مردوں کے خلاف جنگ —– وحید مراد

0

اس وقت امریکہ میں مردانہ خصوصیات کا حامل ہونا کسی برائی سے کم نہیں۔ پورے سماج میں لڑکوں اور مردوں کے خلاف ایک جنگ جاری ہے۔ شادی اور طلاق کا معاملہ ہو یا علیحدگی اور لڑائی جھگڑے کا، بچوں کی کفالت کا تنازعہ ہو یا حوالگی کا، شعبہ صحت ہو یا شعبہ تعلیم، نوکری کی بات ہو یا عدالتوں سے سزا اور رہائی پانے کی بات، ٹیکس اور سوشل سیکورٹی کا معاملہ ہو یا علاج معالجے کا ہر شعبہ زندگی میں عورتوں کو اضافی سہولیات و مراعات حاصل ہیں جبکہ مردوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔

یہ سب کچھ حادثاتی طور پر نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہوا، اور اس عمل کو قانون سازی کے ذریعے تحفظ دیا جا چکا ہے۔ اس منصوبے کے تحت پہلے مردوں کو بدنام کرنے، ان پر طعنہ زنی کرنے اور انہیں گالیاں دینے کی مہمات چلائی گئیں۔ پھر نوجوان خواتین کی اس طرح تربیت کی گئی کہ وہ مردوں کے خلاف نفرت اور بداعتمادی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ‘زہریلی مردانگی’ کے طعنے دیں۔ فیمنسٹ لٹریچر میں مرد کو ماضی کا مجرم قرار دیتے ہوئے، عورتوں کی حکم عدولی کرنے پر اسےجھاڑ پلانے کا ڈسکورس ترتیب دیا گیا۔ مرد کو کہا جاتا ہے کہ تمہارا دور ختم ہو چکا، اب “نسوانی مرد” کی طرح فرمانبردار بن کر رہو لیکن پھر بھی تمہیں شک کی نگاہ سے ہی دیکھا جائے گا کیونکہ تمہارا کوئی بھروسہ نہیں کہ کس وقت تمہاری سوئی ہوئی غیرت جاگ اٹھے۔

فیمنسٹ تحریک کی مہمات، اسکی ایماء پر کی جانے والی قانون سازی اور انکے نتیجے میں پیدا ہونے والی بحرانی صورتحال میں کئی امریکی نقاد سامنے آئے۔ ان میں مردوں کے ساتھ ایک بڑی تعداد، دردمند دل رکھنے والی خواتین اسکالرز کی بھی ہے جو موجودہ امریکی معاشرتی نظام اور قوانین پرکڑی تنقید کر رہےہیں۔ فیمنزم کی تھیوریز کو غیرسائنسی و غیر علمی ثابت کرتے ہوئے سماج کیلئے انتہائی مضر قرار دے رہے ہیں۔ کرسٹینا میری ہف سومرز (Christina Marie Hoff Sommers) بھی انہی میں سے ایک خاتون اسکالر ہیں۔

کرسٹینا سومرز، امریکن انٹر پرائز انسٹیٹیوٹ میں اخلاقیات کی محقق ہیں۔ اس سے قبل وہ کلارک یونیورسٹی میں فلسفے کی پروفیسر رہ چکی ہیں اور معاصر فیمنزم پر تنقید کے حوالے سے مشہور ہیں۔ انکا استدلال ہے کہ ماڈرن فیمنزم کی سوچ اکثر اوقات ‘مردوں سے غیر معقول دشمنی’ پر مشتمل ہوتی ہے۔ فیمنسٹ تحریک اس بات پر سنجیدگی سے غور کرنے سے قاصر ہے کہ اصناف مساوی ہونے کے ساتھ ساتھ مختلف بھی ہیں۔ کرسٹینا سومرز کی کتابوں میں Who Stole Feminism اور War Against Boys بہت مشہور ہیں۔

