خواتین کی نسوانی شناخت مسخ کرنے کے سرمایہ دارانہ ہتھکنڈے —- وحید مراد

0

‘الفاوومن’ اور ‘سپر وومن’ جیسے افسانوی اور فلمی کردار، پیسہ بٹورنے کی خاطر پاپولر فیمنزم، کارپوریٹ کلچر اور فیشن انڈسٹری میں استعمال کئے جا رہے ہیں۔ انکا آلہ کار بننے والی خواتین، دولت اور شہرت تو حاصل کر لیتی ہیں لیکن اپنی اصل حیثیت، فطرت اور نسوانی شناخت کھو دیتی ہیں۔


جانوروں کا مطالعہ کرنے والے محققین بتاتے ہیں کہ ان میں بھی معاشرتی زندگی پائی جاتی ہے۔ جانوروں کے بھی مختلف معاشرتی طبقات ہوتے ہیں جن میں طاقتور افراد بادشاہ اور وزیر کے عہدوں پر فائز جبکہ کمزور رعایا کی شکل میں زندگی گزارتے ہیں۔ محققین اعلیٰ درجے کے جانوروں کیلئے ‘الفا میل’ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ جانوروں کی کچھ انواع میں نر اور مادہ مل کر بادشاہانہ کردار ادا کرتے ہیں ایسی صورت میں اسے ‘الفا جوڑی’ کا نام دیا جاتا ہے۔

الفا جانوروں کو عام طور پر کھانے پینے اور دیگر مطلوبہ اشیاء و سرگرمیوں تک ترجیحی بنیاد پر رسائی حاصل ہوتی ہے تاہم مختلف انواع میں ان ترجیحات کے مختلف درجے ہو سکتے ہیں۔ انہیں جنسی تعلق استوار کرنے میں بھی امتیازی مراعات حاصل ہوتی ہیں۔ کچھ انواع میں الفا نر کا صرف الفا مادہ کے ساتھ ہی ملاپ ہو سکتا ہے اور اس طرح پیدا ہونے بچے بھی الفا صفات کے حامل ہوتے ہیں۔ دیگر انواع میں کثیرالاولاد ہونے، بڑا کنبہ رکھنے، اعلیٰ جسمانی صلاحیت، جارحیت، غلبہ، معاشرتی کاوش، جوڑ توڑ ااور اتحاد و یگانگت کے ذریعے بھی کچھ جانوروں یہ امتیازی خصوصیت حاصل کر لیتے ہیں۔

جانوروں کی کچھ انواع میں ‘الفا حیثیت’ مستقل نہیں ہوتی بلکہ ‘جو جیتا وہی اسکندر’ کے مصداق مستقل طور پر جاری لڑائیوں میں غالب آنے والے کو ہی یہ عہدہ ملتا ہے۔ الفا کی دوڑ جیتنے کی غرض سے جاری یہ لڑائیاں اکثر جانوروں کی موت پر منتج ہوتی ہیں۔ وہ طاقتور جانور جو ان لڑائیوں کے آغاز میں ہی اپنے سے زیادہ قوی جانور کی الفا حیثیت تسلیم کرلیتے ہیں انہیں دوسری پوزیشن (سیکنڈ ان کمانڈ، وزیر) مل جاتی ہے۔ محققین اسکے لئے ‘بیٹا’ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ الفا جانور کی عدم موجودگی یا موت کی صورت میں، بیٹا جانوروں کو الفا حیثیت حاصل ہو جاتی ہے۔ حیوانی معاشروں میں نچلی ذات کے جانوروں کو’ اومیگا جانور’ کا نام دیا جاتا ہے۔ شکاری جانوروں کی انواع میں یہ طاقتور جانوروں کے تابعدار ہوتے ہیں اور عموماً بچے ہوئے شکار پر گزارا کرتے ہیں جیسے بھیڑیا اور لومڑ وغیرہ۔

الفا مرد کیا ہوتا ہے؟

انسانوں کے وہ معاشرے اور تہذیبیں جووحی الہی سے ہدایت لینے کے بجائے انسان کےاختیار، ارادے اور خواہشات سے تشکیل پاتی ہیں انکے اصول اور اقدار بھی حیوانوں کی طرح جبلتوں کے تابع ہوتے ہیں۔ ایسے معاشروں میں ‘الفا مرد’ معاشرتی درجہ بندی میں سب سے اوپر ہوتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جنکے پاس زیادہ دولت، جسمانی قوت، دھونس، دھمکی، غلبہ اور سیاسی طاقت ہوتی ہے۔ الفا مردوں کو اصل مرد کا بچہ (رئیل مین) بھی کہا جاتا ہے اور انکے مقابلے میں دیگر کمزور، مطیع اور محکوم حیثیت کے لوگ ‘بیٹا مرد’ کہلاتے ہیں۔ الفا مردوں کو خواتین تک زیادہ سے زیادہ رسائی حاصل ہوتی ہے اور اس میں نکاح یا قانونی تعلق کی کوئی قید نہیں ہوتی۔ جبکہ بیٹا مرد عموماً اپنی بیوی کے ساتھ ہی زندگی گزارتے ہیں اور انہیں عام طور پر ‘نائس گائے nice guy‘ بھی کہا جاتا ہے۔

ان معاشروں، تہذیبوں اور ثقافتوں کا مطالعہ کرنے والے ماہرین کے مطابق مردانگی کی کثیر الجہتی اقسام میں تمیزکرنے کا ایک اہم امر یہ بھی ہے کہ مردوں کی کونسی قسم خواتین کیلئے کس قدر جاذبیت اور دلکشی رکھتی ہے۔ مردوں کے غلبے اور جارحیت کی تمام اقسام خواتین کیلئے پرکشش نہیں ہوتیں۔ خواتین صرف ان جارح مردوں کو ترجیح دیتی ہیں جو اپنی جارحیت، تشدد اور غلبے کا استعمال گھر سے باہر کے مرد وں اور حریفوں کیلئے کرتےہوں اور اپنی قائدانہ صلاحیتیں استعمال کرتے ہوئے اپنے اہل و عیال کو ممکنہ حد تک زیادہ سے زیادہ سہولیات مہیا کرنے والے ہوں۔ لیکن اگر اسکے غلبے اور جارحیت کا رخ خاتون خانہ کی جانب ہو تو ایسے مرد کو سخت ناپسند کیا جاتا ہے۔ غلبے کے ساتھ مرد میں معاشرتی طرز عمل اور جنسی قوت و کشش کو بھی ترجیح دی جاتی ہے۔

غلبہ اور تسلط کامیابی کے لئے ایک قلیل مدتی حکمت عملی ہے جبکہ وقار ایک طویل مدتی حکمت عملی۔ غلبہ ایک ایسی خوبی ہے جو فتح سے ہمکنار کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے لیکن اس میں محض جیت کی بنیاد پرتمام معاملات میں حکم چلانے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔ لڑائی میں جیت حاصل کرنے والا ‘الفا’ تو بن جاتا ہے لیکن ابھی وہ اس جیت سے پوری طرح لطف اندوز نہیں ہوپاتا کہ کوئی دوسرا زور آور اسے شکست دے کر اسکی جگہ لے لیتا ہے۔ منگول، دوسروں پر جلدی غلبہ پالینے کی صلاحیت کی وجہ سے ایک زمانے میں ا’لفا لوگ’ شمار ہوتے تھے لیکن ان میں موافقت پالینے کی صلاحیت مفقود تھی۔ معزز اور باوقار لوگ وہ کہلاتے ہیں جو لمبے عرصے تک چلنے والی میراث (Dynasty) تشکیل دینے میں کامیاب ہوں۔

 معزز اور باوقار آدمی کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ جو پراعتماد، حساس اور تقاضا کرنے والاہو، مطیع ہونے والا نہ ہو، مخالفین پر جارحیت، غلبے اور تشدد کا استعمال کر سکے، اپنوں پر مہربان اور آسائشیں مہیا کرنے والا ہو، ، معاشرتی طور پر عزت کروانا جانتا ہو، زندگی کے ہر شعبے میں کامیابیاں سمیٹنے والا ہو، جسے قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے، جو مضبوط شناخت کا احساس دلائے اور خواتین میں زیادہ پرکشش سمجھا جاتا ہو۔ معاشرے کی نگاہ میں قدر سے دیکھا جانا وہ خواہش ہے جو ‘الفا مرد’ کو مستقل طور پر جارحیت، تشدد اور غلبے کے مقام پر قائم نہیں رہنے دیتی۔ وہ یہ باور کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ الفا مقام پر قائم رہنے کی کوشش اور ضد جوا کھیلنے اور دائو لگانے کے مترادف ہے کیونکہ آپ کی طاقت کوئی قارون کا خزانہ نہیں ہوتی جو کبھی ختم نہ ہو۔ چنانچہ معاشرتی سودے بازی کی خواہش اسے پیاروشفقت کا اظہار کرنے، دوسروں کی قدر کرنے پر مجبور کرتی ہے اور وہ کھلی جارحیت سے نیچے اتر کر پروقار شخصیت بننے کو ترجیح دیتا ہے۔ دوسروں کا استحصال پہلے کی طرح ہی جاری رکھتا ہے لیکن اب اس پر خوش اخلاقی کا پردہ ڈال دیتا ہے۔

الفا عورت کیا ہوتی ہے؟

تہذیبوں اور معاشروں کے مطالعات میں ‘الفا مرد’ کیلئے بہت حوالے موجود ہیں اور اسکا اطلاق ایک ایسے آدمی پر ہوتا ہے جوجسمانی قابلیت، اعلیٰ کامیابیوں کے حصول، جنسی کشش، دھونس اور دوسروں کو اپنی مرضی کے مطابق جھکانے والے کردار کو ظاہر کرتا ہے۔ لیکن الفا عورت کیا چیز ہے؟ کیا اسکا کوئی حقیقی وجود ہے یا یہ ایک خیالی اور فلمی کردار ہے؟ کارپوریٹ کلچر میں اگر الفاگرل ماڈل کو الفا مرد کے ماڈل پر سمجھنے کی کوشش کی جائے تو اسکا وجود شاید کسی کمپنی کے بورڈ آف گورنرز میں تو نظر آئے جہاں وہ اپنے کاروباری عزائم کی تکمیل میں تحکمانہ لہجے میں رعب جھاڑتی ہوئی نظر آئی گی لیکن معاشرے میں چلتے پھرتے کردار کی شکل میں یہ شاید ہی نظر آئے۔ کام کی جگہوں پر نظر آنے والی نمایاں خواتین بھی دبائو ڈالنے والے دبنگ کردار کی حامل نہیں ہوتیں ا س لئے بہت کم خواتین جاب میں اعلیٰ مقام تک پہنچ پاتی ہیں۔

‘الفا وومن’ کا اصل وجود حقیقی زندگی میں نہیں بلکہ قصے، کہانیوں میں نظر آتا ہے۔ فکشن میں دکھایا جاتا ہے کہ الفا خواتین کی زندگی کا اصل محور ‘کامیابی کا حصول’ ہےاور باقی سب چیزیں ثانوی ہیں۔ وہ رشتوں کا جنوں نہیں پالتیں، ہر چیز پر غالب رہنا چاہتی ہیں۔ کہانیوں میں ‘الفاگرل’ کا ‘الفا مین’ کے ساتھ رشک، حسد اور مقابلہ تو دکھایا جاتا ہے لیکن انکی آپس میں شادی نہیں دکھائی جاتی۔ خدشہ یہ ہوتا ہے کہ کہیں ان کے درمیان بڑا خون خرابہ نہ ہوجائے۔ ناول نگار فے ویلڈن (Fay Weldon) الفا فیمیل کو کارپوریشن چلاتے ہوئے دکھاتی ہے مگر گھر یلو دائرہ جہاں وہ سپرمین سے مختلف نظر آسکتی ہے، اسے کوئی توجہ دیتے ہوئے نہیں دکھایا جاتا۔

فکشن اور موویز میں الفا وومن اور ‘سپر وومن’ دو الگ کردار ہیں۔ سپر وومن کردار کی عورت ہر کام کرتی ہے۔ وہ اچھی بیوی ہونےاوراچھی کمائی کرنے کے ساتھ ساتھ گھر کے کام بھی سرانجام دیتی ہے۔ لیکن الفا وومن کا گھریلو کاموں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا وہ ان کاموں کیلئے کسی اور کوہائر کرتی ہے۔ اسے شادی شدہ عورت کے روپ میں نہیں دکھایا جاتا لیکن وہ شادی کی خواہش ضرور رکھتی ہے۔ وہ الفا مردوں کو حقارت سے دیکھتی ہے اور وہ اس سے گھبراتے ہیں۔ اسکے دوست ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے مہا امیر لوگوں کے۔ وہ ان دوستوں کو صرف پارٹیوں میں ملتی ہے۔ اس جیسے لوگ حقیقی دنیا میں پائے ہی نہیں جاتے کہ وہ انکے ساتھ وقت گزارے اس لئے تنہائی اسکا مقدر ہوتی ہے۔ ہو سکتا ہے یہ کردار عورت کو تنہا کرنے کیلئے ہی تخلیق کیا گیا ہو؟

‘الفا فیمیل’ کا کردار ہالی ووڈ کی فلموں میں بھی دکھایا جاتا رہا ہے لیکن یہاں بھی یہ کردار خواتین کی اصل صفات کی نمائندگی نہیں کرتا۔ یہ کردار عورت کے روپ میں’ الفا مرد’ کی خصوصیات کا حامل ہوتا ہے اور اسے عموماً ایسے عفریت اور ولن کے طور پر دکھایا جاتا ہے جو بہت ہوشیار، سفاک، خود غرض اور جنس کا رسیا ہوتا ہے۔ ہالی ووڈ موویز میں ‘الفا فیمیل باس’ کو مطلب کی رانی، ڈریگن لیڈی، مردوں کے گینگ کی ملکہ اور مردوں کو اپنے اشاروں پر نچانے والی خاتون کے طور پر دکھایا جاتا ہے۔ ساراہ ڈنانت (Sarah Dunant) کے مطابق ہالی ووڈ سے باہر الفاخواتین کو سپر ہیومن کی بجائے غیر انسانی تصور کیا جاتا ہے۔

فلم پروڈیوسر لیزی فرانک کے مطابق کچھ برسوں سے ہالی ووڈ میں بھی الفا فیمیل کے کردار پسند نہیں کئے جاتے بلکہ اسکے بجائے لارا کروفٹ (Lara Croft) اور ٹرمینٹریکس (Terminatrix) جیسی ایکش ہیروئین کو زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔ ایکش ہیروئینز کے کردار بھی ‘الفاگرل’ کردار کی ہی نئی شکل ہیں جنہیں فلم بینوں کی پسند کے مطابق تخلیق کیا گیا ہے۔ ان میں کچھ مردانہ صفات کے ساتھ ساتھ نسوانی خصوصیات کو بھی بڑھا چڑھا کر دکھا یا جاتا ہے۔ ایک طرف یہ اپنے دشمن پرغیرانسانی طریقے سے تشدد کرتے ہوئے اسے گولیوں سے بھون رہی ہوتی ہیں اور دوسری طرف انہیں بہت ہی تنگ سوٹ میں (جس میں جلد اور لباس کا کوئی فرق واضح نہیں ہوتا) دکھا کر نوجوان کے جنسی جذبات ابھارے جاتے ہیں اور انہیں مستقل گاہک بنا کر ان سے پیسے بٹورے جاتے ہیں۔

 الفاوومین کا کردار شاید ہاتھیوں کی زندگی سے متاثر ہو کر تخلیق کیا گیا ہو؟ ہاتھیوں کے معاشرے کی نوعیت ایسی ہوتی ہے کہ ہر معاملے میں ہتھنی کا کردار غالب نظر آتا ہے۔ لیکن فیمنسٹ ڈسکورس میں جس طرح کا یوٹوپین مدرسری نظام دکھایا جاتا ہے اسکا ہاتھیوں کے معاشرے سے کوئی تعلق نہیں۔ ہاتھیوں کے معاشرے کی قیادت بزرگ ہتھنی کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ وہ ایک بہت ہی مضبوط مادہ ہوتی ہے جسے دانشمند اور مہربان سمجھا جاتا ہے۔ وہ اپنے غول کے افراد کو مضبوطی سے جوڑ کر رکھتی ہے اور نر ہاتھیوں کا بھی اتنا ہی خیال رکھتی ہے جتنا مادہ ہاتھیوں کا۔ و ہ اپنی قیادت اور طاقت کو اکیلئے انجوائے نہیں کرتی بلکہ اس میں سب کو شریک کرتی ہے اور اپنےمعاشرے کے فروغ کیلئے ان تھک محنت کرتی ہے۔ وہ قدرت کی طرف سے عطا کردہ اپنی جسمانی قوت کو نیک مقاصد کیلئے انتہائی سنجیدگی کے ساتھ استعمال کرتی ہے۔ وہ بہت بالغ نظری کا ثبوت دیتے ہوئے ہر وقت سب سے جڑی ہوتی ہے۔ وہ فیمنزم کے ‘الفا گرل’ ماڈل کی طرح نہیں ہوتی کہ شادی اور بچوں سے دور بھاگے بلکہ اسکےلئے اس اہم عہدے پر برقرار رہنے کیلئے زچگی کے عمل سے گزرنالازمی شرط ہے۔ وہ زچگی پر نہ کوئی سمجھوتہ کرتی ہے اور نہ اس میں کسی قسم کی رکاوٹ کو برداشت کرتی ہے یہی وجہ ہے کہ ہاتھیوں کے معاشرے کا کوئی بھی فرد اس پر تصنع، غیر فطری عمل، جعل سازی یا مقابلہ کرنے کا الزام نہیں لگاتا۔ تمام نر ہاتھی اسے دل و جان سے چاہتے اور اسکا بہت احترام کرتے ہیں۔

‘الفا فیمیل’ کا کردار نہ صرف جانوروں میں ناممکن العمل ہے بلکہ انسانی معاشروں میں بھی اسکا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ ایسی کوئی حقیقی الفا فیمل وجود نہیں رکھتی جو مردانہ صفات کے بغیر اپنی شناخت رکھتی ہو۔ جولیا پیٹن جونز Julia Peyton Jones کے مطابق ‘الفا میل’ ایک مردانہ تصور ہے اور جب اسے خواتین پر لاگو کیا جاتا ہے تو وہ خواتین نہین رہتیں مردانہ صفات کی حامل فرد نظر آتی ہیں۔ خواتین مردوں کی طرح طاقتور ہو سکتی ہیں لیکن انہیں ‘الفا خواتین’ کہنا بہت محدود کرنے اور انکی نسائی شناخت کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ فطرت نے خواتین کو مختلف قسم کی صلاحیتوں اور مہارتوں سے نوازا ہے اور وہ اپنی نسوانیت کے دائرے میں رہتے ہوئے ہر خواہش کو بہت زیادہ خام، جارح اور گستاخ ہوئے بغیر بھی پورا کر سکتی ہیں۔

الفافیمیل، فیمنزم اور فیشن انڈسٹری میں:

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ‘الفاگرل’ کے خیالی تصور کو فکشن اور فلموں میں استعمال کرنے کے بعد فیمنسٹ ڈسکورس میں کیوں اور کیسے متعارف کرایا گیا؟ فیمنزم اور سرمایہ داری نظام کے گٹھ جوڑ سے اسے کارپوریٹ کلچر اور فیشن انڈسٹری میں لاگو کرنے کی کس طرح کوشش کی جارہی ہے؟ معاشرے کی عام نوجوان خواتین بلا سوچے سمجھے فیشن کی بھیڑ چال میں اس غیر فطری تصور کو پروموٹ کرکے استحصالی طبقے اور منافع خوروں کے ہاتھ کیوں مضبوط کر رہی ہیں؟

2015 میں ایک ریٹیلر Otherwild  نے عورتوں کی ایک ٹی شرٹ متعارف کرائی جس پر لکھا تھا مستقبل خواتین کا ہے The Future is Female۔ یہ ڈیزائن اتنا مقبول ہوا کہ اسکی پہلی کھیپ دو دن کے اندر فروخت ہو گئی۔ اس ڈیزائن میں فیمنسٹ خواتین کے احساس برتری کو ‘الفا گرل’ تصور کے اندرسموکر اس خوبی سے پیش کیا گیا کہ راتوں رات یہ ہر لڑکی کی اولیں خواہش بن گیا۔ فیمنزم کی سیاسی تاریخ میں اس ٹی شرٹ نے ایسا دھماکہ کیا کہ اسکے بعد فیمنسٹ تحریک حقوق نسواں کی جدوجہد چھوڑ کر پاپولر فیمنزم کے راستے پر گامزن ہو گئی۔ اب جلسے جلوس کی مشکلات اٹھانے، لاٹھیاں کھانے اور کتابیں لکھنے کے بجائے خوبصورت نعروں کے ذریعے فیمنزم کی نئی جدوجہد کا رخ متعین کیا گیا۔ ان نعروں میں میری بچہ دانی میرا انتخاب My Uterus, My Choice، لڑکیاں صرف تفریحی حقوق حاصل کرنا چاہتی ہیں Girls just wanna have fun-damental Rights اور سب سے بیہودہ نعرہ کہPussy Grabs Back   بہت مقبول ہوئے۔

‘الفاگرل’ ماڈل کو فیشن انڈسٹری اور پاپولر فیمنزم کے بیہودہ جنسی نعروں کے ذریعے پروموٹ کرنےکا تجزیہ کرتے ہوئے پروفیسر سارہ بنیٹ ویزرکہتی ہیں کہ جب ہم کسی آئیڈیالوجی کو لطیفوں، چٹکلوں اور نعروں کی شکل میں مقبول عام بنا دیتے ہیں تو وہ سننے یا دیکھنے والے کو وقتی طور پر تو راغب کرتے ہیں لیکن پھر فوراً اس کے ذہن سے محو ہوجاتے ہیں کیونکہ یہ سطحی باتیں ہوتی ہیں۔ یہ سب کچھ پیسے بٹورنے کا دھندہ تو ہو سکتا ہے لیکن اسکا تبدیلی کی سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ اسکی وضاحت کرتے ہوئے وہ یوٹیوب کی ایک سیریز Girls Who Code کی ایک ڈاکومینٹری GTFO کی مثال دیتی ہیں جس میں ایک لڑکی مردوں کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتی ہے کہ I can’t code because my cleavage is too distracting اور مردوں کو پاگل قرار دیتے ہوئے کہتی ہے کہ I don’t even have boobs yet and they still get into the way۔ پروفیسر سارہ مزید کہتی ہیں کہ پاپولر فیمنزم اور فیشن انڈسٹری کے گٹھ جوڑ میں عورتوں کو آلہ کار کے طور پر استعمال کرنا جہاں خواتین کی بے توقیری ہے وہاں یہ انسانیت اور تہذیبی اقدار کے بھی خلاف ہے۔

پاپولر فیمنزم اور فیشن انڈسٹری سے متاثر ہو کر مختلف تنظیمیں اور کارپوریشنز بھی اپنے اداروں میں دوسروں پر اثر انداز ہونے، مقصد اور اہداف کے حصول، نیز اداروں کی ترقی اور وسعت میں اہم کردار ادا کرنے والے قائدین کو ‘الفا قائد’ کا نام دیتے ہیں۔ یعنی یہ تصور قصے، کہانیوں، فکشن، موویز، پاپولر فیمنزم سے ہوتا ہوا کارپورٹ کلچر میں بھی پہنچ چکا ہے اور یہاں ‘الفا قائد’ کی اصطلاح مرد اور عورت دونوں کیلئے استعمال ہوتی ہے۔ الفا قیادت کے اصل معنی کیا ہے یہ تو کسی پر واضح نہیں لیکن اسے ادارے کے بلند حوصلہ، آرزومند اور نوجوان سربراہ یا سی ای او کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ کارپوریٹ کلچر میں الفا مرد کو تو آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے لیکن الفا فیمیل کو تلاش کرنا بہت مشکل ہے۔ یہ مشکل اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب ‘الفا میل’ اور ‘الفا فی میل’ کی شناخت کی بات ہو۔ کارپوریٹ کلچر کی سخت ٹریننگ سے خواتین میں مصنوعی طور پر مردوں کی کچھ خصوصیات تو پیدا کر لی جاتی ہیں لیکن جب وہ ‘الفا خاتون’ کا روپ دھارتی ہیں تو ان میں نسوانی شناخت کہیں نظر نہیں آتی۔

مشہور اور بااثرخواتین کیا الفا خواتین ہیں؟

پروفیسر سوزن گرین فیلڈ Susan Greenfield ایک معروف سائنسدان ہیں اورکئی عہدے رکھنے کے ساتھ ساتھ برطانوی ہائوس آف لارڈز کی ممبر بھی ہیں۔ وہ ہر وقت خوبصورت نظر آنے کیلئے بھی خاصا وقت نکالتی ہیں اور ‘الفا فیمیل’ بننے کی امیداوار بھی رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اگر کوئی خاتون ‘الفا’ اسٹیٹس حاصل کر بھی لے تو وہ ممکنہ طور پر مردوں کے گروپ میں واحد خاتون ہو تی ہے۔ وہ ایک لیڈر بن سکتی ہے لیکن اس کی خوبیوں میں مردانگی پوری طرح نہیں سما سکتی ہاں یہ ضرور ہوتا ہے کہ اسکی نسوانی شناخت میں تخفیف ہو جاتی ہے۔

ثقافتی ماہرین کے مطابق برطانیہ میں مردوں کا عورتوں کا روپ دھارنا اور عورتوں کا مردانہ خصوصیات اور اقدار کی نمائش کرنا عام بات ہے لیکن پھر بھی برطانوی معاشرے میں الفا خاتون کو تلاش کرنا بہت مشکل ہے۔ ملکہ الزبتھ اول ایک زبردست رہنما، بہت قابل اور اسٹائلش خاتون تھیں لیکن پھر بھی انہیں مرد رہنمائوں جیسا نہیں کہا جا سکتا اس لئے ان پر الفا خاتون کا لیبل لگانا درست بات نہیں۔ یہی معاملہ موجودہ ملکہ الزبتھ کا ہے۔

مارگریٹ تھیچر ایسی خاتون تھیں جس نے سیاست میں بہت نام کمایا اور ظاہری شکل و صورت پر بھی اتنی محنت کی کہ دنیا بھر میں اس سے محبت کا اظہار کیا جاتا تھا۔ لیکن وہ اپنے عورت ہونے کو پسند نہیں کرتی تھیں اورہمیشہ کہتی تھیں کہ مجھے عورت کی طرح کردار ادا کرنے کا نہ کہا جائے۔ انہوں نے’الفا ‘ کا ٹائیٹل حاصل کرنے کی خاطر اپنی نسوانی شناخت کو ہی مسترد کر دیا تھا۔ عورت زاد سے دور ی اختیار کرنے کی خاطر اپنی کابینہ میں کسی دوسری عورت کو شامل نہیں کیا اسی طرح اپنی بہنوں کے ساتھ تعلق ختم کر دیا تھا تاکہ انہیں عورتوں کی بہن کے طور پر نہ جانا جائے۔ اسی ساری جدوجہد میں مارگریٹ تھیچر اس مقام پر تو پہنچ گئیں جس پر عموماً الفا مرد پہنچتے ہیں لیکن وہ ‘الفا فیمیل’ نہ بن سکیں کیونکہ اس سفر میں وہ اپنی نسوانی صفات سے ہی دستبردار ہوگئی تھیں۔

نیکولا ہارلک Nicola Horlick برطانیہ میں اعلیٰ مالیاتی عہدوں، بے پناہ دولت اورسیاست کی وجہ سے مشہور ہیں۔ 1990 کے عشرے میں میڈیا نے انہیں ‘سپر وومین’ کا خطاب دیا۔ پچھلے سال، ایک روز اپنے گھر سے باہر نکلی ہی تھیں کہ ایک ڈاکو نے انہیں لوٹنے کی غرض سے گھیر لیا۔ میڈم ہارلک کی بغل میں بھی حفاظت کیلئے اپنا پستول موجود تھا لیکن گھبراہٹ میں وہ اسے استعمال نہ کر پائیں اورڈاکو نے انکے سر کے پچھلے حصے پر چوٹ ماردی۔ چوٹ کے باوجود انہوں نے ہمت نہ ہاری اور ڈاکو کو بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے خود بتایا کہ کتنی مضحکہ خیز بات ہے کہ ‘میڈیا مجھے سپر وومین کہتا ہے لیکن میں چھ بچوں کی ماں ہوں اور ان سب کو سنبھالنے سے قاصر ہوں اس لئے مجھے دوسروں کی مدد درکار ہوتی ہے۔ نچلے طبقے کی کچھ ایسی خواتین بھی ہیں جو جاب کے ساتھ اپنے بچوں کو خود سنبھالتی ہیں لیکن میرے ساتھ نوکروں کے علاوہ بچوں کی نانی بھی ہے جو ہر وقت انکا خیال رکھتی ہے’۔ ہارلک نے مزید بتایا کہ ‘مجھے یہ تو نہیں معلوم کہ سپر وومن خودانحصاری کے کس مقام پر فائز ہوتی ہے لیکن اگر میرے ساتھ ماں، نانی اور شوہر کی طرف سے دیا گیا اعتماد اور دعائیں نہ ہوتیں تو میں شاید ڈاکو کا مقابلہ نہ کر پاتی’۔

