یونس ایمرے، عشق، محبت اورانسان دوستی کانمائندہ ترک صوفی شاعر —– نعیم الرحمٰن

0

یونس ایمرے عشق، محبت اورانسان دوستی کے نمائندہ ترک صوفی شاعر ہیں۔ یونس ایمرے مولاناجلال الدین رومی کے ہم عصر تھے۔ ان کی درست پیدائش یا وفات کا علم نہیں، تاہم انہوں نے اسی سال سے زائد عمر پائی۔ ان کے بعض اشعار سے پتہ چلتاہے کہ یونس ایمرے کی ملاقات مولانا جلال الدین رومی سے ہوئی تھی اور وہ کچھ عرصے رومی کی صحبت میں بھی رہے۔ جن کا انتقال 1273ء میں ہوا تھا۔ اس کے علاوہ ان کے اشعار میں سلطنت عثمانیہ کے بانی عثمان غازی اوران کے بیٹے اورخان غازی کے دور کے جانے پہچانے شیوخ، میں سے ایک ولی بابا اور بالم سلطان کا ذکر بھی ملتا ہے۔ مورخ عاشق پاشازادہ نے بھی یونس ایمرے کو اور خان غازی کے دور کا ایک صوفی بتایا ہے۔ ان معلومات کی روشنی میں ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ یونس ایمرے نے تیرھویں صدی کے وسط سے چودھویں کی چوتھی دہائی تک زندگی بسر کی تھی۔ ان کے بارے میں اردو میں بہت کم تفصیلات دستیاب ہوتی ہیں۔ ترکی ٹیلیویژن کی سوانحی تاریخی سیریل ’’یونس ایمرے، عشق کا سفر‘‘ کے نام سے پیش کی گئی۔ جس کی کہانی یونس ایمرے کی زندگی کے گرد گھومتی ہے۔ اس سلسلے کو ترکی کے معروف منظر نویس، ڈراما نگار اور ہدایت کار محمد بوز داغ نے تحریر کیا جبکہ مصطفی تاتشی ان کے معاون رہے ہیں۔ ہدایات ایمرے قونوق اور کامل آئین نے دی۔ اس کی موسیقی زینب آلسیا، الپے اور زیزاوزکان نے ترتیب دی۔ ڈرامے میں یونس ایمرے کا کردار ترکی نژاد اداکار گوخان ایطالے نے ادا کیا۔ اس ڈرامے کی نشریات کا آغاز ترکی کے سرکاری چینل ٹی آرٹی 1 پر18جون 2015ء کو ہوا تھا۔

بک کارنرجہلم نے ’’یونس ایمرے، محبت کاسفر‘‘ کے ہی نام سے کتاب شائع کرکے اردو میں یونس ایمرے کے بارے میں معلومات میں کمی کو دور کیا ہے۔ کتاب ادارے کی روایات کے مطابق انتہائی دیدہ زیب اورخوبصورت انداز میں شائع کی گئی ہے۔ اوریہ کلیم الہٰی امجد کی بے مثال تالیف ہے۔ خوبصورت سرورق سے آراستہ، یونس ایمرے، ان کے گاؤں، مزاراوران کی یاد میں ترکی حکومت کی جانب سے بیس لیرا نوٹ کی تصاویرسے مزین آرٹ پیپرکے سولہ صفحات سمیت بڑے سائز کے چارسو صفحات کی کتاب کی قیمت بارہ سوروپے بھی انتہائی مناسب ہے۔ سرورق پریونس ایمرے کامصرعہ ’’نفرت میری واحد دشمن‘‘ درج ہے۔ جس سے اس صوفی شاعرکی فکر کا محور عیاں ہوتا ہے۔

نامور جرمن محقق، مورخ، مستشرق اور ماہراقبالیات این میری شمل نے یونس ایمرے کے بارے میں تحریر کیاہے۔

