ہاتھ والی لکھائی کا مستقبل کیا ہے؟ راہِ عمل کا تعیّن —- تیسری اور آخری قسط

0

یہ اس سلسلہِ تحریر کی آخری قسط ہے۔ بہت سوچا، اپنے پیغام کا عرق میں کیسے مؤثر طور پیش کروں؟ اس کالم کا سٹرکچر اور فارمیٹ کیا ہو کہ سارا موادایک ہی تحریر میں سمٹ جائے؟ آئیں، اسے ہم اس طور سمیٹتے ہیں۔ پہلے مرحلے میں مَیں آپ کے سامنے کچھ ٹکڑے رکھنا چاہوں گا۔ تب ہم تصویر مکمل کریں گے۔

پہلاٹکڑا: سن 2019 میں، میری ایک بھتیجی امریکہ سے سال بھر کی سکالرشپ کے بعد پاکستان لوٹی تو میں نے اسے اسلام آباد بلالیا جہاں اپنے ادارے JEEP کے پلیٹ فارم پر بچوں کے لیے ایک سیریز آف ورکشاپس آغاز ہونے جارہی تھی۔ اسے اس پروگرام میں انگیج کرتے ہوئے میں اس کی حرکات و سکنات اور کام کرنے کے انداز کو بغور نوٹ کرنے لگا کہ بھلا دیکھیں اس بچی میں کیا تبدیلی آئی ہے۔ اور جلد ہی ‘کچھ خاص’ ہاتھ آ گیا۔ میری بھتیجی، لاشعوری طورپر خود کار انداز میں، ہر ایکٹوٹی کے لیے چارٹ پیپر، مارکر، اور ٹھوس اشیا کے استعمال کو ترجیح دے رہی تھی۔ ایک بار کسی نے کہہ دیا کہ اس ایکٹوٹی میں ہم ٹیکنالوجی کو کب شامل کریں گے اور کتنے وقت کے لیے، یعنی سکرین کا استعمال، تو بے ساختہ اس کی زبان سے نکلا:

No use of screen at all! We don’t learn by watching, rather we learn by doing things with hands.

دوسرا ٹکڑا: سن 2020 کے ماہِ نومبر میں راقم نے فیس بُک پر ایک مختصر پوسٹ لگائی۔ موضوع موبائل فون کا بہ کثرت استعمال تھا۔ اس تحریر پر آئے تبصروں میں بہن گلِ رعنا صدیقی کا تبصرہ بہت خاص تھا۔ آپ اِس تبصرے کو میرے گذشتہ کالم میں دئیے مواد میں شامل ایک پیراگراف کے ساتھ ملا کر پڑھیے۔ پہلے بہن کا مختصر تبصرہ ملاحظہ ہو:

“ہماری ایک عزیزہ کینیڈا میں الزائمر کے مرض پر PhD کر رہی ہیں۔ انھوں نے ایک بار بتایا تھا کہ ان گیجٹس کی rays بھی اس مرض میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی ممالک میں اب بچے اور ٹین ایجرزبھی اِس مرضِ نسیاں کا شکار ہو رہے ہیں جو مشرق میں فی الوقت صرف عمر رسیدہ لوگوں کا مرض سمجھا جاتا ہے۔”

اس ٹکڑے میں یہ سطور بھی شامل کر لیں جو پچھلے کالم سے نقل کر رہا ہوں:

“ہاتھ سے لکھنے کا عمل دماغ کے حرکیاتی راستوں motor pathways کوجِلا بخشتا ہے۔ ساتھ میں یہ بتایا گیا ہے کہ اس کا تعلق محض بچوں کے لکھنے سے نہیں ہے، بلکہ ہر عمر کے افراد کو ہاتھ سے لکھنے والی عادت اپنائے رہنی چاہیئے۔ دماغی صحت کا اس ایکٹوٹی کے ساتھ گہرا ناطہ ہے۔ اس میں الزائمر Alzheimerجیسے ناقابلِ علاج مرض سے محفوظ رہنے کی خوشخبری ہے۔ الزائمر یعنی بھولنے کی بیماری ایک لا علاج بیماری ہے۔ یہ ایک پروگریسو برین ڈِس آرڈر ہے جس میں یاد رکھنے اور سوچنے کی صلاحیت بتدریج کم ہوتی چلی جاتی ہے، اور انجامِ کار تقریباً ختم ہو جاتی ہے۔ دیکھا گیا ہےکہ اس مرض کا شکار انسان معمولی کام انجام دینے سے بھی معذور ہو جاتا ہے۔ گویا یہ ایک عجیب ستم ظریفی irony ہے کہ کمپیوٹر کی-پیڈ والی برقی ٹائپنگ سے دماغ تک جاتے پیغامات دماغ کے حرکیاتی راستوں کو صحت مند الیکٹرک شاکس بہم نہیں پہنچاتے۔ بلکہ صحت مند الیکٹرک شاکس اِن مقامات کو نان الیکٹرک شاکس یعنی ہاتھ والی حرکات سے ملا کرتے ہیں۔”

تیسرا ٹکڑا: بطور استاد خود دیکھ رکھا ہے کہ ٹائپ کیے لفظوں کی مدد سے لکھا بچوں اورحتٰی کہ بڑی عمر کے طلبا کے حق میں بھی ایک بالکل ہوائی سی شے ہے۔ اگرچہ نفسیات اور نیورولوجی اس بات کی تصدیق کر رہی ہیں، تاہم کوئی سائنسی تحقیق یہ ثابت کرے نہ کرے، ہم عملاً یہی دیکھ رہے ہیں کہ ایسا موادذہن میں تادیر ٹھہر کر نہیں دیتا۔ یہ عمدگی سے ہضم یا جذب نہیں ہوتا، کچھ اس طور کہ ذہن اس کو synthesize کرے، تجزیاتی قوت اس کی بنا پر متحرک ہو کر نتائج اخذ کرے۔ انسان کا فور برین (سوچنے اور فیصلہ کرنے کی قوت) مشین اور اسکرین سے خارج ہونے والی ریڈیو فریکوئنسی انرجی سے نادیدہ و غیر محسوس طور متاثر ہو رہا ہے۔

چوتھا ٹکڑا: سن 2019 میں وائرل ہوئی وہ ویڈیو آپ نے دیکھ رکھی ہو گی جس میں ایک آسٹریلین ماں بندوق لیے کھڑی ہے۔ پاس ہی اس کے بچے دیکھے جا سکتے ہیں، ہائی سکول درجہ کے دو بیٹے اور ایک بیٹی۔ ماں کو شکایت ہےکہ بچے اپنے سمارٹ فون اور ٹیب وغیرہ پر مشغول رہنے کے باعث بات تک سننے کو روادار نہیں۔ کہا، “بچّوں کو سوشل میڈیا نے تباہ کر دیا ہے جس پر وہ اُن لوگوں کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں جنہیں وہ جانتے تک نہیں، اور اُن ڈراموں میں غرق ہیں جن کا وہ کبھی حصہ نہ بنیں گے۔” پھر یکایک وہ بچوں کے سیل فونز کواُس شاٹ گن سے اڑا دیتی ہے، یہ کہتے ہوئے کہ اِس جُرم کی پاداش میں بطور ایک parent اپنے رول سے دستبرداری کا اعلان کرتی ہوں۔ اسی ویڈیو میں ایک دوسرا سِین دکھایا گیا ہے۔ ایک باپ کو اپنے بیٹے سے شکایت ہے جسے سکول گریڈز کی پروا نہیں۔ سارا وقت ایکس باکس ویڈیو گیم کی نذر ہو رہا ہے۔ باپ نے کمپیوٹر سسٹم کا CPU اٹھایا اور باہر لیجا کر توڑ ڈالا۔ اس ٹکڑے کا پیغام یہ ہے کہ گیجٹس کی لَت پڑجانا بےقابو پن پیدا کرتا ہے۔

پانچواں ٹکڑا: امریکا کی وِس کنسن یونیورسٹی اور دیگر جامعات میں ہوئی تحقیق یہ ثابت کر چکی ہے کہ کِی-پیڈ کے مقابلہ میں کاغذ اور قلم کا امتزاج بصری اور دماغی افعال کو بہتر طور متحرک کرتا ہے، نیز انگلیوں کی اس طور حرکت کا یادداشت سے گہرا ناطہ ہے۔ ہاتھ سے تحریر کرنے کی عادت دماغی نشوونما میں بہتری کی ضامن ہے۔ اس میں مرضِ نسیاں سے محفوظ رہنے کی نوید ہے۔ ہاتھ سے تحریر کے عمل میں تمام حسّیات فعّال ہو جاتی ہیں، نیز ملٹی ٹاسکنگ کی عادت کو push aside کرتے ہوئے لمحہِ موجود پر توجہ مرکوز کرنا پڑتی ہے۔ گیجٹس کے ساتھ قربت میں ریڈیو فریکوئنسی انرجی اور الیکٹرو میگنیٹک ریڈی ایشن اپنا اثر دھیرے دھیرے نادیدہ و غیر محسوس انداز میں دکھاتی ہیں۔ اس کے نتائج ذہنی دباؤ، دماغی کینسر، نظر کی کمزوری، یادداشت میں کمی، فکری قوت میں تنزّل، نیند میں بے آرامی، اور قوتِ مدافعت یعنی اِمیون سسٹم کا کمزور ہو جانا ہے۔ گیجٹس کو مستقلاً پاس رکھنے سے اینگزائٹی ڈِس آرڈر بھی پیدا ہو رہا ہے، یعنی سیل فون یا ٹیب وغیرہ کی عدم موجودگی میں طبیعت میں سخت بےچینی پیدا ہو جانا۔

یہ تھے وہ چند ٹکڑے۔ اب تصویر مکمل کرتے ہیں۔ یاد رہے، ہمارا موضوع ہینڈرائٹنگ بمقابلہ کِی-بورڈ ہے۔

کی-بورڈ تو ٹھہرا ایک اٹل اور ناقابلِ گریز حقیقت و ضرورت۔ سوال پیدا ہوتا ہے پھر ہم کیا کریں؟ کمرہِ جماعت ہو یا سماج کا عمومی منظر نامہ، ٹیکنالوجی پچھلے بیس برسوں میں بتدریج اس قدر دَر آئی ہے کہ اِس بِنا کسی کام کا تصوّر تک کرنا محال ہے۔ اس تناظر میں کہا جا سکتا ہے کہ رائٹنگ بائی ہینڈ کو اب پچھلے بنچوں پر بیٹھنا ہو گا۔ پھر راہِ عمل کیا ہے؟

یہ راہِ عمل یا حل پیغمبر علیہ الصلٰوۃ والتسلیم کے ایک دل پذیر بیان میں بند ہے۔ فرمایا: “معاملات میں میانہ روی/اعتدال اختیار کرو۔ نہ کر سکو تو اس سے قریب رہو۔ ” اسی سے منسلک اب دوسرا سوال : اس معاملے میں اعتدال سے کیسے قریب رہا جائے؟ اوپر دئیے ٹکڑوں کی مدد سے تصویر کیسے مکمل کریں؟ مجھ ناچیز کی رائے میں مکمل تصویر یوں ہے:

1۔ آئندہ مہ و سال ہمارے گردوپیش میں، بحرو بر پر، ٹیکنالوجی کا کیسا ہی گردوغبار کیوں نہ چھا جائے، خوش خطی یعنی رائٹنگ بائی ہینڈ کے عمل کو زندہ رکھنا ہو گا۔ دستی تحریروالا ہُنرہمارے بچوں، ہماری نسلوں کی زندگی میں ہَوا اور آکسیجن جیسا ضروری ہے۔ قلم و قرطاس کے ساتھ انسانی لمس کا رشتہ اُستوار رہنا گویا انسان رہنا ہے۔ ورنہ ہم اور ہماری اولادیں قطعی مکینیکل قسم کے روبوٹ بننے جا رہے ہیں۔ ٹیکنالوجی کی بہ کثرت قربت جذبہ و احساس کی موت ہے۔ کلامِ اقبال ک میں اس شعر نےاسی موقع کےلیے جنم لیا تھا :

ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
احساسِ مروّت کو کچل دیتے ہیں آلات

2۔ وہ وقت دور نہیں جب دنیا بھر میں بیشتر ادارے چھوٹے بچوں کی سطح پر بھی آئی پیڈ اور لیپ ٹاپ پرشِفٹ لے لیں گے۔ جیسا کہ کالم کی دوسری قسط میں عرض کیا کہ ناروے میں بھی یہ فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ کوئی حرج نہیں، کر گذریں۔ صاف لگ رہا ہے، امتحانات میں کِی-بورڈ والا آپشن دینا ہو گاتاکہ وہ بچے جو ہاتھ سے لکھائی والے عمل میں کمزوراور سُست رَو ہیں کسی خوف کا شکار نہ ہوں۔ اس مجبوری کے تحت امتحانات اگر پرائمری سطح پر بھی کِی-بورڈ پر لیے جائیں تو مضائقہ نہیں۔ تاہم، جب ایسی صورت حال عملاً چھا جائے تو اس نئے منظر نامے میں ہر بچے کے لیے لازمی قرار دیا جائے کہ ایک ہفتے کے دوران اُسے دس سے پندرہ سطروں پر مشتمل پانچ عدد پیراگراف ہاتھ سے لکھ کر جمع کرانا ہیں۔ سکول سطح پر ایک پورا پیریڈ، ہفتہ بھر میں تین بار، اس کام کے لیے مختص کیا جا سکتا ہے۔ جبکہ بطور ہوم وَرک، ہفتہ بھر کے لیے، پانچ عدد پیراگرافز دئیے جا سکتےہیں۔ اس کام کے باقاعدہ نمبر مختص کر دئیے جائیں جو بچے کے ماہوار اور سہ ماہی امتحانات کے نتائج میں شامل کیے جائیں۔ اور ایسا نہ کرنے والے کو رزلٹ کارڈ جاری کرنے سے انکار کر دیا جائے۔

