گلستانِ افسانہ کا ایک اور بلبل رخصت ہوا —- ڈاکٹر فرید حسینی

0

اکیسویں صدی کی تیسری دہائی کی بہار کا آغاز ہوا ہی چاہتا تھا کہ اردو افسانے کا بلبل اپنی آخری منزل کی جانب پرواز کر گیا۔ اپنی 80 ویں سالگرہ سے محض 2 دن قبل رشید امجد ہم سے جُدا ہو گئے۔ 5 مارچ 1940 کو سری نگر میں تولّد ہونے والا یہ فنکار 3 مارچ کو راولپنڈی میں اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملا۔ 47 میں کشمیر سے ایک بچہ اپنی ماں کے ساتھ راولپنڈی اپنے ننھیال کو ملنے کے لیے آیا اور پھر حالات کے جبّر کی چکی نے واپسی کے تمام راستے مسدود کر دیے۔

حقیقی معنوں میں ایک سیلف میڈ انسان اور جینوئن ادیب، جس کی ساری زندگی جہدِ مسلسل سے عبارت رہی۔ معلمّی کے شعبہ سے وابستہ ہونے سے پہلے انہوں نے محنت مزدوری کر کے اکل حلال کمایا اور ساتھ ساتھ تعلیمی سلسلہ بھی جاری رکھا۔ جڑواں شہروں میں ادبی بیٹھک کے معماروں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ سر سید کالج، نمل یونیورسٹی، اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی، الخیر یونیورسٹی کے ساتھ وابستہ رہے تو فقط روایتی استاد نہ تھے بلکہ وہ ایک تحریک اور انجمن کی مانند رہے، طلباء میں ذوقِ مطالعہ اور شوقِ جستجو پیداکرنا ان کا نصب العین تھا۔ جہاں بھی رہے وہاں ایک صحت مند علمی و ادبی Legacy چھوڑ آئے۔ تخلیق اور تحقیق اگر دو متضاد شعبے نہیں توبہرحال ہر دو کو بیک وقت سہولت کے ساتھ برتنا ہر کس و ناکس کا کام نہیں اور رشید امجد نے یہ معرکہ سر کیا۔ سر سید کالج کے زمانےمیں جی-ایچ -کیو سے ادبی رسالہ “اقراء” کی ادارت سنبھالےرکھی۔ نمل میں آئے تو “تخلیقی ادب” اور “دریافت” جیسے مجلّے شروع کیے جو بعد ازاں جامعاتی تحقیقی مجلاّت میں سرِ فہرست اہے۔ اسلامک میں تقرری ہوئی تو “معیار” کو معیاری پرچہ بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ حتٰی کی آخیر زمانے میں الخیر یونیورسٹی سے منسلک ہوئے تو “تحقیقی زاویے” کے نام سے رسالہ نکالا۔ یہ تمام جرائد ایچ-ای-سی سے منظور کروائے۔ سکالرز اور طلباء کو موضوع کی تلاش سے لیکر اشاریہ بنانے تک کے مراحل میں انگلی پکڑ کر چلتے تھے۔ اردو زبان و ادب کی اکادمیہ کی سطح پر جتنی ان Contribution ہے شاید ہی کسی اور کی ہو۔

مگر ان کی اول و آخر پہچان افسانہ نویسی کی ہے۔ ساٹھ کی دہائی میں سامنے آنے والے جن نئے لکھاریوں نے اپنی اہمیت جتلائی ان میں ایک نام رشید امجد کا تھا۔ علامتی افسانے کا ڈول ڈالا تو وہاں بھی رشید سرِفہرست تھا۔ بے زار آدم کے بیٹے، ریت پر گرفت، سہ پہر کی خزاں، پت جھڑ میں خود کلامی، بھاگے ہے بیاباں مجھ سے، کاغذ کی فصیل، دشتِ نظر سے آگے، عکس ِ بے خیال، دشتِ خواب، گمشدہ آواز کی دستک، ست رنگے پرندے کے تعاقب میں، عام آدمی کے خواب وغیرہ جیسے افسانوی مجموعے اُن کی تخلیقی قوت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ان کا تہذیبی و تاریخی شعور ان کے فن کے آئینے میں صاف جھلکتا ہے۔ مہاجرت کا دکھ سہنے والا فنکار ما بعد مہاجرت کے مسائل کو مسلسل اپنے تخلیقی تجربے میں ڈھالتا رہا۔

تحقیقی و تنقیدی میدان میں بھی وہ برابر کوشاں رہے۔ پاکستانی ادب اور مزاحمی ادب کے کے موضوعات پر پاکستان اکادمی ادبیات کے تعاون سے رشید امجد نے کئی کتب مرتب کیں۔ “میرا جی شخصیت اور فن” پر غالباً انہوں نے پی- ایچ-ڈی کی ڈگری لی۔ اس کے علاوہ “میرزا ادیب شخصیت و فن” نامی کتاب بھی لکھی۔ 2002-2003 میں حرف اکادمی راولپنڈی نے ان کی خود نوشت “تمنّا بے تاب” شائع کی۔ جہاں تک میرا علم ہے خود نوشت کی دوسری قسط “عاشقی صبر طلب”کے نام سے تکمیل کے مراحل میں تھی۔ اس کے علاوہ بے شمار کتب اور مقالے تحریر کئے۔ ان گنت کانفرنسیں اور سیمیناروں میں شرکت کی۔ فن کار اور ادیب ہونا بھی ایک انفرادیت ہے اور یوں وہ منفرد تھے مگر اصل میں وہ مرنجاں مرنج اور عاجزی کا پیکر تھے۔ انھیں اپنی علمی و ادبی طاقت پر گھمنڈ نہیں تھا۔ راقم کو براہِ راست ان سے تلّمذ کا شرف تو حاصل نہیں رہا مگر ایک آدھ ملاقات میرے کریڈٹ پر ضرور ہے۔ کاش میرے قلم میں وہ استطاعت ہوتی کہ میں ان کی شخصیت کا کچھ عکس صفحہِ قرطاس پر منتقل کر سکتا۔ پچھلے چند ماہ میں ہم سے اردو ادب کے کئی بڑے فنکار جدا ہو گئے۔ رشید امجد بھی اس بھر پور ادبی روایت کے حامل ان فنکاروں میں سے ایک تھے۔ جو رفتہ رفتہ داغِ مفارقت دیے چلے جا رہے ہیں۔ شہرِ افسانہ کا شہریار! الوداع۔ ۔ ۔ الوداع۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20