قابل تقسیم قومی وسائل کی تفصیل معیشت اور عوام کا نصیب: (8) لالہ صحرائی معیشت اور عوام کا نصیب

0

 

[ قابل تقسیم قومی وسائل کی تفصیل ]

 

ہم نے ساتویں چیپٹر میں یہ بیان کیا تھا کہ کسی بھی معیشت کے تین اسٹیک ہولڈرز ہوتے ہیں، ملکی عوام معیشت کے اندر کاروبار، پروفیشنل سروس پرووائیڈنگ یا نوکری کرکے اپنا روزگار حاصل کرتے ہیں، غیرملکی لوگ بھی ہماری معیشت کے ساتھ ٹریڈنگ، سروسز یا جاب کے ذریعے اپنا فائدہ اٹھاتے ہیں اور حکومت وقت ان سب سے ٹیکسز لیکر معیشت کے اس نظام کی حفاظت، بہتری، اور بڑھوتری کیلئے کام کرتی ہے۔

 

 

صوبائی حکومتیں جو لوکل ٹیکسز لیتی ہیں وہ قابل تقسیم نہیں ہوتے، نہ وہ مرکز کو دیئے جاتے ہیں نہ کسی دوسرے صوبے کو بلکہ یہ ٹیکسز ہر صوبے کی اپنی ذاتی ملکیت ہوتے ہیں جو ہر سال صوبائی بجٹوں میں شامل کئے جاتے ہیں۔

 

 

فیڈرل گورنمنٹ جو ٹیکسز اکٹھے کرتی ہے اس میں سے بقدر ضرورت وہ خود رکھتی ہے اور باقی رقوم این۔ایف سی ایوارڈ کے ذریعے صوبوں کو دے دیتی ہے جو صوبائی بجٹوں کا حصہ بنتی ہیں، این۔ایف۔سی کا تفصیلی بیان چیپٹر نائین میں پیش کریں گے، اس حصے میں ہم صرف اس بات کا جائزہ لیں گے کہ قابل تقسیم قومی وسائل یا قومی آمدنی ماضی میں کیا تھی، حال میں کیا ہے اور مستقبل میں کیا ہوگی۔

 

 

[اس بات کو ہم چار حصوں میں تقسیم کرتے ہیں]

پہلا حصہ یہ ہے کہ مشرف صاحب سے قبل قومی وسائل کیا تھے۔

دوسرا یہ کہ مشرف صاحب نے معیشت میں بہتری کیلئے کیا اقدامات کئے۔

تیسرا یہ کہ ان کے بعد کی صورتحال کیا ہے اور آج ہم کہاں کھڑے ہیں۔

چوتھی بات یہ کہ اس باب کے اندر بیان کی گئی بنیادی منطق آپ کی سمجھ میں آگئی تو ایک روشن مستقبل کا اندازہ لگانا ہر کسی کیلئے زرا بھی مشکل نہ ہوگا۔

 

 

[مشرف صاحب سے پہلے کی صورتحال]

بات کچھ یوں ہے کہ 1998 کے جمہوری دور میں تاریخ کی بلند ترین جو فیڈرل ٹیکس کلیکشن ہوئی اس کی کل مالیت صرف 300 ارب روپے تھی اور تمام صوبوں کی لوکل آمدنیاں بھی سوا سو ارب روپے سے زیادہ نہیں تھیں، اس حساب سے ہم یہ کہہ سکتے ہیں 300 ارب ٹیکس کلیکشن+125 ارب کیپیٹل پروسیڈز+125 ارب صوبائی آمدنیاں، کل ملا کر 1998 تک سارا ملک صرف 550 ارب روپے میں چلتا تھا۔

 

 

پچھلے چیپٹرز میں ہم یہ بات بھی پڑھ چکے ہیں کہ ملکی آبادی کی ضروریات کے مطابق اشیائے صرف، افرادی قوت کے مطابق روزگار کی سہولت، پیداوار بڑھانے کیلئے انفراسٹرکچر کی افزائش اور ریاستی اقدامات و اخراجات کیلئے ٹیکسز کی کلیکشن نہ بڑھے تو قومی ترقی کسی طور بھی ممکن نہیں ہوسکتی۔

 

 

