لفظوں کا جادو —- منزہ فرید

0

لفظ کوئی اچانک پیش آ جانے والا حادثہ نہیں ہوتے کہ یکایک ہی آواز بن کر منہ سے ادا ہو جاتے ہیں، جی نہیں ہم سب بخوبی جانتے ہیں کہ لفظ بھی دنیا کی ہر چیز کی طرح پہلے ہمارے دماغ میں سوچ بن کر تخلیق پاتے ہیں اور پھر حقیقت کے روپ میں ڈھل جاتے ہیں۔

یہ بات نہ صرف روحانی طور پر تسلیم شدہ ہے کہ ہم جیسا گمان کرتے ہیں ویسا ہی حقیقت میں پاتے ہیں بلکہ سائنسی طور پر بھی ثابت ہو چکا ہے کہ دراصل ہم وہی ہوتے ہیں جیسا سوچتے ہیں۔ لہذا ایک بات تو یہیں طے ہو گئی کہ ہمارے بولے گئے لفظ ہماری سوچ کا صوتی اظہار ہوتے ہیں جو کہ بہت اثر رکھتے ہیں۔ گو کہ لفظوں کا جادو تو ہم سب کے ہی سر چڑھ کر بولتا ہے لیکن اس وقت میرا موضوع صرف اور صرف ہمارے الفاظ اور ہمارے بچے ہیں۔ کہ کس طرح ہمارے وہ الفاظ یا اپنے بچوں کو دئے گئے القابات جو ہم کبھی بہت سوچ سمجھ کر اور کبھی بناء سوچے سمجھے یا عادتاً ہی بول جاتے ہیں وہی الفاظ یا القابات ہمارے بچوں کو بگاڑ بھی سکتے ہیں اور سنوار بھی سکتے ہیں یہ بھی طے شدہ بات ہے کہ اچھے اور مثبت الفاظ اچھے نتائج دیتے ہیں جبکہ برے اور منفی الفاظ منفی ردعمل سے دو چار کرتے ہیں۔ ہمارے بچے جو اپنی عمر کے خاص حصے تک اپنے دو رشتوں پرخصوصاً انحصار کرتے ہیں وہ ہیں ماں اور باپ۔ اس میں کو ئی دو رائے نہیں کہ دنیا کا ہر ماں اور ہر باپ اپنے بچے کا بہترین خیر خواہ ہوتا ہے اور دل وجان سے اپنے بچوں کو کامیاب دیکھنا چاہتا ہے لیکن اسی ٹھوس حقیقت سے یہ سوال بھی جنم لیتا ہے کہ پھر کیا وجہ ہے کہ والدین کے چاہنے اور کوشش کے باوجود کوئی بچہ اپنے تعلیمی اور سماجی میدان میں بہت کامیاب اور کوئی ناکام ہو جاتا ہے بلکہ کتنا حیران کن ہوتا ہے یہ سچ کہ ایک ہی والدین کے دو بچے ہوں تو ایک ناکام معاشرتی رکن بنتا ہے اور دوسرا کامیاب ہو جاتا ہے جی ہاں ایسا اکثر دیکھا اور سنا گیا ہے۔ کیا اس کی تمام تر ذمہ داری قسمت پر ڈال دینی چاہئے یا خود بچے کی دماغی صلاحیتوں کو مشکوک بنا کر خود بچے پر ہی ڈال دینی چاہئیے۔۔۔۔۔ جی نہیں بالکل بھی نہیں اگر آپ کا بچہ ابھی کامیابی کی مطلوبہ سیڑھی پر قدم نہیں رکھ پا رہا تو تھوڑی دیر کے لئے اپنے اندر کی گہرائی میں اترئیے اس وقت آپ کو کوئی دوسرا نہیں دیکھ رہا۔ آپ کو ایک جائزہ ہی کرنا ہے اور اس جڑ کو پکڑنا ہے جو بچے کی قابلیت کی نشوونما میں روکاوٹ ڈال رہی ہے گو کہ یہ بھی ایک کھرا سچ ہے کہ ہمارے بچوں کی کامیابی یا ناکامی کے پیچھے بہت سے دوسرے مثلاً صحت، ماحول اور معاشی صورتِ حال جیسے عوامل بھی کار فرما ہوتے ہیں مگر یہ ثابت شدہ ہے کہ سب سے طاقتور کردار وہ الفاظ یا القابات ادا کرتے ہیں جس سے والدین خصوصاً اور استاد یا دوسرے معاشرتی رشتے عموماً بچے کو نوازتے ہیں کیونکہ الفاظ وہ جادو ہیں جو بیمار بچے کو صحت مند اور کم ذہین بچے کو قابل ترین بنا سکتے ہیں یعنی الفاظ دوسرے تمام عناصر پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں آئیے میرے اس دعوے کو پہلے اپنے روز مرہ تجربے سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر کوئی آپ کا پیارا آپ سے گلے ملتے وقت یہ کہہ دے کہ خیر تو ہے آج آپ کی رنگت پھیکی پھیکی لگ رہی ہے آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟ اگر آپ نے ان کی رائے کو دل پہ لے لیا تو یقین مانئیے آپ ٹھیک ٹھاک ہوتے ہوئے بھی ڈاؤن محسوس کریں گے اور اگر کسی نے دن میں دو تین بار بول دیا تو بس۔۔۔

تھامس ایڈیسن کا نام تو آپ نے بھی سنا ہو گا آپ کی یاددہانی کے لئے ان کے بچپن کی ایک حقیقت آپ کے سامنے مختصراً دہرانا چاہوں گی وہ اپنی ابتدائی کلاسز میں اس قدر نالائق تھا کہ اس کے سکول پرنسپل نے ایڈیسن کی والدہ کو ایک لیٹر بھیجا کہ معذرت خواہ ہیں کہ آپ کا بچے کی قابلیت اتنی کم ہے کہ کوشش کے باوجود مزید اس سکول میں پڑھنے کا اہل نہیں۔ یہ پڑھ کر ماں کی آنکھوں میں آنسو آگئے تب ایڈیسن نے ماں سے حیران ہو کر معصومیت سے پوچھا کہ ممی اس میں کیا لکھا ہے تو ماں نے کہا کہ بیٹا آپ کے پرنسپل نے لکھا کہ ایڈیسن اتنا زیادہ ذہین بچہ ہے کہ یہ سکول اس کے قابل نہیں یہ پڑھ کر خوشی سے میری آنکھوں میں آنسو آ گئے بیٹا، ہم سب جانتے ہیں کہ پھر اس کے بعد “تھامس ایڈیسن” پہلے بلب کا اور پھر سینکڑوں ایجادات کا موجد بنا کیونکہ اس نے ماں کی بات کو دل سے مان لیا تھا کہ وہ بہت ذہین ہے۔ کیا آپ کو ایک ماں کے اچھے لفظوں کے جادو پر کو ئی شک ہو سکتا ہے۔

آئیے ایک اور مثال سے دیکھتے ہیں کہ برے لفظ بھی کس طرح کالا جادو یا بلیک میجک کرتے ہیں۔ ایک باپ تھکا ہارا دفتر سے گھر آیا کیونکہ آج دفتر میں دن بہت خراب گزرا تھا گھر میں سات سالہ بچی اپنی مستی میں مست خوبصورت آواز میں گنگناتی پھر رہی تھی کہ باپ جو بلاشبہ اپنی بچی سے بہت پیار کرتا تھا نے اس وقت جھنجھلا کر کہا بند کرو یہ اپنی بھدی اور بے سری آواز۔۔۔ خاموش ہو جاؤ۔ یقین مانئیے بچی نے اپنے باپ کی بات کو دل سے محسوس کر لیا کہ پھر باپ کو تو شاید یاد بھی نہ رہا کہ اس کے وقتی جذباتی بے بسی سے بولے گئے الفاظ نے کا کیا کالا جادو کر دیا کہ بچی (جو سکول کی بہترین پرفارمر تھی) نے پھر کبھی کسی سرگرمی میں حصہ نہ لیا بلکہ اس نے دوستوں تک کے درمیان بولنا کم کر دیا کیونکہ اس نے دل سے مان لیا تھا کہ اس کی آواز بھدی اور بے سری ہے یہ تھا باپ کے بے دھیانی میں کہے الفاظ کا کالا جادو۔

یقین مانئیے کہ اگر آپ اپنے بچے سے بات کرتے وقت لفظوں کا چناؤ درست اور مثبت کرتے ہیں تو میں آپ کو سیلوٹ کرتے ہوئے مبارک پیش کرتی ہوں کیونکہ آپ اپنے کامیاب بچوں کے کامیاب والدین ہیں لیکن اگر آپ بات کرتے وقت خود پہ کنٹرول کھو دیتے ہیں اور اپنے بچے کی کسی بھی کوتاہی پر منفی ردعمل دیتے ہوئے کوئی طعنہ دیتے ہیں یا منفی القابات سے نوازتے ہیں تو پھر عین ممکن ہےکہ بچے کے لئے آپ کی پریشانی دن بہ دن بڑھ رہی ہو کیونکہ سختی اور روزانہ کی ڈانٹ ڈپٹ کے باوجود بقول آپ کے ڈھیٹ بچہ مزید ڈھیٹ ہو رہا ہو یا ریاضی میں نالائق بچہ مسلسل فیل ہو رہا ہو تویہاں آپ کے لئے ایک اچھی خبر بھی ہےکہ پریشانی کی کوئی بات نہیں ابھی بھی وقت ہے کہ ڈھیٹ بچہ فرمانبردار بن سکتا ہے اور ریاضی میں نالائق بچہ بہترین گریڈ حاصل کر سکتا ہے۔ مگر برائے مہربانی اک چھوٹی سی کاوش کیجئے بچے کو بدلنے کی کوشش بالکل مت کیجئے بلکہ ابھی اور اسی وقت خود کو بدل ڈالئے۔ اس کو خطابات سے نواز کر اور اس پر غصے سے چلا کر اس کے لئے اپنی دلی فکر اور محبت کا بے سروپا اظہار آج سے بند کر دیجئے بلکہ خدارہ اپنے دل و دماغ میں اس کی وہ تصویر بسا لیں جیسا آپ حقیقت میں اس کو دیکھنا چاہتے ہیں، اس کی بیس فیصد خامی سے نظر ہٹا کر صرف اس کی اسّی فیصد خوبیوں کو دیکھیں جس سے قدرت نے اس کو نواز رکھا ہے آپ لفظوں کی ادائیگی میں محتاط رہیں اور اپنے بچوں کو اپنے دل سے لفظوں کی عزت دینا شروع کریں۔ بہت جلد آپ دیکھ پائیں گے اور اس سچ کو مان جائیں گے کہ “ہم جو بوتے ہیں وہی کاٹتے ہیں “ بھولئیے گا مت کہ ہماری سوچ وہ بیج ہیں جو لفظوں کی شکل میں پھلتے پھولتے ہیں جو ایک دن طے کرتے ہیں کہ ہمارے بچوں کے کردار کا درخت کتنا تناور ہوگا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20