پاپولر فیمنزم اور اشتہاری صنعت کا گٹھ جوڑ —- وحید مراد

0

آجکل شمالی امریکہ اور مغربی یورپ کے پاپولر کلچر میں فیمنزم کے نام پر بہت سی چیزیں گردش کر رہی ہیں۔ آپ کسی روڈ، بازار یا گلی کی طرف مڑیں، آپ کو فیمنزم سے متعلق کوئی نہ کوئی چیز ضرور نظر آئے گی۔ فیمنزم کے نعروں سے مزین کوئی ٹی شرٹ، مووی، پاپ گانے کی دھن، انسٹا گرام کی پوسٹ، کسی ایوارڈکی تقریب سے خطاب وغیرہ وغیرہ۔ پاپولر فیمنزم کازیادہ جذباتی، پرجوش اور سنگین اظہار ان ڈسکورسز اور رویوں میں ہورہا ہے جو مقبول اور کمرشل میڈیا (بلاگز، انسٹاگرام، ٹوئیٹر اور براڈکاسٹ وغیرہ) پر نشر ہوتے ہیں۔ ان مظاہر کے ساتھ ساتھ پاپولر فیمنزم، حصول اقتدار کی جدوجہد، مسابقت اور جنگ کا نام بھی ہے۔

سماجی ماہرین کے مطابق جدیدٹیکنالوجی اور میڈیا پلیٹ فارمزنے اس بات کو ممکن بنا دیا ہے کہ انسان کے اندر پوشیدہ غیظ و غضب اور قہر کے جذبات کو اشتہارات کے ذریعے جیتی جاگتی شکل میں پیش کیا جاسکے۔ غصے اور نفرت کے جذبات کو جب جنسی خواہشات کا تڑکا لگا کر رکیک انداز میں پیش کیا جاتا ہے تو نوجوان نسل کا متاثر ہونا فطری بات ہے۔ ان اشتہارات کے ذریعے محبت، ناراضگی اور جنسی اشتہا کے ملے جلےجذبات ابھار کر تذبذب اور ابہام کی ایسی کیفیت پیدا کی جاتی ہے کہ دیکھنے والا مصنوعات اور انکے پیچھے پوشیدہ پاپولر فیمنسٹ آئیڈیاجی کا گرویدہ ہوجاتا ہے۔ ان اشتہارات سے متاثر ہونے والےاذہان برانڈز اور نظریات کے ایسےمخلص حامی بن جاتے ہیں جیسے فاشسٹ تنظیموں کے متعصب کارکنان اپنی پارٹی کے وفادار اور مخالف پارٹیوں کے دشمن ہوتے ہیں۔

فیمنزم اور اشتہاری صنعت:

مغرب کی اشتہاری صنعت نے پاپولر فیمنسٹ آئیڈیالوجی پر مشتمل اشہتارات کا آغاز 2012 میں کیا۔ ان اشتہاری مہمات میں یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ STEM پروگرام کی طرح ہر شعبہ زندگی میں خواتین کی نمائندگی بڑھانے کیلئے مراعات اور فنڈنگ میں اضافہ ہونا چاہیے۔ خواتین میں خوداعتمادی بڑھانے کیلئے مردوں کے ساتھ رسہ کشی شروع کی گئی اور اس بیانیے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا کہ عورتیں مردوں کی طرح زیادہ پیسہ کیوں نہیں بنا سکتیں؟ مراعات کا یہ مطالبہ تمام خواتین کیلئے نہیں بلکہ صرف سفید فام خواتین کیلئے کیا جاتا ہے جو مستقبل میں کمپنیوں کی منیجر اور ڈائریکٹر کی پوسٹوں پر براجمان ہوتی ہیں۔ سرمایہ دار بھی زیادہ سے زیادہ مصنوعات کی فروخت اور منافع حاصل کرنے کی غرض سے صرف اسی فیلڈ میں سرمایہ کاری کرتا ہے جہاں سفید فام خواتین کی نمود اور مرئیت (Visibility) زیادہ ہو۔

