راگنی کی کھوج میں، تصوف کے رنگ میں ڈوبی انوکھی آپ بیتی —– نعیم الرحمٰن

0

پروفیسر ڈاکٹرنجیبہ عارف کی آپ بیتی ’’راگنی کی کھوج میں‘‘ تصوف کے رنگ میں ڈوبی انوکھی داستان ہے۔ جس میں ان کے مرشد محمد عبید اللہ درانی ؒ اور نجیبہ کی داستان یوں گتھی ہوئی ہے کہ انہیں الگ کرنا انتہائی دشوار ہے۔ ڈاکٹر نجیبہ عارف ایک ہمہ گیر شخصیت کی مالک ہیں۔ بتیس سال سے درس و تدریس و تحقیق سے وابستہ اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ اردو کی سربراہ ہیں۔ ڈاکٹرصاحبہ نے پبلک ایڈمنسٹریشن، اردو اور انگریزی زبان و ادب میں ماسٹرز کیے۔ اقبالیات میں ایم فل کی ڈگری حاصل کی اور اردو میں پی ایچ ڈی کیا۔ ہومیوپیتھک سسٹم میں ڈپلوما بھی حاصل کیا۔ اردو میں بی ایس سے پی ایچ ڈی کے نصاب کی تشکیل سے وابستہ رہیں۔ ممتاز مفتی کی شخصیت و فن پرکتاب تحریر کی۔ ان کی شاعری کا مجموعہ ’’معانی سے زیادہ‘‘ دو ہزار پندرہ میں شائع ہوا۔ اردو ادب کا منظرنامہ ’’رفتہ و آئندہ‘‘ لکھا۔ عکسی مفتی کی کتاب ’’اللہ، ماورا کا تعین‘‘ کا ترجمہ کیا۔ سفرنامہ ’’یادیں، جگہیں، چہرے اور خیال‘‘ زیرطبع ہے۔ ان کے پچاس سے زائد مقالات پاکستان، امریکا، جرمنی اور بھارت کے جرائد میں شائع ہوچکے ہیں۔ ان کے فکروفن پر مضامین، ایم اے اور ایم فل کے لیے کئی مقالات لکھے جاچکے ہیں۔

نامورادیب، شاعر، مترجم اوردانشورمحمدسلیم الرحمٰن نے’’تمہید‘‘کے عنوان سے دیباچہ تحریر کیاہے۔

’’ نجیبہ عارف کی کتاب’راگنی کی کھوج میں‘ میں دوزندگیاں گودے اورخول کی طرح آپس میں پیوست ہیں۔ ایک نجیبہ کی آپ بیتی، دوسرے ان کے مرشد محمد عبیداللہ درانیؒ کی زندگی کے حالات جو وقتاً فوقتاً ان کے سننے میں آئے اورجن کی تصدیق ظاہر میں بھی ہوتی رہی۔ یہاں کیفیت کی بات یہ ہے کہ نجیبہ کی محمد عبیداللہ درانیؒ سے کبھی ملاقات نہیں ہوسکی۔ جب ان کی عظمت سے آگاہی ہوئی تو وہ وصال فرما چکے تھے۔ لیکن نجیبہ کی آپ بیتی میں جن واقعات اور محسوسات کا ذکرہے ان سے سراغ ملتاہے کہ آخرالامر ان کادرانی صاحبؒ سے اویسی اندازمیں منسلک ہونا مقدر تھا۔ سو انھوں نے نجیبہ کو اپنی طرف کھینچ لیا۔ نجیبہ عارف کے دل میں، بہت شروع سے، طرح طرح کے سوالات اُمنڈتے رہے۔ اس لیے انھیں بابوں کی تلاش رہی۔ یہی تشنگی نجیبہ کو ممتاز مفتی کے پاس لے گئی۔ مفتی صاحب کے ذریعے سے ہومیو پیتھی تک رسائی ہوئی، ہومیوپیتھی سے قاضی احمد سعید سے شناسائی اوران کے ہومیو پیتھی کے کلینک تک پہنچنے کا موقع ملا اورقاضی صاحب درانی صاحبؒ کی طرف لے گئے، جو بابا قادر اولیاؒ کے مرید ہیں جن کے مرشد مشہورِ عالم بابا تاج الدین ؒ ناگپوری ہیں۔ میں نے نجیبہ کی کتاب کو ناول کی طرح پڑھاہے کہ یہ واقعات اور کرداروں کے تنوع کے سبب سے ناولانہ دل رُبائی کی حامل ہے۔ انگریزی کا مقولہ: ’حقیقت افسانے سے عجیب تر ہوتی ہے‘ اس تحریر پرصادق آتا ہے۔ نہ کہیں خطابت ہے نہ رنگیں بیانی۔ مکالمے سیدھے سادے اور فطری ہیں۔ منظرنامہ بے تکان انداز میں بدلتا جاتا ہے۔ شاید اسی کے مدنظر کہا گیاہے کہ اچھی آپ بیتی اور اچھے فکشن میں کوئی خاص فرق نہیں ہوتا، بلکہ بعض اوقات اپنی بیتی لکھنے والا اپنے امیج کو بنا سنوار اور جھاڑ جھٹک کر پیش کرتا ہے اورقاری فریبی میں مضائقہ نہیں سمجھتا۔ اس کتاب میں اس قماش کی رنگ آمیزی نظر نہیں آتی۔ جو کچھ اس کتاب میں ہے کسی نظر کا فیضان ہے۔ کتاب کے آخر میں ایک رسالہ ’کہاں چلے سادھو رے‘ موجود ہے۔ درانی صاحبؒ نے اسے انیس سو اننچاس میں انگریزی میں لکھاتھا۔ کتاب میں اس کا ترجمہ نجیبہ عارف کے قلم سے ہے۔ یہ پیچیدہ تحریرہے جس کی معنویت کی تہہ تک پہنچنا آسان نہیں۔‘‘

محمدسلیم الرحمٰن لکھتے ہیں۔

’’یہاں درانی صاحب ؒ کی حیات کے مختلف مراحل کا ذکر مقصود نہیں۔ تمام واقعات کا لب لباب نجیبہ کی کتاب میں بہ طریق ِاحسن موجود ہے۔ میں اس میں اضافہ نہیں کرسکتا۔ شخصیت کے دو پہلو خصوصیت سے توجہ کے طالب ہیں۔ اول، درانی صاحبؒ کی استقا مت، دوسرے اطاعت۔ جس چیزکی دھن سوار ہو جاتی تو پھر اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے سے پہلے چین نہ لیتے۔ علی گڑھ میں ایک دن طے کیا کہ یونیورسٹی کا ایک انجیئرنگ کالج ہونا چاہیے۔ ان دنوں ڈاکٹر ضیاالدین یونیورسٹی کے وائس چانسلر تھے۔ درانی صاحبؒ روزصبح کو ان کے دفتر کے باہربینچ پر جا بیٹھتے۔ ڈاکٹر ضیاالدین آتے تو انھیں سلام کرتے۔ وہ پوچھتے؛ کیسے آئے ہو؟ یہ کہتے؛جناب، یہاں انجینئرنگ کالج بنائیے۔ یہاں کام کے لوگ پیدا ہونے چاہئیں۔ یہ افسر شاہی قوم کی تعمیر نہیں کرتی۔ وہ ہنستے اوردفتر میں داخل ہوجاتے۔ ایک دو بجے دفترسے نکلتے تو درانی صاحبؒ کو وہیں بیٹھا دیکھتے۔ درانی صاحبؒ اٹھ کر سلام کرتے اور اپنی بات دہراتے۔ پانچ چھ مہینے وہ روزآکر چپر ا سیوں کے ساتھ بینچ پر بیٹھے رہتے۔ آخر ضیاالدین صاحب نے کہا؛ بھئی تم نہیں مانتے تو اسکیم بناکر لاؤ۔ اس طرح کی استقامت انسان میں اس وقت بیدارہوتی ہے جب وہ انکار، مسلسل انکار، کے سامنے ہارنہ مانے اوراپنی بات پر، جو اس کے خیال میں بالکل ٹھیک ہو، اَڑا رہے۔ اور یہ خوبی درانی صاحبؒ میں بہ درجہِ اتم موجود تھی۔ رہی بات اطاعت کی تودرانی صاحبؒ کے بھی ایک مرشد تھے۔ ان کا نام بابا قادر اولیاؒ تھا۔ 1954ء میں انہوں نے ارشادکیا:’تم پشاور چلے جاؤ اور وہاں نوکری تو خیر کر ہی لوگے مگر اسلام کی نشاط ثانیہ کے لیے کوشش کرو۔ اس کام میں لیکچروں اور ظاہری کوششوں سے زیادہ اثرنہیں ہوتا۔ باطنی حیثیت سے کچھ نہ کچھ کرتے رہنا۔‘ کہاں جنوبی ہندکا ماحول، کہاں خیبر پختون خوا کی فضا۔ دیس اجنبی، آب وہوا مختلف، معاشرہ جدا، زبان اَن جانی۔ لیکن مرشدنے کہہ دیا اس پرعمل لازم۔ پشاور پہنچ کرانھیں بشارت کے ذریعے وادیِ سوات کے کسی پہاڑی مقام پر ٹھکانا بنانے کاحکم ملا۔ 1963ء میں درانی صاحبؒ نے اس مقام کو تلاش کرکے اپنا مستقر بنایا اور اس جگہ کا نام قادر نگر رکھا۔‘‘

