علامہ شبلی نعمانی اور امام حمید الدین فراہی پر فتوائے تکفیر —- حسان عارف

0

عطیہ فیضی معروف دانشور تھیں۔ ممبئی کے ایک متمول خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ وہ پہلی ہندوستانی خاتون تھیں جنھوں نے انگلینڈ میں اعلیٰ تعلیم پائی تھی۔ علوم و فنون کی شیدائی تھیں۔ علامہ شبلی کی علمی وسعتوں اور علامہ اقبال کے شعرو ادب کی فدائی تھیں۔ اس دور کا ایک نامور یہودی آرٹسٹ سیموئل رہا مین عطیہ فیضی پر فریفتہ ہو گیا۔ اس نے عطیہ سے التجا کی کہ آپ مجھ سے شادی کر کے میری رفیقۂ حیات بن جایئے۔ یہ بات سن کر عطیہ چونک اُٹھیں۔ انھوں نے رہامین سے کہا: میں مسلمان ہوں، تم کافر ہو، میرا تمھارا کیا جوڑ؟ میں تو تم سے شادی کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔ رہامین نے تڑپ کر جواب دیا کہ میں آج اور ابھی یہودیت کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہتا ہوں اور نہایت خوش دلی سے اسی وقت اسلام قبول کرنے کے لیے تیار ہوں… رہامین کے مسلمان ہو جانے اور عطیہ فیضی سے شادی کر لینے کی خبر علامہ شبلی نعمانی نے سنی تو وہ بے حد خوش ہوئے۔ انھوں نے معاً یہ شعر کہا اور یہی شعر ان کا وثیقۂ شادمانی بن گیا۔

بتان ہند کافر کر لیا کرتے تھے مسلم کوعطیہ کی بدولت آج اک کافر مسلماں ہےعلامہ شبلی کے جذبۂ ایمانی کا تو یہ حال تھا کہ کسی کافر کے مسلمان ہو جانے پر پھولے نہ سماتے تھے لیکن انھیں کیا معلوم تھا کہ بعض علمائے ہند خود انہی کی تصانیف ’’الکلام‘‘ اور ’’علم الکلام‘‘ کو تحریف کی باڑھ پر رکھ کر انہی پر تیغ تکفیر چلا دیں گے اور اس کی لپیٹ میں قرآنی علوم کے ماہر اجل اور تقویٰ و پرہیزگاری کے نادر روزگار نمونہ و نمائندہ امام حمید الدین فراہی کو بھی لے لیں گے۔ ملال یہ ہے کہ علامہ شبلی اور حضرت فراہی کے خلاف 32 صفحات پر مشتمل کفر کے فتوے پر دستخط کرنے والے علماء میں مولانا اشرف علی تھانوی اور مولانا شبیر احمد عثمانی بھی شامل تھے، تاہم بعدازاں حضرت تھانوی اور دیگر فہیم علماء نے اپنا سقم فہم محسوس کر کے اس فتوے سے رجوع فرمانے کا اعلان کر دیا۔ ہوائیں آتی ہیں اور گزر جاتی ہیں۔ گو علامہ شبلی اور امام فراہی کے خلاف کفر کا یہ فتویٰ کار بے خیر سے زیادہ کچھ نہ تھا۔ یہ فتویٰ باد صرصر کے جھونکے کی طرح آیا اور وقت کی گردشوں میں نابود ہو گیا۔ لیکن اس فتوے کے رد میں علمائے حق نے جو گراں مایہ تحریریں سپرد قلم کیں ان سے نہ صرف علوم عظیمہ عیاں ہو کر سامنے آئے بلکہ کفر و ایمان کا فرق بھی پوری وضاحت سے عیاں ہو گیا۔ گڑے مردے اکھاڑنا اچھی بات نہیں مگر حقیقت سے واقفیت بھی ضروری ہے۔ علامہ شبلی کے خلاف جن عبارات و ملفوظات کو بنیاد بنا کر تکفیر کی جو تیغ بے دریغ چلائی گئی اس کا جائزہ ہم بعد میں لیں گے۔ سردست ہم استاذ العلماء امام حمید الدین فراہی کا ماجرا سناتے ہیں کہ بعض اصحاب غرض علماء نے انھیں کس خطا پر ہدف کفر بنایا فی الحقیقت ان کی خطا یہ تھی۔ اس خطا پر انھیں مارا کہ خطاوار نہ تھےبعض لوگ بڑی آسانی سے مسلمان کو کافر کہہ دیتے ہیں۔ کافر بڑا سخت لفظ ہے حالانکہ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ کسی مسلمان کو کافر کہنا، کسی کافر کو مسلمان کہنے سے زیادہ بڑا گناہ ہے۔ ہم نے آج کل یہ طریقہ اختیار کیا ہوا ہے کہ اپنا جو ایک مسلک قرار دے لیا ہے بس وہی اسلام ہے۔ جو اس کے خلاف ہو، وہ کافر ہے اور ایمان سے خارج ہے۔ کفر کیا چیز ہے؟ اور کافر کسے کہتے ہیں؟ اہل لغت نے کفر کے متعدد معنی لکھے ہیں مثلاً: چھپانا، اندھیرا چھانا، نا شکری کرنا، معاف کر دینا، گناہوں کا کفارہ ادا کرنا، توحید، نبوت یا شریعت کا انکار کرنا یا تینوں کا انکار کرنا۔ ان تمام معنی پر غور کیجیے تو پتہ چلے گا کہ ’’کفر‘‘ کے اندر چھپانے کا معنی قدر مشترک اور جوہری حیثیت کا حامل ہے۔ یہ بات صراحت سے جان لینی چاہیے، ’’کفر‘‘ کا اصل مطلب ہے ’’چھپانا‘‘۔ عرب حضرات اکثر اوقات کسانوں کو کافر کے لفظ سے مخاطب کرتے ہیں، اس لیے کہ کسان بیج کو زمین میں چھپا دیتے ہیں۔ شرعی لحاظ سے دین حنیف کی (بنیادوں) میں سے کسی بھی چیز کا انکار کفر ہے اور خاتم النّبیین حضرت محمدa کے لائے ہوئے دین کے علاوہ کسی بھی دوسرے مذہب کا پیروکار صریحاً کافر ہے۔ آنحضرتa کی رحلت کے بعد جن مسلمانوں نے ادائے زکاۃ سے انکار کیا تھا، خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیقb نے ان سے اسی طرح جنگ کی تھی جس طرح کافروں سے جہاد کیا جاتا ہے۔ کافر دراصل اسی کو کہتے ہیں جو دل اور (زبان) سے منکر حق ہو اور جو شخص زبان سے اللہ رب العزت کی ذات عالی کا انکار کرے وہ بھی کافر ہے کیونکہ اس کی زبان ہی اس کے دل کی ترجمان ہے۔ بیسویں صدی میں اسلامی دنیا نے جن بڑی علمی ہستیوں کو پیدا کیا، ان میں سے ایک نام امام حمیدالدین فراہی کا ہے۔ ان کی نکتہ رسی، دقیقہ سنجی، ناقدانہ رائے، محققانہ طرز فکر کا ایک زمانہ معترف ہے۔ بقول سید سلیمان ندوی وہ بیک وقت عربی کے سوق عکاظ، فارسی کے بلبل شیراز بھی تھے۔ علوم عربیہ کے خزینہ اور فنون ادبیہ کے ناقد بھی۔ وہ اپنے وقت کے رازی بھی تھے غزالی بھی، ابن تیمیہ بھی تھے، زمحشری بھی۔ امام حمیدالدین فراہی نے ایسا کون سا غضب ڈھا دیا تھا کہ بعض علماء انھیں دائرہ اسلام ہی سے خارج کرنے کے در پے ہو گئے؟ اس کا سبب تکفیر سازی پر تلے ہوئے مدعیان علم نے حضرت فراہی کے ایک نا تمام مضمون کو ٹھہرایا جو انھوں نے اپنی نجی یادداشت کے لیے بطور اشاریہ لکھا تھا۔ امام فراہی اس مضمون کے ذریعے سے ترجمۂ قرآن کی مشکلات سامنے لانا چاہتے تھے۔ یہ مضمون امام فراہی کی نجی یادداشت کی حیثیت رکھتا تھا۔ اشاعت کے لیے نہیں لکھا گیا تھا، اس لیے نہ تو مکمل تھا نہ اس میں ادب و انشاء اور ترتیب و تہذیب کا وہ اہتمام و التزام تھا جو پبلک تحریروں کے لیے عموماً ضروری خیال کیا جاتا ہے۔ لیکن اگر اس مضمون کی ایک ایک سطر پڑھیں تو پورا مضمون قرآن کی عظمت و جلالت سے لبریز ہے۔ ماہنامہ ’’الاصلاح‘‘ مدرسۃ الاصلاح، اعظم گڑھ کے ترجمان کی حیثیت سے شائع ہوتا تھا۔ یہ اپنے طرز کا ایک منفرد رسالہ تھا جس میں نہایت بلند پایہ اور معیاری و مذہبی مضامین شائع ہوتے تھے۔ اس رسالے کی خصوصیت امام فراہی کے افکار و خیالات کی اشاعت بھی تھی۔ امام فراہی کے شاگرد رشید مولانا امین احسن اصلاحی اس کے مدیر تھے۔ مولانا اصلاحی نے امام فراہی کی نا تمام نجی یادداشتیں فروری 1936ء کے الاصلاح میں ’’خیالات اثنائے ترجمۂ قرآن‘‘ کے عنوان سے شائع کر دیں اور اس پر بغرض انتباہ ایک نوٹ لکھ دیا کہ ’’یہ مضمون نا تمام حالت میں ہے اس لیے کہیں کہیں عبارت چھوٹی ہوئی ہے، بعض جگہ سخت ابہام ہے۔ ناظرین غور سے ملاحظہ فرمائیں۔‘‘ اس انتباہ کا تقاضا تھا کہ لوگ قرآن مجید کے ترجمے کے وقت اس مضمون کے بیش قیمت مطالب سے استفادہ کرتے، جو بات سمجھ میں نہ آتی اسے چھوڑ جاتے کہ یہ تحریر نا تمام ہے۔ اگر الفاظ و عبارت میں کوئی سقم نظر آتا، اس سے درگزر کرتے کہ یہ مصنف کی نظرثانی اور حک و اصلاح کی محتاج ہے۔ امام فراہی کے اس مضمون میں سے دو باتیں لے کر اور علامہ شبلی نعمانی کی کتابوں ’’الکلام‘‘ اور ’’علم الکلام‘‘ میں سے بعض اقتباسات دے کر بعض مولویوں نے 32 صفحات پر مشتمل تکفیر کا فتویٰ شائع کر دیا اور اسی لپیٹ میں مدرستہ الاصلاح کے اساتذہ، طلبہ، کارکنوں کو کافر بنا ڈالا۔ تھوڑی دیر کے لیے اگر یہ بات مان لی جائے کہ علامہ شبلی اور امام فراہی (العیاذ باللہ) کافر ہیں، لیکن مدرسۃ الاصلاح کے اساتذہ اور اس کے تمام متعلقین کیسے کافر ہو گئے؟ اس سوال کا جواب فتویٰ میںیہ دیا گیا کہ مدرسۃ الاصلاح کے علماء و اساتذہ اس لیے کافر ہیں کہ وہ مولانا شبلی اور امام فراہی کو بزرگ و محترم سمجھتے ہیں۔ اگر وہ ان دونوں ’’کافروں‘‘ سے اپنی نفرت و بیزاری کا اعلان کر دیں تو یہ مفتیان دین ان لوگوں کو پھر اسلام و ایمان کے حلقے میں لے لیں گے۔ خوشی کی بات یہ تھی کہ مفتیان دین نے مدرسۃ الاصلاح کے علماء و اساتذہ کی نجات کے لیے ایک دروازہ کھلا چھوڑ دیا تھا۔ فتویٰ میں علامہ شبلی کی تحریروں میں سے جو اقتباسات دیے گئے، وہ تمام تر فریب کاری اور بددیانتی پر مشتمل تھے۔ علامہ شبلی منکرین خدا کے دلائل نقل کر رہے ہیں، فتویٰ میں وہ ان کے عقائد کی حیثیت سے پیش کیے گئے۔ علامہ شبلی دوسروں کے خیالات کی ترجمانی کر رہے ہیں، وہ ان کے ذاتی خیالات قرار دیئے گئے۔ بعض جگہ علی سبیل التنزل (بطریق فرض) حریف کا کوئی دعویٰ تسلیم کر کے اس کی تردید کر رہے ہیں، اس کو ان کا مسلک بتا کر پیش کیا گیا۔ غرض تمام عبارتیں سیاق و سباق سے چھین کر، پوری بیدردی سے مسخ کر کے، مفتیوں کے سامنے رکھ دی گئیں کہ وہ کسی طرح اس شخص کو کافر بنا دیں جو ’’الکلام‘‘ اور ’’علم الکلام‘‘ ہی کا مصنف نہیں ہے، الفاروق اور سیرۃ النبیa کا بھی مصنف ہے اور ان بے درد مفتیوں نے پوری بے باکی سے علم و تحقیق کی گردن پر ہمیشہ کے لیے چھری چلا دی۔ امام فراہی کی فرد قرار داد جرم کے لیے مصالحہ، امام کی اس نا تمام یادداشت سے فراہم کیا گیا جو الاصلاح میں ’’اثنائے ترجمۂ قرآن‘‘ کے عنوان سے شائع ہوئی۔ اس مضمون میں دو باتیں تکفیر کا باعث سمجھی گئیں حالانکہ ان دو میں سے ایک بھی تکفیر کی مستوجب نہیں تھی۔ ان یادداشتوں میں ایک بات یہ بھی کہی گئی تھی کہ قرآن کریم میں کہیں کہیں قافیے کی رعایت اور عبارت کی روانی کا لحاظ کر کے مروجہ اصول نحو کی پیروی نہیں کی گئی یا الفاظ آگے پیچھے کیے گئے ہیں۔ امام فراہی زور دیتے تھے کہ جہاں بھی ایسا ہوا ہے، ترجمے میں بھی قرآن کریم کی اسی طرح پیروی کی جائے اور لفظ کو آگے پیچھے سے ہٹایا نہ جائے۔ ان یادداشتوں میں ایک اہم بات یہ بھی سامنے آئی کہ بہت سے لوگ قرآن کریم کی ہر سورت پر مسلسل و مربوط اور متحد المقصد مضمون کی حیثیت سے غور کرنا چاہتے ہیں۔ مزیدبرآں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہر سورت کا جو عنوان ہے، وہی اس سورت کا موضوع ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں آدمی غلط فہمی کا شکار ہو جاتا ہے کیونکہ اصل حقیقت جبکہ یہ ہے کہ سورتوں کے عنوانات کا سورتوں کے موضوع اور مطلب سے کوئی تعلق نہیں۔ سورتوں کے یہ عنوانات صرف سورتوں کے امتیاز کے لیے کسی خاص لفظ کی مناسبت سے رکھ دیے گئے ہیں۔ یہی مذاقِ عرب تھا جس کی پیروی سورتوں کے عنوانات رکھنے میں روا رکھی گئی ہے۔ اسی طرح قرآن کریم میں پاروں اور رکوعوں کی تقسیم ہے۔ اس تقسیم سے جو طالبان علم یہ سمجھتے ہیں کہ اس پارہ یا رکوع پر مضمون ختم ہو گیا ہے اور دوسرے پارے یا رکوع سے دوسرا مضمون شروع ہو رہا ہے، ان کا یہ سمجھنا ٹھیک نہیں کیونکہ قرآن کریم 30 پاروں میں تقسیم ہے۔ رکوع دس دس آیتوں کا ایک ایک حصہ ہے۔ یہ معنوی تقسیم نہیں ہے بلکہ لفظی تقسیم ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ عام لوگ نماز میں آسانی سے قرآن کریم کا ایک مناسب حصہ پڑھ سکیں۔ امام فراہی کی یادداشتوں کے بہت سے مضامین اسی طرح کے علمی موضوعات سے تعلق رکھتے تھے۔ اس مضمون کو سمجھنے میں بعض مدعیان علم کو سخت ٹھوکر لگی۔ علامہ شبلی اور امام فراہی کے مضامین کی تشریحات کے لیے الاصلاح میں مولانا سید سلیمان ندوی، مولانا بدرالدین اصلاحی، مولانا ابواللیث اصلاحی ندوی اور مولانا امین احسن اصلاحی کے مضامین شائع ہوئے۔ مولانا عبدالماجد دریا بادی نے اپنے رسالے ’’صدق‘‘ میں بڑی تفصیل سے لکھا۔ علامہ شبلی اور امام فراہی کے خلاف فتویٰ دینے والے حضرات کی نسبت بعض علمائے کرام نے بالکل ٹھیک لکھا ہے کہ ان حضرات نے امام فراہی کے مضامین کے سیاق و سباق کی عبارتوں پر غور ہی نہیں کیا۔ اگر وہ سیاق و سباق کے متن پر دھیان دیتے تو انھیں بعض الفاظ پر خلجان میں مبتلاہونے کی نوبت ہی نہ آتی۔ علامہ شبلی اور امام فراہی کے خلاف کفر کے فتوے کا شور مچا تو تمام اسلامیان ہند سناٹے میں آ گئے۔ حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی دیوبندی علماء کے ساتھ مدرستہ الاصلاح تشریف لائے۔ دیوبند کے وفد کی آمد پر مولانا اصلاحی نے نعرہ لگایا: بیا ورید گر اینجا بود سخن دانےغریب شہر سخن ہائے گفتنی دارد مدرسے میں مولانا مدنی کا وعظ ہوا۔ انھوں نے مدرسۃ الاصلاح کی خدمات کو نہایت حوصلہ افزا الفاظ میں سراہا۔ مدرسے کے طلبہ، اساتذہ، کارکنوں اور عام حاضرین جلسہ کو نصیحتیں فرمائیں اور مشورے دیے۔ علامہ شبلی اور امام فراہی کی تحریروں کے متعلق اپنی رائے قلم بند فرما دی جو الاصلاح میں شائع ہوئی، حضرت مدنی کے خطوط کا مجموعہ ’’مکتوبات شیخ الاسلام‘‘ کے عنوان سے چار جلدوں میں شائع ہوا جسے مولانا نجم الدین اصلاحی نے مرتب کیا اور یہ مجموعہ مولانا مدنی کی زندگی میں شائع ہوا۔ ایک خط میں مسئلہ تکفیر کے سلسلے میں مولانا مدنی تحریر فرماتے ہیں:

’’…… آپ حضرات کے جوابات دیکھ کر مجھے کلی اطمینان ہو گیا ہے اور جو شکوک و شبہات مجھے مولوی محمد فاروق صاحب کے کھلے مفروضے کو دیکھنے اور دیگر حضرات کے کلمات کی بنا پر پیدا ہوئے تھے، وہ سب رفع ہو گئے۔ مجھے سخت تعجب ہے کہ ان حضرات نے ایسے سخت گزار خطرناک راستے یعنی تکفیر مومنین کو کیوں اختیار فرمایا ہے، حالانکہ اس کے مماثل امور کے لیے نہایت شدید وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔ کیا آپس کے نزاعات نفسانیہ اس کی اجازت دیتے ہیں کہ افتراء ات اور بہتانوں کا طومار باندھ کر تکفیر کے فتاویٰ حاصل کیے جائیں؟ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ میں نے الاصلاح کے پرچے دیکھے، مجھ کو ان میں ایسی کوئی چیز نہیں ملی جس کا کوئی صحیح محل نہ ہو سکتا ہو……‘‘ (’’مکتوبات شیخ الاسلام‘‘ جلد دوم، صفحہ: 320، 319)

مولانا نجم الدین اصلاحی حضرت مدنی کے اس مکتوب کو نقل کرنے کے بعد حاشیے میں لکھتے ہیں:

’’شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی مدظلہ کے اس قول فیصل نے قبر تکفیر کے ایک ایک ستون اور ایک ایک اینٹ کو منتشر کر دیا، غوغائے تکفیر اور کافرگری کا ناس ہو گیا۔ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی اور مولانا شبیر احمد عثمانی اور دیگر مفتیان ہند نے بعض تشریحی مضامین پڑھے اور مولانا مدنی کے محاکمہ پر تکفیر سے رجوع کر لیا۔‘‘ (’’مکتوبات شیخ الاسلام‘‘ جلد دوم، صفحہ: 319-320)

مولانا عبدالماجد دریابادی مولانا اشرف علی تھانوی کے مقربین میں سے تھے۔ مشہور مفسر، مقالہ نویس اور ماہنامہ صدق کے مدیر تھے۔ مولانا امین احسن اصلاحی نے انھیں ایک خط لکھا۔ مولانا اصلاحی لکھتے ہیں:

’’مولانا تھانوی کا فتویٰ شائع ہو گیا۔ مولانا شبلی اور مولانا حمیدالدین فراہی کافر ہیں۔ اور چونکہ مدرسہ ان ہی دونوں کا مشن ہے، اس لیے مدرسۃ الاصلاح مدرسۂ کفر و زندقہ ہے اور اس کے تمام متعلقین کافر و زندیق ہیں، یہاں تک کہ جو علما اس مدرسے کے جلسوں میں شرکت کریں، وہ بھی ملحد و بے دین ہیں۔ افسوس کہ اصل فتویٰ نہ مل سکا۔ مل جاتا تو اصل یا نقل آپ کی خدمت میں بھیج دیتا۔ عام مولویوں کی شکایت فضول ہے۔ ان سے توقع ہی کسے تھی، البتہ بڑی مایوسی مولانا تھانوی سے ہوئی۔ جن دو عبارتوں پر مولانا حمیدالدین فراہی کی تکفیر کی گئی ہے ہرچند کہ میرے نزدیک وہ بالکل واضح ہیں، تاہم آپ کی ہدایت کی تعمیل میں ان دونوں کی تشریح جون کے پرچے الاصلاح میں چھپ گئی ہے۔ ‘‘(’’حکیم الامت‘‘ از مولانا عبدالماجد دریابادی، صفحہ: 418)

مولانا عبدالماجد دریا بادی نے مولانا اصلاحی کا خط موصول ہونے کے بعد ایک مفصل خط مولانا اشرف علی تھانوی کو لکھا۔ انھوں نے علامہ شبلی اور امام فراہی کے بارے میں لکھا کہ ایسے لوگوں کے خلاف کفر کا فتویٰ حلق کے نیچے نہیں اترتا۔ مولانا تھانوی نے خط کا جواب دیا اور فتویٰ سے رجوع کرنے کے بارے میں بتایا۔ مولانا دریابادی نے اپنی کتاب ’’حکیم الامت‘‘ میں پوری روداد شامل کی۔ اس میں انھوں نے شبلی و فراہی کے بارے میں مولانا تھانوی کا ذہن صاف کرنے اور رجوع کرانے کا سہرا اپنے سر باندھا ہے۔ ممکن ہے دونوں بزرگوں مولانا مدنی اور مولانا دریا بادی نے اپنے اپنے طور پر حق ادا کیا ہو۔ یہ فتویٰ امام الہند مولانا ابو الکلام آزاد کی نظر سے گزرا تو انھیں بے حد ملال ہوا۔ انھوں نے اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے تحریر فرمایا:

’’مولانا حمید الدین فراہی مرحوم جن کی عبارت پر یہ ہنگامہ بپا کیا گیا ہے، ان علمائے حق میں سے تھے جن کا سرمایۂ امتیاز صرف علم ہی نہیں، عمل بھی ہوتا ہے اور اس دوسری جنس کی کم یابی کا جو عالم ہے، وہ اہل نظر سے پوشیدہ نہیں۔ میں جب کبھی ان سے ملا، مجھ پر ان کے علم سے زیادہ ان کی عملی پاکی کا اثر ہوا۔ وہ پورے معنوں میں ایک متقی اور راست باز انسان تھے۔ ان کے دل کی پاکی اور نفس کی طہارت دیکھ کر رشک ہوتا تھا۔ ‘‘

علامہ سید سلیمان ندوی نے فرمایا:

’’مولانا حمیدالدین فراہی نہ صرف علم و فضل میں یکتائے زمانہ تھے بلکہ اپنی صحت اعتقاد اور زہد و تقویٰ کے لحاظ سے خواص امت میں سے تھے۔‘‘

یہ فتویٰ افسوس ناک ہی نہیں، علماء کے لیے باعث شرم بھی تھا۔ مولانا مودودی نے اس کی کھل کر مخالفت کی۔ آپ نے ترجمان القرآن (جولائی 1936ء) میں تحریر کیا:

’’مومن کو کافر کہنے میں اتنی ہی احتیاط کرنی چاہیے، جتنی کسی شخص کے قتل کا فتویٰ صادر کرنے میں کی جاتی ہے، بلکہ یہ معاملہ اس سے بھی زیادہ سخت ہے۔ کسی کو قتل کرنے سے کفر میں مبتلا ہونے کا خوف تو نہیں ہے، مگر مومن کو کافر کہنے میں یہ خوف بھی ہے کہ اگر فی الواقع وہ شخص کافر نہیں ہے اور اس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان موجود ہے تو کفر کی تہمت خود اپنے اوپر پلٹ آئے گی۔ پس جو شخص اللہ تعالیٰ کا خوف اپنے دل میں رکھتا ہو، اور جس کو اس کا کچھ بھی احساس ہو، وہ کبھی کسی مسلم کی تکفیر کی جرأت نہیں کر سکتا۔ جو شخص مسلمان کی تکفیر کرتا ہے، وہ دراصل اللہ تعالیٰ کی اس رسی پر قینچی چلاتا ہے جس کے ذریعے سے مسلمانوں کو جوڑ کر ایک قوم بنایا گیا ہے۔ اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ علمائے دین میں کافروں کو مسلمان بنانے کا اتنا ذوق نہیں، جتنا مسلمانوں کو کافر بنانے کا ذوق ہے۔‘‘

مولانا امین احسن اصلاحی الاصلاح (ستمبر 1936ء) میں لکھتے ہیں:

’’یہ کس قدر درد انگیز حالت ہے کہ ہمارے علماء نے اپنی بے احتیاطی سے اپنی سب سے بڑی طاقت بالکل کھو دی ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ خدا کا رسول اور اس کے صحابہe جس سے آنکھیں پھیر لیتے تھے، اس سے آسمان و زمین آنکھیں پھیر لیتے تھے۔ احادیث و سیر میں نہ جانے کتنے واقعات اس قسم کے مذکور ہیں۔ اور ایک یہ زمانہ ہے کہ ہمارے علماء کے تکفیر کے فتووں پر لوگ ہنستے ہیں اور جن کی تکفیر کی جاتی ہے انھیں مبارک باد دیتے ہیں۔ ہم اس معاملے کو صرف شخصی پہلو سے نہیں دیکھتے بلکہ اس کے اجتماعی انجام پر بھی غور کرتے ہیں اور اس انقلاب حالت پر بڑا رنج ہوتا ہے۔ ہماری یہ خواہش نہیں ہے کہ فتویٰ نویسی یوں بے وقعت ہو جائے بلکہ ہماری دلی آرزو یہ ہے کہ علماء اپنے صحیح منصب کو حاصل کریں اور مسلمانوں میں فتویٰ نویسی کا صحیح وقار قائم ہو۔ لیکن جو لوگ ابھی مولانا شبلی اور مولانا حمید الدین فراہی کے کفر و ایمان کا فیصلہ نہیں کر سکے، ان سے آئندہ کیا امیدیں کی جا سکتی ہیں؟ اس وقت اس مسئلے سے متعلق کچھ لکھنے کو جی نہیں چاہتا۔ ان شاء اللہ کسی آئندہ فرصت میں، ہم کتاب و سنت کی روشنی میں فتویٰ نویسی اور اس کے لوازم و شرائط پر تفصیل سے گفتگو کریں گے۔ فی الحال صرف اتنا عرض کریں گے کہ علماء خود کو عدالت الہیہ کا ترجمان سمجھیں اور جو کچھ کہیں اللہ تعالیٰ کی کتاب اور رسول کی سنت کی روشنی میں کہیں۔ خدا نے قرآن اور رسول کو حکم ٹھہرایا ہے۔ عالمگیر یہ اور تتار خانیہ کی پیروی کا حکم نہیں دیا ہے۔‘‘

الحمد للہ، بعدازاں مولانا تھانوی اور فتویٰ پر دستخط کرنے والے دیگر علماء نے اپنا سقم فہم محسوس کر کے فتویٰ سے رجوع کرلیا۔ امام حمید الدین فراہی اور علامہ شبلی جوار رحمتِ الٰہی میں پہنچ چکے اور ان کا معاملہ اس کی عدالت کے سپرد ہے جو دلوں کے بھید اور نیتوں کے اسرار و خفا یا کو اچھی طرح جانتا ہے اور احکم الحاکمین ہے۔**

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20