ڈیم سٹیلا ریمنگٹن (Dame Stella Rimington) برطانیہ کی ہوم انٹیلیجنس سروس ایم آئی 5 کی پہلی خاتون سربراہ تھیں۔ انہوں نے اس ادارے کو جدید خطوط پر استوار کیا اور جب وہ ڈاریکٹر جنرل بنیں تو انکے لئے یہ اعزاز باعث حیرت تھا کیونکہ وہ اسکی توقع نہیں رکھتی تھیں۔ انہوں نے کئی کتابیں اور ناول بھی لکھے اور میڈیا میں وہ ‘الفا وومن’ تصور کی جاتی ہیں۔ انہوں نےریٹائرمنٹ کے بعد اپنی یاداشتوں میں لکھا کہ اس طرح کے عہدوں پر کام کرنے والی خواتین کی شخصیت اور نقطہ نظر عام خواتین سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ انکی عام زندگی اورکرئیر کبھی آسانی اور معمول کے مطابق نہیں چلتے۔ ساری زندگی مردوں کی طرح اور ان کے درمیان ان تھک محنت، عزم، ہمت، اعتماد کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک عورت میں سے نسوانی خصوصیات غائب ہوجاتی ہیں۔ ایسی خواتین کو اہم اداروں کی سربراہ بننے کے بعد ‘الفا فرد’ تو شاید کہا جا سکتا ہو لیکن ‘الفاوومن’ کہنا بہت مشکل ہے۔

امریکہ کے ایک مشہور فیشن میگزین US Vogue کی ایڈیٹر اینا ونٹور Anna Wintour بھی دنیا کی طاقتور اور بااثر خاتون ہیں اور انہیں ‘الفا فیمیل’ سمجھا جاتا ہے۔ فیشن میں انکا اتنا بڑا نام ہےکہ انکے تخلیق کردہ ہر فیشن کو دنیا بھر میں فالو کیا جاتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو دیگر خواتین سے ممتاز رکھنے کیلئے کسی عام فیشن کی کوئی چیز استعمال نہیں کرتیں، حتیٰ کہ آتے جاتے وقت عام خواتین کی طرح ہینڈ بیگ بھی استعمال نہیں کرتیں۔ وہ صرف فیشن میگزین کے صفحات اور ڈاکومینٹریز میں ہی نظر آتی ہیں اور لوگوں سے ملناجلنا اتنا کم ہے کہ بہت سے لوگ انہیں صرف افسانوی کردار سمجھتے ہیں۔ میڈیا انہیں ‘الفا فیمیل’ ظاہر کرتا ہے جبکہ وہ انجانے خوف اور عدم تحفظ کا شکار ہیں اور ہر وقت ڈارک شیشوں کے پیچھے زندگی گزارتی ہیں۔ انکی مثال ایسے ہی ہے کہ ‘جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا’۔ وہ کسی تصوراتی دنیا کی ‘الفا فیمیل’ تو ہو سکتی ہیں لیکن حقیقی دنیا میں انکا وجود کہیں نظر نہیں آتا۔

مغرب کا سرمایہ دارانہ نظام و جدید ریاست، سیکولرازم، لبرل ازم، فیمنزم جیسے نظریات اورمیڈیا، فیشن انڈسٹری، کارپوریشنز جیسے اداروں کے ذریعے پوری دنیا پر ہوس، حرص، دولت اور سیکس کا جابرانہ نظام مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس مقصد کے حصول کی خاطر نت نئے ہتھکنڈے استعمال کئے جاتے ہیں جن میں نوجوان، حسین اور باصلاحیت خواتین کو آلہ کار کے طور پر استعمال کرنا بھی شامل ہے۔ ترقی اور شہرت کی خواہشمند خواتین انکے دام میں پھنس کر الفا فیمیل اور سپر وومن بننے کا جنون اپنے اوپر سوار کر لیتی ہیں لیکن خواتین کی اکثریت نہ ان کرداروں کو پسند کرتی ہے اور نہ ایسا بننا چاہتی ہے۔ یہ ادارے خواتین کی انفرادیت اوراحساس برتری کو اس قدر ابھار تے ہیں کہ وہ تضادات کا مرقع بن کر اپنی اصل حیثیت اور فطرت کو بھول جاتی ہیں اور خود بھی اس بات سے انکار کرنے لگ جاتی ہیں کہ وہ دوسری خواتین کی طرح ہیں۔ جب انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے تو پانی سر سے گزرچکا ہوتا ہے۔ وہ بہت باصلاحیت اور قابل ہو سکتی ہیں اس سے انکار نہیں لیکن ایک عام انسان کی طرح زندگی گزارنے اور اپنے دکھ سکھ میں دیگر انسانوں کو شریک کرنے، ہمدردی حاصل کرنے اور ہمدردی جتانےکیلئے زیادہ صلاحیت درکار نہیں ہوتی، کم صلاحیتوں کے ساتھ بھی خوش و خرم زندگی گزاری جاسکتی ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20