میڈیا اور پاپولر فیمنزم کا گٹھ جوڑ صرف نمود و مرئیت (Visibility) کی جنگ جیتے کیلئے ہے، حقوق نسواں اب کوئی اہم چیز نہیں۔ بیس سال کی ایک لڑکی جب ‘خواتین کو بااختیار بنائیں’ والی ٹی شرٹ پہن کر سڑک پر نکلتی ہے تو یہ صرف مرئیت کا مقابلہ ہوتا ہے۔  یہ اس بات کا واضح انکار ہے کہ سیکسزم کے خلاف کسی سیاست یا عمل کی ضرورت ہے۔ اشتہاروں میں صرف مرئیت اور ستم ظریقی دکھائی جاتی ہے مثلا یہ اشتہار کہ (Hello boys! I’m so liberated that I can objectify myself)۔ اس میں خود اعتراضی کی حد تک بڑھتی ہوئی آزادی کا مطلب یہ ہے کہ اپنے آپ کو بھی ایک کموڈٹی، خوبصورت شے اور جنسی معروض (Sexual object) کے طور پر دیکھتے ہوئے ظاہریت کی بنیاد پر جانچا جا رہا ہے۔

جب اشہار بنانے والی صنعت نے دیکھا کہ فیمنزم مقبول ہورہا ہے تو انہوں نےسوچا کہ کیوں نہ وہ بھی اسے اپنے مقاصد کیلئے استعمال کریں لیکن انہیں ایسے فیمنزم کی ضرورت نہیں تھی جو سرمایہ دارانہ نظام کو چیلنج کرتا ہو چنانچہ انہوں نے فیمنزم کو اپنی ضرورت کے تحت ڈھال کر پاپولر کلچر بنا دیا۔ پالولر فیمنزم عورت کو یہ نہیں سکھا تا کہ ایمپاورمنٹ کیلئے تعلیم یافتہ، خوش اخلاق، محنتی اورنیک انسان بننے کی ضرورت ہے بلکہ یہ سکھاتاہے کہ ایمپاورمنٹ کیلئے زیادہ پیسہ جمع کرنا ضروری ہے۔ انکے نزدیک بااختیار بننا یہ ہے کہ آپ خوبصورت ڈریس پہنیں، اچھا میک اپ کریں اور قیمتی ہار سنگھار کریں۔ بااختیار بننے کیلئے جب ساری توجہ جسمانی خوبصورتی پر ہو تو اسکے مقابلے میں کم خوبصورت، موٹے، بدھے اجسام کاشرم، ذلت اور تحقیرکی علامت بن جانا لازمی امر ہے۔

مرئیت کی معیشت (Economy of Visibility) میں ہر چیز نظر انداز کرتے ہوئے صرف اپنے جسم سے پیا ر کرنا سکھایا جاتا ہے۔ جب ہروقت توجہ کا مرکز صرف آپکی اپنی ذات اور انفرادیت ہو تو اردگرد کے لوگ یہ باور کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ آپ کی نظر میں وہ غیر اہم اور ناقابل توجہ ہیں۔ جب آپ مضحکہ خیز انداز میں اس مصنوعی عمل کی ایکٹنگ کرتے ہیں تو گویا دیگر لوگوں کو اپنی خود پسندی پر لطیفے، تبصرے اور جملے کسنے کا جواز فراہم کرتے ہیں۔ پھر لوگ کہتے ہیں کہ ‘آپ اپنے آپ کو بہت خوبصورت بتانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن دراصل آپ بہت موٹے اور بھدے جسم کے مالک ہیں وغیرہ’۔ اس طرح خوبصورتی کے بازار کے ساتھ ساتھ شرم دلانے کا ایک بازار بھی وجود میں آجاتا ہے جو پہلے عمل کا لازمی نتیجہ ہوتا ہے اور اسے مساجنی (Misogyny) کا نام دیا جاتا ہے۔