ڈاکٹر نجیبہ عارف کی پچیاسی سالہ والدہ ہدیہ ظفرکی دلچسپ آپ بیتی’’جیون دھارا‘‘ بھی حال ہی میں شائع ہوئی ہے۔ جبکہ ان کے شوہرمحمد عارف جمیل کے عمرے کامنفرد اور معلوماتی سفرنامہ ’’حاضرسائیں‘‘ بھی حال ہی میں اشاعت پذیرہواہے۔ گویایک نہ شدتین شد۔ اورہر کتاب ایک سے بڑھ کرایک۔ ’’راگنی کی کھوج میں‘‘ کو قوسین پبلشرز نے انتہائی اعلیٰ آفسٹ پیپرپرخوبصورت طباعت سے مرصع کیا۔ دو سو اسی صفحات کی اس دیدہ زیب کتاب کی بارہ سو روپے قیمت زیادہ نہیں ہے۔ کتاب کاآغازنجیبہ عارف کی دل کو چھوتی تحریر ’’آلاپ‘‘ سے ہوتاہے۔ جس میں مصنفہ نے کتاب کانچوڑ پیش کیاہے۔ کتاب کا انتساب بھی عبیداللہ درانیؒ کے نام ہے، جنہیں ان کے قریبی مریدبابا جان ؒکہتے ہیں۔ اس کے ساتھ حمید نسیم کاشعرہے۔ ’’باباجانؒ کے نام!

دلدارہے تو، خُو ہے تری خاک نشینوں پہ تلطّف
تیری نگہِ کم پہ بھی یاروں کوکرم ہی کا گماں ہے

’’کہتے ہیں عبادت کے دس حصے ہیں، نو حصے خاموشی پرمبنی ہیں اور دسواں عبادت پر۔ یہ خاموشی کی تلاش کا سفر ہے۔ اس خاموشی کی تلاش جوہر آواز، ہرگیت کو بامعنی بناتی ہے۔ خاموشی، جس میں کلام پیداہوتاہے۔ خاموشی، جو تخلیق کامحل وقوع ہے۔ خاموشی جوہے! مگر دکھائی نہیں دیتی، سجھائی نہیں دیتی۔ لیکن خاموشی کی تلاش لاحاصل بھی نہیں رہتی۔ اسی تلاش سے راگنیاں جنم لیتی ہیں۔ راگنیوں سے کہانیاں پیدا ہوتی ہیں۔ کہانیوں میں نظمیں ڈھلنے لگتی ہیں۔ عکس بنتے ہیں۔ آئینے ٹوٹتے ہیں۔ آئینہ گربھی ٹوٹ جاتے ہیں۔ ایک آئینہ ہزارآئینوں میں بدل جا تاہے۔ ایک عکس کے ہزاروں زاویے عیاں ہوجاتے ہیں۔ ٹوٹ جانابھی کتنی نعمت ہے۔ ۔ ۔ زندگی ٹوٹنے نہیں دیتی۔ ٹوٹ ٹوٹ کر جڑنے پر اکساتی ہے۔ بکھرے ہوئے ریزوں کو سمیٹ لینے کی ہوس میں مبتلا رکھتی ہے۔ ماضی، حال اور مستقبل کو یک جان کرلینے کی ترغیب دیتی رہتی ہے۔ زندگی سے کون جیت سکتا ہے!۔ موت بھی نہیں۔ زندگی کو کون باندھ سکتاہے! خوف بھی نہیں۔ ۔ ۔ لوگ کہتے ہیں، کیایہ سب سچ ہے؟ سچ نہیں تو کیا جھوٹ ہے؟ مگر سچ کیاہے اور جھوٹ کیا؟ سچ ہے توکیاہے؟ سچ اور جھوٹ سب ایک خیال ہے۔ یہ بھی ایک خیال ہے۔ ۔ ۔ یہ میرا نام ہے!یہ تیرانام ہے! کیامیرانام ہی میں ہوں؟ کیاترانام ہی توہے؟ اسم ایک مظہرہے۔ صرف ایک پہلو ہے۔ ذات کس نے دیکھی ہے۔ ذات کس نے لکھی ہے۔ کون دعویٰ کرتاہے ذات کو سمجھنے کا!۔ ۔ ۔ مجھ کو کیا خبر ہوتی! خیال تھا؟ حقیقت تھی؟ کچھ تو تھا جو بیتا تھا! کچھ تو تھا جو گزرا تھا! گیلی گیلی مٹی پربھاری بھاری قدموں سے ! جانے کس مکان میں! نہ جانے کس زمان میں! اک تماشالگ گیا تھا۔ کس نے جانے کیا دیکھا! کس نے جانے کیا سمجھا!۔ ۔ ۔ موررقص کرتاہے۔ ناچتاہے جنگل بھی۔ مورنی نہیں کرتی۔ دل میں کیا سمجھتی ہے! کیا کسی نے سوچاہے!۔ ۔ ۔ رقص کس کو کہتے ہیں؟ کون ہے جو طے کرتاہے، رقص کس کو کہتے ہیں؟۔ ۔ ۔ مورنی کے اندر بھی رقص ہوتا ہو شاید ! مورنی بھی نکلی ہو راگنی کی کھوج میں!‘‘

اس تحریر کو نظم کہیں، آزادشاعری یاکوئی اورنام دیں۔ نجیبہ عارف کی آپ بیتی کاخلاصہ اسی کو سمجھنے میں ہے۔ کتاب کا پہلاباب ’’ڈگر پنگھٹ کی‘‘ ہے۔ ملاحظہ کریں کیادلچسپ اور فسوں گر اسلوب تحریرہے۔

’’بابوں سے ملنے کامجھے بچپن سے شوق تھا۔ اس شوق کی شدت میں کہاں کہاں نہ خاک اڑائی، کس کس جگہ کی دھول نہ چاٹی۔ مفتی جی سے بھی اسی شوق میں ملنے گئی تھی۔ پھر جب ان سے تعلق گہرا ہوا تو برسوں انتظار کرتی رہی، کہ چوں کہ وہ بابے ہیں، یاکم از کم بابوں کے رازداں اور مزاج شناس ہیں، خود ہی سمجھ جائیں گے کہ بچے جمورے کی دلی مرادکیا ہے۔ اس میں یہ رمز بھی پنہاں تھی، کہ خود ہی سمجھ گئے تویہ بات بھی پکی ہوجائے گی کہ مفتی جی بابے ہیں بھی یا نہیں۔ آخر بیسویں صدی کی پیداوار تھی، اتنی سی تشکیک تو مجھے روا تھی۔ لیکن جب وہ مسلسل بے نیازبنے رہے اور اِدھراُدھر کی سبھی باتیں ختم ہوگئیں توایک دن اس بے حاصل انتظارسے تھک کر، عادت اور مزاج کے خلاف، خود اپنے منھ سے کہ اٹھّی :’جناب ! آپ سے میل جول کی اصل غرض یہ تھی کہ اس حقیر پُرتقصیر کوکسی بابے کی تلاش ہے۔ براہِ کرم مجھے، زندہ یامردہ، کسی بابے سے ملوائیے، اس کاپتہ دیجئے، اس سے میری سفارش کیجئے، اس سے کہیے مجھ پرنظرِ کرم کرے!‘ مفتی جی نے ایک جھرجھری لی اورمجھ پربرسنے لگے۔ حسب ِعادت گجھی پنجابی میں زور زور سے، بلکہ زور و شور سے انھوں نے ایک لمبی تقریرداغ دی: بابے؟ تو نے بابے کا کیا کرنا ہے؟ ان بابوں کے قریب نہیں جاتے۔ جھلیے، ان بابوں سے بچ کر رہتے ہیں، یہ بڑے ظالم ہوتے ہیں، یہ نظر ڈال دیں توبیڑا غرق کردیتے ہیں، ان سے دور دور رہناہی اچھا ہوتا ہے۔ خبردار! آئندہ ایسی فرمائش نہ کرنا، تجھے کیاپتا، یہ بابے کیسی آگ ہو تے ہیں، ساڑ کے سواہ کر دیتی ہے۔ ۔ وعلی ہذاالقیاس۔ مفتی جی دیرتک گرجتے رہے۔ اور میرادل خوشی سے بلیوں اچھلتا رہا۔‘‘

پھرایک دن ہسپتال سے ان کاخط آیا۔ لکھا تھا:

’’تو نے پہلاخط جو مجھے لکھاتھا وہ ازخود نہیں لکھاتھا۔ وہ خط لکھنا تجھ پرعائد کردیا گیاتھا۔ میں بیمار ہوں، جانے والا ہوں۔ ’وہ‘ مجھ سے پوچھیں گے، وہ ناؤڈب جھلکے کھارہی تھی، تونے اسے بچایا کیوں نہیں؟ڈوبنے کیوں دیا؟ ہوسکے تو مل جاؤ!۔ بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا۔ ڈب جھلکے کھاتی ہوئی ناؤنے اِترا کر سوچا: کام بن گیا۔ کسی نامعلوم ’وہ‘ نے جاتے ہوئے ممتازمفتی کی ڈیوٹی لگادی ہے۔ اب یہ پتوارلے کر طوفانوں کے بالمقابل زور لگائے گا اور میری ناؤ کو دوسرے کنارے کی بہشت تک لے جائے گا جہاں ہر دیوار پر میرے سوالوں کے جواب لکھے ہوںگے، ہر موڑ پر ہدایت نامہ آویزاں ہوگا، ہرچوراہے پر راہنمائی کے فرشتے منتظر کھڑے ہوں گے۔ مجھے سب پتہ چل جائے گا، معرفت عطا ہوجائے گی، وجدان، ایمان، ایقان سب حاصل ہوجائے گا۔ میں سے مومن، مردود سے محبوب ہوجاؤں گی۔ پر کچھ بھی نہ ہوا۔ مجھے ذرا بھی پتانہ چلتاکہ کس طرح وہ اینٹ پر اینٹ رکھ کرمیری شخصیت کے ملبے کو ازسرنو تعمیرکرنے میں مصروف تھے۔ اکثر کہا کرتے: ’دیکھ! نقوش کا حسن پائیدار اثر نہیں رکھتا، جو چیز لوگوں کو باندھ لیتی ہے، غلام بنالیتی ہے، وہ ذہنی حسن ہے۔ نقوش کی محبت زیادہ سے زیادہ ایک دو سال چلتی ہے پھر ختم ہو جاتی ہے، پرسنیٹلی کی محبت ساری عمر رہتی ہے۔ تو بھی اپنے اندر Intellectual attraction پیدا کر۔ اور یاد رکھ، خالی مطالعے سے حسن پیدانہیں ہوتا۔ ڈنک تولکھنے سے آتا ہے۔ تومجھ سے ڈنک مارنا سیکھ لے۔‘‘

واقعات اور طرزِبیان اتنادلچسپ ہے کہ قاری اس میں کھوجاتا ہے اور اسے آگے کیاہوا کی بے چینی کتاب کا مطالعہ جاری رکھنے پر مجبور کیے رکھتی ہے۔ ذرایہ اقتباس دیکھیں۔

’’شاہین نے کئی بار عبداللہ درانی ؒ کا ذکر کیا انھیں زیادہ ترلوگ درانی صاحبؒ کہتے تھے۔ جو قریب آجا تے وہ باباجان کہنے لگتے۔ پھر مجھے ’حیاتِ قادرؒ ‘ مل گئی۔ حیات ِ قادردرانی صاحب کی پہلی اردو کتاب ہے۔ ان کے سلسلے کے لوگ کہتے ہیں یہ تصوف کے سفرکی پہلی سیڑھی ہے۔ درانی صاحبؒ نے اس کتاب میں اپنے مرشد بابا قادر اولیاؒ کی سوانح بیان کی ہے۔ چھوٹی سی کتاب ہے۔ پہلی اوربے دھیان پڑھت میں تو بالکل عام سی لگتی ہے۔ اس کے آخر میں صاحب کتاب نے ایک دعا لکھی ہے جس کا آخری حصہ یہ ہے کہ جو اس کتاب کوخلوصِ دل سے پڑھے گا اسے مرشدضرور نصیب ہوگا۔ اس رات اوراس سے اگلی راتیں، نہ جانے کتنی راتیں، تاروں بھرے آسمان کے نیچے، جب میری آنکھ لگتی تو میں خواب میں صاحبِ کتاب کو دیکھتی، پھر آنکھ کھل جاتی، میں جاگتے ہوئے خواب دہراتی کہ صبح تک بھول نہ جائے، پھر سو جاتی اور خواب پھر شروع ہوجاتا۔ صبح آنکھ کھلتی تو یاد نہ آتاکہ کیابات جاگتے میں سوچی تھی اور کیا خواب میں۔ اب ان میں سے کوئی خواب یاد نہیں۔ میں نے اس بات کو ذرا بھی اہمیت نہ دی کہ صاحبِ کتاب مجھے خواب میں کیوں نظر آرہے ہیں؟ بس کتاب پڑھی اور رکھ دی۔ آگے چل پڑی اوردنیا کے دھندوں میں کھو گئی!‘‘

حیاتِ قادر کے دواقتباسات پیش ہیں۔

’’ایسی ہستیوں کی حیاتِ باطن کاحال لکھنے کی طاقت کسے نصیب ہوسکتی ہے؟ صرف اس فانی جسم کے تریسٹھ سال کے حالات کو پڑھنے کے بعد چشمِ بیناکویہ صاف طور پر نظرآنے لگتاہے کہ فنا ہونے والی چیز تو فنا ہوتی ہی رہتی ہے مگر جوہر اعلیٰ کو بقائے دوام ہے۔ یہ علم و عقل کی رسائی سے باہرکی بات ہے۔ اسے صاحبِ حال ہی کچھ سمجھ سکتا ہے۔‘‘

’’کسی چیز کی ماہیت سمجھنے کے لیے یک رنگی اور ہم آہنگی میسر نہ آسکے تو اتنا تو کم ازکم ضروری ہے کہ اس چیز سے حسن ظن رکھاجائے۔ آگ کو آگ ہی سمجھ سکتی ہے اور پانی کو پانی۔ جب تک فہم اور قلب اس عالم یامقام پرنہ پہنچے، جس عالم میں مقصوداصلی وجودہے، اس وقت تک صحیح طریقہ سے بات نہیں بنتی۔ طالب کے مزاج میں اگر سادگی ہو اس سے پچھلے تصورات دخل اندازی نہ کریں، اور وہ خلوص و محبت سے کسی ہستی کی طرف بڑھے تو ہستی خود، محبت کے جوش میں، اس سے بغلگیر ہوجاتی ہے اور اس میں سماجاتی ہے۔ پہنچے ہوئے تک پہنچنا بھی ایک عبادت ہے۔‘‘

اتفاقیہ طور پر نجیبہ عارف کوقاضی احمد سعید صاحب کی ہومیوپیتھی سے متعلق کتاب ’ہوالشافی‘ ملی۔ اس نے انتساب پر نظر پڑی۔ ’’اپنے ہومیو پیتھی کے استاد اور راہِ سلوک میں مرشد، مسیح الملک، برکت العصر، شمس العارفین، حضرت محمد عبیداللہ درانیؒ کے نام جن سے بڑامحب اور محبوب نہیں ملا۔ ‘‘جسے پڑھ کرنجیبہ کو یاد آیا کہ پشاور کے روحانی سلسلے کے ایک بزرگوار تیس پینتیس سال سے مفت ہومیو دواخانہ چلا رہے ہیں نجیبہ کو علم ہوا کہ یہ وہی قاضی احمد سعید صاحب ہیں اور انہوں نے انھی کے ساتھ ہومیوپیتھی کی مشق کا فیصلہ کرلیا۔ قاضی صاحب کے کلینک کی دنیا ہی کچھ اور تھی۔ جس کا ذکر ’’وہ جو بیچتے تھے دوائے دل‘‘ کے عنوان سے نجیبہ عارف نے کیاہے۔

’’قاضی احمدسعیدکے کلینک کاعجیب ماحول تھا۔ ایک چھوٹے سے کمرے میں قاضی صاحب کی نشست تھی جس کے عین اوپر دیوارپران کے مرشد، یعنی درانی صاحبؒ کی تصویر لگی تھی۔ نیچے کرسی پربیٹھے ہوئے قاضی صاحب کودیکھتی تو دونوں میں کوئی فرق نظرنہ آتا۔ ظاہری حالت میں اس قدر مشابہت تھی کہ حیرت ہوتی تھی۔ قاضی صاحب بہت پڑھے لکھے انسان تھے۔ ادب، موسیقی اور مصوری سے شغف ہی نہیں، گہرا لگاؤ تھا۔ زبان اوراس کی نزاکتوں سے خوب واقف تھے۔ غلط تلفظ پربہت بدحظ ہوتے اوراکثرٹوک دیتے۔ انھیں اوران کی بیگم کو گلابوں اور پھول پودوں سے عشق تھا۔ قاضی صاحب نے عملی زندگی کا آغاز آل انڈیا ریڈیو سے کیا۔ ملازمت کا پورا دور کامیابیوں اور کامرانیوں کی شاندار داستان ہے۔ قیام ِ پاکستان کے بعدان کی زبان دانی کی مہارت کی بناپر انھیں دو سال کے لیے افغانستان میں پریس اتاشی مقرر کیا گیا۔ شاندارخدمات کے اعتراف میں تمغہ قائداعظم سے نوازا گیا۔ فیلڈ مارشل ایوب خان کے افسرِتعلقات عامہ رہے۔ تین مختلف صدور کے ساتھ اسی عہدے پر فائز رہے۔ فرانس کے صدرڈیگال نے ان کے تحریر کردہ ایک مضمون سے متاثر ہوکر انھیں خصوصی اعزازی سند سے نوازا۔ انھیں اعلیٰ خدمات پرتمغہ پاکستان بھی عطا کیا گیا۔ ڈائریکٹر جنرل پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کے عہدے پر فائز اور اسی عہدے سے ریٹائر ہوئے۔‘‘

قاضی صاحب کو درانی صاحبؒ نے اپنے کلینک پر بیٹھنے کی اجازت دی، درانی صاحب مریض کاحال سن کرنسخہ لکھتے اور قاضی صاحب اپنے طور پر دوا تجویز کر کے اپنی ڈائری میں نوٹ کرلیتے۔ کلینک کاوقت ختم ہونے کے بعد استاد اور شاگرد اپنے نوٹس ملاتے۔ یہاں تک کے دونوں کے نسخوں میں کوئی دوئی باقی نہ رہی۔ یوں دو سال کی تعلیم وتربیت کے بعد اذن اور امر دونوں یکجا ہوگئے۔ لندن گئے تو برٹش اسکول آف ہومیوپیتھی کی لائبریری میں فارغ وقت گزارا اور واپس آنے کے بعدچھ سال تک درانی صاحبؒ کی قیام گاہ پرچلنے والے مطب میں خدمات انجام دیں۔ راولپنڈی منتقل ہوئے توانکی اجازت سے ہفتہ وارتعطیل کے دن یہاں بھی مفت کلینک قائم کرلیا۔ انھیں مرشدکی جانب سے دست شفا بھی حاصل تھا مگر مسلسل مطالعہ اور محنت ان کاشعار رہی۔ ہومیوپیتھی پر بے شمار مضامین اور دو کتابیں ’’ہوالشافی‘‘ اور ’’معالجات‘‘ لکھیں۔ مریضوں میں نامور سیاست دان، اعلیٰ حکومتیں عہدے دار، فوی افسر ہر طرح کے لوگ دوا لینے آتے، کئی ایم بی بی ایس ڈاکٹر بھی دوا لینے آتے تھے مگر ہر ایک کو اپنی باری کا انتظار کرنا پڑتا تھا۔

قاضی صاحب کے کلینک کا منظر دیکھ کرنجیبہ عارف کورشک بھی آتا اور افسوس بھی ہوتا کہ وہ درانی صاحبؒ سے ملنے سے محروم رہی تھیں۔ کیا شخصیت رہی ہوگی، جس کے اثر سے ہونے والی چکاچوند اب تک اردگرد پھیلی ہوئی تھی۔
’’قادر نگر جاتے ہوئے نجیبہ نے قاضی صاحب سے استفسار کیا۔ ’’ذکر کیسے راسخ ہوتاہے؟ ’خود کو کسی نقطے پر مرکوز کرلینے سے۔ ‘اب یہ پھر ایک مشکل مقام تھا۔ خودکوکسی ایک نقطے پرمرکوز کرلینا کون سا آسان کام ہے۔ پہلے تونقطے کا تعین ہی ایک مسئلہ ہے۔ تعین ہوبھی جائے تو یکسوئی قائم کرنااورقائم رکھنا، دونوں صبرآزما مرحلے ہیں۔ میں نے کہا۔ ’قاضی صاحب، یہ توبڑی مشکل بات ہے۔ ‘بولے۔ ’مرشد کی توجہ اور کرم ہو تو یہ مشکل آسان ہوجاتی ہے۔ میں نے براہ راست پوچھ لیا۔ ’یہ بتائیے آپ ذکرکرتے ہیںتوکون سی تکنیک استعمال کرتے ہیںکہ توجہ قائم رہے۔ ‘وہ ذراہچکا کر کہنے لگے۔ ’میں محسوس کرتاہوں کہ خانہِ کعبہ سے نورکی ایک لہرنکل کر مرشد کے سینے سے ہوتی ہوئی میرے سینے تک آرہی ہے۔‘ میں نے کہا۔ ’لیکن یہ تو مفروضہ ہے۔ ‘کہنے لگے۔ ہاں، شروع شروع میں مفروضہ ہی ہوتاہے۔ آپ بھی ابتدا میں مفروضہ قائم کرلیں، آہستہ آہستہ یہ حقیقت میں بدل جائے گا۔‘

میرے ذہن کا فیوزاڑ گیا۔ مفروضہ حقیقت بن جائے گا! تو کیا سارا کھیل ہمارے اپنے ذہن کاہے؟ تمام امکانات خودہمارے اندر پنہاں ہیں؟ مرشدصرف ہمارے امکانات کوروشن کرتاہے۔ توکیا اصل حقیقت ہم خودہیں؟ ایک پل کے لیے بجلی کا جھماکا سا ہوا۔ ایک پل کیلیے جیسے ذات سے کائنات تک کا تمام راستہ روشن ہوا اور پھر اگلے پل بجلی کاوہ کوندا سا لہرا کر غائب ہوگیا۔ مجھ پر ایک عجیب سی سنسنی طاری ہوگئی تھی۔‘‘

’’راگنی کی کھوج میں‘‘ میں راہ تصوف میں درپیش ایسے بہت سے سوالات اوران کے جواب موجودہیں۔ جن سے گتھیاں سلجھتی بھی ہیں اور مزید الجھ بھی جاتی ہیں، لیکن مصنفہ کااسلوب بیان اتنادلکش اورواقعات ایسے دلچسپ ہیںکہ قاری کتاب ایک ہی نشست میں ختم کرنے پر خود کو مجبور پاتاہے۔ درانی صاحبؒ کے مریدین میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق چیف جسٹس جوادایس خواجہ اور جسٹس کے ایم صمدانی مرحوم کے علاوہ بہت سے تعلیم یافتہ اوراعلیٰ عہدوں پر فائز افراد شامل تھے۔ جن کااحوال دلچسپی سے بھرپورہے۔ جسٹس صمدانی نے اپنی مختصرآپ بیتی ’’جائزہ‘‘ میں بھی درانی صاحب ؒ کاذکرکیاہے۔

باباتاج الدینؒ اور عبیداللہ درانی کے مرشد بابا قادر اولیاؒ کی شخصیت و کردارکی تفصیلات، باباقادرؒکے پاس درانی صاحبؒ کس حالت میں پیش ہوئے کہ مختلف قسم کی ٹی بی، ریڑھ کی ہڈی کے کئی مہرے ختم ہونے سے بچنے کی کوئی امید نہیں تھی۔ لیکن پھر انھوں نے ایک بہت بھرپور زندگی بسرکی۔ درانی صاحبؒ نے ان کی سوانح ’’حیاتِ قادر‘‘ تصنیف کی۔ جس کے اقتباسات بھی دلچسپی سے بھرپور ہیں۔ قاضی صاحب کے کلینک پرآنے والی روبینہ قزلباش نے درانی صاحب سے پہلی ملاقات اور تصوف کے بہت اہم پہلووں سے نجیبہ کو آگاہ کیا۔ اس باب ’’یہ پری چہرہ لوگ کیسے ہیں‘‘ میں پاکستان کے لیے اعلیٰ ترین خدمات انجام دینے والوں کااحوال اورملک میں ان سے ہونے والے عبرت ناک سلوک کی تفصیلات بھی ہیں۔ روبینہ قزلباش نے بتایا۔ ’’یہ صوفی لوگ اپنی خواہش سے مرجاتے ہیں۔ اپنی ایگو، اپنے جذبات، اپنی خواہشات سے بالاتر ہوجاتے ہیں۔ ان کی کوئی ذاتی خوا ہش یاضرورت باقی نہیں رہتی۔ فنافی اللہ ہوجاتے ہیں۔ عبیداللہ درانی جو باباجان کہلاتے تھے ان بزرگوں میں سے ہیں جن سے دنیاکے نقشے بدلنے کا کام لیاجاتاہے اور جو دنیا پر آنے والی مصیبتوں کو ٹال سکتے ہیں۔ ان کو روحانی کام پرتعینات کیا گیا تھا۔ یہ بات آہستہ آہستہ اور اب جاکر سمجھ پائی ہوں۔ ان کے ذمے جوسب سے ضروری کام تھا وہ اسلام میں وحدت پیدا کرنے کاتھا۔ تمام فرقے، تمام سلسلے، تمام امتیازا ت کو ختم کرنا۔ اسی لیے باباجان نے کتابیں بھی لکھیں کہ لوگ پڑھیں، سمجھیں اور عمل کریں۔ وہ بہت بڑے بزرگ تھے، بہت بڑے، کاش میں اس وقت اس بات کوسمجھ سکتی کہ میں کتنے بڑے بزرگ سے مل رہی ہوں۔‘‘

اس حلقے کے ایک ایک فرد کا ذکر اپنی جگہ دلچسپ اور قابل مطالعہ ہی نہیں معلومات سے بھرپور بھی ہے۔ باب ’’پدرم سلطان بود‘‘ ڈاکٹر نجیبہ عارف کے والد ظفر صاحب کے احوال ِ زیست سے بھرپور اور انتہائی دلچسپ ہے۔ وہ بھی ایک بزرگ باؤ شریف کے پیروکار تھے۔ جن کا ذکرمیں بھی کئی ان کہیاںبیان ہوئی ہیں۔ باب ’’یہ تو ہم کا کارخانہ ہے‘‘ میں ڈاکٹر نجیبہ عارف کی تعلیمی کارگزاریوں اوراعلی عہدوں پرکام کر نے کی تفصیلات ہیں۔ ’’سُرمنڈل‘‘ جسٹس صمدانی اورجسٹس جواد اور ان کی اہلیہ بیناسے ملاقات اوران کے حوالے سے درانی صاحب اور پاکستان کی تاریخ کے بعض اہم واقعات بیان ہوئے ہیں۔ ’’پسِ حجاب‘‘ میں جسٹس صمدانی اور ان کی کتاب ’’جائزہ‘‘ میں موجودبعض حقائق پیش کیے گئے ہیں۔ آخری دو ابواب ’’روشنی اے روشنی‘‘میں عبیداللہ درانی ؒ کی سوانح اور زندگی بھرکی کاوشوں کا مختصر لیکن دل پذیر ذکرہے۔
جبکہ ’’کہاں چلے سادھورے‘‘ درانی صاحبؒ کے انگریزی مضمون کے ترجمے پرمبنی ہے۔

مجموعی طور پر’’راگنی کے کھوج میں‘‘ ایک انتہائی دلچسپ، پراثر اور معلومات سے بھرپورآپ بیتی ہے۔ جس کامطالعہ قاری کی زندگی اورسوچ کا رخ بدل سکتاہے۔ اہلِ دل اس کے اثرسے بیگانہ نہیں رہ سکتے۔ تصوف کی باریکیاں جاننے والوں کے لیے یہ کتاب کسی تحفے سے کم نہیں۔ جسے اہل ِ تصوف کی دنیامیں پہلا قدم قرار دیا جاسکتا ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20