جمیعت علمائے اسلام۔ صد سالہ تاریخ اور مستقبل: صفتین خان

0

جمیعت علمائےاسلام کی صد سالہ تقریب منعقد ہو رہی ہے جہاں دیوبند کے اکابرین سمیت اہم شخصیات شرکت کریں گی۔ اس سلسلے میں نیک نیتی اور اصلاح کے جذبے سے چند مشورے دینے کی جسارت چاہوں گا اگر نازک مزاج آبگینوں کو ٹھیس نہ لگے۔ نئی صدی کے تقاضوں کو نظر انداز کر کے کامیابی کی امید رکھنا ہوشمندی نہیں۔ اگر گزارشات پر عمل کر لیا جائے تو جمعیت ایک پراثر ہمہ گیر تبدیلی کی علامت بن سکتی ہے۔

سب سے اہم بات جو فکر کا محور ہونی چاہیے اگر واقعی یہ سنجیدہ اکٹھ ہے تو وہ پاکستان میں موجود اکائی کا مشکوک سیاسی کردار ہے جس نے اس کے علمی و نظریاتی تشخص کو بھی سخت متاثر کیا ہے۔ حکمت و اصول پرستی کے نام پر رہنماوں کے ذاتی مفادات کا تحفظ سب سے بڑا زہر قاتل ہے۔ یوں تو بحیثیت مجموعی تمام ادارے اور گروہ زوال کا شکار ہیں لیکن علما کی نمائندگی کرنے والی جماعت سے زیادہ توقعات اور ذمہ داریوں کا تصور منسلک ہے۔ کردار کی عظمت کے بغیر محض عقیدت سے آپ لوگوں کے دلوں کو تادیر مسخر نہیں کر سکتے۔ شخصیت پرستانہ جماعت جلد یا بدیر زوال آشنا ہوتی ہے کہ فرد کو دوام نہیں۔ادارے اصول و مقاصد اور میرٹ سے سربلند ہوتے ہیں۔ جماعت کو عوام میں سیاسی رسوخ کے لیے عوامی تشخص اجاگر کرنا ہوگا اور اس کے لیے عوامی مسائل کو سیاست کا محور بنانا ہوگا۔ بنیادی اصلاحات کو مقصد بنا کر جدوجہد کرنی ہوگی۔

مذہبی بیانیہ پر بھی ایک سیشن ہونا چاہیے جس میں مختلف مکاتب فکر کو اپنے نتائج پیش کرنے کی اجازت ہو چاہے وہ سیکولر ہوں یا “متجددین “۔ اسی سے دلوں سے کدورتیں ختم ہوں گی اور ایک دوسرے کی بات کو غلط فہمیوں سے اوپر اٹھ کر سمجھنے کی سبیل پیدا ہو گی۔

چونکہ یہ جماعت ایک علمی گروہ کی علامت بھی ہے اس لیے جدید دور میں مذہب کو لاحق فکری چیلنجز کا ادراک اور اس کے حل کے لیے مجتہدانہ بصیرت کا حصول و حوصلہ افزائی کا موضوع بھی بے حد اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ جدید عبقری اذہان کو دینی علوم کی طرف راغب کرنے کے لیے اجتہاد اور عقل کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ مدارس کے نصاب کو جدید سماجی علوم اور قرآن کو محور بنا کر از سرنو مرتب کیا جائے اور اساتذہ کی اس نہج پر تربیت کا اہتمام کیا جائے۔ جدید دینی فکر کے حاملین کو جمعیت و مدارس کے ساتھ مل کر علمی تحقیقات متعین اہداف کے ساتھ پیش کرنے کے لیے ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کیا جائے جس میں جامعات اور مدارس دونوں کی سرکردہ علمی شخصیات موجود ہوں۔

اسلام کی فطری وسعت و رواداری بھی عیاں ہونی چاہیے۔ وقت آگیا ہے کہ جماعت کے قدیم تصور و تشخص میں جوہری تبدیلی کی ابتدا کی جائے۔
اس کا علامتی اظہار بشپ آف پاکستان کی شمولیت سے ہو چکا لیکن اس سے کہیں زیادہ ضروری ہے کہ عام افراد کی غیر مانوسیت کو ختم کرنے کے لیے اس کے ایک مخصوص طبقاتی گروہ کے تشخص کو تبدیل کیا جائے۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب خاص حلیے و سماجی پس منظر کے حامل افراد کے علاوہ بھی سب کو بنا کسی تعصب کے دل و جان سے خوش آمدید کہا جائے اور دین کی روایتی ظاہر پرستانہ تعبیر و نفسیات سے ماورا ہو کر علم آشتی بلند کیا جائے۔

دعوتی پہلو کو بھی نئی صدی کے لوازمات سے مزین کیا جائے۔ اس سلسلے میں باقی دینی جماعتوں و تحریکوں سے ملکر لائحہ عمل تشکیل دیا جائے۔ تبلیغی جماعت جو جمعیت کا دعوتی چہرہ ہے اس میں موضوع روایات کی جگہ قرآن کی تعلیم کو تبلیغ کا مرکزی کردار تفویض کیا جائے۔ جدید سماجی علوم کے ماہرین کے تھنک ٹینکس بنا کر دعوتی طریقہ کار کو جدید تمدن کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کا کام شروع کیا جائے۔

دہشت گردی کی کھل کر مذمت کی جائے اور ریاستی اختیار و کنٹرول کے بغیر کسی بھی قسم کی مسلح جدوجہد کو ہر جگہ فساد کے مترادف ٹھرایا جائے۔ اصولوں کی علانیہ وضاحت ناگزیر ہے۔ اس سلسلے میں دیوبندیت کے کردار کو کھل کر زیر بحث لایا جائے اور دیوبند کی اصل اساس جو حکمت و صبر کے ساتھ جمہوری جدوجہد کی ہے کو لائحہ عمل کے طور پر رائج کیا جائے۔ اس سلسلے میں ایسی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں جو دہشت گردی میں ملوث تنظیموں کے ساتھ فکری مناظرے کر کے ان پر اتمام حجت کریں۔ اجتماعی سطح پر ایسی کوششیں انفرادی احتجاجی بیانات سے زیادہ کارگر ثابت ہوں گی۔

مساجد کے کردار کو از سر نو متعین کیا جائے معاشرے میں۔ اس کو سماج کا اہم معاشی و سماجی عنصر بنانے کے لیے کھل کر مباحثہ کیا جائے۔ اللہ کی عبادت گاہ کو مسلکی تشخص سے پاک کرنے کی مہم چلائی جائے اور منبر پر اہل افراد کا تقرر کیا جائے حکومت اور وفاق المدارس کے تعاون سے۔ خطبہ جمعہ کو حکومتی ہدایات کے تحت بیان کیا جائے اور اس سلسلے میں حکومت کو سنجیدہ دلچسپی دکھانے کے لیے مزاکرات کیے جائیں۔ مدارس میں موجود اساتذہ کرام کی حالت زار کو بہتر کرنے کے لیے وفاقی سطح پر فنڈ قائم کیا جائے اور مہتمم حضرات کو ان کی معقول تنخواہوں کا پابند کیا جائے۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں ان کا الحاق ختم کر دیا جائے۔

فتوی بازی کے رجحان کی حوصلہ شکنی کرنا ہوگی۔ اس مقصد کے لیے ایک خاص وفاقی سطح پر بورڈ بنایا جائے جو اس ضمن میں سفارشات بنائے اور ضلعی سطح پر ایسے بورڈ ہوں جو فتاوی کے اجرا کے مکلف ہوں۔ ان فتاوی کی حیثیت بھی قانونی و عدالتی کاروائی کے معاون کی ہو۔ اس کے علاوہ کسی انفرادی فتوے کی وجہ سے کسی نقصان کا ذمہ دار اسی شخص کو ٹہرایا جائے۔

اسلامی معیشت کے لیے بھی ایک تھنک ٹینک بنایا جائے جو معیشت کو سود کے متبادل قرض حسنہ پر استوار کرنے کی تجاویز دے اور اس سلسلے میں دونوں طرف کے بیانیے کے ماہرین کو شامل کیا جائے۔

اٹھ کہ بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: