مربی کا کردار ادا کرتی اک کتاب —- عبدالباسط ذوالفقار

0

خاصے دن ہوئے صبح کے وقت سفید ملفوف ڈاک ملی۔ سربمہر لفافہ ہاتھ میں آیا تو اس پر وہ نام درج تھا جنہیں سوشل میڈیا پر دیکھا اور پڑھا پھر احساس ہوا کہ ہم ایسے اساتذہ سے محروم رہے۔ کاش ایسے شفیق اور عمدہ سوچ کے حامل، درد دل رکھنے والے استاد سے پڑھنے کا موقع ملتا تو آج ہم کچھ اور ہوتے۔ ہمایون مجاہد تارڑ صاحب، جنہیں پڑھتا ہوں تو جی چاہتا ہے ان کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کروں اور کچھ رموزِ زندگی سے آشنائی ہو جائے۔ بے چارگی کی مسکراہٹ اڑانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ تضیع اوقات کا خیال نہ ہوتا تو لمحہ بہ لمحہ ان کا دروازہ کھٹکھٹاتا اور سیکھتا چلا جاتا۔ دکھِ زندگانی کا مقابلہ کرتا۔ گزارتے تو سبھی ہیں۔ کسی طور گزر بھی جاتی ہے لیکن اسے اس کے طریقہ کے مطابق گزارنا یہ اہم ہے۔ اہمیت بھی تبھی ہوگی۔ زندگی جینے کا نام ہے۔

کتاب کافی دن سے میرے سرہانے منتظر تھی کہ اسے چھوا اور چھکا جائے مگر میرے دماغ کی نسوں پر گویا کہرا جما ہو۔ کسل مندی غالب، طبیعت اچاٹ رہی کچھ عوارض جان کو لگے رہے اور کتاب نہ دیکھ پایا۔ چند روز بعد سرسری نگاہ ڈالنے کتاب اٹھائی۔ صفحہ پلٹا تو حالت یہ تھی “میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے۔” میری گرم ہتھیلیوں کے بیچ کتاب “نئے امکان نئے شب و روز” تھی۔ بساطِ جاں کی صفیں لپیٹ کر جو پڑھنا شروع کیا۔ تو پڑھتا چلا گیا۔ یہ کوئی چسکے لے کر پڑھنے کی کتاب تھی نہ ہی یوں کچھ حاصل ہونا تھا بلکہ توجہ، انہماک سے خود کو سپرد کر دینے والی کتاب ہے۔ میں نے پڑھا تو مجھے لگا یہ سب باتیں جو سکھائی، بتائی گئیں ہیں۔ سماج میں اس کے برعکس ہوتا ہے۔

ھمایون سر نے اس کو محسوس کیا اور زمہ داری نبھائی۔ میں نے چوں کہ زندگی کو قریب سے دیکھا، اس سے سیکھا تو باخبر تھا کہ فطرت کی غلط بخشی عجیب ہے۔ ان کو بھی اولاد کی صورت خزانہ دے کر رکھوالا بنا دیا جو اس قابل نہ تھے۔ یہ کتاب اس قابل بناتی ہے کہ آپ کا بچہ محبتوں کے سائے میں تربیت پا کر اپنا اور خاندان کا نام روشن کرے۔ اس کے ذہن کے شفاف کینوس پر اچھے عکس ابھریں۔ سوچتا ہوں نجانے یہ کتاب ہی ہے یا استاد خود ہیں۔ نہیں، کوئی مربی ہے جو تربیت کا دربار سجائے بیٹھا ہے۔ انگلی تھام کر انسیت سے وجود کے احساسات کو روشن کرنے چلائے جاتا ہے۔ اصول و ضوابط کا ایسا خزینہ جو اب تک ناپید تھا۔

