جدید غالب صارفیت اور غالب کی تہذیب — محمد حمید شاہد

0

جب کچھ سال پہلے ہمارا دلی جانا ہوا تو جو دو تین خواہشات گرہ میں باندھ کر لے گئے تھے ان میں حضرت نظام الدین اولیا کی درگاہ اور مرزا غالب کے مزار پر حاضری بھی تھی۔ ہم وہاں جشن ریختہ والوں کی دعوت پر پہنچے تھے لہٰذا ارادہ تھا کہ جن نشستوں میں ہمیں شریک ہونا ہے پہلے وہ ہو لیں تو گھومنے نکلیں گے۔ ذرا فرصت نکلی تو خالد اشرف مدد کو آئے ہمیں جشن کی بھیڑ بھاڑ سے نکالا۔ ہم اس دوست کی رہنمائی میں یہاں وہاں گھومتے گھماتے ایک ایسی تنگ گلی میں تھے جس کے دونوں طرف پھولوں کی دکانیں تھیں اور سارے علاقہ ان کی خوشبو سے مہک رہا تھا۔ وہاں صرف پھول ہی نہ تھے درگاہ پر چڑھانے کے لیے چادریں بھی سجی تھیں۔ ہمیں وہاں اپنے جوتے اتارنے تھے اور ننگے پاؤں درگاہ کی طرف جانا تھا۔ ہم نے ایسا ہی کیا۔ تاہم پہلے امیر خسرو کے مزار پر حاضری دی۔ یہ مزار پہلے نگاہ میں آیا اور وہ بھی یوں کہ ہم بے اختیار اس جانب کھچتے چلے گئے۔ جی، وہی خسرو جنہوں نے اپنے مرشد سے سچی لو لگائی اور یہاں تک کہہ دیا تھا: “چھاپ تلک سب چھینی رے موسے نیناں ملائیکے ” وہاں سے نکلے تو لپک کر درگاہ پہنچے مگر یاسمین کو وہاں مزار کے دروازے پر رُک جانا پڑا کہ دروازے کی دونوں اطراف میں ذرد رنگ کی تختیوں پر ایک عبارت ہمارا منھ چڑا رہی تھی۔ “عورتوں کا اندر جانا منع ہے”۔ یاسمین دروازے کے باہر بنی آہنی رکاوٹوں کے پاس رُک گئی اور مجھے یوں لگا جیسے اُس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئی تھیں۔ شاید وہ پوچھنا چاہ رہی تھی عورتیں اندر قبر پر جاکر پھول اور چادریں کیوں نہیں چڑھا سکتیں اور جیسے ہم مرد وہاں فاتحہ پڑھتے ہیں ویسے ہی وہ قبر کے پاس کھڑے ہوکر کیوں نہیں پڑھ سکتیں۔ میں جب اندر داخل ہو رہا تھا تو مڑ مڑ کر یاسمین کو دیکھ رہا تھا جو مجسم سوال تھی اور چند قدم دور کھڑی حسرت سے دیکھ رہی تھی۔ ہم فاتحہ پڑھ چکے اور الٹے قدموں دروازے سے باہر نکلنے لگے تو وہاں کھڑا ایک شخص اپنے دونوں ہاتھوں میں سبز چادر اٹھائے میری سمت لپکا اور میرے سر سے ہاتھ بلند کرتے ہوئے مجھے اوڑھا دِی۔ یہ وہی شخص تھا جس نے کچھ دیر پہلے ہمیں وہ پیلی تختیاں پڑھنے کے لیے ادھر اشارہ کیا تھا۔ میں نے یہ چادر درگاہ کے احاطے ہی میں یاسمین کے کندھوں پر ڈال دی تو وہ سب کچھ بھول بھال کر بچوں کی طرح چہکنے لگی تھی۔

درگاہ سے نکل کر ہماری منزل مرزا غالب کا مزار تھی۔ خالد اشرف نے بتایا کہ وہ کچھ زیادہ دور نہیں تھا تاہم اس نے بہ طور خاص یاسمین کو متنبہ کیا تھا کہ اپنے پرس وغیرہ کا خیال رکھے۔ تنگ گلیاں طرح طرح کے سامان سے اٹی پڑی تھیں۔ اس تنبیہ کے باوجود یاسمین کبھی ایک دکان ہر رکتی کبھی دوسری پر کہ کوئی الگ سی اور مقامی سوغات توبچیوں کے لیے لیتی چلے۔ جب ہم گلیوں گلیوں گھومتے یہاں وہاں رکتے کچھ آگے بڑھے توخالد اشرف نے یہ کہہ کر چونکایا لیجئے غالب کا مزار آگیا۔ ایک احاطے میں سنگ مرمر کی انتہائی سادہ سی کوٹھڑی اور اس کے اندر ایک قبر۔ میں قبر کے تعویز کی سمت گیا اور وہیں فاتحہ کو ہاتھ اٹھا دیے۔ اس بار یاسمین بھی قبر پر ہاتھ اٹھائے دعا مانگ رہی تھی۔ فاتحہ پڑھ کر میں کتبہ تھام کر وہیں بیٹھ گیا اور اس باکمال شخص کے بارے میں سوچنے لگا:

ہوئی مدت کہ غالب مر گیا پر یاد آتا ہے
وہ ہر اک بات پہ کہتا تھا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا

اس گزر چکی مدت میں زمانہ ہر پل بدلتا رہا ہے۔ 1857کی جنگِ آزادی یا غدر کا ایسا ہنگامہ کہ غالب کی دِلی اجڑ رہی تھی اور غالب کو وہ کچھ دیکھنا پڑا تھا جو وہ نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔ کوئی اس پر کہاں قادر ہے کہ وہی دیکھے جو وہ دیکھنا چاہتا ہے۔ میں نے وہیں قبر کے سرہانے بیٹھے بیٹھے یہ سوچا تھا کہ غالب آج کے زمانے میں ہوتے تو یہ سب کچھ کیسے دیکھ پاتے جو ہم دیکھنے پر مجبور ہیں۔ غالب نے کہا تھا:

قطرہ قطرہ اک ہیولیٰ ہے نئے ناسور کا
خوں بھی ذوق درد سے فارغ مرے تن میں نہیں

مارکیٹ اکانومی ہمیں مکمل طور پرصارف بنا ڈالنے کے درپے ہے۔ بظاہر ہم پر حکم رانی کا دعویٰ رکھنے والے دراصل اپنے معاشی مالکوں کا حق نمک ادا کرنے کے لیے ہمیں صارف ہونے کے آداب سکھانے میں جتے ہوئے ہیں۔ ایک دنیا کے انہدام کا منظر غالب کے سامنے تھا اور ایک دنیا کے انہدام کا منظر ہمارے سامنے ہے۔

یوں ہے کہ بعد میں آنے والوں نے ہر گزرتے پل کے ساتھ غالب کو یاد کیا ہے تو اس کا بھی کوئی سبب ہوگا۔ جی، بدلے ہوئے زمانے میں مجھے بھی غالب کی قبر پر بیٹھ کر انہیں یاد کرنا اچھا لگ رہا تھا۔ یادرہے کہ غالب نے اپنے آپ کو اپنے بدلتے زمانے میں پایا تھاتو خود کو”عندلیب گلشن نا آفریدہ”کہا تھا۔ نیا زمانہ جس میں ہم غالب کو یاد کر رہے ہیں بہت تبدیل شدہ ہے، بہت آگے کا تبدیل شدہ۔ اُدھر دِلی اجڑتی تھی اور غالب کے دِل پر چرکے لگتے تھے۔ اِدھر پورے گلوب کا انسان سہما ہوا ہے۔ وہ نسلی تفاخر جو غالب کو عزیز تھا اب مکمل طور پر مٹنے کو ہے۔ جس زمانے میں نسلوں کی نسلیں تیل، مارکیٹ اور قوت کے منابع کے حصول کے لیے کولہو میں پلوائی جارہی ہوں وہاں نسلی یا مذہبی تفاخر تو کیا انسان کا اپنا وجود ہی ہیچ ہورہا ہے۔ وہ تہذیبی رویے جو غالب کو عزیز تھے اور ان میں ذرا سا بھی بگاڑ انہیں برہم کر دیتا تھا اب مسلسل معدوم ہو رہے ہیں۔ مارکیٹ اکانومی ہمیں مکمل طور پرصارف بنا ڈالنے کے درپے ہے۔ بظاہرہم پر حکم رانی کا دعویٰ رکھنے والے دراصل اپنے معاشی مالکوں کا حق نمک ادا کرنے کے لیے ہمیں صارف ہونے کے آداب سکھانے میں جتے ہوئے ہیں۔ ایک دنیا کے انہدام کا منظر غالب کے سامنے تھا اور ایک دنیا کے انہدام کا منظر ہمارے سامنے ہے۔ انیسویں صدی کو غالب مل گیا تھا یوں کہ اب ہم گزرے حالات کو اپنے زمانے پر منطبق کرتے ہیں تو غالب ہمارے زمانے کے شاعر لگتے ہیں۔

اب میں ہوں اور ماتم یک شہرِ آرزو

غالب نے ایک قدم اپنی صدی میں رکھا تھا اور دوسرا رکھنے کے لیے آنے والے زمانے بھی چھوٹے پڑ گئے تھے۔

کہتے ہیں یہ غالب کی اپنی خواہش تھی کہ انہیں نظام الدین اولیا کی درگاہ کے قرب میں قبر ملے۔ وہاں ان کے سسر کی ملکیتی زمین تھی۔ غالب کے اپنے خاندان کے لوگ آگرہ کے قبرستان میں دفن تھے۔ یہ مزار کہیں ۱۹۸۴میں بن پایا تھا اور ۲۰۰۵ میں بھارتی حکومت نے اسے قومی اثاثہ مانا مگر اس سب کے باوجود مزار کی جو حالت ہم وہاں دیکھ رہے تھے اس پر دل دکھتا تھا۔

ہم دکھی دل سے وہاں سے اُٹھے تھے مگر میں نے کہا ہے نا ں کہ غالب اس مزار تک کہاں محدود تھے وہ تو وہاں سے نکل کر ہمارے زمانے تک ہمارے زمانے تک آگئے تھےاور اگلے زمانوں میں بھی جست لگانے کو تیار تھے۔

یہ بھی پڑھیں: Feminism : روائتی معاشروں میں سرمایہ دارانہ جبر کے پھیلاو کا آلہ کار ------ طلحہ افتخار
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20