میرا جسم۔۔۔۔ امپورٹڈ نعرہ، دیسی غرارہ —– سحرش عثمان

0

رسم دنیا موقع و دستور تو تھا ہی یہ جو دونوں اطراف کے لوگ خون آشام بلاؤں کی مانند ایک دوجے پر حملہ فرما رہے ہیں اس نے موقعے کو دو آتشہ کردیا۔ اس ہاہاکار نے آنسہ کو بھی خواب غفلت سے جگا دیا اور ہم نے بھی اپنی رائے بتانے کا فیصلہ کرلیا حالانکہ ہمیں معلوم ہے اس سے خاص فرق نہیں پڑنے والا۔ جب کوئی انسان فیصلہ کرلیتا ہے چیزوں کو اپنی مرضی کا مطلب پہنانے کا تو پھر اسے کوئی سمجھا نہیں سکتا اور جب کوئی دوسرے کو غلط ثابت کرنے کا فیصلہ کرلیتا ہے تو پھر اسے صحیح سمت دکھانا مشکل ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے مرد و زن اسی کشمکش میں مبتلا ہیں اور ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی خواہش الگ سے ماحول گرما رہی ہے۔

تو پیاری خواتین گزارش ہے کہ یہ جو آپ لوگ امپورٹڈ نعروں کو دیسی غرارے پہنانے کی کوشش کررہی ہیں یقین کریں ذرا مزا نہیں آرہا۔ آپ خواتین بضد کیوں ہیں کہ میرا جسم میری مرضی ہی لکھا جائے اور اسے آپ ہی کے معنی میں سمجھا جائے۔ دیکھئے جب کوئی چیز “مشہور” ہوجاتی ہے یا کسی چیز سے منسوب ہوجاتی ہے تو پھر وہ اسی معنی میں لی جاتی ہے۔ آپ دنیا کو یوں کہہ سکتے ہیں کہ انڈیا کشمیر میں ہولوکاسٹ کررہا ہے؟ نہیں نا؟ کہنے کو تو وہ بھی نسل ہی ختم کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ لیکن آپ یہ نہیں کہہ سکتیں کیوں؟ کیونکہ “مہذب” دنیا آپ کا منہ نوچ لے گی اور آپ کو بتائے گی کہ یہ خلاف تہذیب ہے۔ مہذب بنو اور کوئی اور لفظ استمال کرو۔

بالکل ایسے ہی جب میرا جسم میری مرضی کو ابارشن رائٹس کے لیے استعمال کیا گیا، ابارٹ کرانے پر انشورنس مانگی گئی، بعد میں کئی جگہوں پر یہ حق تسلیم بھی کرلیا گیا تو یقینا تب سے یہ نعرہ انہی مطالب میں استعمال ہونے لگا۔ آپ ہراسمنٹ، بچوں کی پیدائش، ریپ میریٹل ریپ جیسے معاملات میں اس کو فٹ نہیں کرسکتے۔

اور منسوب کرنا بھی کیوں ہیں کیا الفاظ کی قلت ہے؟ اظہار کو حرف میسر نہیں یا خواتین کو اور کوئی آزار لاحق نہیں؟

ہراسمنٹ کی بات کرنی ہے تو واضح الفاظ میں کیجئے۔ یہیں سوشل میڈیا سے شروع کیجئے۔ ہراس کرنے والوں کے خلاف دوسری خواتین کا ساتھ دیجئے، ایک دوسرے کو مضبوط کیجئے ناکہ ہراس کرنے والے کو دوست رکھیں۔

ورک پلیس کے ماحول کی بات کرنی ہے تو معاشی آزادی کی خودمختاری کی بات کیجئے۔ جہیز کے خلاف بات کریں۔

رہ گئی بچوں کی پیدائش۔۔ تو معذرت خواتین، آنسہ بھی ایک عدد خاتون ہی ہے ہمیں معلوم ہے شریکے کے منہ پہ پانچ بیٹوں کی چپیڑ مارنے کا شوق کسے ہوتا ہے۔ دیورانیوں جیٹھانیوں سے “ریس” (یہ انگریزی و پنجابی دونوں والا ہے) کس نے لگانی ہوتی یے۔

خود کو جوان ثابت کرنے کے لیے پئے درپے بچے پیداکرنے کی خواہش بھی خواتین میں ہی زیادہ ہوتی ہے۔ کبھی جوڑی “رلانی” ہوتی ہے کبھی ہائے میری دھی دی پین کوئی نہیں۔ اور کبھی خوشخبریوں میں “ان” رہنے کے لیے اور کبھی شوہروں کو قابو میں رکھنے کے لیے بچے خواتین ہی پیدا کرنا چاہتی ہیں۔۔ اور یقین کیجئے مجھے اس سب پر اعتراض بھی کوئی نہیں۔ میں تو صرف تصویر کا یہ رخ دکھانا چاہ رہی ہوں کہ صرف شوہر کو ہی “شوقین” ثابت نہ کریں۔ اتنی نہ بڑھایا کریں پاکی داماں کی حکایت۔ ذمہ داری لینا بھی سیکھیں برابری کے حقوق چاہیئیں تو پھر خود میں برابر کی ذمہ داری کا حوصلہ بھی پیدا کریں۔

ابارشن کی جہاں تک بات ہے تو جب تعلق اس نوعیت کا ہو جب “محبت” میں یہ نوبت آجائے کہ نہ آپ کو پریکاشنز کا ہوش رہے نہ سیف ڈیز والا ٹنٹنا پالیں تو پھر بہتر ہے وہ جو روح آرہی ہے اسے آنے دیں۔ قاتل تو نہ بنیں کم از کم۔ اپنی “محبت” کو اون کرنا سیکھیں۔ خود میں گٹس پیدا کریں جس سماج کے مذہب کے بیرئیرز نہیں مانے آپ نے اب اس کی پروا کیوں؟ اب بھی اس میں نئے پن سے جئیں نا۔ اب یہاں یہ کوئی نہ بتائے کہ وہ روح ایک کامن پن جتنی ہوتی ہے چاہے کامن پن کی نوک جتنی ہی کیوں نہ ہو اب وہ ایک زندگی ہے اس کی حفاظت کریں۔ اس کو مارنے سے آپ کے مسائل حل نہیں ہوں نہ آپ کا جسم ترقی کرے گا بلکہ تنزلی کا ہی شکار ہوگا۔ آپ کے جسم رفتہ رفتہ اس ذمہ داری کو اٹھانے کے قابل نہیں رہے گا۔

اور مرد حضرات نے اگر خواتین کے حقوق کی بات کرنی ہے تو واضح الفاظ میں کریں یوں غیر واضح نعروں کے پیچھے چھپ کر ناآسودہ خواہشات کے پھندے نہ لگائیں نہ ہی دوسروں کے کندھوں پہ رکھ کے بندوق چلائیں۔ مرد بنیں سامنے آئیں اپنے اردگرد کی خواتین کو حق دیں۔

بہنوں بیٹیوں کو جائیداد میں سے حصہ، فیصلے کی آزادی دیں، بیوی کو مرضی کا مہر اور رشتے میں سانس لینے کی آزادی دیں۔ ماں اور بیوی کے درمیان انصاف کرنا سیکھیں۔ بہنوں بیٹیوں کو تعلیم کا، صحت کا، شادی میں پسند کا حق دیں۔پھر آئیں فیس بک پر اور دوسروں کے حقوق کی بات کریں۔

یوں خالی خالی نعروں سے حقوق نہیں ملتے کسی کو کوشش کرنا پڑتی ہے۔ اخلاص کے ساتھ ظلم کو اور ظالم کو صنف میں تقسیم کیے بغیر برا کہنا پڑتا ہے۔ حق کا ساتھ دینا پڑتا ہے۔ تبدیلی خود سے لائیں پہلے خود کو بدلیں دوسری صورت میں لڑتے رہیں ہمیں کیا۔

یوں ہی ایک دوسرے سے دست و گریباں رہیے۔ ہرسال تماشا کیجئے داد لیجئے اور گھر کو سدھارئیے، اگلے سال پھر آنے کے لئے۔

یہ بھی پڑھیں:فیمنزم/ جینڈر اسٹڈیز Feminism/ Gender-Studies: مغربی متبادل بیانیہ اور ہمارے ماہرین کا تقابل
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20