جیسے جیسے پاپولر فیمنزم اور میڈیا، اشہتارات کے ذریعے انفرادیت اور خودپسندی کو ابھارتا ہے ویسے ویسے پاپولر مساجنی (Popular Misogyny) اسکا تمسخر اڑاتے ہوئے، جگتیں کرتے ہوئے اور لطیفے سناتے ہوئے اسکا انسداد کر دیتی ہے۔ امریکہ اور یورپ میں اب پاپولر فیمنزم کی لڑائی کسی پدرسری نظام سے نہیں بلکہ اپنی ہی پیدا کردہ پاپولر مساجنی سے ہے اور یہ لڑائی صرف نمود و نمائش، ترجیح (Priority) اور مرئیت (Visibility) کی ہے۔ سارہ بینت وائزر نے اس دو طرفہ مخاصمت اور مخالفانہ رد عمل کا تجزیہ بہت خوبصورت انداز سے کیا ہے۔

پاپولر فیمنزم اور مساجنی کا تقابل:

سارہ بینت وائزر(Sarah Banet Weiser) لندن اسکول آف اکنامکس اینڈ پولیٹیکل سائنس کے میڈیا اور کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ ہیں۔ وہ کئی مضامین، تحقیقاتی مقالوں اور کتابوں کی مصنفہ ہیں۔ 2018 میں انکی ایک مشہور کتاب Empowered: Popular Feminism and Popular Misogyny شائع ہوئی جس میں انہوں نے پاپولر فیمنزم اور اسکے ردعمل(مساجنی) کو فروغ دینے والے معاشی، معاشرتی اور ثقافتی محرکات کا جائزہ لیا۔ وہ ایڈورٹائزنگ، سیاست، انٹرنیٹ فورمز اور مختلف کمپینز کی مثالیں دیتے ہوئے ان دونوں مظاہر کے متحارب تعلقات کا جائزہ لیتی ہیں۔ نیو لبرل سرمایہ دارانہ نظام پر گہری نظر رکھتے ہوئے وہ اسے ریسپانس اور کال (response and call) کانام دیتی ہیں۔ یعنی جہاں کہیں آپ پاپولر فیمنزم دیکھیں گے پاپولر مساجنی بھی ادھر ہی موجود ہوگی یہ دونوں ایک دوسرے کی ضد اورعمل کا رد عمل ہیں۔

نمود، ترجیح اور مرئیت اس کتاب کے بنیادی موضوعات ہیں۔ سارہ وائزر معاصر پاپولر کلچر میں فیمنزم اور مساجنی کا تقابل پیش کرتے ہوئے اکنامک آف وزیبیلٹی (Economic of Visibility) میں ان دونوں کا تعلق اجاگر کرتی ہیں۔ جنسی گمراہی کے شکار گروہوں (seduction communities) سے لیکر عورت مارچ تک، سارہ وائزر نے ہر پاپولر موضوع کا تجزیہ اسی بنیاد پر کیا ہے۔ اس نے رابن ویگمین (Robyn Wiegman) کے اکانومی اور ویزیبلٹی کے تصور کو عصری سرمایہ دارانہ میڈیا پلیٹ فارمز پر خوبصورتی سے اطلاق کرتے ہوئے دکھایا۔ اور واضح کیاکہ کس طرح پاپولر فیمنزم اور پاپولر مساجنی ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہوئے کاروباری معیشت کی دوڑ میں شریک ہیں جہاں میڈیا، فیمنزم کے تحریکی اور سیاسی عزائم کو غیر سیاسی بیانیے کے طور پر پیش کرکے کاروباری مفادات حاصل کرتا ہے۔

کاروباری معیشت کی اس دوڑ میں صنفی تعصب (Sexism) کےخلاف تحریک اور نظریہ پیچھے رہ جاتے ہیں اور پیسہ بنانےکا عمل سب سے بڑی ترجیح بن جاتا ہے۔ عورتوں کے مسائل اور فلاح و بہبود کے نام پر شروع ہونے والا کام مارکیٹ کےآلہ کار کے طورپر استعمال ہونے لگتا ہے اور پسے ہوئے طبقات و اقلیتوں کے حقوق کی بات کرنے کےبجائے ایک دوسرے کو نیچا دکھایا جاتا ہے۔ ایسی صورتحال میں ایک صنف کو پہنچنے والا فائدہ دوسری صنف کے نقصانات کی قیمت پر ہوتا ہے۔

فیمنزم کی مقبولیت کی قیمت:

سارہ بینت وائزر فیمنزم کی مقبولیت کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ فیمنسٹ آئیڈیالوجی تین طریقوں سے مقبول ہے۔ پہلا یہ کہ یہ شائقین کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے، یہ اپنے نعرے سوشل میڈیا، ٹوئیٹر، فیس بک، انسٹاگرام، بلاگز اور براڈکاسٹ میڈیا کے ذریعے مشتہر کرتی ہے۔ دوسرا یہ تکرار اور ادعائی نظریہ کے طور پر خدمت سرانجام دے رہی ہے اور تیسری بات یہ ہے کہ یہ آئیدیالوجی جس قدر زیادہ مقبول ہونے کی کوشش کر رہی ہے اسی قدر سطحیت پر اتر کر بدنام ہو رہی ہے۔

وہ مزید کہتی ہیں کہ مقبول فیمنزم ایک مذاق اور دل لگی ہے اس لئے اب اسے نسل پرستی، بدسلوکی، پدرسری کے جبر و ظلم پر نہ کوئی غصہ ہے اور نہ ناراضگی۔ تبدیلی کے نعرے ماضی کا حصہ بن چکے، آج کا فیمنزم تو ناراضگی اور غصے کو اس ‘بری ماں’ کے طو پر دیکھتا ہے جسے بچے پسند نہیں کرتے۔ آج کا فیمنزم نوجوان خواتین کو نہ مسئلے کی جڑ سمجھنے کی تلقین کرتا ہے اور نہ کسی مسئلے کا حل بتاتا ہے۔ یہ اوپری سطح کا ایک ایسا ‘جگاڑ’ ہے جو نوجوان خواتین کو صرف یہ سکھاتا کہ ذاتی مستقبل کیسے تابناک بنایاجائے۔ یہ دراصل نیولبرل ازم کی وہ سوچ ہے جس کے تحت خواتین کو پیداواری و معاشی نظام کا محکوم بنایا جاتا ہے، کسی نظام کی تبدیلی مقصود نہیں۔

سارہ وائزر کے مطابق لبرل ازم اپنے ڈسکورس میں پاپولر فیمنزم کے تمام مظاہر کو بیان کرنے سے قاصر ہے۔ لبرل ازم صرف یہ بتاتا ہے کہ معاصر فیمنزم عورتوں اور مردوں کے مساوی حقوق کی تحریک ہے لیکن اسکی جو شکل میڈیا پلیٹ فارمز پر مشتہرہوتی ہے وہ اس تعریف سے بالکل مختلف ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے سلیبرٹیز کے حلیے، بشرے اور چہرے سے عیاں کی جانے والی شدید جنسی خواہش اور تڑپ کی مرئیت لبرل ازم کی تعریف کے احاطے سے باہر ہے۔ قربت، جنسی تعلق (intimate attachment)، تسکین، لذت، ابہام، تذبذب (ambivalence)، غصہ اور نفرت کا اظہار اشتہارات کی ناگزیر شرائط ہیں۔ حقوق کی سیاست اب ضمنی بات ہے۔ سارہ وائزر، پاپولر فیمنزم اور میڈیا اشتہارات کے تعلق کا تجزیہ ایسی مثالوں سے کرتی ہے جواسےسمجھنے میں انتہائی مفید ہیں۔

فاشسٹ کنزیومرازم کے حربے:

مثال کے طورپر جیلٹ Gillette Raiser کے اشہار میں مردانگی کو ‘زہریلی مردانگی’ کہا گیا اور اسے #می_ٹو کے ان سلوگنز کے تناظر میں پیش کیا گیا ہے جن میں ‘خواتین کو ہراساں کرنا بند کرو، بدزبانی بند کرو ‘وغیرہ جیسے نعرےشامل ہیں۔ اس اشتہار پر کئی رد عمل سامنے آئے، سب سے زیادہ اشتعال انگیز رد عمل میں اس اشتہار کو مردانگی پر حملہ قرار دیتے ہوئے کمپنی اور سوشل میڈیا کا بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ اسکے برخلاف پاپولر فیمنزم کے حامیوں نے کہا کہ اچھا ہے لڑکوں کو لات پڑنے دو، مردوں کو لاتعلقی کا مظاہرہ کرنے دو۔ یہ اشتہار اور اس پر آنے والا رد عمل، غصے و محبت کے تضاد، تذب اور ابہام کی ایک اچھی مثال ہے۔ اس اشتہار کا اصل مقصد جلیٹ کے برانڈ کی تشہیر اور اسکے نتیجے میں ملنے والا منافع تھا لیکن اسکے پس منظر میں ایک سیاسی ایجنڈے کی تشہیر بھی کی گئی۔

اپریل 2019 میں سویڈش اسٹریٹ وئیر برانڈ نے اشتہاری مہم چلائی جس کی ہدایتکار سارہ ایس بولجاک (Sara S Boljak) تھیں۔ وہ مشہور آرٹسٹ ہیں اور لزبئین اسٹرپ کلب (Strip Club) بھی چلاتی ہیں۔ اسے پوری آزادی اور خودمختاری دی گئی تھی کہ وہ جیسے چاہے ‘گرمیوں میں عورتوں کے نہانے کےلباس’ متعارف کرائے۔ اس نے اپنے اشتہاری مہم میں تمام خواتین فوٹوگرافرز، موسیقاروں، میک اپ آرٹسٹوں اور ماڈلز کو استعمال کیا اور ایک ایسی اشتہاری مہم تیار کی جس میں عورتوں کو نہانے کے ایسے انتہائی مختصر لباس میں دکھایا گیا جس میں جسم کا ایک ایک عضو انفرادی خصوصیات کے ساتھ نمایاں تھا۔ لباس کا مقصد نہاتے وقت بدن چھپانے کا ہوتا ہے لیکن اس لباس میں عورتوں کو بالوں کے ڈئزائن سے لے کر ٹیٹوز، جسمانی ساخت کے تمام خدوخال، لوشنز اور لیکوئیڈ سے معطر چمکتی ہوئی جلد، مختلف روشنیوں اور میوزک کے بیک گرائونڈ کے کے ساتھ عجیب و غریب مخلوق کے طور پر دکھایا گیا جس کو دیکھتے ہی مردجنسی ہیجان اور تشنج کا شکار ہوجائیں۔

سارہ بولجاک نے اپنے انٹرویو میں بتایا کہ اس کام کیلئے اسکا انتخاب اس لئے کیا گیا کہ وہ پہلے LGBT کیلئے کام کرنے کا تجربہ رکھتی تھی۔ اسے سومنگ سوٹ کی اشتہاری مہم کے لئے مکمل خود مختاری دیتے ہوئے صرف اس خواہش کا اظہار کیا گیا تھا کہ ایک ایسی چیز تخلیق کی جائے جوعورتوں کے اعتماد اورخودمختاری کو اتنااجاگر کرے کہ وہ اشتہار دیکھتے ہی یہ سوٹ خرید نے کیلئے پاگل ہوجائیں۔ دوسری طرف یہ اشتہار مردوں کیلئے اتنا لبھانے والا اور مسحور کن ہو کہ وہ دیکھتے ہی سکتے میں آجائیں۔ مرد حضرات اسکے جواب میں جگتیں، لطیفے، جملے بازی اور مضحکہ خیز تبصرے کرنا بھول جائیں اور حیرت زدہ ہو کر اسے دیکھتے ہی چلے جائیں۔ وہ کہتی ہے کہ اسے معلوم تھا کہ ایسا کرنا ممکن نہیں لیکن پھر بھی اس نے اسکی تیاری میں سخت محنت کی اور یہ اشتہاراپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔

وومن ایمپاورمنٹ یا سرمایہ دار کی غلامی؟

بینت وائزر پاپولر فیمنزم کے اشتہارات کے ساتھ ساتھ نعروں کا تجزیہ بھی کرتی ہیں۔ اسکے مطابق جب ہم کسی آئیڈیالوجی کو لطیفوں، چٹکلوں اور نعروں کی شکل میں مقبول عام بنا تے ہیں تو وہ سننے یا دیکھنے والے کو وقتی طور پر راغب کرتے ہیں۔ سطحی باتیں تھوڑے وقت میں ہی ذہن سے محو ہوجاتی ہیں۔ یہ سب کچھ مرئی معیشت کاعمل تو ہو سکتا ہے لیکن اسکا تبدیلی کی سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ اسکی وضاحت کرتے ہوئے وہ یوٹیوب کی ایک سیریز Girls Who Code کی ایک ڈاکومینٹری GTFO کی مثال دیتی ہیں جس میں ایک لڑکی سیکسزم کا مذاق اڑاتے ہوئے اس طرح کے جملے دہراتی ہے کہ I can’t code because my cleavage is too distracting پھر وہ سیکسزم کو پاگل پن قرار دیتے ہوئے کہتی ہے کہ I don’t even have boobs yet and they still get into the way۔

بینت وائزر دوسری مثال ان خواتین سائنسدانوں کی دیتی ہے جو اپنی تصاویر کے ساتھ اس طرح کے ٹوئیٹ کرتی ہیں کہ Still distractingly sexy after a full day of cell culture. Didn’t even cry this time, so proud!۔ بنیٹ ویزر کا کہنا ہے کہ ایسی ہنسی مذاق کی باتوں سے تفریح تو ہو سکتی ہے لیکن سیکزم کی نہ کوئی برائی اجاگر ہو سکتی ہے اور نہ کسی مسئلے کا کوئی حل نکل سکتا ہے۔ پاپولر فیمنزم اور فیشن انڈسٹری کے گٹھ جوڑ میں عورتوں کو کموڈٹی اور آلہ کار کے طور پر استعمال کرنا جہاں خواتین کی بےعزتی اور بے توقیری ہے وہاں یہ انسانیت اور تہذیبی اقدار کے بھی خلاف ہے۔

بینت وائزر کے مطابق آج کل مین اسٹریم کمرشل میڈیا پر فیمنسٹ ڈسکورس حاوی ہے اور کارپوریٹ ایڈورٹائزنگ میں اسکا سارا زور نازک، کمزور اور اعتماد سے عاری خواتین کو با اختیار بنانے پر ہے۔ لیکن خواتین کےلئے اختیار اور اعتماد کے ان نعروں کا مقصد پدرسری نظام کو چیلنج کرنا نہیں ہوتا بلکہ اپنے برانڈ اور مصنوعات کو فروخت کرنا ہے۔ پاپولر فیمنزم خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے یہ پیغام دیتا ہے کہ ‘اپنے جسم سے پیار کرو’۔ لیکن یہ سطحی جملہ خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے نہ سیکسزم کا مقابلہ کرتا ہے نہ جنسی جرائم کا حل پیش کرتا ہے۔ یہ جملہ خواتین کے جسمانی تضادات کو نمایاں کرتے ہوئے صرف خود اعتمادی کی بات کرتا ہے۔ اس سے مردوں کو یہ منفی پیغام بھی ملتا ہے کہ اب عورتوں کو انکی ضرورت نہیں۔

خواتین کیلئے صرف ‘بااختیار’ بننا کافی نہیں بلکہ اس حوالے سے اہم سوالات یہ ہیں کہ بااختیار کیسے بنا جائے؟ کس کے ذریعےبنا جائے؟ اور کیا کرنے کیلئے با اختیار بنا جائے؟ بدقسمتی سے وومن ایپماورمنٹ کے ڈسکورس میں خواتین کو بااختیار بنانے کی ساری باتیں خوداعتمادی اور خود پسندی کے نعروں سے شروع ہوتی ہیں اور کاروباری خیالات و نیولبرل ابجیکٹویٹی پر ختم ہوتی ہیں۔ میڈیا پلیٹ فارمز پر فیمنزم کے اظہار کا سیاق و سباق کارپوریٹ کلچر اور سرمایہ داریت کو تقویت پہنچاتا ہے۔ پاپولر فیمنزم میں وومن ایمپاورمنٹ کا مطلب بہتر انسان تو درکنار بہتر فیمنسٹ بننا بھی نہیں، صرف سرمایہ داری نظام کا اچھا خدمتگار بننا ہے۔

پاپولر فیمنزم خواتین کو مراعات دلاتے ہوئےمسابقت کے میدان میں کامیابی حاصل کرنے کے گر بتاتا ہے اورکیرئیر اپنانے کی طرف راغب کرتا ہے۔ خواتین کو ملنے والی ان خصوصی مراعات سے محنتی اور پڑھائی کرنے والے مردوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور وہ اعلیٰ ڈگریوں کے باوجود نوکری حاصل نہیں کر پاتے۔ پاپولر فیمنزم خواتین کی ہر کمزوری کو انفرادی مسئلہ کی حیثیت سے دیکھتی ہے اور اسکے خیال میں سیلف ڈیویلمپمنٹ اور خوداعتمادی سے ہی اس پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ خوداعتمادی کا مطلب معاشی خودانحصاری لیا جاتا ہے اور اسکے نزدیک معاوضوں کے صنفی فرق کو زیادہ پیسہ کماکر ختم کیا جا سکتا ہے۔

خواتین کی بڑھتی ہوئی خوداعتمادی، مردوں کے اعتماد کوزک پہنچاتی ہے اور وہ اپنا جنسی اعتماد بحال کرنے کی خاطر ‘پک اپ آرٹسٹ انڈسٹری pickup artist industry’کا رخ کرتے ہیں جہاں انہیں تربیت دی جاتی ہے کہ عورتوں کا دل کیسے جیتا جائے۔ اس طرح عورت ایک ایسے ‘جنسی معروض sexual object’ کے طور پر سامنے آتی ہے جسے فتح کرنے یا اپنا بنانے کا دعویٰ کیا جا سکتا ہے۔ یعنی مساوات، خودمختاری اور خوداعتمادی کی ساری جدوجہد گھوم پھر کر ایک نئی قسم کی غلامی پر ختم ہوتی ہے۔

اب یہ بات خواتین پر منحصر ہے کہ وہ اپنی فطری شناخت کے ساتھ ایک اچھی ماں، بیٹی، بیوی اور بہن بن کر اپنے افراد خانہ کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی گزارنا چاہتی ہیں یا پاپولر فیمنزم کے ‘وومن ایمپاورمنٹ’ جیسے خوشنما نعروں کا ساتھ دے کر فیشن و سیکس انڈسٹری کے سرمایہ دارانہ شکنجوں میں پھنس کر غلام بننا چاہتی ہیں۔ آپکا خاندان نہ صرف آپکی فطری شناخت، حقوق اور عصمت کا محافظ ہوتا ہے بلکہ آپ کی عزت، تکریم اوراحترام کو بھی اپنے اوپر فرض سمجھتا ہے۔ کاروباری معیشت میں عزت، غیرت، عفت، عصمت، ادب، احترام اور تقدس بے معنی چیزیں ہیں۔ وہ آپ کو انفرادیت، خودپسندی، آزادی، خودمختاری، فیشن اور کیرئیر کے زینوں پر چڑھا کر ایسے عقوبت خانےمیں پہنچا دیتا ہے جہاں سے واپسی کا سفر ناممکن ہوتا ہے۔ آپ کو ان میں سے کس کا انتخاب کرنا ہے؟ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20