این۔ایف۔سی ایوارڈز: معیشت اور عوام کا نصیب: (۹) لالہ صحرائی

0

 

[مالیاتی ایوارڈز کیا چیز ہیں]

قانون کے مطابق جب ایک حکومت پانچ سال کیلئے منتخب ہو کر آتی ہے تو اپنے پانچ سالہ دور حکومت کیلئے ایک ترقیاتی پروگرام جاری کرتی ہے جسے ماضی میں “پنج سالہ” منصوبہ کہا جاتا تھا آجکل اس کا نام سننے میں نہیں آتا بہرحال نئی حکومت کے پہلے سال اپنے منصوبوں کیلئے مرکز اور صوبے مل کر ایک بجٹ پوزیشن طے کرتے ہیں اسے ایوارڈ کہا جاتا ہے، اس ایوارڈ کیلئے پہلے سال جو فارمولہ طے ہو جاتا ہے باقی چار سال بھی اسی فارمولے کے مطابق قومی خزانے سے مرکز اور صوبے اپنا اپنا حصہ وصول کرتے ہیں، پانچ سال بعد جب نئی حکومت آتی ہے تو وہ اپنی ترجیحات کے مطابق اپنا نیا ایوارڈ جاری کرتی ہے، اس طرح ہر پانچ سال بعد ایک ایوارڈ جاری ہوتا ہے جس کے مطابق ہر سال مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو بجٹ کے موقع پر فنڈز تفویض کر دیئے جاتے ہیں۔

 

 

ان فنڈز کا تعلق صرف مرکزی خزانے سے ہوتا ہے، ساتویں چیپٹر میں ہم یہ بات ڈسکس کر چکے ہیں کہ صوبائی حکومتوں کا جو جو ذریعہ آمدن ہے اس پر مرکز کا کوئی اختیار ہے نہ دخل ہے، وہ سب کلیکشن صوبے خود اپنی سرکاری بیوروکریٹک مشینری کے ذریعے سے کرتے ہیں اور وہ تمام مالیت اپنے پاس ہی رکھتے ہیں، مرکز، فوج یا پنجاب کو ہرگز نہیں دیتے۔

 

 

ہر فیڈریشن میں مرکز چونکہ بالا دست ہوتا ہے، اس کی مالی ضروریات بھی استحکامِ مملکت کیلئے اٹل ہوتی ہیں اسلئے ہر فیڈریشن کا مرکز میجر ٹیکس کلیکشن اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے تاکہ بوقت ضرورت وہ کسی لوئر اینٹائیٹی، فیڈرل ایلیمنٹ یا عام الفاظ میں کسی دوسرے کا محتاج نہ ہو۔

 

 

ہر فیڈریشن کے آئین میں مرکز کو یہ قانونی حق حاصل ہوتا ہے کہ ملک گیر سطح پر ہر صوبے سے موٹی موٹی آمدنیاں اٹھا کر لے جائے خواہ وہ آمدنی اس کے اخراجات سے کئی گنا زیادہ ہی کیوں نہ ہو، عموماً یہ انکم ٹیکس، سیلزٹیکس اور کسٹمز کا ریوینیو ہوتا ہے، جب صوبوں سے موٹی موٹی آمدنی مرکز لے جائے تو پیچھے کاٹھ کباڑ کی کمائی رہ جاتی ہے یعنی صوبائی حکومتوں کیلئے ہوم گراؤنڈ پر کوئی بڑا ذریعہ آمدن باقی نہیں بچتا اسے ہم افقی عدم توازن یا vertical fiscal imbalance کہتے ہیں۔

 

 

اس بات کو بھی کلیئر کرتے چلیں کہ صوبوں سے ٹیکسز کی مد میں بڑی بڑی رقمیں اٹھا لینا مرکز کا صوبوں پر ظلم ڈھانے کے مترادف ہرگز نہیں ہے بلکہ ریاست چونکہ ماں کی طرح سب کی پرورش کرنا چاہتی ہے اس لئے ہر صوبے سے بڑے وسائل پہلے اپنے پاس جمع کرلیتی ہے تاکہ اسے واپس کرتے وقت ان صوبوں کی ترقی کیلئے بھی سوچا جائے جو کسی وجہ سے خود بھی پیچھے ہیں اور اپنے لوگوں اور مرکز کیلئے کم آمدنی پیدا کرتے ہیں، اس بات کو علاقائی بُعد، تفاوت، کمزوری یا علاقائی کم مائیگی یا regional disparity کہتے ہیں۔

 

 

مرکزی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ علاقائی کم مائیگی کو برابری میں بدلنے کی کوشش کرے تاکہ ریاست کا ہر علاقہ یکساں پھل پھول سکے لہذا ریجنل ڈسپیریٹی کو کم کرنے کیلئے سب علاقائی میجر مالیاتی ریسورسز مرکز اپنے پاس جمع کرتا ہے، اس بات کو یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ صوبے اپنی ریاست کے دوسرے صوبوں کیلئے اپنے ہاں سے مالی قربانی پیش کرتے ہیں تاکہ ریاست کا ہر ستون مضبوط ہو سکے۔

 

 

ہر فیڈریشن کے مرکز اور صوبوں کے درمیان یہی صورتحال درپیش ہوتی ہے، اس افقی عدم توازن سے ریاست کے صوبوں اور وفاق کے درمیان ایک رسہ کشی بھی ہمیشہ موجود رہتی ہے کہ مرکز اپنے اخراجات کنٹرول میں رکھ کے اپنا بجٹ بنائے تاکہ صوبوں کیلئے زیادہ سے زیادہ رقم بچ جائے، ہر فیڈریشن میں مرکز کے آگے صوبوں کے اس کلیم کو بھی آئینی تحفظ حاصل ہوتا ہے اور اس کلیم میں سب صوبے آپس میں ہم آواز بھی ہوتے ہیں، ان سب کی مشترکہ کوشش ہوتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح سے جتنی زیادہ سے زیادہ ممکن ہو سکے اتنی رقوم وفاق سے واپس نکلوا لی جائیں تو اچھا ہے۔

 

 

مرکز اور صوبوں کی یہ کشمکش کسی منفی جذبے کی عکاس ہرگز نہیں ہوتی بلکہ صوبے یہ بھی نہیں چاہتے کہ فیڈریشن کا وفاق خدانخواستہ اتنا کمزور ہو جائے کہ مملکت کی سالمیت ہی خطرے میں پڑ جائے بلکہ مالی معاملات میں وفاقی مرکز کے سامنے صوبوں کا رول صرف ایک مثبت اپوزیشن کا سا ہوتا ہے۔

 

 

یہ وسائل جب صوبوں کے درمیان تقسیم کرنے کی باری آتی ہے تو وہ ساری یکجہتی جو ان کے درمیان مرکز کے سامنے پائی جاتی تھی وہ کافور ہو جاتی ہے، اب یا شیخ اپنی اپنی دیکھ والا حساب ہوتا ہے، ہر صوبہ یہ چاہتا ہے کہ اسے باقیوں سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہ ملے، مثال کے طور پر ایک صوبہ کہتا ہے کہ ان وسائل میں سب سے زیادہ پیسہ میرا آیا ہے لہذا مجھے زیادہ حصہ ملنا چاہئے، دوسرا صوبہ کہتا ہے کہ بیشک ٹیکس آپ کا تھا لیکن اکٹھا میری بندرگاہ پر ہوا اس لئے مجھے اس کا فائدہ پہنچنا چاہئے، اسی طرح سے سب کے اپنے اپنے دلائل میں بات بگڑ جاتی ہے، صوبوں کے درمیان پائی جانے والی اس تفاوت، سوچ کا فرق یا سوشل ڈس۔ایگریمنٹ کو ہم عمودی عدم توازن یا horizontal fiscal imbalances کہتے ہیں۔

 

 

ہر عدم توازن کا ایک کریکشن فیکٹر بھی ہوتا ہے لہذا اس افقی عدم توازن یا vertical fiscal imbalanc اور عمودی عدم توازن یا horizontal fiscal imbalance کو درست کرنے کیلئے ایک طریقہ کار اختیار کیا جاتا ہے جس کے تحت مرکز اور صوبوں کے درمیان اور بڑے سے چھوٹے صوبوں کے درمیان اس مالیاتی تقسیم کا ایک قابل قبول توازن قائم کیا جاتا ہے، اس طریقہ کار کو فائنانشئیل ایوارڈ کہا جاتا ہے۔

 

 

[این۔ایف۔سی ایوارڈ کیا ہے]

مذکورہ بالا عدم توازن کو درست کرنے کیلئے 1973 کے آئین پاکستان کی شق 160 کے تحت نیشنل فائنانس کمیشن بنایا گیا ہے جو ہر آنے والی گورنمنٹ کا اپنے پانچ سالہ منصوبے کیلئے ایوارڈ کا پروگرام طے کرنے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے، پھر ہر سال بجٹ سے پہلے اس ایوارڈ کے طے شدہ فارمولے کے تحت ان رقوم کے اجراء کو بھی یقینی بناتا ہے۔

 

 

ہر سال ٹیکس کلیکشن کی بنیاد پر یہ رقوم چونکہ گھٹتی بڑھتی رہتی ہیں اس لئے مرکز پر یہ آئینی و قانونی ذمہ داری بھی موجود ہے کہ وہ ہرسال پچھلے دور جتنا ٹیکس لازمی اکٹھا کرے تاکہ فنڈز میں کمی واقع ہونے سے جاری منصوبوں کے کام میں خلل نہ آئے، اس مقصد کے تحت ایک ذیلی شق بھی شامل ہے کہ ہر سال صوبوں کو ملنے والی رقم پچھلے سال سے کسی طور بھی کم نہیں ہو گی، جس لیول پر ایک بار ایوارڈ فائنل ہو جائے آئیندہ چار سال اسی حساب سے رقوم ادا کی جائیں گی بلکہ کچھ فیصد زیادہ ہونی چاہئیں، اگلے دور کا ایوارڈ بھی پچھلے دور کے ایوارڈ سے کم مالیت کا نہیں ہوگا، اسی لئے ہر سال کا ٹیکس کلیکشن ٹارگیٹ پچھلے سال سے دس بیس فیصد زیادہ ہی رکھا جاتا ہے، جس کا سارا بوجھ موجودہ ٹیکس گزار طبقہ اٹھاتا ہے، اسی لئے اس سیریز میں جگہ جگہ میں نے ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

 

 

[این۔ایف۔سی کمیشن کیا ہے]

اس کمیشن میں تمام صوبوں کے فائنانس منسٹر بطور ممبرز اور مرکز کا فائنانس منسٹر بطور چئیرمین ایوارڈ کمیٹی شامل ہوتے ہیں، اس کمیٹی کے سربراہ صدرمملکت ہوتے ہیں جو ان ممبرز کے فیصلے کی توثیق کرکے ایوارڈ جاری کر دیتے ہیں، صدرمملکت چاہیں تو اس کمیٹی میں بطور ثالث یا نگران کوئی اپنا نمائیندہ بھی بٹھا سکتے ہیں ورنہ ان وزراء کی سفارشات کو بھی قبول کر سکتے ہیں یا عدم اتفاق کی صورت میں اپنا فیصلہ بھی صادر کر سکتے ہیں۔

 

 

مرکزی فائنانس منسٹر اپنے آنے والے قومی بجٹ کے اعداد و شمار، آئیندہ سال حاصل ہونے والے قومی ریوینیو کا تخمینہ اور اس ریوینیو سے مرکزی بجٹ کا حصہ ایڈجسٹ کرنے کے بعد بقایا سرپلس رقوم کا جائزہ پیش کرتا ہے جو آئیندہ مالی سال کی کلیکشن سے حاصل ہوں گی، اس سرپلس رقم کو ڈویژیبل پول divisible pool یا قابل تقسیم آمدنی یا قومی وسائل کہا جاتا ہے، پچھلے سال ریوینیو کلیکشن کا جو تخمینہ لگایا گیا تھا وہ پچھلے سال کیلئے قومی خزانہ تھا، اگلے سال کا بجٹ پیش کرتے وقت اگلے سال میں ہونے والی کلیکشن کا جو تخمینہ لگایا جاتا ہے وہ اگلے سال کیلئے قومی خزانہ کہلائے گا۔

 

 

[این۔ایف۔سی ایوارڈ کا کلیہ کیا ہے]

ایوارڈ کا فارمولا ماہرین معاشیات، ماہرین شماریات اور میتھیمیٹیشنز کی باہمی کوششوں سے ترتیب دیا جاتا ہے اور ترمیم بھی انہی ماہرین کی مدد سے کی جاتی ہے، کمیشن کے پاس اپنا سیکریٹیریٹ، عملہ اور ماہرین موجود ہوتے ہیں جو سارا سال کلیکشن کی مد میں آنے والی رقوم کو متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو منتقل کرواتے رہتے ہیں اور بوقت ضرورت فارمولے کو مرکز اور صوبوں کے درمیان طے پانے والے سمجھوتوں کے آئینے میں ری۔شیپ کرکے بھی دیتے ہیں۔

 

 

بنیادی طور پر یہ فارمولا فی کس آبادی کی بنیاد پر سیٹ ہے، اس طریقہ کار میں کل کلیکشن کے تخمینہ سے صوبوں کو ملنے والا حصہ علیحدہ کر کے اسے کل ملکی آبادی پر تقسیم کیا جاتا ہے پھر جس صوبے کی جتنی آبادی ہو اس کیساتھ ضرب دے کر اس صوبے کو اس کا حصہ ایلوکیٹ کردیا جاتا ہے جو ہر سہ ماہی کلیکش پر ان کو چار قسطوں میں اگلے سال کے اندر اندر بھجوا دیا جاتا ہے، فیڈرل فائنانس منسٹر اور صوبائی فائنانس منسٹرز ان ایوارڈز کی رقوم کی ہر سال منتقلی کو مانیٹر بھی کرتے ہیں اور اس کی رپورٹ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں بھی جمع کراتے ہیں۔

 

 

صوبائی فائنانس منسٹرز اگر اس تقسیم کے عمل پر راضی ہوں تو اسے متفقہ ایوارڈ تسلیم کر لیا جاتا ہے، عدم اتفاق کی پہلی صورت اس وقت پیش آتی ہے جب ممبران ان اعداد و شمار کے تخمینے پر مطمئن نہ ہوں جس کے چانسز بہت کم ہوتے ہیں، عدم اتفاق کی دوسری صورت اس وقت پیش آتی ہے جب کوئی ایک دو یا سارے صوبائی ممبران تقسیم کے کلیئے کو ازسرنو متعین کرنا چاہتے ہوں۔

 

 

صدر پاکستان کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ تقسیم کے معاملے میں وہ مرکز اور صوبوں کے درمیان بین الصوبائی تناؤ اگر کوئی پیدا ہو جائے تو اسے حل کرنے یا کم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں، عدم اتفاق سے بچنے کیلئے صدرپاکستان گورنرز کے ساتھ مشورہ کرکے اپنے کسی نمائندے کو اس کمیٹی میں بطور تفصیہ کار، سہولت کار یا نگران کے طور پر بھی متعین کر سکتے ہیں تاکہ فیصلہ بالاتفاق ہو جائے، تیسری صورت میں صدرپاکستان ان سب کی بحث کو سمیٹتے ہوئے اپنا فیصلہ بھی صادر فرما سکتے ہیں جس سے ایوارڈ تو فائنل ہو جاتا ہے لیکن اسے متفقہ ایوارڈ قرار نہیں دیا جاتا، ملکی تارخ میں یہ صورتحال کئی بار پیش آچکی ہے جس کی وجہ سے آج تک ہونے والے آدھے ایوارڈز متفقہ اور تقریباً اتنے ہی غیر متفقہ طور پر دیئے گئے ہیں۔

 

 

این۔ایف۔سی ایوارڈ جب فائنل ہو جائے تو اس کی رقوم پروانشل فائنانس کمیشن کو بھیجی جاتی ہیں جہاں سے صوبوں اور ان کے اضلاع کے درمیان طے شدہ فارمولے سے اضلاع کو منتقل ہوتی ہیں، پھر وہاں سے شہری حکومتوں کو فنڈز ریلیز کئے جاتے ہیں۔

 

۔۔۔۔۔

اگلے چیپٹر میں گزشتہ سات این۔ایف۔سی ایوارڈز کی تفصیلات پیش کی جائیں گی جن میں صوبوں کے مطالبات پر ہونے والی تبدیلیوں کا بھی کچھ ذکر شامل ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مضمون کا ساتواں حصہ یہاں ملاحظہ کریں

 

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: