ایک دیسی لبرل بھائی کے کارل مارکس پر چند خیالات کا جائزہ: ابوبکر

0

آج صبح ناگہاں ایک مضمون بعنوان ’چند سوالات کا جواب‘ نظر سے گزرا جس میں ذیشان ہاشم نے سرمایہ دارانہ ریاست پسند نقطہ نظر کی نمائندگی کرتے ہوئے کارل مارکس کے بارے میں چند خیالات کا اظہار کیا۔ آن لائن اخبارات کے بعد لبرل اور مارکسسٹ احباب کے مباحث بھی نئی شکل اختیار کر گئے ہیں۔ دونوں طرف سے گرم سرد موقف گاہے بگاہے کہیں نہ کہیں درج ہوتا رہتا ہے۔ تاہم اس سے موضوع کے مرکزی خیالات کے مفاہیم کے صدق و کذب کے پیمانے نہیں بدلے۔ میں سکہ بند اعتبار سے کسی دھڑے کا رکن نہیں ہوں تاہم تاریخ فکر کا ایک طالب علم ہونے کے ناطے اپنی رائے اس حیثیت سے ضرور دے سکتا ہوں کہ تصورات کے اطلاق اور اصطلاحات کے برتاؤ میں روا رکھی گئی علمی احتیاط کا جائزہ ممکن ہو سکے۔ جس مضمون کا ذکر ہو رہا ہے ہر چند وہ طویل اور کثیر النکات ہے تاہم ایک پیراگراف جو کسی حد تک براہ راست کارل مارکس کے متعلق ہے اس کا تجزیہ پیش ہے۔ مضمون کے محاسن میں یہ امر بھی شامل ہے کہ اس میں مارکس کا ایک گیارہ لفظی قول بھی پیش کیا گیا ہے حالانکہ آن لائن اردو صحافت کے بیشتر لبرل سیاسی مفکرین اپنا ماضی مارکس سے جوڑنے اور توڑنے کے باوجود مارکس کے کلام سے سند لانا ضروری نہیں سمجھتے۔

مضمون سے اقتباس پیش ہے۔

”پہلے تو اس بات کا اظہار لازمی ہے کہ میں کمیونسٹ مکتب فکر سے فری مارکیٹ کیپیٹلزم کی طرف آیا ہوں۔ اس لئے ان تمام مسائل سے واقف ہوں جو ایک سوشلسٹ کو انسانی ہمدردی کے تحت پریشان کرتے ہیں۔
مارکس بھی انفرادیت پسند تھا اور لبرل کیپیٹلزم بھی انفرادیت پسند ہے۔ مارکس نے اول ریاست کے جبر یعنی ڈکٹیٹر ازم کو اس لئے ناگزیر قرار دیا کہ اس کے نزدیک معاشی انصاف اس کے بغیر ناممکن ہے۔ مگر اس کی خواہش تھی کہ ریاستی آمریت کے بعد ریاستی جبر جب ٹوٹے تب سوسائٹی ازم (میں سوشلزم اصطلاح اس لئے استعمال نہیں کر رہا کہ عہد حاضر میں سوشلزم دراصل اسٹیٹ ازم کے معانی میں لیا جاتا ہے ) قائم ہو جس میں رضاکارانہ تعاون و تبادلہ کی ثقافت پائی جائے اور انسان شخصی آزادی کی سربلندی میں جئے۔ دلچسپ بات یہ کہ مارکس بھی انسان کی شخصی آزادی کا سب سے بڑا دشمن ریاست کو قرار دیتا ہے اور کلاسیکل لبرل ازم بھی، مارکس کا بھی یہی کہنا ہے کہ ریاست بالادست طبقات کے مفادات کی محافظ بن جاتی ہے، دلچسپ بات یہ کہ خود لبرل کیپیٹلزم بھی ریاست کو اپنی عمومی حالت میں سٹیٹس کو کا ترجمان سمجھتا ہے (ہاں مارکس طرز کی جامد کلاس سسٹم جیسا تصور لبرل ازم میں نہیں )۔ مارکس چاہتا ہے کہ ریاست ختم ہو جائے اور صرف فرد اور معاشرہ باقی رہے مگر لبرل ازم ریاست کو ایک ناگزیر برائی قرار دے کر اسے محدود نوعیت کے انتظامی معاملات سونپ کر فرد و سوسائٹی کو آزاد اور رضاکارانہ بنیادوں پر قائم رکھنا چاہتا ہے۔ فرق یہ ہے کہ مارکس دی کمیونسٹ مینی فیسٹو میں دس مراحل کے انقلاب کے بعد اپنی منزل کے خواب دیکھتا ہے، جب کہ لبرل ازم اسی دنیا میں ایسے انتظامی بندوبست کا قائل ہے جس سے یہ منزل آسان ہو جائے۔ منزل کیسی ہو اس کے بارے میں مارکس خود لکھتا ہے : کہ جب اس کی مفروضہ جنت قائم ہو گی تو اس میں فرد ویسی زندگی جئے گا جیسی وہ چاہتا ہے۔ الفاظ ہیں :
As individuals express their life, so they are. What they are.
The German Ideology. Lawrence & Wishart, 1965, London.
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جائزہ :
جیسا کہ عرض کیا گیا یہ دیسی لبرل بھائی بھی کمیونسٹ مکتب فکر سے مارکیٹ کیپٹلزم کی طرف آئے ہیں۔ ہم ان کے انتخاب کے حق کا احترام کرتے ہیں لیکن ان سے یہ امید رکھنے میں بھی حق بجانب ہیں کہ جب وہ علمی و تاریخی موضوعات کا احاطہ کریں گے تو انتخاب کا یہ حق دلیل اور جواز کے فرض میں بدل جائے گا۔
فاضل مضمون نگار پہلا نکتہ پیش کرتے ہیں کہ مارکس بھی انفرادیت پسند تھا اور لبرل کیپٹلزم بھی انفرادیت پسند ہے۔ چونکہ یہ ان کے بنیادی مقدمات میں شامل ہے لہذا قریبی جائزہ لیتے ہیں۔
اولین تر بات یہ ہے کہ اصطلاحات واضح کر دی جائیں۔ انفرادیت پسندی مغربی فلسفیانہ روایت کا ایک جز ہونے کے ناطے طویل فکری تاریخ کی حامل ہے جس میں بھانت بھانت کے گروہوں نے حصہ ڈالا۔ کئی گروہ ایسے بھی ہیں جو تمام انفرادیت پسند ہیں مگر اپنے بنیادی فلسفیانہ قضایہ جات میں باہم متصادم ہیں۔ لبرل انفرادیت اور وجودی انفرادیت میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ فوضویت یا نائلزم میں بھی فرد کا تصور بنیادی ہے اور صوفیانہ راہبانیت کی کئی تحریکوں میں بھی انفرادیت پسند رجحان موجود ہے۔ تاہم یہ سب اپنے بنیادی مقدمات کے حساب سے یکسر مختلف مکاتب ہیں۔ ان حالات میں دیانتداری کا تقاضا یہ ہے کہ آپ اس تنوع کو قاری کے سامنے واضح کریں اور پھر وضاحت کے ساتھ بتائیں کہ آپ اس اصطلاح کو کن معنوں میں استعمال کر رہے ہیں بجائے یہ کہ مبہم اصطلاحات سے نظریات کی من مانی تشریح کی جائے۔ کارل مارکس کی انفرادیت پسندی پر آرا کو اٹھا کر اسے لبرل کیپٹلزم کے مساوی قرار دینا ایک ایسا عمل ہے جس کی کوئی توجہیہ ممکن نہیں اور بھی اس حقیقیت کے باوجود کہ ‘لبرل ‘ اور ‘ کیپٹلزم ‘ دونوں دو مختلف مظاہر ہیں اور اپنے تاریخی عمل میں کئی تبدیلیوں سے گزرے ہیں اور کیا ان دونوں عوامل کو یوں گانٹھ مار کر ایک بنایا جا سکتا ہے جو اصطلاحی طور پر ٹھوس ہونے کی حیثیت سے مارکسیت کے مساوی کہا جا سکے ؟
مارکس نے متعدد جگہوں پر اور خصوصا جرمن آئیڈیالوجی میں مادی نظریہ تاریخ پیش کرتے ہوئے ‘فرد’ کے موضوع پر روشنی ڈالی ہے۔ مارکس ‘فرد’ کو تاریخی عمل کی بنیاد سمجھتا ہے تاہم اس سے مراد خلا یا خواب میں موجود فرد نہیں بلکہ وہ حقیقی فرد ہے جو دنیا میں پایا جاتا ہے اور اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے دستیاب ذرائع استعمال کرتے ہوئے اپنے جیسے دیگر افراد اور فطرت کے ایک ساتھ تنظیمی اور پیداواری رشتے میں آجاتا ہے۔ یہ پیداوار محض نقالی نہیں ہوتی بلکہ اس پیداوار کے ذریعے ہی انسانی فرد اپنا شعور پاتا ہے اور اپنی ‘انفرادیت’ تشکیل دیتا ہے۔ پیداواری رشتوں کا یہ مجموعہ ہی کل معاشرہ ہے اور معیشت اس کی بنیاد ہے۔ تاریخی عمل میں فرد اپنے سے پچھلی نسلوں سے ملے ذرائع اور سرمایہ استعمال کرتا ہے اور اس دوران پیداوار کی روایت اور طریقے بھی بدلتا جاتا ہے۔ انسان اپنا آپ خود بناتے ہیں تاہم وہ اسے خلا میں نہیں بلکہ موجودہ حالات میں بناتے ہیں۔ مارکس انفرادیت پسندی کو اس مفہوم میں استعمال کرتا ہے اور اسے تاریخی اور معروضی قرار دیتا ہے اور اس کے برعکس لبرل نیز مارکس کے ہم عصر لیفٹ ہیگلیائی مفکرین کے فلسفہ ء فرد کو ‘ذہنی ‘ قرار دیتا ہے۔ لبرل ازم میں جس فرد کے حقوق اور انفرادیت کا ذکر ہے وہ ایک مثالی فرد ہے یعنی کہ وہ صرف مثال کے طور پر استعمال کیا گیا ہے اور اسی طور پر اس فرد کے حقوق بھی جو مثالی طور پر فرض کیے گئے ہیں۔ لیکن ان حقوق کا اطلاق عالم خیال میں تصورات کے نظام استوار کر کے کیا گیا۔ کبھی اگر اس فرد کی حقیقت کی طرف اشارہ ہو تو یہ سامنے آئے گا کہ یہ فرد کسی نہ کسی معاشرے میں پایا جاتا ہے اور اسی وجہ سے چند مخصوص پیداواری رشتوں میں جڑا ہوا ہے۔ فرد کی حالت میں تب تک تبدیلی ممکن نہیں جب تک اس حقیقی صورت حال کو نہ بدلا جائے جس میں فرد پایا جاتا ہے۔ لبرل انفرادیت پسندی اس دور سے یادگار ہے جب جاگیرداری نظام کا مقابلہ کرتے سرمایہ دار طبقے نے اپنے لیے سیاسی حقوق کی جدوجہد شروع کی اور جمہوریت نیز انسانی حقوق وغیرہ کے تصورات دئیے۔ ان کے لیے یہ جدوجہد بہت واضح تھی کیونکہ اس سے ان کے حقیقی معاشی مفادات جڑے تھے اور معیشت کی ترقی اور بڑھاؤ سیاسی نظام میں بھی حسب ضرورت تبدیلی چاہتا تھا۔ اداروں کی علیحدگی کا تصور بھی اس دور سے یادگار ہے جب حکمران طبقات میں کئی گروہ شامل ہو گئے۔ تاہم اس سارے چکر میں فرد کہاں ہے ؟ اس سوال سے پہلے لبرل فکر پر یہ لازم ہے کہ وہ ‘فرد’ کی تعریف پیش کرے کیونکہ لبرل فکر کا ‘فرد’ حقیقی دنیا میں کہیں موجود نہیں۔ حقیقی دنیا میں موجود افراد کو حقوق محض اس بنیاد پر نہیں مل جاتے کہ وہ منطقی طور پر فرض کر کے آئینی توثیق سے گزارے جائیں۔
اس کے بعد ‘ریاست’ کی باری آتی ہے جہاں لبرل حضرات ‘ریاست’ کو لازمی برائی سمجھ کر ہی سہی ہر صورت قائم رکھنا چاہتے ہیں اور ان کے خیال میں اس کی نفی ممکن نہیں۔ قارئین یہاں دوبارہ احتیاط کی ضرورت ہے اور اس سوال کی بھی کہ آخر ریاست سے کیا مراد ہے ؟ عمرانی معاہدے کے نظریات سمیت ریاست کے اکثر لبرل ماڈلز تجرید پر قائم ہیں اور ان کی تعریف مثالی حالات میں بند رکھ کر ہی بیان کی جاتی ہے۔ اس بات کا ایک اور ثبوت یہ بھی ہے کہ لبرلز ‘ریاست’ کا لزوم یا لازمیت چاہتے ہیں جو بجائے خود مثالی کیفیت ہے۔ اس موجوع پر بھی تصورات کی مدد لی جاتی ہے بجائے کہ حقیقی دنیا میں دیکھا جائے کہ ریاست نام کا ادارہ اپنے تاریخی اظہار میں کن مدارج سے گزرا ہے اور اس کے افعال کیا کیا رہے ہیں؟ جب یوں دیکھا جائے تو سامنے آتا ہے کہ ریاست نے ہر دور میں طبقاتی ادارے کا کام کیا ہے اور حکمران طبقات کے مفادات کو قانونی و آئینی جواز بخشا ہے نیز امنِ عامہ قائم کرنے کی خاطر ہر بندے کو اس کے دائرے میں رکھنے کا انتظام پولیس اور فوج کے ذریعے پورا کیا جاتا ہے۔ لیکن ‘ماں جیسی ریاست ‘ سے یہ امید نہیں رکھی جاتی کہ وہ اپنے ‘مساوی شہریوں’ سے بارے میں کم از کم اتنی تو خبر رکھے کہ وہ جس دائرے میں پائے جاتے ہیں کیا وہاں مکمل سما بھی سکتے ہیں یا نہیں ؟ لبرلزم کا خیال یہاں یہ ہے کہ ریاست کو ہرگز بھی یہ خبر گیری نہیں رکھنی چائیے اور محض امن عامہ کا انتظام چلانا چائیے جبکہ حقیقی معاشرے میں ‘مساوی شہریوں ‘ کے درمیان عطا کیے گئے دائروں یعنی سرمایے اور طاقت کے حساب سے مقابلہ ہوتا ہے۔ لیکن اس دوران ہر ‘ فرد’ بہرحال خیالی طور مساوی اور یکساں حقوق کا حامل رہتا ہے ۔
ان حالات میں کلاسیکل لبرلزم ریاست کے عمل کا مخالف اس لیے ہے کہ ریاست اس کے کاروباری دھندوں میں دخل نہ دے اور مارکس ریاست کا دشمن اس لیے ہے کہ وہ سرمایہ دار طبقے کی دلالی کرتی ہے۔ پھر بھی بھائی کا اصرار ہے کہ دونوں ایک ہی بات کرہے ہیں۔ مارکس جب چاہتا ہے کہ ریاست ختم ہوجائے تو اس مفہوم واضح ہے کہ فرد آزاد ہو جائے اور فرد تب آزاد اور ریاست تب تک ختم نہیں ہو سکتی جب تک سماج میں باہم متصادم معاشی طبقات موجود ہیں۔ لیکن یہاں اب یہ بھی بتایا جائے کہ لبرلزم جب ریاست کو ناگزیز سمجھتا ہے تب فرد کی حتمی آزادی کا آدرش کہاں جاتا ہے؟
جو فکر محض تصورات کے بل پر کی جائے وہ کہیں نہ کہیں لازما تضادات کا شکا ہوتی ہے۔ چنانچہ لبرل اور خصوصا دیسی لبرل فکر جو اک عجیب ناسمجھی میں مثالیت پرستی کا شکار ہو گئے ہیں اگر اپنے خیالات کو منطقی انتہا تک بڑھاتے جائیں تو لازما تضاد سامنے آ جائے گا جیسا ابھی ریاست اور فرد کی آزادی کے آدرش کے معاملے میں پیش آیا۔
اب ایک آخری بات جس سے امید ہے کہ ساری بات کھل کر سامنے آ جائے گی۔ ایک مشکوک روایت کے مطابق ہیگل نے ایک بار کہا کہ مجھے میرا ایک شاگرد روزن کرانز سمجھا ہے اور دکھ یہ ہے وہ بھی غلط سمجھا ہے۔ چنانچہ اب جب آخرکار لبرل بھائیوں کی طرف مارکس کا ایک گیارہ لفظی اقتباس پیش کیا گیا ہے تو یہ بتاتے دکھ ہوتا ہے کہ وہ اقتباس غلط جگہ غلط اور بالکل الٹ مفہوم میں استعمال کیا گیا۔ ملاحظہ ہو۔
” فرق یہ ہے کہ مارکس دی کمیونسٹ مینی فیسٹو میں دس مراحل کے انقلاب کے بعد اپنی منزل کے خواب دیکھتا ہے، جب کہ لبرل ازم اسی دنیا میں ایسے انتظامی بندوبست کا قائل ہے جس سے یہ منزل آسان ہو جائے۔ منزل کیسی ہو اس کے بارے میں مارکس خود لکھتا ہے : کہ جب اس کی مفروضہ جنت قائم ہو گی تو اس میں فرد ویسی زندگی جئے گا جیسی وہ چاہتا ہے۔ الفاظ ہیں:
As individuals express their life, so they are. What they are.
The German Ideology. Lawrence & Wishart, 1965, Londonn.

ہر چند مارکس نے مقدور بھر خود کو تصوراتی نظریہ سازی سے دور رکھ کر حقیقی اور معروضی حالات کو اولیت دی تاہم فاضل مضمون نگار کے مطاق مارکس یہاں اپنی مفروضہ جنت کے بارے میں خواب دیکھتے ہوئے بتا ررہا ہے کہ جب وہ قائم ہو گی تو فرد کیسی زندگی جیے گا۔ ان کے خیال میں لبرلزم یہ کام اسی دنیا میں کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اب ملاحظہ ہو جرمن آئیڈیالوجی سے اس گیارہ لفظی اقتباس کا مکمل جملہ۔ میرا نہیں خیال کہ جو قاری بھی مضمون نگار کی اوپر پیش کردہ عبارت پڑھ چکا ہے اسے یہ سمجھانا پڑے کہ حضرت نے کیسی دیدہ دلیری نے غلط مقام پر الٹے مفہوم میں اسے پیش کر دیا ہے۔فاعتبرو یا اولی الابصار۔ پورا جملہ یوں ہے۔

As individuals express their life, so they are. What they are, therefore, coincides with their production, both with what they produce and with how they produce. The nature of individuals thus depends on the material conditions determining their production.
Karl Marx. German Ideology. Part I: Feuerbach. Opposition of the Materialist and Idealist Outlook

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: