مندائی صابی: یحییٰ علیہ السلام کی امت؟

0

عراق میں ایک مذہبی گروہ ‘مندائی صابیوں’ کا آباد ہے۔ یہ شاید وہی صابی ہیں جن کا ذکر قرآن کریم میں بھی آیا ہے۔

یہ خود کو سیدنا یحیٰی علیہ السلام کی امت بتاتے ہیں اور حضرت آدم، حضرت شیث اور حضرت نوح علیھم السلام کو بھی نبی مانتے ہیں تاہم حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیھم السلام کی نبوت کا انکار کرتے ہیں۔ عیسی علیہ السلام کے بارے میں ان کا رویہ سخت منفی ہے اور یہ انہیں جھوٹا مسیحا قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح یہود کے بارے میں بھی ان کا رویہ منفی ہے اور انکی مذہبی کتب میں لکھا ہوا ہے کہ یروشلم یہودیوں کے صابیوں پر روا رکھے ظلم کے نتیجے میں تباہ ہوا۔ شاید ابراہیم و موسیٰ علیھما السلام کی نبوت کے انکار کی وجہ بھی انکی یہود دشمنی ہے۔

یہ قوم قدیم زمانے سے عراق میں دجلہ و فرات اور ان دونوں کے ملاپ سے وجود میں آنے والے شط العرب کے کنارے کنارے آباد ہے۔ اس طرح سے ان کی آبادی کا بڑا حصہ تو عراق میں رہا ہے لیکن کچھ حصہ شط العرب کے دوسرے کنارے ایرانی صوبے خوزستان میں بھی آباد ہے۔کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں کے ہاتھوں عراق کی فتح کے موقع پر انہوں نے اپنی مقدس کتاب پیش کی اور اپنے موحدانہ عقائد بیان کیے جس پر انہیں صابی تسلیم کرتے ہوئے اہل کتاب کی حیثیت دی گئی۔ اس طرح سے انہیں ایک آدھی مسلم حکومت کے علاوہ باقی تمام مسلم حکومتوں کے دوران تحفظ حاصل رہا۔

 عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ ان کا آغاز مسیحیت کے غنوصی فرقوں میں سے ایک کے طور پر ہوا اور پھر ارتقاء کے مراحل سے گزرتا ہوا یہ ایک الگ مذہبی گروہ بن گیا۔ اس خیال کو تقویت اس امر سے ملتی ہے کہ ان کی ایک بنیادی مذہبی علامت “درفش ” ہے جو دراصل ایک صلیب ہے جس پر ریشم کا کپڑا  ایک خاص انداز سے لٹکا دیا جاتا ہے۔ تاہم اس بارے میں یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جاسکتا ۔ ہوسکتا ہے کہ ان کا آغاز مسیحیت سے پہلے یا اس کے ساتھ ہی ہوا ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ صلیب پہلے سے کوئی مذہبی علامت ہوئی ہو جسے مسیحیوں اور صابیوں دونوں نے اخیتار کر لیا۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ صابیوں کا اصل مقصد ریشمی کپڑے کو ایک خاص انداز سے لٹکانا ہو جس کیلئے لازما صلیب کی شکل کی سی لکڑی درکار ہے۔

اگرچہ صابی ایک موحد گروہ ہیں جو ایک ہی برتر خدا پر یقین رکھتے ہیں جو “حی” یہاں ہمیشہ سے اور ہمیشہ کیلئے زندہ ہے۔ تاہم غنوصی فرقوں ہی کی طرح صابیوں میں ثنویت (Dualism) کے عقیدے کو بھی بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ ان کے ہاں “عالم نور”  اور “عالم ظلمات” کا تصور پایا جاتا ہے۔ عالم نور اچھائی کو ظاہر کرتا ہے اور اس کا سربراہ خود برتر  و واحد خدا ہے اور فرشتے اس کے ہرکارے ہیں۔جبکہ عالم ظلمات بدی کی قوتوں کا مسکن ہے۔ نیکی اور بدی کی قوتوں کی قوتوں کے درمیان ایک ازلی کشمکش جاری ہے۔ یہ دنیا اور خود انسان بھی بدی کی طاقتوں نے تخلیق کیے لیکن اس میں توازن پیدا کرنے کیلئے خدا نے اس میں نیک روح داخل کردی۔ اس نیک روح کی پرورش ضروری ہے اور جسم سے نکلنے کے بعد یہ عالم نور میں چلی جائے گی۔ آخرت میں اگر چہ جزا و سزا کا معاملہ پیش آئے گا لیکن  کوئی بھی ابدی جہنم کا حق دار نہیں ہوگا کیونکہ برتر و واحد خد شفیق ہے اور وہ کسی کو ابدی سزا میں مبتلا نہیں کرے گا۔

برتر و واحد خدا کی صفت “حی” یعنی زندہ ہونا ہے اور زندگی کی علامت بہتا ہوا پانی ہے۔  اسی وجہ سے بہتے ہوئے پانی یعنی دریا کو صابی مذہب میں بہت اہمیت حاصل ہے اور یہ اس میں بپتسمہ کرتے ہیں۔ بچوں کو تو بپتسمہ تو دیا ہی جاتا ہے لیکن مختلف مواقع پر بار بار بپتسمہ دینا بھی ضروری ہے۔ کچھ اہم مواقع پر جیسے کہ نئے سال کی آمد پر بپتسمہ دیا جانا فرض ہے اور ایسا نہ کرنے والا سزا کا حقدار ہوتا ہے۔ بپتسمہ کو ان کے مذہب میں بنیادی حیثیت حاصل ہونے کی وجہ سے ہی عرب مورخین انہیں عموماً متغسلین کے نام سے یاد کرتے رہے ہیں۔ بپتسمہ صرف چلتے ہوئے پانی میں دیا جاسکتا ہے اور کوئی مذہبی پیشوا ہی دے سکتا ہے۔ صابی بپتسمے کیلئے ایک خاص طرح کا سفید لباس زیب تن کرتے ہیں اور یہ عمل کئی مرحلوں میں مکمل ہوتا ہے۔ پہلے مرحلے میں جس کو بپتسمہ دینا ہو اس کو پورے لباس سمیت پانی میں ڈبکی دی جاتی ہے، پھر اس کا سر تین دفعہ پانی کی سطح سے ٹکرایا جاتا ہے اور پھر تین دفعہ اس کی پیشانی پر پانی سے لکیر کھینچی جاتی ہے۔ اس دوران میں مذہبی پیشوا دعائیہ کلمات بھی ادا کرتا ہے۔

بپتسمہ دیتے ہوئے مذہبی پیشوا عموما زیتون کی ایک لاٹھی بھی اپنے ساتھ رکھتا ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ بدی کی قوتوں سے حفاظت کرتی ہے۔ بپتسمہ کے موقع پر آس پاس ہی کہیں درفش بھی نصب کیا جاتا ہے۔

بپتسمہ چونکہ انسان کو دھو کر گناہوں سے پاک کردیتا ہے اس لیےشادی بیاہ سمیت تقریباً ہر موقع پر یہ رسم باربار دہرائی جاتی ہے۔

بپتسمے کے علاوہ دعا کو بھی بھی صابی مذہب میں خصوصی حیثیت حاصل ہے ۔ صبح، سہ پہر اور شام تین اوقات میں دعا کی جاتی ہے اور دعا کرتے ہوئے صابی اپنا رخ قطبی ستارے کی طرف کرلیتے ہیں۔ شاید اسی وجہ سے ان کے ستارہ پرست ہونے کا خیال پیدا ہوا ہے حالانکہ یہ ایک موحد گروہ ہے اور قطبی ستارے کی طرف منہ کرنا غالباً صرف uniformity  کے لیے ہے۔ اس دعا میں نماز کی طرح رکوع و سجود شامل نہیں ہوتے۔

مذہبی لٹریچر بھی اچھی خاصی مقدار میں موجود ہے جو اب بھی زیادہ تر ہاتھ سے لکھا ہوا ہے۔ یہ مندائی زبان جو آرامی کی ایک شکل ہے میں لکھا ہوا ہے۔ ا س کا ایک خاص رسم الخظ ہے جو غیر مذہبی میں مقاصد کیلئے استعمال نہیں ہوتا۔ سب سے اہم کتاب “گنزا ربا” ہے جو دراصل دو کتابوں “داہنی گنزا” اور “باہنی گنزا” کا مجموعہ ہے۔ داہنی گنزا نسبتاً بڑی ہے اور سیدھی لکھی جاتی ہے جبکہ باہنی گنزا اسی کے سامنے صفحے پر الٹی لکھی جاتی ہے۔

گنزا کے علاہ متعدد دوسری کتب اور مذہبی لٹریچر بھی موجود ہے جن میں سے کچھ باتصویر بھی ہے۔ اس میں مختلف ڈرائنگز کے ذریعے عالم نور و ظلمات کی تصویر کشی کی گئی ہے۔

مذہبی لٹریچر کا مطالعہ اور فرائض کی بجاآوری کروانے کی ذمہ داری مذہبی کلاس کی ہے جو عوام سے ممتاز ہوتی ہے۔ مذہبی طبقے کے تین مختلف  درجے ہیں جن میں تیسرے درجے پر کم کم ہی کوئی پہنچتا ہے اور اس کیلئے شدید ریاضت اور کئی امتحانوں سے گزرنا پڑتا ہے۔

صدیوں تک یہ گروہ امن اور سلامتی کے ساتھ اپنی زندگی گزارتا رہا تاہم صدام حکومت کے دوران انہوں نے عراق سے ہجرت شروع کردی جس میں صدام حکومت کے خاتمے کے بعد عراق میں پھوٹ پڑنے والی تشدد، لاقانونیت اور شدت پسندی کی لہر کی وجہ سے اب مزید تیزی آئی ہے۔ اب ایک اندازے کے مطابق عراق میں انکے بمشکل 10 ہزار نفوس باقی بچے ہیں جبکہ انکی ایک بڑی تعداد مہاجروں اور پناہ گزینوں کی حیثیت سے دوسرے ممالک میں مقیم ہے۔ یوں انکا مذہب اور کلچر مکمل طور پر معدوم ہوجانے کے خطرے سے دوچار ہے۔

ضروری انتباہ: یہ مضمون انٹرنیٹ پر دستیاب معلومات کی روشنی میں مرتب کیا گیا ہے اور کوئی تحقیقی مضمون نہیں ہے لہذا بعض تفصیلات میں غلطی کا امکان موجود ہے۔

About Author

عاطف حسین 'کامیابی کا مغالطہ' کے مصنف ہیں۔ روزی روٹی کمانے کے علاوہ ان کے مشاغل میں وقت ضائع کرنا، لوگوں کو تنگ کرنا، سوچنا اور کبھی کبھار کچھ پڑھ لینا تقریباً اسی ترتیب سے شامل ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: