محمد علی سد پارہ کے لیے دو نثری نظمیں —- ڈاکٹر وحیدالرحمن خاں

0

(1)

پہاڑ

مجرم کی طرح
سرنگوں کھڑا ہے
پتھروں کے قلب
جاری ہوگئے ہیں
گلیشئیر
اب گلیشئیر نہیں رہے
تمھاری یاد میں
فطرت کا اشک منجمد ہے
یہ اشک
برف کا مرقد ہے
اب یہاں
کوہ پیما نہیں آئیں گے
تربت برف پر
پھول چڑھانے
زائرین آئیں گے
تمھارا قد
پہاڑ سے بلند ہوگیا ہے

(2)

فطرت ایک سنگ دل محبوبہ ہے
جو
سہل طلب عاشقوں کو
دیدار سے محروم رکھتی ہے
صرف بہادروں سے ہم کلام ہوتی ہے
جانبازوں پر
مہربان ہوتی ہے
تسخیر کے خواب
دیکھنے والی آنکھوں
اور معصوم ارادوں کی
قدر دان ہوتی ہے
فطرت
تمھارے انجام سے
باخبر تھی
ہزاروں سال پہلے
اس نے
تمھاری یاد میں
تمھارے انتظار میں
برف کا تاج محل بنایا تھا
تم محبوب فطرت ہو

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20