خواہشات کا ٹک ۔ ۔ ۔ ٹاک یا ہماری ترجیحات —– فارینہ الماس

0

دنیا کا انٹرنیٹ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی پر انحصار ایک ایسی حقیقت ہے جس سے دامن بچانا اب ناممکن ہے۔ اسی کے بل بوتے پر عالمگیر معاشرت جنم لے رہی ہے۔ روایت پرست تمدن و اقدار پر تیزی سے سائبر کلچر اثر انداز ہورہا ہے۔ انسانی تصورات و خیالات، مقامیت و علاقائیت سے نکل کر اجتماعیت اور عالمگیریت کے رنگ میں ڈھل رہے ہیں۔ بلاشبہ یہ عالمی وابستگی انسان کے مزاج، زبان، کلچر یہاں تک کہ مذہبی تصورات اور عقائد تک کو متاثر کر رہی ہے۔ لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ڈیجیٹل دنیا انسان کے لئے علم اور معلومات کا ایک خزانہ ہے۔ یہ انسان کے لئے اپنے ہم خیال لوگوں سے روابط قائم کرنے کا ذریعہ ہے۔ اس ڈیجیٹل جہان نے انسان کے بہت قدیمی، دیو مالائی قصوں کو کمزور کیا ہے۔ کیونکہ یہاں انسان واقعات کو حقائق کی رو سے پرکھ سکتا ہے فرضی اور خود ساختہ اندازوں سے نہیں۔

اس میں اتنی طاقت ہے کہ کسی یوٹوپیائی دنیا کی خام خیالی کی بجائے انسان کو مکمل حقیقت پسندی اور انتہائی ذمے داری سے حالات کا ایک نیا جدید اور ترقی یافتہ جہاں دریافت کرنے کی راہ پر لگایا جاسکے۔ اس ترقی نے انسان کو اپنی بات کہنے اور اسے برتنے کا ہنر عطا کیا ہے۔ اسے ایسے مواقع فراہم کئے ہیں کہ وہ اپنی سوچ اور ہنر کے تخلیقی پہلو اجاگر کر سکے۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ آج انسان کی تفریق رنگ، نسل اور فرقے کی بنیاد پر ہونے کی بجائے انٹرنیٹ سے وابستہ اور انٹرنیٹ سے محروم انسانوں کے طور پر ہونے لگی ہے۔ انٹرنیٹ، پی ڈی اے اور موبائل فون جیسی جدید ٹیکنالوجی زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں تقریباً سولہ کروڑ لوگ موبائل فون استعمال کر رہے ہیں۔ تھری جی اور فور جی ٹیکنالوجی استعمال کرنے والوں کی تعداد سات کروڑ تیس لاکھ ہے۔ براڈ بینڈ صارفین سات کروڑ پچاس لاکھ ہیں۔ گذشتہ سال سے اب تک یہ تعداد مزید بڑھ چکی ہے کیونکہ گذشتہ سال کے وبائی حالات نے کم عمر بچوں کو بھی ڈیجیٹل لرننگ اور سکولنگ کا تابع بنا دیا ہے۔ بچوں کی ترجیحات کی اگر مثبت تربیت ممکن بنائی جا سکے، تو انٹرنیٹ کے استعمال سے بچے شروع سے ہی جستجو اور تحقیق کے اعلیٰ معیار کو کھوجنے کے عادی ہو سکتے ہیں۔ انہیں صلاحیتوں کا اعلیٰ اظہار بھی سکھایا جا سکتا ہے۔

TikTokers : Videos from Tiktok, momoland nancy hot - Home | Facebookڈیجیٹل ورلڈ سے بلاشبہ دنیا مثبت طور پر بہت مستفید بھی ہو رہی ہے۔ لیکن ایسے صارفین جنہیں اس ٹیکنالوجی سے معلومات یا علم درکار نہیں انہیں تفریح کا سامان بھی مہیا کیا جارہا ہے۔

یوٹیوب ایک ایسی ہی انوکھی دنیا بن کر انسان کے سامنے آئی ہے جس نے بچوں بڑوں، خواتین اور بوڑھوں تک کو اپنے حصار میں لے لیا۔ مذہب، تعلیم، سائنس، موسیقی تفریح جیسے ہر شعبہء زندگی کو اس میں حصہ دیا گیا۔ 2006 میں جب گوگل نے یوٹیوب کو خریدا تو اسے عالمی سطح پر پزیرائی حاصل ہونا شروع ہوئی۔ یہاں پہلے پہل ٹی وی چینلز نے اپنا نام اور لوگو استعمال کرکے چینلز بنائے۔ پھر اخبارات اور رسائل وجرائد نے اسے استعمال کرنا شروع کیا۔ اصلاحی، مذہبی، تعلیمی چینلز بنے۔ ۔ لوگ یہاں اشیاء کی خریدو فروخت کرتے ہوئے نظر آئے۔ سکول، کالج یونیورسٹیاں اپنی درسی و انتظامی حیثیت کو اجاگر کرتی پائی گئیں۔ پھر ایک ایسی کھیپ تیار ہوئی جو پڑھے لکھے بے روزگار نوجوانوں کی تھی اور پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے ان پڑھ یا کم پڑھے لکھے لوگوں کی بھی۔ جو اپنے اپنے چینل پر وی لاگز کے ذریعے شہرت حاصل کرنے لگے۔ انہیں بلاگرز اور یو ٹیوبرز کا نام دیا جانے لگا۔ پاکستان میں کئی ڈاکٹرز، انجنیئرز، پروفیسرز نے وی لاگ بناکر تعلیمی و معلوماتی ویڈیوز لوگوں تک پہنچائیں۔ خواتین اور مرد دونوں ہی کوکنگ چینلز بنا کر اسے کمائی کا ذریعہ بنانے لگے۔ نوجوان اپنی مہارتوں اور صلاحیتوں کا اظہار کرنے لگے۔ جن میں چند نمایاں نام تیمور صلاح الدین(مورو) عمر خان، عرفان جونیجو وغیرہ کے تھے۔ تیمور صلاح الدین ایک گلوکار، کمپوزر، کہانی کار، ڈائریکٹر اور اداکار ہیں۔ ان کی بڑی مہارت گلوکاری کو سمجھا جاتا ہے۔ عرفان جونیجونے پاکستان اور پاکستان سے باہر اپنے بنائے گئے سیاحتی وی لاگز سے شہرت پائی۔ عمر خان نیشنل کالج آف آرٹس سے فارغ التحصیل ہیں انہوں نے بھی اپنی زندگی اور سیاحت پر ویڈیوز بنا کر شہرت بٹوری۔ لیکن ان سب سے ہٹ کر جنہوں نے بہت شہرت پائی اور جو نوجوانوں اور بچوں میں یکساں مقبول ہوئے ان میں پاکستانی نژاد کینڈین شام ادریس اور ان کی بیگم سحر عرف فروگی، سکاٹ لینڈ میں رہائش پزیر رحیم پردیسی عرف نسرین، زید علی اور سعد الرحمٰن عرف ڈکی بھائی شامل ہیں۔ کراچی سے بیکار فلمز کے نام سے ویڈیوز بنانے والے دوست غضنفر، سمیع اور ردا سامنے آئے۔ ان سب نے ایک ہی یونیورسٹی سے فلم میکنگ میں گریجویشن کی۔ یہ بہت معیاری تو نہیں لیکن قدرے بہتر کامیڈی ویڈیوز بناتے ہیں۔ لیکن اکثر یو ٹیوبرز انتہائی عامیانہ خیال کو گھٹیا اور اخلاق سے گری ہوئی زبان میں پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے تفریح اور مزاح کو اس کے معیار سے خاصا گرا دیا ہے۔ اس دعوے کے ثبوت کے طور پر رحیم پردیسی نامی یو ٹیوبر کے کسی بھی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ کس طرح کے نازیبا ڈائیلاگز کو مقبولیت کے ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ کچھ اسی قسم کا معیار ڈکی بھائی نامی یو ٹیوبر کا بھی ہے۔ لیکن انتہائی افسوس کا باعث یہ ہے کہ بچے انہی مکالمات سے لطف اندوز ہوتے اور انہیں دن بھر دہراتے نظر آتے ہیں۔ ان کی گفتگو بچوں کی فہم اور زبان دانی پر کیسے منفی اثرات ڈال رہی ہے اس کا مظاہرہ بچے اپنے گھروں اور سکول میں اساتذہ سے کی جانے والی گفتگو میں کرتے پائے جاتے ہیں۔ یہ بلاگرز اور یو ٹیوبرز اگر چاہتے تو اپنے مزاح کو معیاری بھی بنا سکتے تھے اور اسی مزاح سے بچوں کی اصلاح کا کام بھی لے سکتے تھے لیکن وہ ایسا کرنا نہیں چاہتے کیونکہ اس سے ان کی ریٹنگ گرنے کا خدشہ ہو سکتا ہے۔

Pakistani TikTok Stars 2020 | Best Pakistani Tiktokersبات یہاں تک رہتی تو شاید نقصان کی شدت ذیادہ نہ بڑھتی لیکن انتہائی تشویش کا باعث بنتی جارہی ہے یوٹیوب کے بعد آنے والی ایپ ٹک ٹاک جو ڈیڑھ سال کے عرصے میں تیار ہوئی اور ایک سال کے اندر اس کے دس کروڑ صارف بن گئے۔ یہ ایپ 2016 میں چائنہ میں douyin کے نام سے متعارف ہوئی۔ جو کہ بعد ازاں musical.ly اور پھر ٹک ٹاک کے نام سے جانی جانے لگی۔ پہلی دونوں ایپس کا مقصد دنیا کی تخلیقی صلاحیتوں اور لوگوں کی زندگی کے قیمتی لمحات کو کیمرے کی آنکھ میں بند کرنا اور انہیں دنیا کے سامنے لانا تھا۔ لوگوں کو موقع فراہم کیا جاتا کہ وہ بنا کسی دخل اندازی اور رکاوٹ کے اپنی صلاحیتوں کو اظہار کا روپ دے سکیں۔ آغاز میں اسے واقعتاً ایسے ہی مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا رہا پندرہ سیکنڈ کی مختصر ویڈیو میں لوگ دنیا کو کوئی اچھی معلومات فراہم کرتے یا اپنی کسی صلاحیت کا انتہائی باوقار طریقے سے اظہار کرتے۔ لیکن رفتہ رفتہ یہ اپنے مقصد سے ہٹتی چلی گئی۔ اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ ایپ انٹرنیٹ کے تماشے میں خود کو اپنی رضامندی سے پھینکنے والی ایپ بن گئی۔ یہ محض ایک شخص کی پیش کردہ پندرہ سیکنڈ کی وہ کامیڈی ہے جس میں معیار یا تخلیق کے کسی عنصر کا لینا دینا نہیں۔ آپ خود پر ہنسیں یا دوسروں پر، آپ کسی اور کے کہے ڈائیلاگ پر ہونٹوں کو جنبش دیں یا گالی گلوچ کریں۔ یا محض اپنی خوبصورتی یا ادا کو پیش کریں۔ آپ کو لوگوں کو ہنسانا یا ان کا دل لبھانا ہی ہو گا ورنہ آپ کامیاب ٹک ٹاکر نہیں بن سکتے۔ دنیا میں اس وقت اس ایپ پر تقریبآ پچھتر زبانوں میں کھربوں ویڈیوز ڈاؤن لوڈ ہو رہے ہیں۔ 2020 میں سال کی یہ سب سے ذیادہ مرتبہ ڈاؤن لوڈ ہونے والی ایپ بن چکی ہے۔ اب حال یہ ہے کہ یہ دنیا کی سلیکون ویلی سے باہر چلائی جانے والی یہ ایک انتہائی بدنام زمانہ ایپ بن چکی ہے۔ اس ایپ کے ذریعے گالی گلوچ کا کلچر پھیلایا جارہا ہے۔ دوسرے فرقوں، قوموں، مذاہب اور رنگ ونسل کا مذاق اڑایا گیا۔ جیسا کہ یورپ میں تیزی سے گردش کرنے والی ایک ویڈیو جس میں اسلام کا مذاق کچھ اس طرح سے اڑایا گیا کہ عبادت کرتے ہوئے لوگ میوزک کے ساتھ ڈانس کرتے دکھائے گئے۔ ایسی بہت سی ٹک ٹاک بنائی گئیں جن میں لوگوں کے جذبات اور عقائد کا تمسخر اڑایا گیا۔ ایسی ویڈیوز بھی بنائی جاتی رہیں جن میں جنسی طور پر لوگوں کو ہراساں کیا گیا۔ چائلڈ پورنو گرافی کے لئے بھی اس ایپ کو استعمال کیا گیا۔

