہلے سے موجود جوابات کو سوالوں کے ساتھ فٹ کیا جائے۔ علم میں مفروضوں کو ثبوتوں کے ذریعے پرکھا جاتا ہے اور اگر یہ ثبوتوں کے مطابق پورے اتریں تو انہیں عارضی طور پر قبول کیا جاتا ہے ورنہ مسترد کر دیا جاتا ہے۔ لیکن فیمنسٹ آئیڈیالوجی تو چند اقدار کےساتھ ایک مذہب اور عقیدے کی طرح چمٹی ہوئی ہے اور انکا دعویٰ ہے کہ جس قدر کی وہ حمایت کرتے ہیں وہ زیادہ اہم ہے لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر قدر کی بھی ایک قیمت ہوتی ہے۔ کیونکہ اگر کبھی آزادی اور مساوات میں مطابقت نہ ہو اور دونوں ایک دوسرے کے بالمقابل کھڑے ہوجائیں تو پھر ایک کے بڑھنے کا مطلب دوسرے کی کمی ہوگی اور پھر دونوں میں سے ایک کا انتخاب دوسرے کی قیمت پر کرنا پڑے گا۔ ایک کو اپنانے کیلئے دوسرے کی قربانی دینی پڑے گی۔ اسی صورتحال میں اپنی پسند کی قدر پر ضدکرنے والوں کا سائنس سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا انہیں فیمنسٹ عقائد کے متعصب مبلغین ہی کہا جائے گا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20