تنہائی، اضطراب اور تخلیق —– ظہور احمد

0

تخلیق درحقیقت کسی بھی تخلیق کار کے لیے تزکیۂ نفس کا سبب ہے۔ جس طرح غم پریشانی یا ذہنی دباؤ کا ہارڈوئیر آنسو ہیں جو کسی نہ کسی طرح ہماری کرب کی کیفیات کو ہلکا کر دیتے ہیں۔ اسی طرح ایک خیال جو آپ کے ذہن پر مسلط ہو تو یہ اس وقت تک پیچھا نہیں چھوڑتا جب تک اسے تحریری طور پر صفحۂ قرطاس پر منتقل نہ کر دیا جائے۔ بالآخر تخلیق کار سکون پا ہی لیتا ہے مگر یہ سکون حتمی اور آخری نہیں ہوتا۔ ایک حساس ذہن بارہا اضطراب کی کیفیتوں سے سے گزرتا ہے اور انہیں صفحۂ قرطاس پر منتقل کرتا رہتا ہے۔ یہی اضطراب ہی ہمارے تخلیقی سفر کو رواں دواں رکھتا ہے۔ وگرنہ تخلیقی سوتے خشک ہو جاتے اور آج تک جتنا ادب تخلیق ہوا کبھی نہ ہوتا۔ تخلیق کے عمل میں تنہائی سب سے زیادہ ممدومعاون ثابت ہوتی ہے۔

Image result for alone, sad and creative paintingتنہائی دو طرح کی ہوتی ہے۔ ایک تنہائی وہ ہے جو زمانے کے ظالم تھپیڑوں نے ہمیں بخشی ہے اور دوسری وہ ہے جو ہمیں مر اقبائی کیفیت میں لے جاتی ہے۔ یہ تنہائی ہمارے ذہن کی فطرت کے عین مطابق ہوتی ہے۔ یہ تنہائی ہماری فطرتِ آزاد پر دباؤ نہیں ڈالتی بلکہ ہمیں خارزارِ ادب اور صحرائے ادب میں پھول اور پانی ڈھونڈنے میں مدد دیتی ہے اور یہی ہمارا سرمایہ ہے۔ اول الذکر تنہائی کالی تنہائی ہے۔ وہ تو طلسماتی طور پر مبہوت کر نے والی اور جنات کے ہیولے ترتیب دینے والی خصوصیت کی حامل ہو تی ہے۔ اذہان سے جب تک خوف کا دباؤ نہیں ہٹتا تو تخلیقی سرگرمی عمل پذیر نہیں ہوسکتی۔ آزاد فضا والی تنہائی ہی فطری تنہائی اور فکری توانائی ہے۔ یہ تنہائی رات کے پچھلے پہر کی ہو یا صبح کا ذب کی ہو ہر دو صورت میں قابل تعریف و توصیف ہو گی۔ کہا جاتا ہے کہ روشنی کم ہو یا نہ ہو تو کشش ثقل کی قوت کا اثر کم ہو جاتا ہے۔ کہا جاسکتا ہے کہ اندھیروں میں لطافت اور روشنی میں کثافت ہو سکتی ہے (اس جسارت پر معافی چاہتا ہوں)۔ شاید یہی وجہ ہے کہ رات کی عبادت کو اہم قرار دیا گیا ہے۔ تفکر کے خاموش نغمے انھی پر سکوت ساعتوں میں گائے جائیں تو اس کے نتائج زیادہ واضح اور پر اثر ہو گے۔ اپنا ایک خیال ہے:
شبستاں کا سکون محوِ تفکر ہے
تخیل کی ردا ہم نے بچھانی ہے

رات کو کھلے اور وسیع صحن میں ستاروں کا نظارہ کتنا دل فریب ہو تا ہے! یہ دل فریبی اور بھی بڑھ جاتی ہے جب خنکی ہمارے چاروں اور پھیل جاتی ہے اور اعصاب کو تازگی اور تنہائی ملتی ہے۔ سکون کی اس گھڑی میں جب تخیل محوِ پر واز ہو تا ہے تو آکاش سے کتنے نادر خیالات چرا کے لے آتا ہے۔ بسا اوقات جب ہم کوئی تخلیقی کام سر انجام دے چکے ہو تے ہیں اور دوبارہ اس کا نظارہ کرتے ہیں تو ہمیں یقین نہیں آتا کہ یہ ہماری تخلیق ہے۔ صوفی یا سادھو تو مراقبہ کے لیے بڑی مشقیں کرتے ہوں گے، مگر کیا خوب اتفاق ہے کہ ایک شاعر، مصور، نثر نگار یا خطاط وغیرہ کو شعوری کاوش اس حد تک نہیں کرنا ہوتی جتنی ایک سادھو یا صوفی کو کر نا پڑتی ہے۔ یقین جانیے یہ لوگ فطری طور پر مراقبائی کیفیت حاصل کر لیتے ہیں۔ حقیقت در حقیقت یہ ہے کہ یہ بڑے خوش قسمت لوگ ہوتے ہیں۔ ایک ذاتی تجربے کی بات ہے کہ جب میری تخلیقی سرگرمیوں پر بانجھ پن کا زمانہ آتا ہے تو تخلیق کے دوران وارد ہو نے والی کیفیت کے لطف کے لیے ترستا رہتا ہوں۔ کیفیت بھی کیا عجیب شے ہے یہ زمان و مکاں سے آزاد بھی ہے اور لفظوں کے بندھنوں سے ماورا بھی۔ یہی وجہ ہے کہ صوفی اپنے اوپر وارد ہو نے والی کیفیات کو بیان نہیں کر پاتا۔ کچھ کیفیات کا تعلق ہمارے ماضی سے بھی ہوتا ہے اس لیے چاہیں تو ہم اس کیفیت سے لطف اندوز بھی ہو سکتے ہیں جیسے بچنے کے دن۔ ہم کیفیتی طور پر تو کم از کم بچے بن جاتے ہیں اور وہی ردھم، وہی موسم کی کیفیت، وہی معصومیت۔۔۔۔ سب کچھ ہمارے مشامِ جاں میں بھر جاتا ہے۔ ہمارا ذہن بھی عجب سا وصول کنندہ ہے۔ آکاش سے آنے والے اربوں خیالات و تصاویر کو وصول کر تا ہے مگر ہم کتنے نادان ہیں کہ ان میں سے کچھ کا بھی سراغ نہیں لگا پاتے۔ کیا ہی لوگ ہیں وہ جو امیجز اور تصاویر کا ایک فیصد بھی پالیتے ہیں اور دریافت کی دنیا میں اذہان کے حاکم بن بیٹھتے ہیں۔ کیا ہی لوگ ہیں وہ جو اس کیفیت کی جستجو میں دیوانہ وار پھر تے ہیں۔ یہ وہی سکون اور اضطراب کا کھیل ہے جو ہمیں ارتقا کی منزلو ں کی جانب لے جا رہا ہو تا ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20