کتاب کا موضوع بچوں کی تعلیم و تربیت پر رہنما اصول ہیں۔ وہ اصول جنہیں جوتی کی نوک پر رکھا جاتا ہے۔ بے وجہ کی ڈانٹ ڈپٹ، بات بے بات ٹوکنا، دھتکارنا، غصے سے تھوتنی سجائے رکھنا، ذات کی نفی کرنا، بچوں کا خون پانی ایک کیے رکھنا ہی اصل ہے۔ کج کلاہی کی دستار سجائے کڑواہٹیں تقسیم کر کے نفرتیں پروان چڑھانا۔ ہم نے تو یہی دیکھا۔ اس خزینہ کی صورت سرپرستوں کے اوہام میں قبائے احتیاط اوڑھا کر ایسے طریقہ علاج سے متعارف کروایا جنہیں بیشتر نہیں جانتے۔ والدین ہیں تو دانتوں تک مسلح، پتا ہی نہیں ان کی نفی، ان کی دھاڑ، ان کا رویہ، ان کی بے توجہی، غم وغصہ، خوشی، مسکراہٹ، سراہنا، ٹوکنا، اظہار اور پسندیدگی بچے کو کہاں کھڑا کر دیتی ہے۔ غلطیوں کی اصلاح کیسے ہوتی ہے۔ وعظ و نصیحت تو سبھی کرتے ہیں۔ بھاشنیات کا باب سب کو ازبر ہے۔ لیکن طریقہ کار پر بات نہیں کی جاتی۔ سیکھنے کے کام سیکھے جاتے ہیں تربیت نہ لی جاتی ہے نہ ہی تربیت دینے کے امور سے واقفیت حاصل کی جاتی ہے۔ شادی بیاہ بس بندھن کا نام رہ گیا اور پھر جنم دینے کا، آگے کا سبق نہ کوئی پڑھاتا ہے نہ پڑھا جاتا ہے۔

میں نے صفحات پلٹے تو دماغ بھک سے اڑ گیا تھا۔ میرے دل کی آواز کو زبان ملی تھی۔ انجان سی خوشی دل میں رقصاں تھی۔ ایک ایسی جگہ جہاں بچوں کو صرف پیدا کرنے کی ٹھان رکھی ہو وہاں فسوں ساز قلم رکھنے والا ایک ایسے موضوع کو قلمبند کرے جس کی اس وقت ضرورت حد از سوا ہو۔ اندازہ لگائیے ٹوٹے صندوق میں رکھے پریشان صفحات میں چند ترو تازہ اوراق ملیں تو دل کی حالت کیا ہوگی۔ کتاب حاذق طبیب کا کردار ادا کرتی ہے۔ نہ صرف بیماری بتاتی ہے بلکہ امراض کی نشاندہی کے ساتھ علاج بھی بتاتی ہے۔

یہ کتاب حصہ اول ہے جوخزینہ تربیّات ہے۔ جو بتاتی ہے کہ بچوں کو جنم دینا ہی ذمہ داری نہیں اصل زمہ داری تو بعد میں شروع ہوتی ہے۔ یہ کتاب اک باپ، استاد، مربی کا کردار ادا کرتی ہے۔ بچے کی نفسیاتی ضروریات کیا ہیں۔ اس کی تربیت کو کون سا عمل درکار ہے۔ اس کی زندگی بنانے کو کون سا وظیفہ کرنا پڑے ہے۔ نسلوں کی بقا کس میں ہے۔ تہذیب و معاشرت میں والدین، اساتذہ کا کیا کردار ہے۔ تعمیر شخصیت کا پلان کیا ہے۔ بہ ایں ہمہ یہ کتاب ان تمام موضوعات کا احاطہ کرتی ہے جو بچے، اس کی تربیت، تعمیر اور شعور میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ کمیوں کا احساس دلا کر سنوارتی ہے۔ جو بتاتی ہے تعریف و تحسین کب اور کتنی کرنی ہے۔ طریقہ کار کیا ہو۔ زمانے کی چیرہ دستیوں میں بچے کو کیسے مضبوط کردار عطا کرنا ہے۔

بچے کیسے بگڑتے ہیں بگڑے بچوں کی تربیت کا انتظام کیسے کرنا ہے۔ بچہ اور اس کی عزت نفس کس قدر اہم ہے۔ آپ کا آپسی تعلق، باہم ملاقات، بات چیت، رویے کس طور اثر انداز ہوتے ہیں۔ عہد طفولیت میں ہے تو کیا کرنا ہے۔ پھر سن بلوغت کو پہنچا تو کیسے نظر رکھنی ہے۔ تعلیمی مراحل اور اصول، والدین و اساتذہ کے لیے پند و نصائح، شعبہ تعلیم کیسے بہتری کی طرف گامزن ہوگا۔ کیسے تعلیم سے روشناس کرایا جا سکتا ہے۔ سزا کب اور کتنی، کیوں دینی ہے۔ کیسے دینی ہے۔ بچوں کے اسکلز کیسے بڑھ سکتے ہیں۔ اور بہت کچھ۔۔۔

کتاب سلیس زبان اور عمدہ پیرائے میں لکھی گئی ہے۔ تربیت اولاد کے تقاضے کھل کر بیان کیے گئے ہیں۔ اس کے مخاطب چوں کے والدین ہیں، پھر اساتذہ اور تعلیمی ادارے ہیں۔ سو اس کی زبان جس میں جا بہ جا انگریزی الفاظ کا استعمال ہے۔ گو کہ عیب نہیں اور مصنف نے کتاب میں وضاحت بھی کر دی ہے لیکن پھر بھی بصد احترام عرض کروں گا کہ ان الفاظ کو روزمرہ سے بدل کر سہل کیا جائے تا کہ عام آدمی جو صرف اردو پڑھنا، لکھنا جانتا ہے اس سے فائدہ اٹھا سکے۔ اس کتاب کی ضرورت بڑے شہروں کے مکینوں، پڑھے لکھوں سے زیادہ بستی، گاؤں، دیہات کے لوگوں کو ہے جہاں بچے کی تربیت میٹر نہیں کرتی۔ جہاں بس کولہو کے بیل بنتے ہیں۔ مشینیں جنم لیتی ہیں۔

مؤثر ابلاغ یوں ہی تھا جیسے مصنف نے ذکر کیا لیکن اس کتاب کو اتنا آسان بنا دیں کہ عام سے عام بندہ بھی اس سے عرق کشید کر سکے۔ دوسرا کتاب کے اخیر متفرقات میں نینو ٹیکنالوجی ایک زائد باب لگا۔ بوجھل، گرچہ عمدہ اور نہایت اہم معلومات پہنچاتا ہے لیکن اس جگہ پر زائد معلوم ہوا۔ بطور قاری میں نے اس کتاب کو عمدہ پایا۔ بخیہ گری سے دامن چاک ہوا تو معلوم پڑا کہ کہاں کمی اور کوتاہی تھی۔ اب اگر کسی بچے سے بات بھی کرتا ہوں تو ذہن میں اسی کتاب کا سبق رہتا ہے جو اس رات اس نے مجھے پڑھایا تھا۔ یہ کتاب ہر گھر، والدین ہر ادارے، ہر شخص کی ضرورت ہے۔

آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بچہ مضبوط کردار کا بہترین انسان بنے تو آگاہی ضروری ہے کہ بچے کی جذباتی ضروریات کیا ہیں۔ صرف پیدا کرنا، بڑا کر کے تعلیمی ادارے کے حوالے کر دینا، اس پر پیسا لگانا، اور مادی ضروریات پوری کرنے کا کارخانہ نہیں ہیں۔ بچے کی جذباتی ضروریات، تعلیم، تربیت، اور ان کے باطن کو مضبوط بنانے میں کیا کردار ہے۔ پڑھیں اور سوچیں، اگر اس کتاب کا الٹ پائیں تو توبہ کریں روٹین بدلیں ورنہ جان لیں کہ آپ بچے کے حق میں خواری کی داستان لکھ رہے ہیں۔

کتاب؛ نئے امکان نئے شب و روز
مصنف ھمایون مجاہد تارڑ
قیمت ۴۰۰
Jeep isb publication

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20