بھاری بستہ، بے کیف ریاضت: ایجوکیشنل چائلڈ لیبر —– ہمایوں تارڑ

0

تعلیم نہیں بلکہ سوہانِ رُوح بنی یہ ایجوکیشنل چائلڈ لیبر ہے

 بھاری بستہ لٹکائے، لدّو جانور بنا سکول جاتا ایک بچہ طالبِ علم کی بجائے قُلی لگتا ہے۔ ایجوکیشنل چائلڈ لیبر کا شکار اِن قلیوں کے چہرے دیکھیں۔ بیشتر بُجھے ہوئے سے، کسی انجانے خوف اور دباؤ کا شکار۔ وہ تروتازگی، چہک، اور دمک جو اس عمر کا خاصہ ہے، بخارات بن کر اُڑ چکی۔ کیوں؟ کیوں کا جواب اس سفر کی کلفت میں ہے، اور منزل پر ملی خجالت میں ــــ تعلیم نہیں، یہ ذلالت ہے ایک  بے کیف ریاضت۔

صبح سوا سات بجے گھر سے باہر نکل کر دیکھیں۔ دس کلو گرام وجود والے کانگڑو کانگڑو بچے کتابوں، کاپیوں سے لدی 25 کلو گرام کی بوری جھکی ہوئی کمر پر اٹھائے سکول جاتے نظر آئیں گے۔ سوچتا ہوں، سٹین لَیس سٹِیل سے بنا یہ سماج immovable ہے، طرزِ کہن پر اَڑا، ساکن و جامد۔ یہ جو 50 ہزار ٹن وزن برابر الفاظ انڈیلے جا چکے، اخباری صفحوں اور پردہِ اسکرین پر، یوں لگتا ہے سب رائیگاں مشق ہے۔

اسکول نام کی ایک بڑی سی عمارت اندر آپ داخل ہو جائیں۔ وہاں 50 سے 70 دماغ بیک وقت موجود ملیں گے — ماہرینِ تعلیم! ستم ظریفی دیکھیے، یہ سارے دماغ مل کر ننھے بچے کی پیٹھ پر لدی بوری نہیں اُتار سکتے؟ بلکہ یہ سب دماغ اس بوری کے وزن میں اضافہ کرنے پر مامور ہیں۔ شاید اِس وزن کو ہلکا کرنے کی نیت یا استعداد سے ہی محروم ہیں۔ نیت ہو تو دس منٹ میں آئیڈیاز کی قطاریں لگ جائیں۔ انٹرنیٹ لدا پڑا ہے ہَیوی بیگ سولُوشنز والی تجاویز سے۔ سب جانتے ہیں ہونا کیا چاہئیے۔ اس نظام اندر رہتے ہوئے بھی کیسے بچوں کا تعلیمی سفر نسبتاً سہل بنایا جا سکتا ہے مگر۔۔۔۔۔۔ اگر، مگر، لیکن، چونکہ، چنانچہ۔۔۔

Are heavy school bags really harmful for your kids? - Times of Indiaبچے کی زندگی میں لفظ ‘اسکول’ کیا ہے؟ یہ ایک خوشگوار تعلیمی سفر تو ہر گز نہیں۔ بلکہ تعلیم کے نام پرآٹھ عدد لگاتار کلاسز میں پھٹکار بھری بیگار کا نام ہے جسے عُرفِ عام میں تدریس کہا جاتا ہے۔ پاک و ہند میں بیشتر بچوں کو تعلیم کے لیے میسّر ماحول ایک جیسا ہے:

ایک چھوٹا سا کمرہ ہے، جماعت کے نام پر اس میں 40 سے 50 بچوں کا ایک ہجوم بھرا ہے۔ اوپر ایک یا دو پنکھے غٹرغوں چل رہے ہیں۔ ایک تو گرمی کا موسم، اوپر سے یہ تعداد! یہ لاغر پنکھے اس حبس کو توڑنے میں ناکام ہیں جس میں مسلسل بیٹھنا، سانس لیے چلے جانا، اور اس فضا میں ‘عمدہ کارکردگی’ دِکھانا اِن بچوں کا نصیب ہے، یعنی سزا۔ یوں، جس ماحول میں پہنچ کر اِس قُلی نما بچے نے وقت گذارنا ہے، اُس کا تصوّر ہی جان لیوا ہے ـــ باالخصوص اُس بچے کے لیے جس کا لَرننگ اسٹائل kinesthetic ہے، یعنی بدنی طور متحرّک رہ کر سیکھنے والا مزاج۔ ایسے بچے کو فزیکل نوعیت کی سرگرمیوں میں مشغول رہ کر عملاً کچھ کر دِکھانے کو کشادہ جگہ چاہئیے۔

کیا پرائمری اور مڈل کلاس سطح کا ایک بچہ کتابیں پڑھنے آتا ہے؟ ہر گز نہیں، بلکہ اُسے تو اپنے حق میں شخصی اعتماد کی تلاش ہے۔ ایک پُرجوش سرگرمی کی تلاش۔ اپنے ہاتھوں کچھ اچھا انجام دینے پر taste of accomplishment کی تلاش۔ اُس پر ہمّت افزائی کی تلاش۔ مگراُسے ملتا کیا ہے؟ نالائق ہونے کا طعنہ اور خوف۔ خوف ہی خوف:گریڈز کا خوف۔ اچھا طالب علم نہ ہونے، اچھا بچہ نہ ہونے پر رپورٹ ہو جانے کا خوف۔ ‘نالائق’ کہلانے اور نالائق رہ جانے کا خوف۔ فیل ہو جانے کا خوف۔

چنانچہ محدود جگہ پر سمٹ کر بیٹھنے، اِدھر اُدھر نہ دیکھنے، کسی سے بات نہ کرنے، مسلسل خاموش رہنے، بلیک بورڈ اور وائٹ بورڈ پر لکھا دیکھنے اور نوٹ کرنے، زبانی یاد کرنے، یاد کیے ہوئے کو ٹھیک ٹھیک اُگلنے اور غلطی نہ کرنے والی روٹین سے، اور اِس روٹین کو مشکل تر بناتی نصابی کتب سے ایسے بچے کو نفرت ہو جاناایک فطری امر ہے۔ گریڈز کی دوڑ والے اس نظام میں راقم نے بےشمار بچے دیکھ رکھے ہیں زندگی جن کے لیے ایک متواتر بوجھ ہے۔

اس ساری نفسیات کو لیے ایک بچہ صبح سویرے جب ‘ایک اور پورا دن’ اسی بے رنگ و بےکیف ماحول میں گذارنے کا تصوّر کرتا ہے تو معصوم کا دل دل ہول ہول جاتا ہے۔ وہ اِسے اپنے حق میں سزا متصوّر کرتا ہے۔

نیویارک کے تعلیمی اداروں میں بطور استاد ایک طویل عرصہ گذار کر جان ٹیلر گاٹو نے اپنی شہرہ آفاق کتاب میں لکھا:

“اپنے تیس سالہ تدریسی دور میں مَیں نے یہ بات بہ شدّت نوٹ کی ہے کہ سکول اور سکولنگ بتدریج زندگی کے اُن ہنگاموں یا عظیم انٹر پرائزز سے کٹتے اور غیر متعلق ہوتے جا رہے ہیں جو اس سیارے پر جاری ہیں۔ اب اس بات پر کسی کا اعتقاد نہیں کہ سائنسدان سکولوں میں برپا سائنس کلاسز سے پیدا ہو رہے ہیں، یا یہ کہ سیاستدان سِوکس مضمون پر انڈیلے جاتے اسباق سے اٹھ رہے، یا یہ کہ شاعر لوگ لینگویج کلاسز کی پیداوار ہیں۔ یہ ایک سفاک حقیقت ہے کہ سکولز آپ کے بچے کو کچھ بھی نہیں دیتے سوائے اس کے کہ how to obey orders اگرچہ اساتذہ بہت محنت کرتے ہیں، مگر ادارے psychopathic ہیں- بس اپنے جنون اور بہاؤ میں بہے چلے جاتے۔ ایک ادارہ اپنے اندر شعور، ہوشمندی اور ضمیر نام کی کوئی شے نہیں رکھتا۔ اسے تو بس گھنٹی بجا دینے سے غرض ہے، عین اس وقت جب ایک ینگ مین کسی کلاس روم میں بیٹھا کوئی نظم یا مضمون لکھنے میں مصروفِ عمل ہے۔ اسے بہرصورت اپنی نوٹ بُک بند کرنا ہے، کسی اور قید خانے کی جانب دوڑ لگانا ہےجہاں اسے facts کا ایک نیا پلندہ اَزبر کرنا ہےکہ انسانوں اور بندروں کے اجداد اصل میں ایک ہی تھے۔

بچے وہی سیکھتے ہیں جو ان پر بیت رہی ہوتی ہے۔ انہیں ایک کمرہِ جماعت میں بند کر دو، وہ جہان بھر سے کٹ کر ایک قید خانے کی زندگی گزاریں گے، اور ایسا ہی مزاج پائیں گے۔ آپ اُن کے سیکھنے کے عمل پر پر گھنٹیاں بجا بجا کر مداخلت کرو تو وہ یہی سیکھیں گے کہ کچھ بھی اہم نہیں، کچھ بھی worth finishing نہیں۔ وہ اپنا کام ہمیشہ یا اُدھورا چھوڑ دینے میں کوئی قباحت نہ پائیں گے۔ یہ فینامینن ان کا ایک مستقل وطیرہ بن جائے گا۔ غلطی سے جسے ہم لوگ تعلیمی نظام سمجھ بیٹھے ہیں، وہ سوچ بچار کے تمام آپشنز بند کر کے اِس بات پر اندھا اعتقاد قائم کر لینا ہے کہ

There is ONE RIGHT WAY to proceed with growing up.

یعنی بچوں کی نشوونما اور تعلیم و تربیت کے ضمن میں ایک ہی واحد راستہ ہے، جو درست ہے۔”

یہ تو تھیں جان ٹیلر گاٹو کی باتیں۔

مجھ ناچیز نے دیکھا ہے کہ ایک ایسی ٹیچر جس کی بچوں کیساتھ کوئی ایسوسی ایشن نہیں ہوتی، اُسے30 سے 35 یا 50 بچوں کی کلاس تھما دی جاتی ہے۔ بیچاری کا کل سکون فقط اس تصور میں قید ہوتا ہے کہ کسی طرح بچے سکون سے بیٹھ کر بات سن لیں، اور ایک آدھ صفحہ اپنی کاپیز میں بھر لیں، تا کہ انتظامیہ اور والدین جان لیں کہ اگلا آئیٹم پورا ہو گیا۔ اس کا آدھا وقت بچوں کو چپ کرانے میں گزر جاتا ہے۔ بالفرض مضمون میتھ ہے تو بمشکل ایک یا دو سوال ہو پائیں گے: “یُو گاٹ مائی پوائنٹ؟” چار پانچ بچے چلّا کر کہہ دیں گے، “یس میم!” ان کی دیکھا دیکھی باقی بھی سر ہلا دیں گے۔ اب آپ بقیہ ایکسرسائز گھر سے کر کے لاؤ۔ گھر میں کون کرائے؟ ٹیوشن سنٹر جاؤ یا ٹیوٹر کو بلاؤ۔ ۔ ۔

تعلیم کیا ہے؟ کہ وہ ہر بچے کو اس کی انفرادی شخصیت unique individual کسی طور عطا کر دے، اور بس! نہ کہ اسے conformist بنا کر چابی والے ایک کھلونے کے بطور چھوڑ دے۔ تعلیم کا فرض بچے کو وہ اوریجنل سپرٹ عطا کرنا ہے جسے ساتھ لیے وہ چیلنجز کا مقابلہ کر سکے۔ ایسی تعلیم جو بچے کو اِس قابل بنائے کہ وہ اپنی ذاتِ گرامی کے لیے ایک set of values کا تعیّن کر سکے۔ وہ قدریں جو اس بچے کے لیے تگ و تازِ حیات کرنے میں روڈ میپ کا کام دے سکیں۔ ہم ہزاروں میں سے کسی ایک کو جینیئس خیال کر لیا کرتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے۔

جینیئس ہونا، یعنی سُوپر برین کا حامل ہونا ایک مشترک انسانی صفت ہےجو سب لوگوں میں برابر پائی جاتی ہے، اگر چہ تھوڑی ورائٹی والے انداز میں۔ میری جینیئس زبان دانی میں سکون پاتی ہے تو کسی اور کی تعمیر سازی کے کام میں۔ اسی طرح، اردو اور انگریزی کے لازمی نصاب میں فیل ہو جانے والا طالب علم عین ممکن ہے الیکٹرونکس کی دنیا میں اپنی جینیئس کا اظہار فرمائے اور خاصی ہل چل مچا دے۔ خود اچھا روزگار بھی کمائے اور ددوسروں کے لیے خوب نفع بخش بھی ہو۔

آپ ذرا غور فرمائیں، کم و بیش سارے کے سارے نامور شعرا، سائنسدان، انجینیئرز، مذہبی سکالزر ہوں یا سماجیات اور عمرانیات کے اصول و ضوابط پیش کرتی ذہانتیں، ان میں سے بیشتر ناموں کیساتھ روایتی سکولنگ نظر نہیں آتی۔

مارک ٹوین نے کہا تھا:

“میں نے سکُولنگ کو اپنی تعلیم کے راستے میں کبھی حائل نہیں ہونے دیا۔ “

میں نے دیکھا ہے کہ جو بچہ عمدہ مضمون نہ لکھ سکے، اس میں بلا کے طاقتور الفاظ اور جملوں کے لیے impressive structures نہ گھسیڑ سکے، اساتذہ اور والدین اسے نالائق، کند ذہن یا لاپرواہ سمجھ بیٹھتے ہیں۔ حالانکہ وہ بچہ بیس برس بھی لینگویج پڑھتا رہے تو اے گریڈ مضمون نہ لکھ پائے۔ بوجوہ وہ بچہ غبی نہیں ہے۔ مسئلہ اس نظام میں ہے۔

اس کی مثال یوں دی جا سکتی ہے کہ آپ ہاتھی، مچھلی، زرافہ، فاختہ، بندر، اور گینڈے سے یکلخت یہ تقاضا کریں کہ آپ سب نے اسی درخت پر چڑھ کر دکھانا ہے۔ جو نہ چڑھ سکے، وہ فیل ہوا۔ اگر آپ کی فیئر سلیکشن کا معیار یہی ہے تو اس میں اُن امیدواروں کا کیاقصور جو غلطی سے بندر کی بجائے کچھ اور پیدا ہو گئے؟ آپ کے سٹینڈرڈائزڈ ٹیسٹس، شومئی قسمت، یہی تقاضا کرتے اور کروڑہا بچوں کو مایوس کیا کرتے ہیں۔

امریکہ میں 22 فیصد بچے ڈراپ آؤٹ ہو جاتے اور ہائی سکول تک کی تعلیم مکمل نہیں کر پاتے۔ ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کیمطابق انڈیا میں اس سطح پر ڈراپ آؤٹ ریٹ 34 فیصد جبکہ روزنامہ ڈان کی رپورٹ کیمطابق پاکستان میں اس سطح کا ڈراپ آؤٹ ریٹ 44 فیصد ہے۔ میں حیرت سے سوچا کرتا ہوں، دنیا میں خود کشیوں کی تعداد اسقدر کم کیوں ہے؟ انسان کا بچہ بڑا ہی ڈھیٹ واقع ہوا ہے۔ پاکستان میں 5 سے 16 برس کی عمر کے بچوں میں سے 44 فیصد بچے اِس دوڑ میں حوصلہ ہار جاتے، ا سکول چھوڑ جاتے ہیں۔

جس بچے کو کیمسٹری کے فارمولے رَٹوائے جا رہے ہیں، وہ آرٹ، کھیل، اور مہم جوئی کیلئے بنا ہے۔ ممکن ہے، اس کا وہ قیمتی وقت ایڈونچر پر لکھی کتاب کیساتھ گزرے تو زیادہ تر ثمر بار ہو۔ اسے یہ آزادی کیوں نصیب نہیں؟ اس کے ہاں یہ unique individuality کون دریافت کرے گا، سراہے گا، اور ہمت بندھائے گا؟

اکثریت کی بات کریں تو کہا سکتا ہے کہ اس نوع کی traditional schooling میں ڈسا جا رہا آپ کا بچہ ہر روز یہ بوجھ اٹھائے، بھاری قدموں پلٹ آتا ہے کہ میں تو اس قا بل نہیں۔ میرا ذہن اچھا نہیں۔ مجھے میتھ کی سمجھ نہیں آئی، فلاں فلاں کو آگئی تھی۔ میں کلاس میں سب کے سامنے سٹوری نہیں سنا سکا، فلاں اور فلاں نے سنا دی تھی۔ ۔ ۔ کیا ٹیچر کے پاس اتنا وقت ہے جو آپ کے بچے کو الگ سے ٹرِیٹ کر سکے؟ اس کی ہمّت بندھا سکے؟ اس مسخ شدہ شخصیت کیساتھ، زندہ لاش بنے وہ بچہ روز سکول آ جا رہا ہے۔ خدارا اس کی معصوم دنیا کا احساس کرو!

حل کیا ہے؟

ایک بار پھر، جان ٹیلر گاٹو کی کتاب میں سے ایک خوبصورت اقتباس:

“آزادنہ طرز کا مطالعہ، کمیونٹی سروس میں شمولیت، مہم جوئی اور اس دوران تجربہ ومشاہدہ، پرائیویسی اور تنہائی کے طویل وقفے، یعنی بچے کو اپنے ساتھ وقت گذارنے کے مواقع میسر آئیں، بیسیوں رنگا رنگ قسم کی apprenticeships، یکسانیت کو توڑتی ہوئی ورائٹی کا اہتمام۔ ۔ ۔ یہ ہیں وہ طاقتور، سستے، زیادہ تر موثر طریقےجن سے سکولنگ کو ریفارم کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، ایسی ریفارمنگ کیسی ہی بڑے سکیل میں کیوں نہ برپا ہو جائے، قطعی بے سود ہو گی جب تک اس سارے عمل میں والدین کی شمولیت کو کسی طور ممکن نہ بنایا جائے۔”

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

ہمایوں مجاہد تارڑ شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں۔ اولیول سسٹم آف ایجوکیشن میں انگریزی مضمون کے استاد ہیں۔ بیکن ہاؤس، سٹی سکول ایسے متعدّد پرائیویٹ اداروں سے منسلک رہ چکے۔ ان دنوں بھی اسلام آباد کے ایک پرائیویٹ ادارے کے کیمبرج سیکشن میں تدریسی فرائض انجام دے رہے ہیں۔سوشل میڈیا پر خاصے ایکٹو رہے ہیں۔تاہم، کسی قلبی واردات کا شکار ہو کر نئے سال 2017 کے طلوع سے ٹھیک ایک روز قبل یہ غروب ہو گئے تھے۔ پردہ نشینی کی وجوہات میں ایک خاص وجہ ان کا ایک نئے تعلیمی ماڈل کا قیام پر کام کرنا تھا، جو خاصی مقدار میں ہو بھی چکا۔اِن دنوں اس انقلاب آفریں نئے ماڈل کے خواب کو تعبیر دینے کے لیے کوشاں ہیں۔ اس موضوع پر ان کی تحریر 'بچوں کی تعلیم کا جبر: آزادی کا ایک ماڈل' دانش ویب سائٹ پر ہی ظاہر ہو کر اچھا رسپانس وصول کر چکی۔اندرون اور بیرون ملک مقیم کچھ احباب نے بھرپور دلچسپی کا اظہار کیا، اور ان کےہمرکاب ہو جانے کا دم بھر ا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20