3۔ اگر ممکن ہو تواس خاطر سکول سطح پرایلیمنٹری کلاسز سے لے کر مڈل سکول کلاسز تک رائٹنگ بائی ہینڈ کو ایک لازمی جُز کے بطور جاری رکھا جائے۔ آٹھویں جماعت تک بچے کی زندگی کا ہر دن اس مشق سے ہو کر گذرے، کم از کم پندرہ سے بیس منٹ! جماعت اوّل سے جماعت ہشتم تک کام کا غالب حصّہ وَرک بُکس پر کروایا جائے۔

3۔ نویں، دسویں اوراس سے آگے کی جماعتوں میں یہ فیچر لازمی قرار دیا جائے کہ طلبا اپنے ہر مضمون کا اولین ڈرافٹ ہاتھ والے مسوّدے کی صورت باقاعدہ جمع کرائیں گے۔

4۔ کمرہ جماعت میں سبق کے دوران نوٹس لینے کا عمل بھی دستی طور انجام دینا لازمی قرار دیا جائے۔

5۔ بچے جب گھر میں ہوں تو اس دوران یہ اصول بنائیں کہ وہ اپنے اپنے گیجٹس پرطویل دورانیئے کی فلم اور کارٹون نہیں دیکھیں گے۔ ایسی تفریح ٹیلی ویژن اسکرین تک محدود کر دی جائے۔ تاکہ چھوٹی اسکرین سے دوری پیدا ہو۔ نیز، بڑے بچوں کو بھی علمی اور شعوری اعتبار سے قائل کریں کہ ایک وقت میں آدھ گھنٹہ سے زیادہ متواتر اسکرین کے سامنے نہیں بیٹھنا، اور یہ کہ گیجٹس کا استعمال تعلیمی ضروریات تک محدود رکھنا ہے۔ آپ خود بچوں سے کہیں، اُنہیں لیڈرشپ رول دیں کہ وہ ایسا مواد تلاش کر کے آپ کے ساتھ شیئر کریں جس میں سکرین ٹائم کی مذمّت کی گئی ہو۔ اس موضوع پر بار بار گفت و شنید ہو، ریمائنڈر ملے۔

6۔ تیسری جماعت سے لے کر دسویں جماعت تک یہ فیچر مستقلاً اپنا لیا جائے کہ ہر جماعت کے لیے ہر سہ ماہی میں ایک عدد سٹوری بُک کا انتخاب کیا جائے۔ اب پہلی بات، بچے یہ کتاب (ہارڈ فارم کتاب) مکمل پڑھیں گے۔ دوسری بات، اس پر تیس عدد مختصر سوالوں کے جوابات ہاتھ سے لکھ کر جمع کرائیں گے۔ تیسری بات، کتاب میں سے دس سے پندرہ پیراگرافز ہاتھ سے لکھ کر جمع کرانا ہوں گے۔ چوتھی بات، اس کام کے نمبر مختص کیے جائیں، اور سہ ماہی امتحان کے رزلٹ کارڈ شامل کیے جائیں۔ ایسا نہ کرنے والے کو رزلٹ کارڈ جاری کرنے سے انکار کر دیا جائے۔

آخری بات، گھر میں بچوں کو چھوٹے چھوٹے تحریری ٹاسکس دینا اپنا معمول بنائے رکھیں۔ مثلاً بچہ کوئی شکایت کرے تو آپ کہیں اپنی شکایت لکھ کر دِکھاؤ۔ بازار میں جو کچھ دیکھا، لکھ کر دکھاؤوغیرہ۔ نیز، ہارڈ فارم کتاب میں سے ریڈنگ سیشنز منعقد کرنا ضروری ہے۔ میرا اور میری مسز کا معمول ہے کہ ہم بچوں کے ساتھ مل کر ریڈنگ کیا کرتے ہیں، کتاب اور اسکرین دونوں سے ریڈنگ۔ کوئی نہ کوئی دلچسپ کہانی ہمارے ہاں ہر وقت زیرِ مطالعہ رہتی ہے۔ اس دوران ہم تمام گیجٹس آف کر دیا کرتے ہیں۔ حتٰی کہ لائٹس بھی۔ اور صرف ایک عدد بلب کی روشنی میں ریڈنگ کرتے اور کرایا کرتے ہیں۔ بس اسی طور ہم رائٹنگ بائی ہینڈ اور کتاب کے قریب رہ سکتے ہیں۔ ۔ ۔ اعتدال!

اس سلسلہ کا پہلا مضمون اس لنک پہ پڑھیں

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20