Dear Pakistani YouTubers.... - YouTubeپاکستان میں بھی گذشتہ سال سے ٹک ٹاک بہت تیزی سے مقبول ہوئی ہے۔ کئی بے روزگار نوجوان اس کے ذریعے مقبولیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ بلاشبہ پاکستان میں جہاں نوجوان طبقے کو عمومآ اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع فراہم نہیں کیا جاتا ٹک ٹاک ایک بہترین پلیٹ فارم ثابت ہوئی۔ وزیر آباد کے مولانا عثمان عاصم جو ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اپنی مزاحیہ ویڈیو سے مقبولیت پاکر بیس لاکھ فالوورز حاصل کر چکے ہیں۔ ان کی شہرت اور کامیابی نے انہیں اپنا کاروبار جمانے کا بھرپور موقع دیا۔ نائلہ جٹ جیسی ایک ان پڑھ دیہاتن بھی اپنے مالی حالات کو سہارہ دے سکی۔ بہت سے نوجوانوں کو ڈراموں اور فلموں میں اداکاری کے مواقع فراہم کئے گئے۔

لیکن اس ایپ سے نوجوان شہرت اور ناموری کے شارٹ کٹ کے پیچھے بھاگنے لگے۔ اس دوڑ نے ناصرف انہیں شخصی بلکہ نفسیاتی مسائل کا بھی شکار بنایا۔

یوٹیوبر عرفان جونیجو نے اپنی ایک ویڈیو میں اعتراف کیا کہ اس سارے سلسلے میں وہ شدید قسم کے اضطراب، غیر یقینی، خود اعتمادی کی کمی اور دیگر نفسیاتی مسائل کا شکار ہوئے۔ ایک کامیاب اور زندگی سے بھرپور یوٹیوبر خود اپنی زندگی کے مقصد پر ہی سوال اٹھاتا پایا گیا۔ اس نے مشہور آرٹسٹ وین گوخ کے اس قول کو بھی دہرایاکہ

”میں نے اپنے کام میں اپنا دل اور روح لگا دیے لیکن اس سارے عمل میں اپنا ذہنی سکون کھو دیا“

ٹوئٹر سے شہرت پانے والی مہوش بھٹی کا کہنا ہے کہ ”سوشل میڈیا پر ان پر کی جانے والی تنقید ڈپریشن اور انگزائٹی کا باعث بنی یہاں تک کہ انہوں نے اپنا اکاؤنٹ ڈیلیٹ کر دیا اور تھیرپی لینے لگیں۔ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ جلد از جلد شہرت پانے کا جنون سوشل میڈیا سے وابستہ نوجوانوں کو نفسیاتی امراض کا شکار بنا رہا ہے۔ خود پسندی کے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ لائکس اور فالوورز کی دوڑ انہیں نہ دن کا چین دیتی ہے نہ رات کا سکون۔ ساری ساری رات جاگ کر بار بار اپنا اکاؤنٹ چیک کرنے کی عادت انہیں ذہنی اضطراب کا شکار بنا رہی ہے۔ فالوورز بڑھانے کی حرص میں یہ کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔ جیسا کہ پاکستان کے مشہور ٹک ٹاکر عادل راجپوت کی اہلیہ نے ٹک ٹاک پر اپنے شوہر کی موت کی جھوٹی خبر نشر کر کے لوگوں سے ہمدردیاں سمیٹنا شروع کر دیں۔

اک دوسرے کو مات دینے کے چکر میں جرائم بھی جنم لے رہے ہیں۔ آئے روز مخالف ٹک ٹاکرزاور یوٹیوبرز پر حملوں کے واقعات ہو رہے ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ شام ادریس، فروگی کے ساتھ ڈکی بھائی کی مخالفت کے ردعمل کو طور پر پیش آیا جب لوگوں نے مشتعل ہو کر کراچی کے ایک مال میں ان دونوں پر حملہ کر دیا۔ ٹک ٹاکرز کی اخلاق سے گری ویڈیوز معاشرے میں تیزی سے بے راہ روی پھیلانے کا باعث بن رہی ہیں۔ حریم شاہ، صندل خٹک جیسی خواتین سے اب کون واقف نہیں۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ایسی حسیناؤں کے بڑھتے فالوورز معاشرے کے بڑھتے اخلاقی انحطاط کا ثبوت فراہم کرتے ہیں۔ لڑکیاں ٹک ٹاکرز بن کر اپنا وقار، تشخص اور نیک نامی کھو رہی ہیں۔ ان لڑکیوں سے ذیادتی کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ وہ جرائم کی دلدل میں دھنس جاتی ہیں اور حال ہی میں ٹک ٹاکر مسکان سمیت پانچ افراد کا قتل اس ایپ کے غلط استعمال کی گواہی ہے۔ خواجہ سراؤں اور رقاصاؤں کے ٹک ٹاک معاشرے کو کس طرف لے جارہے ہیں یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ اس کے علاوہ ٹک ٹاک بناتے ہوئے فائرنگ کے درجنوں واقعات، ویڈیوز میں اسلحہ کی نمائش، ٹک ٹاک بناتے ہوئے اپنی جان گنوا بیٹھنے جیسے واقعات بھی لمحہء فکر ہیں۔ کمال حیرت کی بات ہے کہ اس ملک میں گلے پر ڈور پھر جانے کے واقعات نے پتنگ بازی کی پوری صنعت کو جام کردیا۔ لیکن جرائم کو بڑھاوا دیتے ایپس پر پابندی صرف ایک وقتی پابندی ثابت ہوتی ہے۔ اداروں کے خلاف بولنے والوں کے متعلق تو سخت ردعمل دیا جاتا ہے لیکن ریاست مدینہ میں برائی پھیلانے والوں کی نشاندہی تک کرنا گوارا نہیں کیا جاتا۔ کامیابی کے شارٹ کٹ کے پیچھے بھاگتے نوجوان کس طرح اپنی اصل ترجیحات سے ہٹ رہے ہیں یہ کسی کو دکھائی نہیں دیتا۔ یہ وقتی اور بے وقعت شہرت و ناموری کا سلسلہ جب تھم جائے گا تو ان نوجوانوں کے پاس آگے بڑھنے کا کیا راستہ رہ جائے گا۔ لیکن اگر ٹک ٹاک ٹرینڈ کا رکنا ممکن نہیں تو حکومت کو ان کی تربیت کا سوچنا چاہئے۔ 2020 کی خبر تھی کہ حکومت ٹک ٹاکرز کی تربیت کے لئے کلب تشکیل دینے کا سوچ رہی ہے لیکن تاحال یہ تربیت کہیں دکھائی نہیں دے رہی۔ پاکستان جیسے ملک کو ٹک ٹاکرز سے کہیں ذیادہ ماہرین سائنس، زراعت و انڈسٹری درکار ہیں تاکہ ان شعبوں میں خود کفیل ہوسکیں۔ لیکن یہ ہماری ترجیحات میں شامل ہی کب ہیں۔ اور ہماری بیداری کا وقت بھی ابھی بہت دور ہے۔۔۔۔ اس وقت تک ٹک ٹاک کا کھیل تماشہ ہی سہی۔۔۔۔۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

فارینہ الماس نے سیاسیات کے مضمون میں تعلیم میں حاصل کی لیکن اپنے تخیل اور مشاہدے کی آبیاری کے لئے اردو ادب کے مطالعہ کو اہمیت دی۔ احساسات کو لفظوں میں پرونے کی طلب میں "جیون مایا ” اور "اندر کی چپ ” کے عنوان سے ناول اور افسانوی مجموعہ لکھا ۔پھر کچھ عرصہ بیت گیا،اپنے اندر کے شور کو چپ کے تالے لگائے ۔اب ایک بار پھر سے خود شناسی کی بازیافت میں لکھنے کے سلسلے کا آغاز کیا ہے ۔سو جب وقت ملےقطرہ قطرہ زندگی کے لاکھ بکھیڑوں کی گنجلک حقیقتوں کا کوئی سرا تلاشنےلگتی ہیں

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20