متعدد مصنفین نے کرسٹینا سومرز کو ‘انٹی فیمنسٹ’ قرار دیا۔ فیمنسٹ فلسفی ایلیسن جگر (Alison Jaggar) کے مطابق سومرز نے دوسری ویو کا نسائی نظریہ مسترد کردیا جس کے مطابق جنس کا تعین صرف جسمانی خصوصیات و امتیازات سے ہوتا ہے اور صنف کا تعین سماجی تشکیل سے۔ اس سے یہ نتیجہ اخذکرنا مشکل نہیں کہ سومرز کا شمار فیمنسٹ ماہرین کے بجائے انٹی فیمنسٹ اسکالرز میں ہوتا ہے۔ فیمنزم کے دیگر نقاد، کومیل پالیہ(Camile Paglia) اور نینسی فرائیڈے (Nancy Friday) کی طرح، سومرز کی تنقید بھی زیادہ تر اس نکتے پر مرکوز ہے کہ ماڈرن فیمنسٹ ڈسکورس مرد مخالفت پر مبنی ہے۔

کرسٹینا سومرز اپنی کتاب Who Stole Feminism میں لکھتی ہیں کہ ماڈرن فیمنزم معاشرے کے تمام افراد کے حقوق کی بات کرنے کے بجائے صرف جنس اور صنف کے چشمے لگا کر دیکھتا ہے اور اس نے معاشرے کو اصناف کی لڑائی کے ایک اکھاڑے میں تبدیل کر دیا۔ مرد اور عورت کی تفریق اس لئے ابھاری گئی کہ فیمنزم کے جھنڈے تلے زیادہ سے زیادہ عورتیں بھرتی ہوں اور انہیں ‘پدر سری’ کے انجانے دشمن کے خلاف مہم میں استعمال کیا جا سکے۔ اس وقت امریکہ میں فیمنزم پر خواتین کے ایک خاص گروہ کا غلبہ ہے جو عوام کو ہر وقت یہ باور کرانے کی کوشش میں ہے کہ امریکی خواتین آزاد مخلوق نہیں بلکہ پدرسری نظام کےتحت مردوں کے جبر اورظلم کا شکار ہیں۔ امریکی معاشرے میں اس دعوے کی کوئی حقیقت اور بنیاد نظر نہیں آتی۔

سومرز کے خیال میں یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے حقوق نسواں کی تحریک کو چوری کیا اور فلاح و بہبود کے کام کرنے کے بجائے خواتین کو مرد دشمنی پر لگا دیا۔ اس حکمت عملی کے تحت معاشرے کے تمام مظلوم طبقات کے حقوق کی بات ختم کر دی گئی اور کچھ مخصوص لوگوں نے ذاتی مفادات کے ایجنڈے پر کام کرتے ہوئے تعلیم، صنعت اور حکومتی شعبوں میں مراعات حاصل کر لیں۔ بہت سے فیمنسٹ اسکالرز نے سرکاری اور نجی ذرائع سے مالی امداد حاصل کرنے اور تحقیقی مراکز، وومن اسٹڈی کمیٹیز، انتظامی امور وغیرہ میں اعلیٰ عہدوں پر تقرریوں کا اعتراف بھی کیا ہے۔

سومرز، وومن اسٹڈیز اورجینڈر اسٹڈیز ڈیپارٹمنٹس پر بھی سخت تنقید کرتی ہیں۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ

‘اب ایسا ماحول بنا دیا گیا ہے کہ وومن اسٹڈیز اور جینڈر اسٹڈیز کے پروفیسر صاحبان، مردوں کے خلاف جتنا زیادہ غصہ نکالتےاور جتنی زیادہ اونچی آواز میں رونا روتے ہیں، معاشرے میں خواتین کو اتنی ہی زیادہ مراعات حاصل ہوتی چلی جارہی ہیں۔ ان مطالعاتی محکموں میں، غلط اعداد و شمار پیش کرنے والے نسائی ماہرین اپنا لبرل ایجنڈا آگے بڑھانے کیلئے آگ بڑھکانے والے ایسے پیغام جاری کر رہے ہیں کہ ‘عورتیں وینس سیارے کی مخلوق نہیں کہ حدت برداشت کر یں، جہنم میں جانے کے اصل حقدار مرد ہیں’۔

2000 ء میں سومرز کی کتاب لڑکوں کے خلاف جنگ (The War against Boys) شائع ہوئی جس میں بتایا گیا کہ فیمنزم کا گمراہ کن پروپیگنڈا کس طرح نوجوانوں کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ سومرز نے 1980 کے عشرے میں منظر عام پر آنے والی، نسائی ماہرین کی ان تحقیقات پر سخت تنقید کی جن میں یہ تجویز کیا گیا تھا کہ لڑکیوں کو کلاس رومز میں نظر انداز کیا جاتا ہے کیونکہ مرد اکثریتی معاشرے میں لڑکیوں کے بارے میں رویہ بے حسی پر مبنی ہے۔ سومرز نے ان مطالعات کی روشنی میں لڑکیوں کو مراعات دئے جانے کیلئے ترتیب دئے گئے مخصوص پروگرامز پر بھی تنقید کی۔ سومرز کا استدلال ہے کہ یہ پروگرامز ناقص تحقیقات اور تجاویز پر مبنی تھے۔ حقیقت یہ تھی کہ لڑکے پڑھائی میں نسبتاً پیچھے تھے اور انہیں حوصلہ افزائی کی ضرورت تھی۔

کرسٹینا سومرز کے مطابق امریکہ میں فیمنسٹ پروپیگنڈے کے تحت پچھلے تین، چار عشروں میں دیگر شعبہ ہائے زندگی کی طرح تعلیمی نظام میں بھی غلط فہمی پر مبنی یہی نظریہ غالب رہا کہ لڑکوں کو غیر مناسب استحقاق حاصل ہے اور یہ لڑکیوں کے ساتھ صنفی انصاف کے راستے میں حائل ہے۔ اس مفروضے کو اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اس طرح فروغ دیا گیا کہ اکثر اساتذہ اس بات کے قائل ہوگئے کہ لڑکیوں کو خصوصی مراعات دینا ضروری ہے اور وہ اس کی مستحق ہیں۔ جب یہ خیال عام پھیلا دیا گیا کہ اسکول اور معاشرہ لڑکیوں کو ظلم کی چکی میں پیس رہا ہے تو ایسے قوانین اور پالیسیاں بنائی گئیں جن کا مقصد لڑکیوں کو خصوصی مراعات دینا اور لڑکوں کو مراعات کے حصول سے روکنا تھا۔

کرسٹیناسومرز STEM پروگرام کے تحت خواتین کو ملنے والی خصوصی مراعات کی بھی سخت مخالف ہیں۔ انکے خیال میں یہ مراعات سائنسی میدان میں صحت مند مقابلے کی فضا میں رکاوٹ بنتی ہیں اور ان ذہین و محنتی خواتین کو بدنام کرتی ہیں جو اپنی تعلیمی قابلیت کی بنیاد پر آگے بڑھ سکتی ہیں۔ ان کے خیال میں ضرورت اس بات کی نہیں کہ خواتین کو خصوصی مراعات دی جائیں بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ سائنس جیسے اہم کیرئیر کے ساتھ خواتین، زچگی کے مسائل سے کیسے نبٹیں۔

سومرز کے مطابق فیمنسٹ ماہرین کا یہ کہنا کہ ‘گھریلو تشدد پیدائشی خرابیوں کی سب سے بڑی وجہ ہے’ ایک بے بنیاد دعویٰ ہے۔ یہ شہری علاقوں میں گھڑا اور پھیلایا گیا افسانہ ہے۔ اس پروپیگنڈے کی وجہ سے ہی ‘وائنلس اگینسٹ وومن ایکٹ’ جیسے قوانین بنائے گئے اور انکے اطلاق پر سالانہ بلین ڈالرز کی رقوم خرچ ہو رہی ہیں۔ اسی طرح فیمنسٹ ماہرین کا یہ دعویٰ بھی اعداد و شمار میں واضح تحریف ہے کہ ہر سال ڈیڑھ لاکھ خواتین انوریکسیا سے ہلاک ہوتی ہیں (anorexia کم کھانے پینے یا بھوک نہ لگنے کی بیماری ہے۔ یہ ان خواتین کو لاحق ہوتی ہے جو وزن کم ہونے کے باجود اس وہم کا شکار ہوتی ہیں کہ انکا وزن زیادہ ہے)۔ اصل اعداد و شمار کے مطابق یہ تعداد سو سے چار سو کے درمیان رہنے کا امکان ہوتا ہے۔

سومرز کے مطابق فیمنسٹ گروپ پہلے سے ہی یہ پروپیگنڈا کررہے تھے کہ امریکی معاشرے میں خواتین کے ساتھ ہمدردی نہیں پائی جاتی لیکن امریکی ایسوسی ایشن آف یونیورسٹی ویمن (AAUW) نے خاص طور پر اس میں سیاسی دلچسپی لیتے ہوئے ایک جعلی تحقیق کرائی۔ گلیگن (Gilligan) کی اس تحقیق میں پیش کئے گئے خیالات نے پورے معاشرے کو ڈرا دیا کہ لڑکیوں کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے۔ 1990 کے اخبارات نے شہ سرخیوں کے ساتھ یہ خبریں لگائیں کہ گلیگن نے لڑکیوں سے متعلق پوشیدہ بحران کا پتہ لگالیا۔

1991 میں ایسوسی ایشن آف یونیوسٹی وومن (AAUW) نے ایک مہم چلائی جسکا عنوان تھا ‘ایک غیر تسلیم شدہ امریکی المیہ’۔ اس میں اس بات کی تشہیر کی گئی کہ آٹھ اور نو سال کی لڑکیاں تو بہت بااعتماد، مستحکم، ثابت قدم اورپرعزم ہوتی ہیں لیکن جوانی میں قدم رکھتے ہی اپنے آپ کو ناقص تصور کرنے لگتی ہیں۔ اسکی وجہ یہ بتائی گئی کہ معاشرے میں انہیں اعتماد اور مقام نہیں دیا جاتا۔ ملک بھر کے اخبارات میں آرٹیکل لکھوائے گئے کہ لڑکیوں سے صنفی تعصب برتا جا رہا ہے۔ انکی عزت نفس کو بری طرح متاثر کیاجاتا ہے اور وہ اپنی عزت اور وقار کھو رہی ہیں۔

یہ سارا کام AAUW کی اس وقت کی ڈاریکٹر شیروس شسٹر (Sharon Schuster) کر رہی تھیں۔ انہوں نے ایک ‘سائنس نیوز’ نامی رسالے میں کچھ رپورٹیں بھی شائع کروائیں جن میں فیمنسٹ عقائد کو سائنسی رنگ دینے کیلئے چند تحقیقات کا سہارا لیاگیا۔ لیکن یہ سائنسی رسالہ بھی اخبارات میں شائع ہونے والی کمپئین کی طرح اپنے دعوے کا کوئی علمی ثبوت پیش نہیں کرسکا۔ پھر AAUW نے 1992 میں Wellesley College Centre for Research سے ایک تحقیق کروائی کہ اسکول کی کارکردگی میں لڑکیوں پر سیکسزم کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ کلاس روم میں زیاد ہ توجہ دینے والی لڑکیوں کی خوداعتمادی کو منظم طریقے سے دھوکہ دیتے ہوئے پامال کیا جاتا ہے۔ یہ عمل تعصب پر مبنی ہے اور یہ لڑکیوں کی تعلیمی کامیابیوں کو خراب کرنے کا باعث بنتا ہے۔

اس تحقیق کی بنیاد پر اس ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا کہ نظام کی تبدیلی ضروری ہے۔ اس سلسلے میں کچھ لڑکیوں کو خصوصی تربیت دے کر میڈیا کے سامنے بھی لایا گیا اور پھر اخبارات میں مہم چلائی گئی کہ اسکولوں میں لڑکیوں کے خلاف تعصب پایا جاتا ہے۔ اس سلسلے کی کسی رپورٹ میں ناقدین اور مخالفین کا کوئی انٹرویو یا بیان شامل نہیں کیا گیا اس سے ان کی اصلیت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ اس مہم کو بنیاد بنا کر لڑکیوں کیلئے خصوصی فنڈز رکھے گئے اور اسکے بعد سے سب خصوصی پروگرامز صرف لڑکیوں کیلئے چل رہے ہیں، لڑکوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔

1994 میں کانگرس نے صنفی مساوات کا قانون پاس کیا۔ لڑکیوں کے بارے میں پائے جانے والےامکانی تعصب کا مطالعہ کرنے اور اسکا مقابلہ کرنےکے طریقے سکھانے کیلئے لاکھوں ڈالر مختص کئے گئے۔ 1997 میں پبلک ایجوکیشن نیٹ ورک کی سالانہ کانفرنس میں امریکن اساتذہ و طالب علموں کے سروے کے نتائج کا اعلان کیا گیا جس میں صنفی امورکی جانچ پڑتا ل کی گئی تھی۔ یہ سروے لوئس ہیریس اینڈ ایسوسی ایٹ نے مکمل کیا اور اسے میٹروپولیٹن لائف انشورنس کا مالی تعاون حاصل تھا۔

اس سروے میں AAUW کے خدشات اور سفارشات کے منافی باتیں سامنے آئیں اورکلاس رومز میں لڑکیوں پر ظلم اور امتیازی سلوک کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ البتہ اس سروےمیں یہ بات ضرور سامنے آئی کہ موجودہ نظام میں لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کو ہر حوالے سے زیادہ فوائد حاصل ہیں خواہ ان کا تعلق مستقبل کے منصوبوں سے ہو، اساتذہ کی توقعات سےہو، روزمرہ کے کلاس رومز تجربات یا کلاس کے دیگر طالب علموں سے بات چیت کے حوالے سے ہو۔

1998 میں الاسکا یونیورسٹی کے ماہر نفسیات جوڈتھ کلائن فیلڈ (Judith Kleinfield) نے اسکول کی طالبات پر ایک تحقیق کی اور AAUW کی متعدد غلطیوں کو بے نقاب کرتے ہوئے انہیں تجویز دی کہ وہ اپنے ان دعووں پر نظر ثانی کریں۔ AAUW نے کلائن فیلڈ کے کسی بھی اعتراض کا جواب نہیں دیا بلکہ الٹا نیویارک ٹائمز میں ایک خط شائع کروایا جس میں لکھا تھا کہ کلائن فیلڈ کو ہماری بچیوں کی پریشانیاں کم نظر آئیں لیکن ہمیں یہ ایسی ہی نظر آتی ہیں جیسا کہ ہم نے اپنی رپورٹس پیش کی ہیں۔ اتنی بڑی تنظیم کے رہنما کی طرف سے اس طرح کا مضحکہ خیز بیان قابل ذکر ہے۔

ہر طرف سے AAUW کی رپورٹیں جھوٹی ثابت ہونے کے بعد نیو یارک ٹائمز نے بھی ایک اسٹوری شائع کی جس میں AAUW کی رپورٹوں کی صداقت پر سوالات اٹھاتے ہوئے ثابت کیا گیا کہ AAUW کی وہ رپورٹیں جھوٹی تھیں۔ اور یہ سب اس وقت کیا گیا جب لڑکیاں مراعات حاصل کرتے ہوئے تقریباً ہر میدان زندگی میں لڑکوں سے بہت آگے نکل چکی تھی۔ بیس سال بعد حقائق کو سامنے لانا ایسےہی تھا جیسے بیس سال پرانی شادی کی تقریب کو آج جنازے سے تعبیر کیا جائے۔

AAUW کی تمام تحقیقات اغلاط سے پر اورگمراہ کن پروپیگنڈے کا پلندہ تھیں۔ ان میں سے کوئی تحقیق بھی کسی بڑے پروفیشنل تحقیقاتی جریدے میں شائع نہیں ہوئی۔ ان میں بہت سے اعداد و شمار پراسرار طریقے سے غائب تھے۔ حقائق کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ تعلیم کے میدان میں لڑکے پیچھے رہ گئے ہیں نہ کہ لڑکیاں۔ 1997 میں کالج کی سطح پر لڑکوں کا اندارج 45 فیصد جبکہ لڑکیوں کا 55 فیصد تھا اور محکمہ تعلیم کی طرف سے لڑکوں کی تعداد کا یہ سلسلہ مسلسل کم ہونے کی پیشنگوئی کی گئی۔ لڑکیوں کے زیادہ داخلوں کے ساتھ اچھے گریڈز لانے اور اچھی جابس پر تعیناتی کے اعداد و شمار بھی جاری ہوئے۔ صرف کھیل کے میدانوں میں لڑکے، لڑکیوں سے آگے تھے۔ اب خواتین کے گروپ لڑکوں سے انتقام لینے کیلئے کھیل کےشعبے میں بھی لڑکیوں کی تعداد بڑھانا چاہتے ہیں۔ دیگر اعداد و شمار کے مطابق اسکول سے نکالے جانے والے طالب علموں میں لڑکوں کی تعداد زیادہ ہے۔ وہ لڑکیوں سےزیادہ جرائم، شراب نوشی، منشیات میں ملوث ہیں اور ان میں خودکشی کے رجحانات بھی زیادہ پائے جاتے ہیں۔ لڑکوں میں لڑکیوں کی نسبت تین گنا زیادہ عدم توجہی کے مرض (attention-deficit hyperactivity disorder) کی تشخیص ہوئی۔

روایتی تہذیبوں اور معاشروں میں مرد کی شرافت کا وہ تصور نہیں پایا جاتا جو فیمنزم پوری دنیا پر تھوپ رہا ہے۔ روایتی نقطہ نظر یہ ہے کہ تعلیم و تربیت کے ذریعےلڑکوں کی کردار سازی کرتے ہوئے ان میں عزت نفس کا احساس پیدا کیا جائے۔ نوجوانوں کو تہذیب یافتہ بنانے کے راستے میں حائل رکاوٹوں اور مشکلات کو دور کیا جائے۔ ایک اچھا اور باضمیر انسان ہی شریف مرد کہلانے کا حقدار ہوتا ہے۔ روایتی نقطہ نظر نوجوان لڑکوں کی فطرت کا احترام کرتا ہے اسے مسخ نہیں کرتا۔ روایتی معاشروں کی اسی تربیت کا نتیجہ ہے آج لبرل ازم، سیکولر ازم اور فیمنزم کی پیدا کردہ کئی اخلاقی الجھنوں کے باوجود، زیادہ تر نوجوان ‘شریف آدمی’کی اصطلاح سمجھنے کے ساتھ اسکے پیچھے کارفرما روایتی تصورات کو بھی مانتے ہیں۔ AAUW کی جعلی تحقیقات کے نتیجے میں صرف امریکہ میں ہی قانون سازی نہیں ہوئی بلکہ دنیا بھر میں یہ قوانین ایکسپورٹ بھی کئے گئے۔ جن ممالک میں ان قوانین کے چربے اپنائے گئے وہاں بھی وہی نتائج نکل رہے ہیں جو کچھ عرصہ پہلےامریکہ میں مختلف بحرانوں کی شکل میں نکلے۔ گویا امریکہ میں مردوں کے خلاف شروع ہونے والی جنگ اب دنیا بھر کے مردوں کے خلاف لڑی جا رہی ہے اور انہیں اس بات پر مجبور کیا جا رہا ہے کہ اگر وہ’ شریف آدمی’ کہلوانا چاہتے ہیں تو مردانگی سے دستبردار ہوجائیں۔

فیمنزم کی یہ تھیوری کہ نوجوان لڑکوں کی مردانگی کم کرتے ہوئے انہیں مہذب بنایا جائے بالکل غلط اور غیر فطری ہے۔ لڑکوں کی پرورش بالکل اسی طرح نہیں ہوسکتی جس طرح لڑکیوں کی ہوتی ہے۔ اگر ایسا کریں گے تو لڑکوں کی عزت نفس مجروح ہوگی۔ ہر معاشرے کےذمہ دار معلمین کا فرض ہوتاہے کہ وہ ناگوار، مکروہ اور غیر فطری تصورات کی ترویج سے باز رہیں۔ فیمنسٹ آئیڈیالوجی کے ذریعے جس تعصب کو ہوا دی گئی ہے اس میں سے اسکے علاوہ کوئی قدر برآمد نہیں ہوتی کہ لڑکیوں کی شرکت ہر شعبہ زندگی میں بڑھ گئ ہے۔ لیکن اس بات پر غور نہیں ہو رہا کہ یہ سب کچھ لڑکوں کی قیمت پر ہوا ہے۔ اس غیر منصفانہ عمل سے پیدا ہونے والی تباہی و بربادی، اس سے حاصل کئے گئےفوائد سے کہیں زیادہ ہے۔

فیمنزم کے مفروضہ ‘پدرسری نظام’ کے تاریخی و سائنسی ثبوت نہ ملنے کے باوجود اگر اسے تھوڑی دیر کیلئے درست مان لیا جائے تو پھر بھی اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ آج کے جدید تمدن میں اسکے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ آج کے دور میں پیدا ہونے والے لڑکوں کو یہ طعنہ دیا جانا کہ وہ تاریخ میں عورت پر ہونے والے ظلم اور جبر کے ذمہ دارہیں، حقیقت کا منہ چڑانے کے مترادف ہے۔ وہ نوجوان لڑکے جن کا سماجی امتیاز سے کوئی تعلق نہیں انہیں اس بات کا مورد الزام ٹھہرایاجاتا ہے وہ جابر اور ظالم ہیں۔ وہ کالج اور یونیورسٹی کے کلاس روم میں اپنے دور کی ماڈرن لڑکی کے برابر میں بیٹھ کر اپنے آپ کو کوس رہے ہوتے ہیں کہ وہ لڑکی جس کو ‘نظر انداز ہونے والی لڑکی’ کہا جاتا ہے وہ ان لڑکوں سے زیادہ بولنے والی، زیادہ پختہ کار، زیادہ مراعات یافتہ، زیادہ اچھے مستقبل کے امکانات رکھنےوالی نظر آتی ہے۔ ان لڑکوں کو اس بات پر بھی یقین ہوتا ہے کہ اساتذہ لڑکیوں کو سوال پوچھنے، آس پاس رہنے کو ترجیح دیتے ہیں اور ان پر زیادہ مہربان ہوتے ہوئے زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ وہ لڑکے اس بات سے بھی واقف ہیں کہ بظاہر انہیں غالب اور پسندیدہ جنس قرار دیا جاتا ہے لیکن درحقیقت وہ زیادہ نظر انداز ہونے والی مخلوق ہیں۔

تعلیمی میدان میں وسیع کی جانے والی صنفی تفریق کی خلیج، لاکھوں لڑکوں کے مستقبل کیلئےخطرہ ہے۔ لڑکوں کو تعلیمی، جذباتی، نفسیاتی اور کئریر کے معاملات میں مدد اور رہنمائی فراہم کئے جانے کے بجائے سارا زور انکی مردانگی کو کم کرنے پر ہے۔ اصناف کےدرمیان پیدا کی گئی نفرت اور ناراضگی کی فضا ختم کئے بغیر لڑکوں کو آوارگی، منشیات، جرائم اور خودکشی کے دلدل سے نہیں بچایا جا سکتا۔ دونوں اصناف کے ساتھ منصفانہ، عادلانہ اور متوازن سلوک روا رکھے بغیر لڑکوں کو واپس پٹڑی پر نہیں لایا جا سکتا۔ اس بات کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ لڑکوں کیلئے امتیازی قوانین اور قاعدے لڑکیوں کی تنظیموں کے ذریعے بنوائے جائیں۔ اگر تعلیمی اداروں کو فیمنسٹ تحریک، تنظیموں اور انکے جنسی اختلافی امور سے پاک نہیں کیا گیا تو پوری انسانیت کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20