خود کشی سے ذرا پہلے — والدین و اساتذہ کا کردار‎ —- شریف اللہ محمد

0

ہماری نئی نسل بے انتہا پریشر، ڈپریشن، دماغی مسائل اور شدید غصے اور ہیجان کا شکار ہے۔ غصہ اور ڈپریشن کی موجودگی کے ساتھ ساتھ اگر کوئی جسمانی مشقت سرگرمی بھی نہ ہو تو ایسے لوگوں کا خود اذیتی کا سفر اور بھی آسان ہو جاتا ہے۔ یہ سمجھنا اس لحاظ سے اہم ہے کہ جتنا ہم ان معاملات سے آگاہ رہیں گے اتنا خود کشی کے رحجان میں کمی کا سب بنیں گے۔ خودکشی نارمل لوگوں کا ایب نارمل حالات میں سخت ترین رد عمل ہے۔ قبل اسکے کہ میں بچوں اور نوجوانوں کے حوالے سے ماں باپ کے سامنے کچھ بنیادی باتیں رکھوں، یہ سمجھ لیں کہ کچھ عوامل کسی بھی شخص میں خودکشی کا رجحان بہت بڑھا سکتے ہیں۔ یہ عوامل کم و بیش کچھ یوں ہیں:

– کسی کے آس پاس ہونے والے ہے در پے واقعات چاہے وہ معمولی نوعیت کے ہی کیوں نہ ہوں، جو مستقل ڈپریشن کا باعث بنیں۔

-کسی کا عزیز، یا خاوند، یا بیوی وغیرہ کے مرنے کے بعد یا بعض صورتوں میں جاب کھو دینا، شدید مالی مشکلات (یہ عوامل عموماً بڑی عمر کے افراد کو خود کشی کی جانب لے جاسکتے ہیں)۔

– کسی کے اطراف ایسے لوگوں کی غیر موجودگی، جن سے اپنے مسائل شئیر کئے جاسکیں، جن سے ناراض ہوا جاسکے، لڑا جاسکے۔ یعنی سوشل سپورٹ کا اچانک سے کھو دینا۔

– طلاق ہوجانا، کوئی ایسا واقعہ جو کسی کی عزت نفس کو شدید نقصان پہنچادے (ریپ یا وار زون سے متعلقہ حرکیات)، کوئی ایسا واقعہ جو بعد کی زندگی کے لئے داغ ہو یا سماج کے طے شدہ پیمانوں کے مطابق ناقابل قبول کہلائے، کا شکار ہونا۔

– بچوں اور طلباء کے لئے بنائے گئے معیارات۔ ماں باپ یا عزیزوں کے خوف سے غیر حقیقی معیارات کے حوالے سے ان سے وابستہ توقعات بچوں کی زندگی خطرے میں ڈالتے ہیں، ہندوستان میں ان اس قسم کی خود کشیاں حدوں کو چھو رہی ہیں۔

– خودکشیوں کے سامنے آنیوالے واقعات، دوست احباب میں خودکشی کرنے والوں یا ان جیسی علامات اور رویوں والے افراد کے ساتھ تعلق۔

ان علامات کی غیر موجودگی کے باوجود کسی کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ خود کشی کرے گا یا نہیں؟ ہوسکتا ہے کم ڈپریشن اور مسائل کا شکار شخص خود کشی کی طرف جائے اور زیادہ مشکل کا شکار اس طرف اپنا ذہن ہی نہ لائے۔ شرم، درد، اداسی، غصہ، بے وقعتی، اشتعال، شدید احساس ندامت، اچانک کسی مصیبت میں گھر جانا کی صورت میں اپکو اور آپکے اطراف موجود لوگوں کو آپکی سپورٹ کی ضرورت ہوتی ہے اپکو اپنا کردار ادا کرتے رہنا چاہیئے۔

امریکی اعداد و شمار کے مطابق خود کشی کرنے کے لئے مندرجہ تناسب سے یہ طریقے استعمال کئے گئے۔

حیدرآباد میں کم عمر بچوں میں خودکشی کے واقعات میں اضافہ - Mehr News Agency– آتشیں اسلحہ: لگ بھگ پچاس فیصد
– دم گھوٹنا یا گلے میں پھندا ڈالنا کم و بیش اٹھائیس فیصد
– زہر خورانی تیرہ فیصد
– نس کاٹ لینا دو فیصد تقریباً
– کہیں سے کود جانا، ٹکراجانا تقریبآ تین فیصد
متفرق: تین فیصد

اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں میں علامات ایسے ہوتے ہیں جنہیں ماں باپ اپنی عام روٹین رکھتے ہوئے بھی محسوس اور بھانپ کر اپنے بچوں کی زندگی محفوظ بناسکتے ہیں۔ ورنہ مرنے کے بعد (خدا نخواستہ) سب یہی کہتے ہیں کہ وہ تو بہت خوش رہا کرتا تھا، یہ کیسے ہوا؟

والدین نے اپنے بچوں کے حوالے سے بہت سارے اختیارات غیراعلانیہ طور پر ترک کردئیے ہیں، جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب بچے اپنے فیصلے خود کرنے پر مجبور ہیں، فرینڈلی ہونا کوئی برا نہیں، بچے کو ذمے دار بنانا کوئی برا نہیں لیکن اتھارٹی کو ترک کردینا کوئی مناسب اور دانش مندانہ فیصلہ نہیں

ذیل میں کچھ عام علامات دی ہوئی ہیں جو ہمیں اپنے بچوں کے حوالے سے محتاط کرسکتی ہیں۔ یہ ہدایات والدین اور اساتذہ کے لئے بہت اہم ہیں۔

– بچے کا اپنی عام رویئے سے ہٹ کر ردعمل، بیت اچھا ہوجانا، بہت برا ہوجانا، مکمل چپ ہوجانا۔ یہ بات یاد رکھیں جب کوئی خود کشی کا حتمی فیصلہ کرلیتا ہے تو وہ پہلے کی طرح نارمل ہوجاتا ہے اور بعض صورتوں میں بلکل مطمئن ہوجاتا ہے۔

– ہر بچہ دوسرے سے مختلف ہے اور ہر بچے کی دباؤ برداشت کرنے کی سکت بھی دوسروں سے مختلف ہے۔ والدین اور اساتذہ کو اپنے بچے کے حوالے سے سماجی دباؤ، تعلیمی دباؤ، نفسیاتی دباؤ برداشت کرنے کی حدود کا تعین بہت اہم ہے۔ اسکو چھوٹے چھوٹے دستیاب ٹیسٹس سے چانچا بھی جاسکتا ہے۔ اسی لئے تعلیمی ادارے اس حوالے سے اپنے سٹاف کی تربیت کا بھی اہتمام کریں۔ والدین اپنے بچے کے حوالے سے ایک دوسرے سے مستقل بات چیت کرتے رہیں۔

– طیش دلانا یا کسی کو پوائنٹ آف نو ریٹرن تک لے کر جانا۔ میرے علاقے کی ایک بہت پرانی داستان جو مجھے میری نانی نے سنائی تھی کہ ایک شخص طیش میں آیا اور اپنی بیوی سے کہنے لگا کہ اگر ایک لفظ بھی مزید کہا تو میں اپنے آپ کو شوٹ کرلوں گا۔ اس نے بھی روٹین میں آکر کہا، تمھیں جانتی ہوں، تیرے جیسے خود کشی نہیں کرسکتے۔ اور اگلے لمحے اسکا بھیجا دیوار پر تھا۔ وہ عورت اس واقعے کے بعد پاگل ہوگئی تھی۔ ہر ایک کا پوائنٹ نو ریٹرن مختلف ہے لیکن اپنے قریبی لوگوں اور اپنے بچوں کو اشتعال دلانے سے گریز کیجئے۔ امریکی اسکولوں کے کچھ واقعات میں تو کلاس روم بْلی خود کشی کا سبب بنتی ہیں۔

– اس بات میں کوئی شک نہیں کہ آج کل کے والدین اپنے بچوں سے بہت دور ہورہے ہیں۔ اکثریتی بچوں نے سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر پناہ لینی شروع کردی ہے۔ جو شہری علاقوں میں زیادہ اور دیہاتوں میں کم نظر آتی ہے۔ والدین کے لئے اب پہلے سے زیادہ ضروری ہے کہ اپنے بچوں کے رویوں پر نظر رکھیں۔ انکی سوشل میڈیا ایکٹیوٹیز پر نظر رکھیں اور یہ دیکھتے رہیں کہ انکا بچہ خودکشی کرنے والے خیالات تو نہیں رکھتا۔ چند سال پہلے نویں جماعت کے ایک لڑکے اور لڑکی نے صبح سویرے اپنی کلاس میں اپنے باپ کے پسٹل سے خود کشی کرلی۔ حالانکہ ایک دن پہلے کا سٹیٹس اسکی فیس بک کی وال پر موجود تھا۔ خوکشی کا خیال اور اسکے ممکنہ طریقے کے بارے میں سوچ بچار ایک خطرناک انڈیکیٹر ہے۔ انڈین گجرات احمد آباد کی عائشہ عارف خان کا دریا میں کود کر خود کشی کرنے سے پہلے ریکارڈڈ نوٹ کل ہی کی بات ہے، (مضمون اسی خاتوں کی وجہ سے لکھا گیا ہے، اس خاتوں کے چہرے کے تاثرات نوٹ کرنے کے قابل ہیں)۔

بیوی اور بچوں سمیت کانسٹیبل کی خود کشی | Urdu News – اردو نیوز۔ بچوں میں ٹرگر فیکٹر کو جاننا بہت ضروری ہے، بنیادی طور پر تین بہت اہم چیزیں ہیں، تعلیمی ڈپریشن، محبت کے جذبات اور فوری اشتعال۔ تینوں کی حرکیات بہت الگ الگ ہیں۔ اس لئے اگر آپ کا بچہ ان میں کسی ایک کے زیر اثر ہے تو یاد رکھئے ان موقعوں پر آپ کے بچے کو آپ کی سپورٹ درکا ہوتی ہے، جن تعلیمی اداروں میں انلائن پورٹل چل رہے ہیں وہ طلباء کا ڈیٹا مکمل رکھ کر (ایک تفصیل طلب موضوع ہے جس میں اسکولز کیمپس مینجمنٹ سسٹم کو آنلائن سنبھال رہے ہوتے ہیں جو بنیادی طور فیس اور دیگر چیزوں کو مینج کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ ایسے تمام پورٹلز میں بچوں کی صحت اور خاندان سے متعلق بہت اہم معلومات کے لئے جگہ موجود ہوتی ہے جنہیں تن آسان سکول مینجمنٹ کبھی اپڈیٹ رکھنے کی کوشش نہیں کرتی، اسکول انتظا میہ اپنے بچوں کو بہت بہتر طریقے سے جان سکتی ہے انکی مدد بھی صرف اسی صورت میں ممکن ہوتی ہے۔

– خود کو نقصان پہنچانے یا سیلف ہارم کا رویہ عموما ایسے لوگوں میں اپنی جذباتی تکلیف جسمانی تکلیف کے ذریعے بھولنے کا ایک طریقہ ہوتا ہے، اگر آپ کا بچہ ایسی علامات یا رحجانات رکھتا ہے یا رکھنے لگا ہے، تو ہوشیار ہوجائیں، ایسے تمام بچے خطروں کی زیادہ پرواہ نہیں کرتے، خواہ مخواہ کسی سے بھڑجانا، ریگولیشنز اور ضابطوں کا خیال نہ رکھنا وغیرہ وغیرہ۔

– آج کل کی نوجوان نسل کے پاس چونکہ سونے کا بہتر اور کافی وقت میسر نہیں ہوتا اس لئے جب سوتے ہیں تو گھوڑے بیچ کے سوتے ہیں۔ کرونا کے بعد بہت کچھ بدل گیا ہے مگر والدین سونے جاگنے کے عجیت و غریب پیٹرن سے بھی بہت کچھ بھانپ سکتے ہیں۔ امریکہ میں ہر سال چالیس ہزار کے قریب نوجوان لڑکے لڑکیاں خود کشی کے باعث جان سے جاتے ہیں اور اس تعدار کا چار گنا سنجیدہ کوشش کرتے ہیں، ایک کیس سٹڈی کے مطابق سونے جاگنے کا ایک تبدیل شدہ پٹرن ایک اہم انڈیکٹر ہے۔ یاد رہے یہ نیند سے متعلق ڈس آرڈر نہیں ہے کہ امتحانات کی وجہ سے بچے کی نیند کے نظام الاوقات متاثر ہوں۔

– بچے کا اچانک وہ چیزیں بھی چھوڑدینا جن کو کرنے سے اسے بہت خوشی ہوتی تھی۔ کھیل کود کا شوقین بچہ کھیلنا بند کردے، پڑھاکو بچہ پڑھنا چھوڑ دے، ظاہر ہے ایسی صورتوں میں صرف وہی والدین اپنے بچے کی مدد کے قابل ہیں جو اپنے بچے پر گہری نظر رکھتے ہیں،

۔ پہلے کی گئی خود کشی کی کوشش ایسے لوگوں کو خود کشی کے طرف بہت جلدی مائل کرتی ہیں اور انکے لئے ابتدائی رکاوٹ بھی موجود نہیں ہوتی، اس لئے ایسے بچوں اور نوجوانوں کے ڈاکٹر سے سیشنز کرائے جانے بہت اہم ہیں۔

– گھروں میں شکر گزاری اور قناعت کا فقدان بھی ہمارے رویوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ ان گلے شکووں اور موازنے کا گھر میں تذکرہ ہوتا رہے، اس چیز کو نارمل رکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ اپنے بچوں کو بغیر ضرورت کسی دن ہسپتال لے کر چلے جائیں، کسی کورٹ کے احاطے میں لے جائیں، یا کسی ایسے علاقے کے حوالے سے انکو بتایا جائے جو انھیں یہ احساس دلائے کہ وہ بہرحال بہت بہتر حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ اوائل عمری سے ہی سوشل ورک بہت مدد کرتا ہے ساتھ مذہبی تعلیمات ان کیفیات کو نارمل کرنے میں کردار ادا کرسکتے ہیں، مغرب میں بہت ساری ایسی سلیبریٹیز ہیں جنہوں نے اس خطرے کے سدباب کے لئے سوشل ورک میں پناہ لی۔ سوشل ورک سماج کے کمزور طبقوں میں کئی بدقسمت خود کشیوں کی روک تھام میں آپ اور ہماری کنٹری بیوشن کا سبب بھی بنے گا کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اکثریت بری نہیں بلکہ ایک دوسرے سے لاعلم ہے۔

آج کل کے والدین نے اپنے بچوں کے حوالے سے بہت سارے اختیارات غیراعلانیہ طور پر ترک کردئیے ہیں، جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب بچے اپنے فیصلے خود کرنے پر مجبور ہیں، فرینڈلی ہونا کوئی برا نہیں، بچے کو ذمے دار بنانا کوئی برا نہیں لیکن اتھارٹی کو ترک کردینا کوئی مناسب اور دانش مندانہ فیصلہ نہیں، کیونکہ بہرحال آپ کا بچہ دنیا کو اتنا نہیں جانتا جتنا اپ جانتے ہیں، میرا اپنا ذہن خود کشی کی طرف اس لئے نہیں گیا کہ میرے والدین کے آپس کے سمجھوتے نے ہمیں کبھی لائن کراس نہیں کرنے دی، ابو بہت سخت غیر لچک دار رویہ رکھنے والے اور امی شہد کی طرح میٹھی، ابو جب گرفت کرتے تو سونے سے پہلے امی دنیا کے عظیم لوگوں کے واقعات سے ہمیں اگلے دن کے لئے پمپ کرچکی ہوتیں، خیال ہی نہیں رہا اور زندگی کا نازک اور جذباتی ناہمواری کا حصہ گزار گئے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈپریشن سے خودکشی تک ------- ڈاکٹر فرحان کامرانی
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20