حقوق نسواں، عورت مارچ اور ہماری ذمہ داریاں —- محمد ابوبکر شیخ

0

متمدن اور شہری علاقوں میں لڑکے لڑکیوں کی بہت بڑی تعداد یکجا عصری تعلیم حاصل کرتی ھے۔ ان تعلیمی اداروں میں پڑھانے والے، منتظمین اور نجی کالجوں، یونیورسٹیوں کے مالکان کی ایک تعداد این جی اوز(NGOs) سے مالی، فکری اور فنی مدد لیتی ھے۔  ان سب میں سے بعض مالدار و مفادیافتہ لوگ عورت مارچ، عورت حقوق کے لئے بلند آہنگ نعرے لگارہے ہیں۔ یہ میڈیا سوشل میڈیا اور سماجی حیثیت میں طاقتور ہیں ملک کے حال و متوقع طور پر مستقبل کے صاحبان اختیار و اقتدار ہیں ان کا جواب غصہ، ناراضگی اور ردعمل کی نفسیات سے مت دیں۔

ان کے پس پردہ عزائم میں سے ایک یہ ہے کہ مذہبی طبقے خصوصا علماء و خطبہ واعظین کو مشتعل کیا جائے اور اس اشتعال انگیز ماحول سے حقیقی، ریاستی، قومی اور سماجی مسائل کو دبا دیا جائے۔ مزید یہ کہ نوجوان نسل کو مذہب اور مذہبی طبقات کے مدمقابل کھڑا کیا جائے لہذا ضروری ہے کہ جوش کی بجائے ہوش و حکمت سے مذہبی طبقہ اپنا مقدمہ لڑے اور خیر خواہی کے جذبے سے سماجی کردار نبھائے۔

پاکستان کا حقیقی عوامی، سماجی مسلہ غربت و جہالت ہے۔ پاکستان میں فی کس یومیہ 2 ڈالر سے بھی کم آمدنی والے تقریباً چھ کروڑ لوگ ہیں جنکو خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والا طبقہ شمارکیاجاتا ہے۔ مجموعی طور پر 14 کروڑ پاکستانی مرد و خواتیں یکساں طور پر روح و جسم کا رشتہ قائم رکھنے کیلئے شدید ذہنی و جسمانی دباو کا شکار ہیں۔ عورتوں کے حقوق کے علمبردار اتنے بڑے انسانی مسئلے بلکہ المیے پر کوئی حرکت و تحریک برپا نہیں کررہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ گونگے ہیں۔

خواتین حقوق یا برابری کا حالیہ شور و غوغے کاپس منظر یہ ہے کہ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد اس نے شدت اختیار کی تھی۔ جب یورپ و امریکہ کے مردوں کی بڑی تعداد ان جنگوں میں ماری گئی یا کئ کئ سال اپنے ملکوں اور گھروں کو واپس نہیں آئی اصلاً یہ پچھتر سال سے جاری یورپ و امریکہ کا مسئلہ تھا جو اب بھی ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکہ میں عورتوں کو گھروں سے نکل کر امور ریاست حکومت و سماج نمٹانے پڑے۔ امریکی افواج جنگ سے واپس ہوئیں انہوں نے امریکی عورتوں کو پھر سے امور خانہ داری اور جنگ سے پہلے کے کردار و سرگرمیوں کی طرف متوجہ کیا، اس پر اصرار کیا۔ ایسے میں عورتوں کی طرف سے ردعمل آیا اور معاملہ تحریکی و مخاصمانہ شکل اختیار کرگیا۔ جو ایک حد تک “Equality at work, equality at home” کام میں برابری اور گھر پر برابری کے فارمولے پر ضمننا نمٹا اصلاً امریکی مردو خواتین نے اس کو آج بھی صرف ایک حد تک ہی قبول کیا ہے۔

فی الحقیقت بنیادی مسئلہ سرمایہ داریت ہے۔ خواتین کی آزادی، بینکنگ کا نظام، صارفیت (consumerism) اور مصنوعی جنگیں سرمایہ دارنہ نظام کے استحکام کے لئے بہت سے ہتھیاروں میں سے چند بڑے ہتھیار ہیں۔ برصغیر (پاکستان، ہندوستان، بنگلادیش، برما، نیپال) جیسے خطوں میں نسلی، لسانی تقسیم میں پائے جانے والے تضادات کو ابھارکر ان کو اختلاف سے تصادم اور مسلح تصادم کی طرف لے جانا اور ہر فریق کو اسلحہ بیچنا ملکوں ملکوں دیگر جنگی سازو سامان کے عوض کھربوں ڈالر بٹورنا، سرمایہ دارنہ نظام کے استحکام کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ اسی طرح گھروں میں موجود خواتین کو “معیار زندگی بلند کرو” کے عنوان سے لمبے چوڑے اخراجات پر اکسانا، مہنگی اور پرتعیش اشیاء کی فروخت کے لئے خواتین کو بطور اشتہار استعمال کرنا، ان ضرورتوں و سہولتوں اور اسائشات کو بیچنےکیلئےجن سے ملٹی نیشنل کمپنیوں کو منافع ہوتا ہے۔ یہ منافع غریب، پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک سے امریکی و یورپی معیشتوں میں نئےکیپیٹل /خون کی فراہمی کے مترادف ہوتا ہے۔

گویا کہ عورتوں کے اشتہارات اور اشیاء کی فروخت ایک ایسا سفنچ ھےجو غریب، کم پڑھے لکھے معاشروں سے خون چوس کر لندن، واشنگٹن، پیرس پہنچا کر وہاں کی معیشتوں میں انڈیل دیا جاتا ہے۔ پاکستان میں شکست خوردہ لیفٹ اور لبرل سستی شہرت اور “دل لگی” کے لئےخواتین حقوق کی حالیہ لہر میں شامل باجے بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مہنگی فیسوں والے کالجز اور یونیورسٹیز میں زیر تعلیم بچے بچیوں کو ورغلا رکھا ہے۔ ان کی اپنی حالت یہ ہے کہ ان کے گھروں میں کام کرنے والی غریب خاندانوں کی باجیاں اور ماسیاں ملک میں رائج کم از کم اجرت سے نصف پر ان کے کام کر رہی ہوتی ہیں بلکہ ان کے بچے پال رہی ہوتی ہیں۔ یہ ان کی چھٹیاں بھی انہیں منانےنہیں دیتے، چھٹیاں کرنے والوں کی تنخواہیں کاٹ لیتے ہیں۔ ایسی ہی بعض خواتین کی امرء یا انکے بچے/بڑے آبروریزی بھی کرڈالتے ہیں۔

پاکستان میں کونسا مذہبی شخص یا جماعت ہے جو عورت پر ظلم کا حمایتی ہو؟ مگر فیمنسٹ گھرگرہستی کے کام کو ظلم بنا کر پیش کرتے ہیں۔ ہم مرد عورت کے کسی بھی استحصال کے خلاف ہیں مگر استحصال کیا ہے اور کیا نہیں یہ طے کرنے کا اختیار مغربی این جی اوز کا کام نہیں اس کیلئے فرقان (قرآن) اور صاحب قران کی سیرت و کردار اور ہماری روایت معیار ہے یا ہمارے مقامی رواجات۔ فیمینزم کی تحریک کو فکری مواد و رہنمائی دینے والے بڑے تاریخی نوعیت کے قلابے ملاتے ہیں۔ یہاں تک کہہ دیا جاتا ہے کہ کم و بیش تمام مذاہب خصوصا ابراہیمی ادیان پدرسری (باپ کی نسبت اور رہنمائی میں) عہد و سماج کے زیر اثرتشریع و تعبیرات رکھتے ہیں۔ ان ادیان سے قبل خواتین ایک سے زائد شوہر رکھ سکتی تھیں۔ اب پابندیاں بے جا ہیں وغیرہ وغیرہ۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ اس معاملے میں علمائے کرام اور مذہبی حلقے گہری معلومات باہم شئیر کریں اور دعوتی انداز میں قرآن اور صاحب قرآن کی تعلیمات کی روشنی میں اپنا مدعا پیش کریں۔ فیمنسٹ اور #می_ٹو لیڈران بڑی ہشیاری سے، ٹی وی اور سوشل میڈیا پر دائیں بازو کے لوگوں کو اشتعال دلا کر انہیں بطور ولن اور خود کو ہیرو بنا کرپیش کرتے ہیں۔ اس لڑائی سے عورت مارچ، خواتین حقوق کا ایشو پاکستانی ذرائع ابلاغ کے لیے پکی پکائی کھیر بن جاتا ہے۔ میری گزار ش ہے کہ ماروی سرمد یا خلیل الرحمن قمر جیسا رویہ اپنانے کے بجائے شائستگی سے دین کی دعوت پیش کریں ورنہ دینی کاز کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہوتا ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20