’’جس کسی نے بھی انقرہ کے اوپیرا ہاؤس میں احمد عدنان سیگون کا پیش کردہ یونس ایمرے کا کلام جوکہ جدید دھنوں، کمپوزیشن اور بڑی مہارت کے ساتھ، اسی انداز میں گایا گیا، جس طرح درویشوں کے تکیہ میں گایا جاتا تھا، سنا ہے، وہ مشکل سے ہی اس کمپوزیشن کی جادوئی خوبیوں کو فراموش کرسکے گا۔ سننے والوں کو خاص طور پر وہ نظم یادہوگی جس کا ٹیپ کامصرع یوں تھا۔ ’’تری جستجو ہے، تری آرزو ہے۔‘‘ یہ نظر یونس ایمرے کی مشہور نظموں میں سے ایک ہے۔ یونس ایمرے نے محبت کو ایک متحرک جذبہ قراردیاہے جو پُرجوش وصال کا باعث بنتا ہے۔ یونس ایمرے نے اس نظم میں محبت کے جذبے کی تصویر کشی ایک ایسی تمثیل کی مدد سے کی ہے جو کئی مرتبہ اس کے بزرگ معاصر، مولانا جلال الدین رومی نے بھی بیان کی ہے۔ یہ تصور اسلامی صوفیانہ شاعری میں افسانوی حیثیت رکھتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ قرونِ وسطیٰ کے اس نغزگو شاعر نے ترکی زبان میں ایسے بلندوبالا خیالات کا اظہار کیا، جو اس کے دورمیں کسی کا بھی ادبی میڈیم نہیں تھا۔ اس سے قبل کچھ ہی شعرا نے اس نوعیت کے ادبی تجربات کیے تھے جنھوں نے ترکی زبان کو ذریعہ اظہار بنایا، تاہم یونس ایمرے کو ان سب میں انفرادیت حاصل ہے۔ یہ دیکھ کرہمیشہ حیرت ہوتی ہے کہ یونس نے ایمان و یقین کے اسرار ایک ایسے سادہ، سہل اور روزمرہ لہجے میں بیان کیے جسے جدید ترک بھی آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔ اس کی کچھ نظمیں ایسی بھی ہیں جن سے آج بھی بچے اتنا ہی لطف اندوز ہوتے ہیں، جتنا یونس کے قرونِ وسطیٰ کے سامعین۔ صوفیانہ اسرار کو ایک طرف بھی رکھ دیں، یونس کے بہت سے اشعار ابھی بھی لوگوں کے سینوں میں محفوظ ہیں یا کہاوتوں کی صورت اختیار کرچکے ہیں۔‘‘

