ہاتھ والی لکھائی کا مستقبل کیا ہے؟ ہینڈ رائٹنگ بمقابلہ کِی-بورڈ

0

کیا ہم اس انتہا پر شِفٹ لے سکتے ہیں کہ بچے اب فقط کِی – بورڈ پر ہی ٹائپ کیا کریں؟

چونکہ عملی زندگی کاعمومی چلن کامل اِسی رویہ و عمل پر منتقل ہو چکا ہے۔

مشہور آن لائن میگزین ‘گارڈین’ کے مطابق پِیڈی اَیٹرِک ڈاکٹرز یعنی ماہرینِ امراضِ اطفال نے وارننگ دی ہے کہ بہت سے بچے پنسل ہاتھ میں پکڑنے اور اس کے رواں استعمال سے قاصر ہیں، اور اس مرض کا سبب یہ بتایا ہے: ٹیکنالوجی کا روزافزوں استعمال۔ اُدھر کرسمس وغیرہ کے موقع پر سانتا کلاز کے نام بچوں کے محبت نامے بیشتر ای میلز کی صورت موصول ہونے لگے ہیں۔ جبکہ کیمبرج یونیورسٹی بعض مقامات پرلیے امتحانات کے لیے لیپ ٹاپس کا بندوبست کرنے پر مجبور ہو گئی ہے چونکہ بعض طلبا کاغذ پین کے استعمال سے معذوری کا اظہار کرنے لگے ہیں۔

صورتحال کچھ یوں ہےکہ سکرین ٹائم کی مذمّت کرنے کو بھی اب ہمیں پردہِ سکرین پر ہی جلوہ گر ہونا پڑتا ہے۔ یہ جلوہ گری ویڈیو شکل میں ہو، تحریری شکل میں، یا صوتی (آڈیو) شکل میں۔ اسی طرح، کاغذ پر ہاتھ سے لکھنے کی اہمیت جتانے یعنی رائٹنگ بائی ہینڈ کی دُہائی دینے کو بھی ٹائپنا پڑتا ہے۔ بالفرض ہاتھ سے کچھ لکھ بھی لیا جائے تو اس کا انجام و مستقبل بالآخر ٹائپنگ کے عمل سے گذر کر کسی طور سکرین تک رَسا ہونا ہے ـــ خواہ یہ ایک مضمون ہو، کتاب کا مواد ہو، بلاگ پوسٹ کا متن ہو، اخبار میں چھپنے والی نیوز سٹوری کا متن، رپورٹ، اداریہ، کالم، فیچر، واٹس ایپ پیغام کی عبارت، ای میل۔۔۔ کچھ بھی۔

اگر خط اور درخواست کی جگہ ای میل اور واٹس ایپ میسیج نے ہتھیا لی ہے اور ایک فرد سے دوسرے فرد کا رسمی یا غیررسمی رابطہ سو فیصد کِی- بورڈ پر شِفٹ لے چکا ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ بچوں کو ہاتھ سے لکھنے والی مشقت میں کیوں جھونکا جائے؟ جبکہ تیز رفتار دور کے تیز رفتار بچے، سکرین اور کِی-بورڈ کے اسیربےشمار بچے، رائٹنگ بائی ہینڈ کے سُست رو عمل سے نہ صرف گریزاں نظر آتے ہیں، بلکہ متنفّر ہیں۔

دنیا کے بیشتر مقامات پرآج بھی ہر مضمون کے استاد/استانی نے دو چار صفحوں کی لکھائی جتنا ہوم ورک دے رکھا ہے۔ بچے نے یہ سارا کام اپنی کاپی کے صفحات میں ہاتھ سے لکھ لکھ بھرنا ہے۔ تیس میں سے پانچ بچے یہ کام بخوشی اور بہ رفتار انجام دے لیں گے۔ باقی کے 25 بچوں کا معاملہ دِگر ہے۔

سوال یہ بھی ہے کہ ایک بچہ یوں تو بہت ذہین اور لائق ہے۔ تاہم، اگر وہ دلی رغبت اور شمولیت والے احساس کے ساتھ دستی مشقّت والے عمل سے نہیں گذرے گا تو عمدہ رفتار کیونکر اُستوار ہو گی؟ رفتار نہیں بن پائے گی تو دو یا تین گھنٹوں والے پرچے میں تمام سوالوں کے تسلی بخش جوابات لکھ کر اچھے گریڈز حاصل کرنا کیونکر ممکن ہو گا؟ نیز، تعلیم مکمل کر چکنے پر عملی زندگی کے جس میدان میں اُسے قدم رکھنا ہے، وہاں رائٹنگ بائی ہینڈ کا سکوپ کیا ہے؟ اس کی ضرورت و اہمیت و افادیت ہے کس قدر؟ کیا ہاتھ سے لکھنے کا ہُنر رواں عصر کے بازار میں ایک مطلوب جنس ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو اس پر اصرار کیوں؟

کیا ہم اس انتہا پر شِفٹ لے سکتے ہیں کہ بچے اب فقط کِی – بورڈ پر ہی ٹائپ کیا کریں؟ ـــ چونکہ عملی زندگی کا عمومی چلن کامل اسی رویہ و عمل پر منتقل ہو چکا ہے۔ طلبا اپنے امتحانی پرچےiPad، مِنی لیپ ٹاپ اور ٹیبلیٹ پر ہی حل کیا کریں؟ ترقی یافتہ ممالک میں صورتحال کیا ہے؟ ـــ جو ہر شعبہِ زندگی میں لیڈرشپ رول لیے ہوئے ہیں۔

حقیقتِ کبرٰی یہ ہے کہ گذشتہ بیس پچیس برسوں سے تقریباً ہر فرد کِی – بورڈ سے چمٹا ہوا ہے۔ اخباری مواد ہو یا کتاب لکھنا، ای میل ہو یا تحریری و تقریری رابطے کی دیگر کوئی صورت، کِی – بورڈ بمع سکرین واحد اور ناقابلِ گریز حقیقت ہے جو کرّہِ ارض کے طول و عرض میں ایک فصل بن کر لہلہا رہی ہے۔ اگر اِن مہ و سال میں تمام تر ناولوں اور تخلیقی نوعیت کے دیگر تحریری شہ پاروں نے بھی کِی – بورڈ کی کوکھ سے ہی جنم لیا ہے تو اس مؤقف میں کتنا وزن باقی رہ جاتا ہے کہ تخلیقی اظہار ہاتھ سے لکھے لفظوں میں زیاہ تر توانا ہے؟ کیا یہ سچ نہیں کہ مائیکروسافٹ وَرڈ کے سینے پر اُترتی راقم کی یہ سطور ہوں ہو یا کسی جے کے رولنگ کا شہرہ آفاق ہیری پوٹر، دونوں اشیا اسی کِی – بورڈ سے برآمد ہو رہی ہیں؟ حتٰی کہ ٹائپنگ کے عمل کو سُست رو پا کر ہم بیشتر وائس میسیج یا براہِ راست کال (فیس بُک کال، واٹس ایپ کال یا ریگولر ٹیلی فون کال) والے رابطے کا سہارا لیا کرتے ہیں۔ تو پھر رائٹنگ بائی ہینڈ کی جبری مشقت بلکہ سزا بچوں کے لیے کیوں روا رکھی جائے؟

Image result for ہاتھ سے لکھناعین ممکن ہے، ماضی قریب میں آپ نے اپنے بچے کی رپورٹ کارڈ یا ڈائری پر ایک آدھ تبصرہ نما جملہ بہ دست جَڑ دیا ہو، کسی میٹنگ کے دوران ہاتھ سے چند سطریں ایک کاغذ پر انڈیلی ہوں، ممکن ہے کاغذ کے ایک ٹکڑے پر آپ نے چند الفاظ پر مشتمل بسلسلہ خریداری ایک مختصر فہرست بنا ئی ہو مگر کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ آخری مرتبہ آپ نے دو چار پیراگرافز پر مشتمل قدرے طویل دستی تحریر کب لکھی تھی؟ پچھلے چھ ماہ میں ایسا کوئی وقوعہ رُونما ہوا کہ آپ نے کوئی خط یا درخواست وغیرہ لکھنے کے لیے کاغذ قلم کا استعمال کیا ہو؟ گذشتہ ایک برس، دو برس، پانچ یا دس برسوں میں؟

کیا ترقی یافتہ ممالک میں اور عالمی فورمز پر یہ موضوع زیرِ بحث آیا؟ اگر آیا تو اس کے نتائج کیا رہے؟ یونیورسٹی سطح پر تو پچھلی تین دہائیوں سے ہر طرف ٹائپ شدہ اسائنمنٹ اور تھیسس ہی جمع کروائے جاتے ہیں، تاہم ترقی یافتہ ممالک میں سکول سطح کے تعلیمی اداروں میں کیا برپا ہے؟

راقم کو اِن سوالوں کا تعاقب کرنے کی جستجو ہوئی تو ظاہر ہے اس سلسلہ میں دو ذریعے سرِ دست حاضر و موجود پائے: اوّل، سوشل میڈیا پر موجود ایسے افراد جو ترقی یافتہ ممالک میں مقیم ہیں۔ دوم، اس موضوع پر سیر حاصل بحث کے حامل انٹرنیٹ پر دستیاب مضامین، بلاگز، اور میگزین آرٹیکلز۔

المختصر، گذشتہ پانچ ہفتے اسی جستجو میں گذرے۔ راقم السّطور نے اس موضوع پر درجنوں تحاریر کا مطالعہ کیا، ساتھ ہی ساتھ ترقی یافتہ ممالک میں موجود افراد سے رابطہ استوار کیا۔ نتیجہ کیا رہا؟ یہ سیر بِینی خاصی دلچسپ رہی ہے جو تعلیمی اداروں کے لیے پالیسی مرتّب کرنے میں معاون ہو سکتی ہے۔ کالم کی طوالت کے پیش نظر اسے تین اقساط میں بانٹ دیا گیا ہے۔ اِس پہلی قسط میں ہم عالمی سطح پر صورتِ حال کا تفصیلی جائزہ لیں گے، اور جانیں گے کہ مختلف مقامات پر کیا برپا ہے۔

ترقی یافتہ دنیا اس اعتبار سے تاحال تین حصوں میں منقسم نظر آتی ہے:
1) رائٹنگ بائی ہینڈ، 2) کِی-بورڈ، 3) اور اِن دونوں کا متوازی استعمال۔

سب سے پہلے آپ سویڈن میں مقیم طارق محمود بھائی کا جواب ملاحظہ فرمائیں۔ جواب کا لُب لباب یوں ہے کہ پہلی، دوسری جماعت میں بچوں کو سکول میں آئی پیڈز ملتے ہیں اور سکول ورک تھوڑا کاپیوں پر اور باقی آئی پیڈز پر ہوتا ہے۔ گھر کے لیے کوئی کام نہیں دیا جاتا۔ تیسری سے پانچویں جماعت تک سکول والے سارا کام لیپ ٹاپ پر کرواتے ہیں۔ چُھٹی کے وقت لیپ ٹاپ واپس لے لیا جاتا ہے۔ جبکہ چَھٹی جماعت سے بچے کو لیپ ٹاپ مستقلاً مل جاتا ہے، یعنی گھر کے لیے بھی، اور تمام کام گوگل ڈاکس پر ہوتا ہے۔ ہاتھ سے لکھنے والا کام صرف پانچ دس فیصد رہ گیا ہے اور نوّے پچانوے فیصد کام کمپیوٹر پر منتقل ہو چکا۔

اُدھر برطانیہ ابھی تک ہاتھ والی لکھائی اور کاغذ کو ہاتھ سے جانے نہیں دے رہا۔ اس ضمن میں وہاں روایتی طرزِ تعلیم والا پہلو غالب ہے۔ لندن میں مقیم بہن ثمینہ رشید کا کہنا ہے کہ وَبا کا آغاز ہوتے سمے بچوں کو لیپ ٹاپ ضرور دئیے گئے، تاہم ایسا نہیں کہ مجموعی اعتبار سے کِی-بورڈ کو میڈیم آف رائٹنگ کے بطور اپنالیا گیا ہو۔ کاغذ سے منسلک کام/پیپر وَرک بدستور قائم ہے، اور ہر مضمون کے لیے علیحدہ وَرک بُک استعمال کی جاتی ہے۔ بچہ خوش خط نہ لکھے تو والدین کو گھر پر مشق کرانے کی تاکید کی جاتی ہے۔ پرائمری سکول والی سطح پردستی لکھائی پر اتنا زور ہے کہ بچوں کو پین استعمال کرنے کی اجازت نہیں۔ پانچویں بلکہ چھٹی جماعت سے پین کا استعمال شروع ہوتا ہے۔ ایک سال سے بچے ہوم لرننگ پر ہیں۔ وہ لیپ ٹاپ اور ڈیسک ٹاپ پر ہوتے ہیں، اس کے باوجود ان کو ٹاسک دئیے جاتے ہیں جنہیں وہ اپنی ورک بک میں لکھا کرتے ہیں، پھر اُن کا تصویری عکس بنا کر اپنے اساتذہ کو بھیج دیا کرتے ہیں۔ ابھی ایک روز پہلے ہی اِن کا چھوٹا بیٹا تحریری کام کے لئے نئی ورک بکس لے کر آیا ہے حالانکہ بچوں کا زیادہ تر کام گوگل کلاس روم میں ہے۔

معروف سوشل میڈیا ایکٹوسٹ بہن راحیلہ ساجد نے ناروے سے خبر دی ہے کہ بچوں کی سطح پر وہاں غالب اکثریت پینسل کاپی والی روایت پرڈٹی ہے، البتہ کوئی خاص پراجيکٹ ہو تو ليپ ٹاپ استعمال کيا جاتا ہے۔ تاہم، ہائی سکول اور کالج کی سطح پر بعض اداروں میں ليپ ٹاپ کا استعمال نسبتاً زيادہ ہے۔ اب اپريل تک ميرے سکول ميں جماعت اوّل سے جماعت چہارم تک آئی پيڈزکا چلن عام ہونے جا رہا ہے۔ جبکہ پانچویں، چھٹی اور ساتويں جماعتوں کےبچوں کو ليپ ٹاپ مليں گے جنہیں وہ سکول کی حد تک استعمال کر سکیں گے۔ یعنی سکرین اور key-board پر منتقل ہونے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

کینیڈا سے بہن نیرتاباں (معروف بلاگر اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ) کا کہناہے کہ وہ یونیورسٹی سطح تک امتحانی پرچےہاتھ والی لکھائی سے حل کرتی رہی ہیں۔ جبکہ بچوں کی سطح پربھی بیشتر کام رائٹنگ بائی ہینڈ سے ہی انجام پاتا ہے تا وقتیکہ کسی بچے کے معاملہ میں معذوری کا پہلو درپیش ہو۔ بالخصوص تخلیقی نوعیت کا یعنی creative writing والا کام ہاتھ سے لکھوا کر کرایا جاتا ہے۔

آسٹریلیا سے بہن فرخندہ اور بہن شہلا کے مطابق وہاں کے ا سکولز میں بچے ریسرچ اور پریذنٹیشن کے لیے ہر طرح کی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا کرتے ہیں، لیکن وہ اپنا کلاس ورک تاحال اپنی نوٹ بُکس میں ہاتھ والی لکھائی سے ہی کرتے ہیں۔ نیز، امتحان اور ہر طرح کے ٹیسٹ بھی دستی لکھائی سے ہی انجام پاتے ہیں۔ آسٹریلیئن پبلک سکولز میں پڑھائی کا زیادہ پریشر نہیں ہے۔ دو ہفتوں کا ہوم ورک ایک ساتھ دے دیا جاتا ہے۔ کچھ کام گوگل کلاس روم تک محدود ہے، تاہم ہوم ورک یہ بچے نوٹ بک پر کرتے ہیں۔

اِس طور مواصللاتی رابطوں کے ذریعے موصول ہوئے پیغامات میں جو فِیڈ بیک زیادہ تر دلچسپ اور سنسنی خیز رہا، وہ ابوظہبی سے تھا۔

یہ بھی پڑھیں: مخلوط طرز تعلیم: لڑکوں کا دشمن۔ ایک سائنسی تجزیہ ------- شریف اللہ محمد

ابوظہبی میں مقیم بہن عاصمہ عدیل کا کہنا ہے کہ پہلے تو کورونا وَبا والا پہلو پیش نگاہ رہے۔ تعلیمی اداروں کی زندگی وَبا سے پہلے اوروَبا کے بعد والے دو اَدوار میں تقسیم ہو چکی ہے کہ اِس عالم گیر وَبا نےچند ماہ میں زمانہ پلٹ کے رکھ دیا ہے۔ طریقہِ تدریس نےایک بڑے حجم والی شِفٹ لی ہے۔ تعلیم سے وابستہ افراد کا خیال ہے کہ آئندہ مہ و سال اسکولز شاید اسی نہج پر چلا کریں گے۔ مثلاً جب کورونا وارد ہوا تو اَمارات حکومت نے اسکولز میں کاغذ کے استعمال پر پابندی عائد کردی۔ تعلیمی عمل میں جہاں تک ٹیکنالوجی کی بات ہے تو یہاں پہلے ہی کنڈرگارٹن کی سطح سے ہر بچہ اپنی ذاتی ٹیبلٹ یا منی لیپ ٹاپ استعمال کر رہا ہے۔ پَیرنٹل لاکس لگے ہیں مگر نوّے فیصد لرننگ گیجٹس پر ہو رہی ہے۔ عاصمہ بہن کا کہنا ہے کہ ابوظہبی میں برطانیہ کی ایجوکیشنل اَیپس استعمال ہوتی ہیں جن کی سالانہ سبسکرپشن اسکول نے خریدی ہوتی ہے۔ یہ سلسلہ نرسری سے بارہویں جماعت تک پھیلا ہوا ہے۔ امارات حکومت مُصِر ہے کہ ٹیکنالوجی کو عام کیا جائے اور بچے بڑے سب اس چلن کے یوں عادی ہو جائیں جیسے دن میں تین وقت کا کھانا۔ اماراتی حکومت کا مشن ہے کہ امارات کو پیپر فری ملک بنا دیا جائے۔ دبئی کے شہزادے کا ایک قول مشہور ہو گیا ہے، ‘عنقریب ہم کاغذ کو میوزیم میں رکھ دیں گے۔’ اس سلسلہ میں بہت تیزی سے کام جاری ہے چونکہ یہ لوگ پیسوں کے لین دین میں بھی کاغذ کو ختم کر رہے ہیں۔ اس کو ڈیجیٹل امارات پروگرام کا نام دیا گیا ہے ـــ یعنی تمام حکومتی ادارے ڈیجیٹل طور چلائے جائیں گے۔ عاصمہ بہن کے شوہر خلیفہ فنڈ میں کام کرتے ہیں، اور ان کے آفس میں کاغذ کے استعمال پرپابندی عائد ہے۔

اس سیریز آف کالمز کی یہ سیر بین نما اولین قسط یہاں اپنے اختتام کو پہنچی۔ دوسری قسط میں کیا ہے؟ کچھ ایسے مواداور مباحث کاعرق جس کےذریعےاس موضوع پرہمیں نیوروسائنس اور نفسیات کی روشنی میں دانشورانہ رہنمائی میسر آئے گی۔ بتدریج ہم اس سلسلہ کی تیسری قسط تک پہنچیں گے جس میں راقم اپنا تجزیہ کچھ مشورہ و تجویز کے ہمراہ پیش کرے گا۔ ۔ آپ کے فِیڈ بیک کا انتظار رہے گا۔

(جاری ہے)

اس تحریر کا دوسرا حصہ اس لنک پہ پڑھیں

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20