فیض، اردو افسانہ اور حقیقت نگاری — محمد حمید شاہد

0

آپ کو فیض احمد فیض کا منشی پریم چند کی حقیقت نگاری کو نہایت بے دردی سے مسترد کر دینا تو یاد ہی ہو گا۔ نہیں تو یوں ہے کہ کچھ اشارے دے کر میں آپ کی یادداشت چمکائے دیتا ہوں۔ فیض کی یہ گفتگو آل انڈیا ریڈیو لاہور سے 18 جون 1941 ء کو نشر ہوئی تھی اور انہوں نے آغا عبدالحمید کو ان کے پریم چند کے حوالے سے “مجلس” میں چھپنے والے ایک مضمون پر آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا تھا :

” تم نے تو اس تحریرمیں پریم چند کو ٹالسٹائی بنا دیا اور دستو ئیوفسکی کا یوں ذکر کیا کہ وہ بھی چھوٹا معلوم ہونے لگتا ہے۔”

آغا عبدالحمید نے لاکھ وضاحتیں کیں اور ہزار دلیلیں دیں مگرفیض کا اصرار تھا کہ پریم چند کی حقیقت نگاری بہت حد تک محدود تھی۔ فیض کے مطابق:

‘حقیقت ایک جامع چیز ہوتی ہے اور اس کی وضاحت وہی شخص کر سکتا ہے جس کے ذہن میں سماج کا مجموعی تصور موجود ہو جبکہ پریم چند کے ذہن میں یہ تصور موجود ہی نہیں تھا۔ پریم چندصرف ایک ہی طبقے کی زندگی کو نمایاں کرکے دکھانے کے قابل تھے۔’

فیض صاحب کا اعتراض یہ بھی تھا:

‘پریم چند زندگی کے بہت سے پہلوؤں کے متعلق نہ صرف خاموش رہتے تھے بلکہ ان سے دانستہ چشم پوشی بھی کر لیا کرتے تھے۔’

یوں انہوں نے صاف صاف فیصلہ سنا دیا تھا کہ منشی پریم چند اور جو کچھ بھی ہوں حقیقت نگار ہر گز نہیں کہلائے جاسکتے تھے۔

یا د رہے یہ پریم چند کی وہی حقیقت نگاری ہے جس کی نظیر سید سبط حسن کو کہیں اور نہیں ملتی تھی۔ “افکار تازہ” میں آپ نے وہ تحریر یقینا دیکھی ہوگی جس میں سبط حسن نے پریم چند کی طرف سے پیش کیے گئے کسانوں کی آزادی کے تصور کو بہت سراہا تھا انہوں نے اس کی تعبیر کے باب میں کہا تھا کہ اس سے ان کی مراد سیاسی یا اقتصادی آزادی نہیں بلکہ تخلیقی عمل کی آزادی یعنی بشری آزادی تھی۔ سبط حسن کا موقف تھا کہ پریم چند کا یہ تصور روسو کی رومانیت نہیں بلکہ عین حقیقت شناسی تھی۔ انہوں نے اس کو ایک عظیم فن کار کی پرواز تخلیق کی معراج قرار دیا تھا۔ پریم چند کے ہیگل اور مارکس کے فلسفہ بیگانگی سے واقف ہونے کی بابت سید سبط حسن کو شک تھا تاہم وہ اس پر یقین رکھتے تھے کہ پریم چند کسانوں کے آزاد تخلیقی عمل کا موازنہ پرولتاریہ کے غیر آزاد تخلیقی عمل سے کیاکرتے تھے جس نے محنت کرنے والوں کو ہرقسم کی روحانی اور جسمانی آزادی سے محروم کر کے سرمائے کا غلام بنا دیاتھا۔

ایک ہی طبقے کی بھرپور نمائندگی پر پریم چندکو سید سبط حسن کا عین حقیقت شناس کہناجب کہ فیض کا اس طرز عمل کو سراسر ناقص قرار دے کر اسے حقیقت نگار ہی نہ ماننا یقینااب آپ کو بھی میری طرح کھلنے لگا ہو گا۔

صاحب! خدا لگتی کہوں تو افسانے میں حقیقت کا تصور شروع سے وہ نہیں رہا ہے جونئے نئے سائنسی اور مادی نظریوں کے انسانی نفسیات اور حواس پر شب خون مارنے کے بعد ہو گیا ہے۔ افسانے کا فسوں تو مادی حقیقتوں سے ذرا فاصلے پر ہی اپنا رنگ جماتا رہا ہے۔ یہ الگ بات کہ عین بیسویں صدی کے آغاز سے یہ احساس شدید ہو گیا کہ انسان عقلی اور مادی سہاروں اور حوالوں کے بغیر بہتر طور پر زندگی بسر نہیں کر سکتا۔ زندگی کی اس مجہول بہتری کے تصور کی زد میں انسان کی روحانی زندگی آگئی اور سچ پوچھیں تو ایک اعتبار سے مادی زندگی کے نئے تصور نے انسانی کے تخلیقی وجود کو ہی تلپٹ کرکے رکھ دیا تھا۔ انسانی تصور کی اڑان میں سو طرح کے رخنے پڑ چکے تھے۔ اردو افسانے کواپنی ابتدا ہی سے اسی نئے بنتے بگڑتے انسان سے معاملہ درپیش رہا۔ اردو تنقید عقلی اور اصلاحی رویوں پر زور دے رہے تھی لہذاافسانہ بھی ادبدا کر ادھر کو چل پڑا۔ کوئی مانے یا نہ مانے مگر یہ بھی واقعہ ہے کہ سائنسی رویے کلی طور پر انسانی جمالیات کا حصہ نہیں ہو سکتے اور اس کا سبب اس کے علاوہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ سائنسی رویے اور مادی حقیقتیں سریت کو سرے سے مانتی ہی نہیں ہیں جب کہ سریت تخلیقی عمل کے محل سرا کا صدر دروازہ ہے۔

اچھا’ایسا بھی نہیں ہے کہ میں حقیقت کے سائنسی اور مادی تصور کو ادبی جمالیات سے کلی طور پر ہم آہنگ نہ ہونے کی وجہ سے تخلیقی عمل سے بارہ پتھر باہر کر رہا ہوں بلکہ سچ یہ ہے کہ میں افسانے کو حقیقت کے اس تصور کی طرف کھینچ لانے والوں کا ایک لحاظ سے احسان مانتا ہوں کہ انہوں نے انسانی لاشعور اور شعور میں ایک نئے طرح کے مگر مثبت تعلق کا علاقہ دریافت کرنے کی راہ دکھا دی تھی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ فطرت کو یکسر کاندھوں سے پیچھے اچھال کر بھول جانے والے واقعات اردو افسانے سے بے دخل ہوتے چلے گئے۔ تاہم سید سبط حسن اور فیض دونوں حقیقت کے جس تصور کو اہم گردانتے رہے ہیں میری نظر میں وہ حقیقت کا بہت اتھلا اور محدود تصور بنتا ہے۔ “ادب اور حقیقت” میں حسن عسکری نے بھی حقیقت کے اس تصور کورد کیا تھا ان کا کہنا تھا کہ آرٹسٹ کے لیے حقیقت نہ تو چھپر ہیں، نہ محل نہ کمیونسٹ کا اعلان نامہ۔ اس کے لیے توحقیقت ایک احساس ہے، ایک سنسنی ‘ایک سرمستی’ ایک ہسٹریا کا دورہ’ یا وہ جسے شکسپیئر نے ‘فائن فرینزی’ کہا تھا۔ حسن عسکری نے اس معاملے میں صاف صاف کہہ دیا تھا کہ آرٹسٹ کے لیے شعور اور حقیقت ایک چیز ہے۔ یوں دیکھیں تو حقیقت شاسی کے حوالے سے سید سبط حسن اور فیض احمد فیض کے ہاں حقیقت کے جو اختلافی علاقے دریافت ہوئے ہیں وہ اور بھی معمولی نوعیت کے لگنے لگتے ہیں۔ تخلیقی سطح پر حقیقت نگاری یہ نہیں ہے کہ ایک لکھنے والے نے زندگی کے کن کن گوشوں پر نظر کی اور کن کن طبقوں کو اہم جانا بلکہ میرے نزدیک تو حقیقت افروزی اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ لکھنے والا تخلیقی عمل کے دوران ایک بیکراں احساس کے زیر اثر ان عمیق جذبوں کو جگانے میں کامیاب ہو جائے جواس کی دھڑکنوں کو کائنات کے سینے میں گونجتی دھڑکنوں سے ہم آہنگ کردیں۔

انسانی فہم کے لیے اس کے ہونے کا احساس فی الاصل وہ علاقہ بنتا ہے جو بھیدوں سے بھرا ہوا ہے۔ ہونے کے مادی تصور پر قناعت کرنے والے افسانہ نگار حقیقت کے اس خارج سے جڑ جاتے ہیں جو بقول حسن عسکری شعور کا علاقہ ہیں۔ حقیقت کے اس جزوی علاقے کو اپنی کل کائنات بنا لینے والوں کا المیہ یہ رہا ہے کہ وہ نشاط ابدی سے بے گانہ ہو جاتے ہیں۔ جہاں جہاں اور جس جس نے حقیقت کے اس محدود تصور کے زیر اثر افسانہ نگاری کی وہ واقعہ نگاری کی سطح پر اتر آیا اور اس سطح کے نیچے جس روح کو تخلیقی عمل سے جاری ہو کر کائناتی حقیقتوں سے ہم آہنگ ہونا تھا ادھر متوجہ ہی نہ ہوسکا۔ یہ حقیقت سہی کہ انسان کو جسمانی سطح پر موت سے ہمکنار ہونا ہوتاہے اور یہ بھی بجا کہ انسان کو اس موت کے مکروہ پنجے سے نہیں بچایا جا سکتا مگر کیااس حقیقت کے زیر اثر یہ بھی لازم ہو گیا ہے کہ ہم انسان کے نصیب میں خود ہی تخلیقی جمالیاتی اور روحانی موت بھی لکھ دیں۔ فنا کے تصور کے ساتھ بقا کے تصور کو جوڑ لینے سے مادی حقیقتوں کی نفی نہیں ہوتی تاہم اس حقیقت کی محدود یت ختم ہو جاتی ہے۔ جو جو افسانہ نگار حقیقت کے محدود تصور کو غچہ دے کر کائناتی حقیقتوں سے جڑ گیا اس کے ہاں افسانے کا بیانیہ اکہرا نہیں رہا۔۔۔ اور یہی افسانے کی حقیقت نگاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فیض کی اسلام پسندی: دو ساتھیوں کی گواہی
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20