ڈاکٹر طارق ہاشمی نے ’’ترک شعری ثقافت کا تخلیقی استعارہ، یونس ایمرے‘‘ میں لکھاہے۔

’’ترکی قدیم جنگ جُوقبائل میں اوغرقبیلے کی ایک شاخ ایمرہے۔ یہ واحد قبیلہ ہے جس میں حکمران پیدا ہوئے، لیکن اس کا ذکر تاریخ کی کتب میں بہت بعدمیں ملتاہے۔ ایمرقبیلے ہی کے ایک سپوت یونس ایمرے ہیں جنھوں نے تخت وتاج والی حکومت تونہ کی لیکن اپنی لازوال شاعری تخلیق کرکے نہ صرف دلوں پہ حکومت کی بلکہ تاریخ میں اپنانام بھی زندہ جاوید کر دیا۔ یونس ایمرے کی پیدائش صاری کوئے نامی گاؤں میں ہوئی۔ اس زمانے میں قونیہ پرسلجوق ترکوں کی حکومت تھی۔ یونس ایمرے نے چالیس سال اپنے استاد شیخ تابتک ایمرے کی زیرنگرانی قرآن وحدیث کے علم میں کمال حاصل کیا اور طریقت کے اسرارورموز سے شناسا ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے اپنی شاعری میں اس الہامی محبت کے عظیم تر پیغام کو ایک تخلیقی اسلوب اوردل کش پیرائے میں بیان کیا۔ ترکی ادب پریونس ایمرے کے اثرات ان کے زمانے سے لے کر دورِ حاضرتک دیکھے جاسکتے ہیں۔ احمد یسوی اورسلطان ولد کے بعد یونس ایمرے پہلے شاعرتھے جنھوں نے فارسی یا عربی میں شاعری کرنے کی بجائے اپنے زمانے اورخطے میں بولی جانے والی ترکی زبان میں شاعری کی۔ انھوں نے قدیم ’اناطولیائی ترک‘ کے نام سے بولی کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا جوکہ ترکی زبان کے تاریخی دورکے پہلے مرحلے کی تشکیل ہے۔ اسی لیے یونس ایمرے کونہ صرف اناطولیہ میں ترک صوفی ادب کابانی سمجھاجاتا ہے، بل کہ ان کے عوامی کلام نے اناطولیہ سے بلقان تک پھیلے ہوئے وسیع خطے میں مسلم ترک ثقافت کے مسلسل آثارپربہت اثر ڈالا ہے۔ یونس ایمرے صدیاں گزرنے کے باوجود نہ صرف ترک ادب میں زندہ ہیں بلکہ ان کی تخلیقی شخصیت اور ادبی اہمیت کا اعتراف دنیا بھر میں کیا گیا ہے۔ ان کی سات سوپچاسویں سالگرہ کے موقع پر اقوام متحدہ نے 1991ء کو یونس ایمرے کے سال کے طور پر منایا۔ ترکی میں ہر سال مئی کے شروع میں ’یونس ایمرے ہفتہ فن وثقافت‘ منایا جاتا ہے اوراس دوران ہونے والی رنگارنگ تقریبات میں ان کے فکروفن کو سوغاتِ تحسین پیش کی جاتی ہے۔ کلیم الہٰی امجدنے یونس ایمرے کے بارے میں تحقیقی سرمائے کی جمع آوری میں جاں فشانی اور ذہانت سے کام لیا ہے۔ یہ کتاب ان کی سابق تحقیقی کاوشوں کی طرح ایک بھرپور مواد پر مبنی ہے۔ اس سلسلے میں کتب، اخبارات، جرائد سے لے کرانٹرنیٹ پرموجود مضامین اور دیگر تحقیقی دستاویزات بڑے سلیقے سے جائزہ لے کراس کی تسوید کا اہتمام کیاگیاہے۔ یونس ایمرے پر کلیم الہٰی امجد کی یہ کتاب عالمی ادب کے دل دادگان، اساتذہ، طلبا اور عام قارئین کے لیے استفادے کے متنوع پہلو رکھتی ہے۔ کتاب کے صفحات میں یونس ایمرے کے فکروفن کے بارے میں جتنا تحقیقی مواد شامل کیا گیا ہے، وہ قابلِ قدربھی ہے اورسنجیدہ قارئین کے لیے لائق توجہ بھی۔‘‘

کلیم الہٰی امجد’’پیش لفظ‘‘ میں لکھتے ہیں۔

’’2020ء کا سورج اپنے جلومیں کروناوائرس کی مہلک وباکولے کرطلوع ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے چاروں اور اس وبانے ڈیرے ڈال دیے۔ جگمگاتی اور شورمچاتی کائنات سناٹے کانقشہ پیش کرنے لگی۔ اسکول بند، دفتر بند، مارکیٹیں بند، ٹرا نسپورٹ بند۔ بس ایک سانس باقی رہ گئی تھی جس کا بند ہونا باقی تھا۔ زندگی کا پہیہ رک گیا۔ انسان، انسان سے خوف کھانے لگا۔ ایسے میں وقت گزارنے اور طبیعتوں کو بہلانے کے لیے کسی نے کتاب سے رشتہ جوڑاتوکسی نے فلموں اورڈراموں سے۔ وزیر اعظم عمران خان نے ایک اورترک ڈرامہ سیریل ’’یونس ایمرے: محبت کاسفر‘‘ کا ذکر کیا۔ عوام نے پہلی باریونس ایمرے کا نام سنا تھا اور اس کا تعلق بھی ان کے پسندیدہ موضوع یعنی محبت اور انسان دوستی سے تھا۔ پی ٹی وی کا انتظارکون کرتا۔ یوٹیوب پر اس سیریل کوتلاش اور دیکھنا شروع ہوگیا۔ ڈراما آگے بڑھنے کے ساتھ یونس ایمرے کی شخصیت سے بھی دلچسپی بڑھتی گئی۔ ایسے میں بک کارنر، جہلم کے روح رواں، برادرم امرشاہد نے خواہش ظاہرکی کہ وہ یونس ایمرے پر ایک کتاب شائع کرنے کاارادہ رکھتے ہیں۔ یونس ایمرے کی متاثرکن شخصیت سے محبت اورعقیدت تو پہلے ہی قائم ہوچکی تھی، اب اس محبت کے عملی اظہار کا موقع بھی میسر آگیا۔ یونس ایمرے کی شخصیت سے عقیدت مندی، ان کے کلام کے اثر اور امرشاہد کی خواہش کے احترام میں بسم اللہ پڑھی اورکام کاڈول ڈال دیا۔ چندماہ کاقلیل وقت اوراپنی کم مائیگی کا بار بار احساس میرے ارادو ں میںحائل ہوتارہا، لیکن ہمت نہ ہاری۔ حیرت اس امرپرہے کہ ترک جس شخصیت کو رومی سے بڑھ کر چاہتے ہیں، اس شخصیت پراردومیں فقط دوکتابیں۔ ایک ’’یونس ایمریہ، ترکی کا عظیم شاعر‘‘ 1974ء میں آرسی ڈی نے شائع کی تھی۔ دوسری ’’یونس ایمرے، ترکی کاعظیم عوامی شاعرکی سوانح حیات، فکروفن اور منتخب کلام‘‘ اسے ڈاکٹر نثار احمد اسرارنے مرتب کیا، جو انقرہ میں پاکستانی سفارت خانے میں چھبیس برس افسر تعلقات عامہ رہے۔ یہ کتاب 1991ء میں اکادمی ادبیات نے شائع کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انگریزی میں یونس ایمرے کی شخصیت پرقابل قدر کام ہوا ہے اوران کا کلام بھی دستیاب ہے۔ ترک شاعری کی روایات میں یونس ایمرے کانام سرفہرست ہے۔ ان کا کلا م گہری فکر، معنوی جوہر اور فنی خوبیوںسے مملو ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ سات صدیاں گزرنے کے باوجودبھی ان کے گیت اور نظمیں ترک عوام کی زبانوں پرآج بھی جاری وساری ہیں گویا یونس ایمرے ترکوں کے ذہنوں ہی میں نہیں زبانوں پربھی زندہ ہے۔ آفاقی ادب زمان و مکان کی حدودوقیود سے ماورا ہوتا ہے۔ ہومر، ملٹن، شیکسپیئر، سعدی، حافظ، رومی، خسرو، غالب، میر اور اقبال وہ شاعر ہیں جن کی تخلیقی معنو یت وقت کی میزان پر پورا اترتی ہے۔ یونس ایمرے کا نام بھی اسی فہرست میں شامل ہے کہ اس کے موضوعات آفاقی ہی نہیں بلکہ جس طرح انھوں نے ان موضوعات کو فن کے سانچے میں ڈھالاہے، وہ بھی آفاقی شاعروں کاہی طرہ امتیاز ہے۔ زیر نظر کتاب اردو میں یونس ایمرے کی شخصیت اور فکروفلسفہ کو متعارف کرانے کی اولین کوشش تو نہیں، البتہ یونس ایمرے کی شخصیت، شاعری اور کارناموں کومربوط و مفصل انداز میں پیش کرنے کی اولین کوشش ضرور کہی جاسکتی ہے۔ کتاب کوتین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ حصہ اول، یونس ایمرے احوال و آثار۔ دوم، ایمرے شناسی: متفرق مضامین۔ سوم، انتخابِ کلام (انگریزی و اردو تراجم) حصہ اول کے مباحث میں عہدِ یونس پر ایک طائرانہ نظر، یونس ایمرے کاسوانحی خاکہ، یونس ایمرے کا شعری اثاثہ، یونس ایمرے فکر و فن اور یونس ایمرے کی شاعری، عالمی تناظر میں۔ شامل ہیں۔ حصہ دوم متفرق مضامین پرمشتمل ہے۔ یہ مضامین انگریزی تحریروں کے تراجم پر مشتمل ہیں۔ جو ترک سیاست دان اور ادیب نامک کمال زیبک، ترک ادیب اور سلسلہ مولویہ کے درویش بزرگ کبیرحلے مینسکی اور این میری شمل کے تحریر کردہ ہیں۔ حصہ سوم یونس ایمرے کے منتخب کلام کے انگریزی اور اردو تراجم پر مشتمل ہے۔ اس حصے میں لگ بھگ سو نظموں کے تراجم شامل ہیں۔ اردو تراجم ڈاکٹر نثار احمد اسرار اور احسن علی خان کی کوشش و کاوش کا نتیجہ ہیں۔ اگر میں یونس ایمرے کا پیغام قارئین تک پہنچانے میں کامیاب ہوگیا تو سمجھوں گا کہ میری محنت اکارت نہیں گئی۔ بشرطِ زندگی یونس ایمرے کے فکروفلسفہ پر مستقبل میں ایک مفصل اور جامع کتاب پیش کرنے کی کوشش کروں گا۔‘‘

یونس ایمرے کے فکروفلسفہ کا نچوڑ ان کے ان اشعار میں پنہاں ہے۔

نفرت میری واحد دشمن۔ ۔ ساری دنیا میرا نشیمن
میں آیا نہیں بہرجنگ وعداوت۔ ۔ مرا مقصدِ زندگی ہے محبت
دارِ فانی میں اچھی گراروحیات۔ ۔ یاں ہمیشہ کسی کوبھی رہنانہیں
اگردل دکھایاہے تونے کسی کا۔ ۔ توبے کارہیں تیرے صوم وصلوٰۃ
آؤ باہم کریں دائمی دوستی۔ ۔ تاکہ آسان ہوجائے یہ زندگی
آؤ عاشق بنیں اورمعشوق بھی۔ ۔ کیسی رنجش، کسی کی نہیں یہ زمیں

’’یونس ایمرے، محبت کاسفر‘‘ کاباب اول ’عہدِ یونس پرایک طائرانہ نظر‘ ہے۔ جس کے ذیلی عنوانات کے تحت ’’عہدِ یونس کا سیاسی وسماجی پس منظر‘‘، ’’عہدِ یونس کا لسانی و ادبی پس منظر‘‘ اور ’’ عہدِ یونس کے نامور صوفیائے کرام‘‘ ان کے پورے عہد کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ باب اول کے مطابق ’’تیرھویں صدی کے ترکی کے مشہور شعرا کی بات کی جائے تو پہلا نام جو ہمارے ذہنوں میں آتاہے، وہ مولانا رومؒ کا ہے۔ اس میں کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔ مولانا روم بلاشبہ ایک عظیم شاعر تھے۔ ان کی معروف شعری تخلیق ’’مثنوی معنوی‘‘ کو فارسی کاقرآن کہا جاتاہے۔ ان کاشمار ان شعرا میں ہوتاہے جنھوں نے اپنے عہدمیں چار سو پھیلی ہوئی بے عملی، مصلحت اندیشی، کج روی، مادہ پرستی اور ظاہر پرستی کے ایوانوں میں اپنی ٹھوس اور اسلامی فکر کے ذریعے لرزہ طاری کردیا اور اپنے دور کے انسانوں بالخصوص مسلمانوں میں فکری اور عملی انقلاب برپا کیا۔ مولانا رومؒ ایک عہدساز اور عصر آفرین شخصیت ہیں۔ تاہم اسی عہدمیں ترکی میں ایک اور شخصیت بھی موجود تھی جنھیں ترک روایات میں مولا نارومؒ سے بھی بڑا شاعر مانا جاتا ہے۔ وہ ہیں، عشق، محبت اور انسان دوستی کے علم بردار عظیم ترک شاعر یونس ایمرے۔ وہ ترکی کے چند گنے چنے معروف شعرامیں سے ایک ہیں اور ترک لوک شاعری کے بانی اور سب سے عظیم شاعر تسلیم کیے جاتے ہیں۔ انھیں ترکی دان حلقوں اور غیر ممالک میں بھی خاصی مقبولیت حاصل ہے۔ یونس ایمرے اور ان کا شعری اثاثہ سات سوسال سے بھی زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود عوام کے ذہن و دل میں جاگزیں اورزبان پر جاری ہے۔ ترکی میں شاید ہی کوئی ایسا شخص ملے جو یونس ایمرے سے جذباتی وابستگی نہ رکھتا ہو یا اسے پسندیدگی کی نظرنہ دیکھتا ہو۔ یونس ایمرے کاجہاں بھی نام لیا جاتا ہے، وہاں لوگوں کے چہرے کھِل اٹھتے ہیں اوران کی دل دوستی و محبت کے جذبات سے بھرجاتے ہیں۔‘‘

سماجی اعتبارسے دیکھاجائے تو یونس ایمرے کا زمانہ بڑا ابتلا اور آزمائشوں کا زمانہ تھا۔ سلجوقی سلطنت روز بروز زوال کا شکار ہو رہی تھی۔ اگرچہ اس زمانے میں سیاسی کشمکش تو عروج پر تھی، لیکن اس کے باوجودیہ خطہ تجارتی اور فنونِ لطیفہ کی سرگرمیوں کا محور بنا ہوا تھا۔ اس وقت مذہبی اختلافات عروج پرتھے۔ لوگ آج کی طرح اپنے عقائد دوسروں پر مسلط کرنے کے لیے قتل وخون سے دریغ نہیں کرتے تھے۔ ان دگر گوں حالات میں اہلِ تصوف نے قدم آگے بڑھایا اور عشق و محبت کا پیغام عام کیا۔ ان بزرگانِ دین کی کوششوں سے اس زمانے میں عوام کی معاشی زندگی پر بھی تصوف کا رنگ چھا گیا۔ اہل ِ حرفہ کی انجمنیں درویشوں کے حلقے میں قائم ہوگئیں، جنھیں اخی کہتے تھے۔ مولویہ سلسلہ اوراخی برادران کے علاوہ اس دورمیں تصوف کا تیسرا سلسلہ بکتاشی تھا۔ بکتاشی سلسلہ تصوف اسلامی روحانیات یعنی تصوف کے قابل ذکر سلسلوں میں سے ہے۔ ترک ثقافت میں اس کی اہمیت کے علاوہ یہ سنی اور شیعہ روایات کے فرق سے بالاتر ہونے کی بھی ایک مثال ہے، بکتاشی بہت سے معاملات میں ترقی پسندتھے۔ وہ عورتوں کی مکمل مساوات، سائنسی تعلیم، دیگر مذاہب کے احترام، مکمل شہری شرکت اور جمہو ریت کی پرزورحمایت کرتے تھے اور ریاست کا جز ہونے کے باوجود بکتاشی ہمیشہ ریاست کے جبرواستبداد کے مخالف رہے۔

عہدِیونس کا لسانی و ادبی پس منظر دیکھیں تو ابتدائی ترکی ادب عموماً لوگ گیتوں پر مشتمل تھا۔ اس عہد میں جو شعری ہیئتیں رائج تھیں، ان کا تعلق تحریر سے زیادہ تقریرسے تھا، یعنی ادب سینہ بہ سینہ منتقل ہو رہا تھا۔ مرکزی ایشیائی ترک ہر لحاظ سے شعری حسیت سے مالال تھے۔ ترکی ادب کی تاریخ جو شاید شاعری ہی کی تاریخ ہے، صحیح معنوں میں نویں صدی عیسوی سے شروع ہوتی ہے۔ اس وقت اس علاقے پر عربی و فار سی کے اثرات نمایاں تھے۔ گیارھویں صدی میں ترکوں نے اسلام قبول کرلیا اور اس وقت جو ثقافتی صورتیں تھیں، انھیں اپنانے کی کوشش کی گئی۔ ادب و فلسفہ پر بھی عربی و فارسی تہذیبی اثرات مرتب ہوئے۔ کئی قرآنی الفاظ و تراکیب اور تلمیحات ترکی زبان کا جزو بنیں تاہم باوجود ان خارجی اثرات کے جو مختلف ترکی زبان پرپڑتے رہے، وہ اپنی ساخت اور خصوصیات میں دوسری زبانوں سے بالکل الگ رہی۔ اس دور میں زندگی کے دوسرے شعبوں کی طرح علم وادب پربھی مذہب کا اثرغالب تھا۔ صلیبی جنگوں کی وجہ سے اس میں اور زیادہ شدت آگئی۔ تیرھویں صدی کامایہ نازادب تصوف کے رنگ میں ڈوبا ہوا ہے۔ صوفیانہ شاعری پر عموماً وحدت الوجود فلسفہ کاغلبہ رہا۔ مولانا رومیؒ ایک عہد ساز اور عصر آفرین شخصیت کے مالک تھے۔ حاجی بکتاش اور یونس ایمرے کے علاوہ احمد فقیہ اورسیدحمزہ سمیت اور بھی کئی صوفی شاعرتھے جنھوں نے ترکی زبان کو ذریعہ اظہار بنایا لیکن یونس ایمرے کاہم سراس دورمیں کوئی نہ ہوسکا۔ شعروحکمت کے جس چمن کی آبیاری احمد یسوی اور حاجی بکتاش نے کی، یونس ایمرے نے اس میں مزید گلکاریاں کیں۔

عہدِ یونس کے نامور صوفیائے کرام میں شیخ شہاب الدین سہروردیؒ، شیخ محی الدین ابن عربی ؒ، خواجہ شمس تبریزؒ، مولانا جلال الدین رومیؒ، صدر الدین قونویؒ، حاجی بکتاشؒ، تابتک ایمرے ؒ، نجم الدین داعیؒ، آخی ایورانؒ، شیخ ادیبالیؒ اور گیکلی باباؒ کا بڑا نام اور مقام ہے۔ کتاب میں ان صوفیا کا مختصر احوال دے کراس کی وقعت میں اضافہ کیا گیا ہے۔ جبکہ کتاب کے حواشی میں بھی بھرپور معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

کتاب کا دوسرا باب

’’یونس ایمرے: سوانحی خاکہ ہے۔ جس کے مطابق۔ ’’یونس ایمرے کون تھا؟ یہ شخص کون تھا جو اپنے آپ کو کبھی عاشق اور کبھی درویش کہتا تھا؟ کیاوہ انسانِ کامل تھا؟ وہ کس قسم کا آدمی تھا؟ اس نے اپنی زندگی کس طرح بسر کی؟ کہاں پیدا ہوا؟ کہاں کارہنے والا تھا؟ کہاں وفات پائی اور کہاں دفن ہوا؟ کہاں کہاں اورکس حدتک تعلیم حاصل کی؟ اس کے آباواجداد کا تعلق کہاں سے تھا؟ اس کے پیشے، حسب ونسب اور دیگر بہت سی تفصیلات کے بارے میں معلومات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ جو معلومات دستیاب ہیں ان میں بھی خاصا تضاد پایا جاتا ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگاکہ یونس ایمرے سے متعلق تاریخی شہادتیں ناپید ہیں، تاہم جو کچھ دستیاب ہے، اس کی روشنی میں ہم یونس ایمرے کی زندگی کا سراغ لگانے کی کوشش کتاب میں کی گئی ہے۔‘‘

یونس ایمرے دنیائے تصوف میں آمدکے بارے میں کئی روایات مشہور ہیں۔ ایک روایت کے مطابق یونس ابھی نوعمر ہی تھے کہ اناطولیہ میں سخت قحط پڑگیا، یونس کواپنے سے زیادہ دوسروں کی فکرتھی۔ وہ ترکی کے معروف صوفی بزرگ حاجی بکتاش ولیؒ کی درگاہ رونہ ہوئے۔ خالی ہاتھ نہ جانے کے خیال سے انھوں نے راستے کے ایک باغ سے کچھ پھل اکٹھے کیے اور وہ پہنچ کرپیش کر دیئے۔ حاجی بکتاش، یونس ایمرے کی عقیدت اور نیک کردار سے بہت متاثر ہوئے اور ان سے آمد کی وجہ دریافت کی۔ یونس نے اپنے اوراہل خانہ کے لیے گندم کی درخواست کی۔ حاجی بکتاش نے سوال کیا تمھیں گندم کے بجائے برکت دے دی جاتے توکیسارہے؟ لیکن یونس گندم پراصرارکرتے رہے، واپسی میں خیال آیا کہ شیخ کی پیش کش رد کرکے شاید وہ بہت بڑی غلطی کا مرتکب ہوا ہے۔ گندم توچند میں ختم ہوجائے گی لیکن برکت شاید کوئی ایسی چیز ہو جو عمر بھر کام دے۔ یہ سوچ کر واپس ہوئے وارشیخ کی درگاہ پرحاضر ہوکر کہا حضرت مجھے گندم کے بجائے برکت عنایت فرمائیے۔ حاجی بکتاش نے کہا۔ یونس !تم نے آنے میں دیرکردی۔ ہم نے اس کی کنجی تابتک ایمرے کے سپرد کردی ہے۔ جاؤ اپنی مراد ان سے بیان کرو۔ یونس ایمرے نے تابتک ایمرے کی شاگردی اختیارکرنے اورحصول علم کے لیے قاضی کے منصب سے استعفیٰ دے دیا۔ تابتک ایمرے سے آپ نے قرآن وحدیث کے علوم اور روحانیت کے اسرار و رموز سیکھنے کے لیے چالیس سال ان کی خدمت میں گزارے۔

باب سوم ’’یونس ایمرے کاشعری اثاثہ‘‘ ہے۔ ’’عام خیال یہی ہے کہ یونس ایمرے نے تحریری طور پر کوئی اثاثہ نہیں چھوڑا، ان کے گیت، نظمیں اور رباعیات سب سینہ بہ سینہ منتقل ہوتی رہیں، تاہم حالیہ تحقیق سے یہ بات غلط ثابت ہوچکی ہے، جرمن مستشرق ہلمٹ رٹرنے ترکی ایک کتب خانے سے یونس ایمرے کے دیوان کا ایک قدیم نسخہ دریافت کیا جو کہ عربی رسم الخط میں تحریر شدہ ہے۔ اس کے علاوہ یونس ایمرے کی شاعری کا سب سے پرانا ریکارڈ پندرھویں صدی کے مسودوں کی صورت میں ملاہے۔ ترک محقق عبدالباقی گل پنیارلی نے نہایت عرق ریزی سے یونس ایمرے کا کلام مرتب کیا، جو کہ استبول سے1965ء میں شائع ہوا۔

دیگر صوفی شعراکی طرح یونس ایمرے کی شاعری میں بھی تصوف کے تقریباً سبھی اہم موضوعات کوبرتاگیاہے، تاہم وہ موضوع جو یونس کی تمام شاعری پرحاوی ہے، انسان دوستی ہے۔ ان کی شاعری کادوسرا موضوع عشق ومحبت کی کیفیات کابیان ہے۔ فکر آخرت، حقیقت علم، فلسفہ وحدت الوجود اور حقیقتِ روح وغیرہ جیسے موضوعات بھی ان کی شاعری میں جابجا بکھرے پڑے ہیں۔ یونس ایمرے فلسفہ وحدت الوجود کے قائل ہیں، اس لیے انھیں دنیاکی ہرشے میں خدا کا جلوہ نظر آتا ہے۔ دنیا کی ہر چیز انھیں خدا کی عظمت وقدرت کا احساس دلاتی ہے اور اس لحاظ سے وہ گویا قرآن کی تعلیمات کی پیروی کرتے ہیں۔ اسی بنا پر وہ منصورحلاج کے بھی عاشق ہیں اورکبھی کبھی خود بھی منصور ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔

ازل سے تاابد، منصورہوں، منصور ہوں میں
اسی باعث یہاں رکھتاہوں میں، وجود اب بھی
جلادو پھر جلادو اوراُڑادو، خاک کو میری
بناہوں میں خدا، دیکھومیں نعرہ ء انالحق لگاتاہوںمیرے بھائی
اور
ذرادیکھنا تماشا، منصورحلاج کی زبان سے کہلوایا ’’انالحق ‘‘
اوراس کی گردن میں، پھانسی کاپھندا، گزارنے والامیں ہوں
ان کے اشعارمیں عشق کی اہمیت کاذکرجابجاملتاہے۔
عشق مقام عالی ہے، عشق قدیم وازلی ہے
جوکرے ذکرِ عشق، وہ زبان ترجمان ِ الہٰی ہے
الہٰی ایسا عشق دے مجھ کو
کہ میں نہ جانوں کہ میں کہاں ہوں
میں اپنے آپ کو ایسا بھولوں
کہ ڈھونڈنے پربھی خود کونہ پائوں

یونس ایمرے کی شخصیت، فکروفن اورفلسفہ کو سمجھنے کے لیے ’’یونس ایمرے، محبت کاسفر‘‘ اردومیں ایک بے مثال تالیف ہے۔ اس عمدہ کتاب کے مولف کلیم الہٰی امجد بھرپور داد کے حقدارہیں۔ کتاب کو بک کارنر جہلم اتنی ہی محبت اور خوبصورتی سے شائع کیاہے۔ اسے ہرمطالعے کے شائق کی لائبریری میں ہونا چاہیے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20