ہمارے ساتھ بنیادی طور پر یہی المیہ بیتا ہے کہ 1999 تک باون سالوں میں ہم نے آبادی کے مطابق پیداوار، افرادی قوت کے مطابق روزگار اور اتنا جاندار انفراسٹرکچر پیدا نہیں کیا جس سے صنعت و حرفت کی افزائش یا جی۔ڈی۔پی کی خاطرخواہ گروتھ ممکن ہوتی، انفراسٹرکچر اسلئے مہیا نہیں ہو سکا کہ ریوینیو نہیں تھا اور ریوینیو اس لئے نہ مل سکا کہ پیداواری صنعتوں نے خاطرخواہ ٹیکسز ادا نہیں کئے، یہی وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر ماضی کی حکومتوں سے ہمیشہ یہ جملہ آپ بار بار سنتے تھے کہ خزانہ خالی ہے لیکن مشرف صاحب کی مہربانی سے ایسی آواز آپ نے پچھلے اٹھارہ سال سے اب تک ایک بار بھی نہیں سنی ہوگی۔

 

 

[مشرف صاحب کے انقلابی اقدامات کی مختصر روداد]

اگر ہم نظریاتی، سیاسی و طبقاتی اختلاف کو بالائے طاق رکھ دیں تو پاکستان کے معاشی نظام پر تین افراد اور ان کی ٹیموں کے احسانات زریں حروف سے لکھے جانے کے قابل ہیں، ان میں سرفہرست سابق صدر پرویز مشرف صاحب ہیں، ٹیک اوور کرنے کے بعد جب انہوں نے یہ سنا کہ خزانہ خالی ہے تو ہمیشہ کی اس کِل کِل کو ہمیشہ کیلئے جڑ سے اکھاڑنے کا فیصلہ کرلیا پھر ابتدائی کوششوں کے بعد 2004 میں اس مشن کی سربراہی عبداللہ یوسف صاحب کو سونپ دی گئی۔

 

 

دوسری شخصیت عبداللہ یوسف صاحب کی ہے، جس نے چیئرمین سی۔بی۔آر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد انقلابی تبدیلیاں کرکے سی۔بی۔آر کو فیڈرل بورڈ آف ریوینیو میں تبدیل کیا، یہ نام کی نہیں بلکہ ایک نظام کی تبدیلی تھی جس میں ریوینیو کلیکشن کو کچے کھاتوں سے نکال کر انکم ٹیکس، سیلزٹیکس اور کسٹمز کے پلیٹ فارمز کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کیا گیا۔

 

 

مشرف صاحب نے جب ٹیک اوور کیا اس وقت کل ٹیکس گزار دو سے ڈھائی لاکھ کے درمیان تھے اور کل ملکی ریوینیو صرف 30 بلیئن یا 300 ارب روپے تھا، عبداللہ یوسف صاحب نے جب 2008 میں ایف۔بی۔آر کا چارج چھوڑا تو کراچی چیمبر آف کامرس نے یونین کلب میں ان کے اعزاز میں ایک الوداعی عشائیہ دیا تھا، میں خود اس تقریب میں موجود تھا جہاں یہ بتایا گیا کہ اسوقت کل فیڈرل ریوینیو 130 بلیئن یا 1300 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے، اس کے باوجود کہ یہ پیسہ بزنس کمیونیٹی سے ہی وصول کیا گیا تھا لیکن بزنس فرینڈلی پالیسیوں کی بنا پر یوسف صاحب بزنس کمیونیٹی کے ہردلعزیز بیوروکریٹ تھے، وجہ صرف یہ تھی کہ 10 سے 20 فیصد سالانہ گروتھ کے وعدے پر اس بندے نے بزنس کمیونیٹی کو اپنے دور میں کلی طور پر محکمانہ ہیرسمنٹ اور آڈٹ سے مکمل طور پر نجات دیئے رکھی تھی، بعض شماریاتی آرٹیکلز میں یہ رقم 1009 ارب کے قریب ہے لیکن پائپ لائن ایگریگیٹ کی بنیاد پر تیرہ سو ارب ہی درست ہے۔

 

 

تیسری بڑی شخصیت، شوکت عزیز صاحب کی تھی، ایف۔بی۔آر کا گراؤنڈ سسٹم تیار کرنے کے بعد بڑی ریوینیو کلیکشن کیلئے بزنس مین پر بیوروکریٹک ہتھکنڈے آزمانے کی بجائے شوکت عزیز صاحب کو آگے لایا گیا جنہوں نے معیشت اور ریوینیو اپ۔گریڈ کرنے کیلئے کمرشل بینکنگ کو آگے لا کر ٹریکل ڈاؤن اکانومی سٹنٹ سے ملکی معیشت میں ایک زبردست بوم پیدا کیا، اس سے جو معاشی گہما گہمی پیدا ہوئی اس کا فائدہ اٹھانے کیلئے لوگ ٹیکس کلچر میں آنے پر بھی مجبور ہوتے گئے، ٹریکل ڈاؤن سٹنٹ کیا اور کیوں ہوتا ہے اسکی تفصیل چیپٹر۔فورٹین میں پیش کریں گے جب ہم معیشت کا مطالعہ کرکے اپنے مسائل کا حل ڈھونڈیں گے تو اسے دیکھنے کی ضرورت بھی پڑے گی۔

 

 

کل ملا کر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ مشرف صاحب کے عزم، شوکت عزیز صاحب کی پالیسیوں اور یوسف عبداللہ صاحب کے انتظامی کردار و بزنس کمیونیٹی کیساتھ فرینڈلی ایگریمنٹس نے اس ریوینو کو نہ صرف ترقی کی راہ پر ڈال دیا بلکہ جو ریوینیو پچھلے باون سالوں میں بمشکل تمام 300 ارب تک پہنچ پایا تھا اس کے اندر صرف چار پانچ سالوں میں 1000 ارب روپے کا اضافہ کرکے بھی دکھا دیا اور مستقبل کیلئے تسلسل کی ایک ایسی راہ بھی قائم کر دی جس سے ریوینیو کلیکشن، قومی خزانہ اور قابل تقسیم آمدنی دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرنے لگی۔

 

 

اس کارخیر میں ان تین افراد کے علاوہ اگر کسی کا کردار ہے تو اس انٹرنیشنل مالیاتی ادارے کا ہے جس سے ہم قرض پہ قرض لیتے رہے ہیں، اس ادارے نے بھی اپنی پرزور سفارشات پیش کر رکھی تھیں کہ ہمارا قرضہ لوٹانے کیلئے اپنے ریوینیو کلیکشن کی صورتحال کو بہتر بنائیں اور اکانومی کو سو فیصد رجسٹریشن کی طرف لائیں لیکن اس کی کوئی نہیں سنتا تھا۔

 

 

کچھ لوگ مشرف صاحب، شوکت عزیز، عبداللہ یوسف کو اس بات کا کریڈٹ نہیں دیتے اور کوئی خاص وجہ بھی نہیں بتا سکتے سوائے اس کے کہ ٹیکس سسٹم کو سموتھ نہیں کیا جا سکا، وہ تو اب تک بھی نہیں کیا جا سکا لیکن بتدریج آنلائن اور دیگر انتظامی مشکلات دن بدن سموتھ ہو رہی ہیں، مجھے ان کی مدح سرائی کا ذاتی شوق نہیں ہے لیکن حقدار کو اس کا حق دینا چاہئے، کراچی چیمبر آف کامرس اور اسوقت کی گواہ بزنس کمیونٹی انہیں 1000 ارب روپے کا کریڈٹ ضرور دیتے ہیں۔

 

 

[پرویز مشرف صاحب کے بعد کی سچوایشن]

پرویز مشرف صاحب کے بعد دوسرا بڑا مائل اسٹون پیپلزپارٹی کی گورنمنٹ ہے جس نے اسی ریوینیو میں لگ بھگ 900 ارب کا اضافہ کیا اور پھر ن۔لیگ کی حکومت نے بھی ایف۔بی۔آر کی ان پالیسیوں میں ارتقائی عمل کو جاری رکھتے ہوئے کم و بیش اتنا ہی مزید اضافہ کیا، البتہ ان دونوں جمہوری ادوار میں بزنس کمیونٹی کیلئے کوئی نرم گوشہ روا نہیں رکھا گیا جیسا کہ پرویز مشرف صاحب کی ٹیم نے رکھا تھا بلکہ آمریت کے مقابلے میں یہ دونوں جمہوری ادوار بزنس کمیونیٹی کیلئے سخت مشکلات کا پیش خیمہ رہے ہیں، پھر بھی ان دونوں جمہوری ادوار کو بھی 2000 ارب روپے اضافہ کرنے کا کریڈت جاتا ہے۔

 

 

رواں مالی سال میں ریوینیو+ریسورسز کا کل ٹارگیٹ 3600 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، اس کے ساتھ کچھ کیپیٹل پروسیڈز اور کچھ قرضے ملا کر مرکزی بجٹ اس سال کیلئے 4895 ارب روپے کی بلند ترین سطح کو چھو رہا ہے، صوبائی کلیکشنز اس کے علاوہ ہیں اور وہ بھی اسی رفتار سے بڑھی ہیں، اگر صوبائی کلیکشنز کو بھی اس میں شامل کرلیں تو کل مرکزی و صوبائی بجٹوں کی سطح 6100 ارب روپے سے کچھ زائد بنتی ہے۔

 

 

کارکردگی کی اہمیت اور نااہلی کا فرق اب خوب واضع ہو جانا چاہئے کہ 1998 تک جو ملک کم و بیش 550 ارب روپے میں چلتا تھا اب 2017 میں وہی 6170 ارب روپے کا بجٹ رکھتا ہے، یعنی گزشتہ 52 سال کا مالیاتی سفر صرف 550 ارب روپے تک پہنچا تھا پھر نئے نظام میں اگلے 18 سال کے اندر اس میں 5620 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔

 

 

ریسورسز جمع کرنے کے آئینے میں 6170 کی تفصیل دیکھنا چاہیں تو اس طرح سے ہے کہ مرکز نے 4895 ارب + پنجاب 610 + سندھ 361 + کے۔پی 203 اور + بلوچستان نے 101 ارب روپے کے ریسورسز جمع کئے ہیں جن کا یہ ٹوٹل ہے۔

 

 

بجٹوں کے آئینے میں دیکھنا چاہیں تو جب مرکزی فنڈز میں سے 2135 ارب صوبوں کا حصہ منہا ہو کر صوبوں کے فنڈز میں جمع ہو گیا تو صوبائی بجٹوں کی شکل کچھ اس طرح کی بنتی ہے، مرکز کا بجٹ 2700 ارب + پنجاب 1681 + سندھ 869 + کے۔پی 505 + بلوچستان 289 + فاٹا گلگت و دیگر گرانٹس 126 ارب جمع کریں تو 6170 ارب روپے بنتے ہیں، فاٹا اور دیگر گرانٹس کی حتمی پوزیشن مجھے نہیں مل سکی البتہ گلگت کا بجٹ 44 ارب ہے اس میں ان کی ذاتی کلیکشن بھی شامل ہوگی، میں نے ایک ذاتی آئیڈیا کے تحت فاٹا گلگت اور دیگر گرانٹس کیلئے مرکز سے 126 ارب نکالے ہیں یہ ایک فیگر کم یا زیادہ بھی ہو سکتا ہے۔

 

 

یہ بات بھی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی و شافی ہو گی کہ 1998 میں سندھ کا کل بجٹ صرف 54 ارب روپے تھا جس میں 25 ارب این۔ایف۔سی کے تھے اور باقی لوکل کلیکشن، یہی حال پروپورشنیٹلی دیگر صوبوں کا بھی تھا، اسوقت مرکز کی کل کلیکشن 300 ارب تھی اور آج صرف بلوچستان کا بجٹ 289 ارب ہے۔

 

 

مستقبل کی صورتحال کچھ یوں ہے کہ اگر وہ گھوسٹ اکانومی جس کا تذکرہ ہم نے چوتھے پانچویں اور چھٹے چیپٹرز میں کیا تھا اسے ٹیکس نیٹ میں شامل کرلیا جائے اور معیشت کی متذکرہ بیماریوں پر کچھ کنٹرول کیا جائے تو ہماری لوکل کلیکشن 5000 ارب سے زائد اور دیگر ریسورسز ملا کر 6170 ارب کا فیگر ڈبل۔اپ بھی ہو سکتا ہے جو بلاشبہ ترقی کے بیش بہا نئے دروازے کھولے گا۔

 

 

ٹیکسز اور کیپیٹل پروسیڈز کی مد میں مرکز جو رقوم اکٹھی کرتا ہے اس میں سے اپنے اخراجات نکال کر باقی رقوم وہ این۔ایف۔سی ایوارڈ کے ذریعے صوبوں کو دے دیتا ہے، پھر صوبے اپنی لوکل آمدنی میں این۔ایف۔سی ایوارڈ کی رقوم جمع کرکے اپنا اپنا صوبائی بجٹ بناتے ہیں جس میں وہ اپنے لوکل کیپیٹل پروسیڈز اور بیرونی قرضے بھی شامل کر سکتے ہیں۔

 

 

۔۔۔۔۔

مرکزی اور صوبائی بجٹنگ کا میجر پارٹ این۔ایف۔سی ایوارڈ کیا چیز ہے اس کا مکمل بیان اگلے باب میں پیش کرتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔

مضمون کا ساتواں حصہ یہاں ملاحظہ کریں

 

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: