تھائی لینڈ میں عید میلاد النبی : ابو منیب بھٹو

0

ہجری کیلنڈر کے تیسرے مہینے ربیع الاول کی ہر سال آمد مسلمانوں کے لئے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ ربیع الاول وہ با برکت مہینہ ہے جس میں محسن انسانیت نوع انسانی کے لئے تا قیامت ہادی بن کر تشریف لائے۔ قطع نظر یوم ِ ولادت کے ربیع الاول کا پورا مہینہ ہی مسلمان خوشی مناتے نظر آتے ہیں، پوری دنیا میں جہاں بھی مسلمان بستے ہیں سب اپنی خوشی کا اظہار اپنی مخصوص روایات کی روشنی میں کرتے نظر آتے ہیں۔ پورا مہینہ دن ہو یا رات، گھروں، محلوں، بازاروں اور مساجد میں آقائے نامدار حضرت محمد ﷺ کا ذکر خیر کیا جاتا ہے، نعتیں پڑھی جاتی ہیں اور تحریریں لکھ کر گل ہائے عقیدت پیش کرتے ہیں۔ ان تمام باتوں کا مقصد وحید یہی ہوتا ہے کہ مسلمان اپنی سیرت کو نبی پاکؐ کی سیرت کے مطابق ڈھالیں اور سیرت کا یہی پیغام اگلی نسلوں تک ذمہ داری کے ساتھ منتقل کیا جائے اور، سیرت النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ پیغام ہر ذی شعور انسان تک پہنچایا جانا چاہیے۔

کچھ اس طرح کے مناظر تھائی لینڈ کے جنوب میں واقع پتانی صوبہ میں بھی نظروں سے گزرے۔ پتانی میں اکثریت مسلمانوں کی آبادی پر مشتمل ہے۔ پتانی کبھی آزاد مسلم ریاست رہی ہے اس لیے یہاں کے مسلم باشندے اس کو پتانی دار السلام کے نام سے بھی یاد رکھتے ہیں۔ تھائی لینڈ کےچھہتر (76) صوبے ہیں جن میں سے جنوب میں واقع تین صوبے (ملائیشیا کے قریب) پتانی، ناراتھی وات، یالا اور اس کے علاوہ سونگکلا، ھتیائی کے اکثر حصے مسلم اکثریت پر مشتمل ہیں اورتھائی لینڈ میں اسلام مذہب کے حوالے سے دوسرے نمبر پر ہے۔ نسلی طور پر مسلمان مالے اور تھائی دونوں اقسام پر مشتمل ہیں۔ تھائی لینڈ کے مسلمان میلاد النبیؐ کو عام طور پر مولدالنبیؐ سے موسوم کرتے ہے۔ مولدالنبیؐ کی تقریب عام طور پر صاحب استطاعت لوگ اپنے گھروں پر منعقد کرتے ہیں۔جس کیلئے مسجد میں اپنے طے شدہ وقت کے مطابق نماز کے بعد داعی کی جانب سے اعلان کیا جاتا ہے کہ آج فلاں صاحب کے گھر مولدالنبیؐ کی تقریب رکھی گئی ہے اسلئے سب کو شرکت کی درخواست کی جاتی ہے۔ سنت و نوافل کی ادائیگی کے بعد لوگ امام مسجد کی معیت میں مذکورہ صاحب کے گھر کی طرف روانہ ہو جاتے ہیں۔

گھر پر ایک ہال یا کمرے میں پھولوں کے گلدستے سجا کر رکھے ہوتے ہیں جہاں پر امام مسجد یا پھر نعت گو بیٹھ کر اپنے ساتھ لائی ہوئی مَلَایُو‘ اور عربی زبان میں لکھی ہوئی نعت شریف میں سے باری باری دونوں زبانوں میں نعت پڑھتے ہیں۔ اس کے بعد تمام حاضرین مجلس ادب و احترام کے ساتھ کھڑے ہو کر ایک ساتھ یک زبان ہوکر درود و سلام پیش کرتے ہیں۔ زیادہ تر یہ الفاظ دُہرائے جاتے ہیں ’’ صلی اللہ علیٰ محمدؐ، صلی اللہ علیہ وسلم، یا نبی سلام علیک، یا رسول اللہ سلام علیک‘‘ یہ سلسلہ چند منٹ تک جاری رہتا ہے، اسی اثنا میں صاحب خانہ کی طرف سے کچھ نقدی اور تحائف صدقہ کے طور پر شرکاء کے درمیان تقسیم کیے جاتے ہیں اور ہاتھوں پر مخصوص تھائی خوشبو والا پانی ہاتھوں پر چھڑکا جاتا ہےجیسا کہ ہمارے ہاں عرق گلاب استعمال کیا جاتا ہے۔اس کے بعد دوبارہ بیٹھ کر انہی کتابوں سے نعت پڑھی جاتی ہیں۔ ان نعتوں میں زیادہ تر نبی کریم ﷺ کے اخلاق کریمہ کا بیان ہوتا ہے۔ بعد ازاں دعا کے ساتھ مولدالنبیؐ کا اختتام ہوتا ہے اور صاحب خانہ کی طرف سے کھانا پیش کیا جاتا ہے۔ کھانا تناول کرنے کے بعد سب لوگ اپنی منزلوں کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔

بالکل یہی سلسلہ محلے یا گاؤں کی مسجد میں ایک دفعہ اختیار کیا جاتا ہے اور اسی ترتیب سے مولد النبی کی محفل منعقد کی جاتی ہے، فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ لوگوں کو جو تحائف دیے جاتے ہیں وہ چندے کے ذریعہ اکھٹی کی ہوئی رقم سے لیے جاتے ہیں اور کھانا لوگ اپنے گھروں سے تیار کر کے لاتے ہیں جن میں انواع واقسام کے کھانے اور میوہ جات شامل ہوتے ہیں۔ یہ سارا پروگرام مسجد کی انتظامیہ کے زیر نگرانی ہوتا ہے۔ مسجد کی انتظامیہ میں دو یا تین امام، مؤذن اور دیگر ذمہ داران شامل ہوتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کہ یہاں کے لوگ مؤذن کو حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی نسبت سے “بلال” ہی کہتے اور لکھتے ہیں۔ راقم کو مولد النبی کی ایسی محفل میں شرکت کا موقع پتانی کی ایک مسجد، مسجد نور السعادۃ میں ملا جن کی تصویری جھلکیاں ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔ اس دن مسجد کی انتظامیہ اپنی مخصوص یونیفارم میں ملبوس تھی۔

تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والے شیخ الاسلام، جس کو مقامی زبان میں چوْلاراتَّامُنْتِرِی (Jularattamuntry)کہا جاتا ہے، کے مرکزی دفتر میں بھی ایک پُروقار مولدالنبیؐ کی تقریب کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں تھائی لینڈ کے بادشاہ، وزیراعظم اور حکومت کے دیگر اعلیٰ عملدار بھی خصوصی طور پر شرکت کرتے ہیں۔
مولدالنبیؐ کی چند تقاریب جن میں شرکت ہوئی اس سے اندازہ ہوا کہ یہ تقاریب انتہائی سادہ اور پُروقار تھیں، فضول خرچی سے حتی الامکان اجتناب، عوام سے حاصل کیے ہوئے چندے کا بڑی احتیاط کے ساتھ استعمال، نشر و اشاعت کے لئے پوسٹرز کی اشاعت بالکل بھی نہیں اور نعت خوانوں کو نہ تو مرکزی حیثیت دی جاتی ہے اور نہ ہی کوئی خاص قسم کا نذرانہ، ہمارے معاشرے میں نعت خواں حضرات کو جو پروٹوکول اور بھاری نذرانے دیے جاتے ہیں اس سے تو ایسا ہی محسوس ہوتا ہے کہ یہ محفل نعت خواں حضرات کیلئے ہی سجائی گئی ہے۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: