ویلنٹائن، مذہبی طبقات کا ناممکن سماج اور لو میرج کے مسائل — طیب عثمانی

0

اکثر پوچھا جاتا ہے کہ ویلنٹائن ڈے کیا ہے اور اس کے حوالے سے کچھ بتائیں تو میرے مطالعاتی حاصلات یہ ہیں:

پہلا پہلو: ویلنٹائن کا پس منظر :
دراصل یہ مسیحی مذہب کے ایسے پہلو پر زد تھی کہ جو خلاف فطرت تھا۔
مسیحیت میں عوام کی خدمت کے دو ہی طریقے ہیں :
1۔ عوامی خدمت
2۔ گھر والوں کی خدمت

کیتھولکس اور آرتھوڈوکس کے ہاں ایک وقت میں ایک ہی طرح سے خدمت ہو سکتی ہے۔ لہذا پادری شادی نہیں کرتے عوامی خدمت کے لیے سو شادی ممنوع تھا۔ سینٹ ویلنٹائن نے عوامی خدمت چنی لیکن اسے فطری تقاضا ہوا کہ فطری جنسی ضرورت پوری کرے تو اسے محبت ہوئی، وہ شادی کرنا چاہتا تھا۔ چرچ کو جب علم ہوا تو اسے چرچ کے قوانین کے مطابق موت کی سزا سنائی گئی۔ آخری دن 14 فروری کو اس نے جس سے وہ شادی کرنا چاہتا تھا کو ایک پھول اور خط بھیجا اور اسی دن سے زندہ جلا دیا گیا۔ یہ واقعہ مغرب کے لیے کیوں اہم بنا۔۔۔۔۔۔

اس کا جواب یہ ہے کہ اس واقعے کی وجہ سے مذہب کے اندر ہی سوچنا شروع کیا گیا بالآخر پروٹسٹنٹ فرقہ میں پادری اور مذہبی کو شادی کرنے کی اجازت دی گئی۔۔۔۔ اور جو خدا کو چھوڑ کر مذہب سے نکلنا چاہتے تھے ان کے لیے یہ واقعہ مذہبی شدت پسندوں کے خلاف ایک فکر دے گیا کہ مذہب فطرت کو مارتا ہے لہذا چرچ کے رد عمل میں اس مردوزن کے ملاپ میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔۔۔۔۔۔ جو کہ ایک دوسری انتہا زنا اور جنسی پرستی پر جا ٹھہرا۔۔۔۔۔۔۔

دوسرا پہلو : اسلامی نقطہ نظر :
مردوزن کے لیے اسلام نے فطری جواز فراہم کیا ہے۔۔۔۔ لہذا میاں بیوی، اور بنا رخصتی نکاح یا نکاح کروانے کے ماحول کے فروغ کے لئے یہ بہترین دن ہے۔۔اس دن نکاح کی رغبت کے لیے تقاریب کا انعقاد کریں اور ایسے جوڑوں کو اس بات پر آمادہ کرنے کے لیے انہیں قریب کریں کہ وہ نکاح کریں اور اپنے گھر والوں سے کس طرح بات کریں۔۔۔ ٹریننگ سیشنز ہوں کیونکہ بہترین محبت وہ ہے جس کا مقصد ہی نکاح و شادی ہو۔۔ رہی بات چھپی ایسی دوستی جس کی بنیاد بے راہروی، فحاشی اور سماجی توازن کا بگاڑ تو اس پہلو سے درست نہیں اس کا حل یہ ہے کہ ادارے ایسے جوڑوں کو پکڑیں اور مجسٹریٹ کے سامنے پیش کروا کر نکاح کروا دیں۔۔۔۔۔۔

تیسرا پہلو : نیا سماجی ڈھانچہ :
ہمیں نئے سماجی ڈھانچے میں کام کرنا ہوگا۔۔۔۔۔۔ اس وقت اختلاط مردوزن کا سماج بن چکا ہے، لہذا اب اس سے آگے بڑھنا ہے تو ہمیں اس میں رہتے ہوئے کام کرنا ہے۔۔۔ عموما ہمارے ہاں کہا جاتا ہے کہ لو میرجز نہیں چلتی اور یہ روتے پیٹتے آئیں گے تو اس کی بڑی وجہ ہمارا جابر سماج ہے۔۔۔۔ نیپال میں گئے تو ہم نے سنا کہ 20 سال کے بعد قانونی طور والدین اپنے بچوں پر جبر نہیں کر سکتے اور وہاں 80 فیصد لو میرجز ہیں تو ہمارا سوال تھا طلاقیں کتنی ہیں تو انہوں نے کہا 5 فیصد۔۔۔۔۔۔ اور اس کی وجہ قانون کی بالا دستی۔۔۔۔

اگر جوڑا شادی کرکے آئے اور والدین قبول نہیں کریں تو سزا ہو گی اور اسی طرح جو بلا جواز کے طلاق مانگے اسے بھی سزا ہوگی تو ان کے من چاہی مرضی پر قائم ہونے فیملی سیٹ اپ قانونی لحاظ سے مضبوط ہو گیا۔۔۔۔۔اور طلاقوں کی شرح کم ہو گئی۔ ہمارے ہاں اس جوڑے کو اکیلا چھوڑ دیتے ہیں تو وہ ہمارے جوائنٹ فیملی کے سماج میں یکسر معاشی اور سماجی طور پر اکیلا ہو جاتا ہے اس سے نوبت طلاق تک آتی ہے۔۔۔اور دوسری بات کہ اگر وہ روتے آئیں تو جوڑا جاتا ہے توڑا نہیں ہمارے ہاں لڑکے والے عموما بھاگی لڑکی جیسے غلیظ اور انسانیت سوز الفاظ اور ماحول سے ان جوڑوں کو توڑتے ہیں، جس کا آخری نتیجہ طلاق نکلتا ہے۔۔۔۔۔یا پھر غیرت کے نام بے غیرتی کا موت موت کھیل کر کسی ایک کو یا دونوں کو قتل کر دیا جاتا ہے۔ اس لیے ہمارے ہاں لاقانونیت ہی بڑی وجہ ہے لو میرجز کے حوالے سے۔۔۔

محرکاتِ طلاق و فساد :
سوچیے ہم کتنے نکھٹو تیار کر رہے ہیں۔۔۔ کہ 16 سال سے قبل اچھی جاب نہیں ملتی لیکن 24 سے 26 سال عمر ہو چکی ہوتی ہے لیکن کام کا آغاز ہوتا ہے۔۔۔ عموما لو میرجز اس سے پہلے کرتے ہیں تو اس وقت میں وہ لڑکا کسی کام کو کرنے کے قابل نہیں ہوتا۔۔۔ اگر یہی ماں باپ کی مرضی سے شادی ہوئی ہو تو 19، 20میں کر یں تو والدین کہتے ہیں ہم خرچ اٹھا لیں گے۔۔۔پہلے جوڑے کو سماج کی غلاظت سمجھ کر دھتکار دیا جاتا ہے جبکہ دوسرا جوڑا مستحقِ عزت۔۔۔ پہلی صورت میں معاشی و سماجی بحران کی وجہ سے ٹوٹ جاتا ہے اور دوسری میں سماجی سپورٹ کی وجہ سے باقی رہتا تو اصل مسئلہ سماجی جبر کا ہے۔

مذہبی طبقات کا سماجی ڈھانچہ اور سماجی ضروریات:
ان کا سماجی ڈھانچہ معاصر نہیں بلکہ زرعی زمانے کے سماج سے نوآبادیات کے ڈھانچوں پر کھڑا ہے جبکہ انسانی سماجی تجربات کی سطح پر سماجی ڈھانچہ تبدیل ہو چکا ہے۔ اب مذہبی طبقات جو حل پیش کرتے ہیں ان کا سماجی زندگی سے کوئی تعلق نہیں اور سماج کے سوالات کی تفہیم مذہبی طبقات کو نہیں تو درمیان میں ایک بڑی دیوار حائل ہے۔۔۔

سدباب :
یہ اب تو نئے اس سماج میں سمجھنا ہوگی کہ مردوزن کا مخلوط سماجی نظم بن چکا ہے۔ اس کی اخلاقیات مرتب کرنے کا وقت ہے۔ جب مخلوط سماج میں، جدید گلوبلائزڈ سیٹ اپ میں رہیں گے تو باہمی میل کی وجہ محبت کا ہو جانا کوئی بڑی بات نہیں رہی۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن دونوں کے مابین محبت ہو جانے کے بعد کے مراحل ان محبت کرنے والوں کے بھی ہیں اور ان کے والدین کے بھی۔۔۔۔۔۔ یعنی اب کثیر الجہتی مسئلہ ہے۔

محبت کرنے والوں کے لیے ایسا اقدام جس سے سماج یا خود میں خرابی ہو اٹھانا نہیں چاہیے اور والدین کو مان جانا چاہیے اور سپورٹ کرنا چاہیے کیونکہ یہ خوشیوں بھری زندگی کا سوال ہے۔۔۔۔ اس کے لیے ہمیں سماج کے اس پہلو سے لوگوں اور ان کے بچوں کو ایجوکیٹ کرنا ہوگا۔

اور جب ایجوکیشن دیں گے تو نکاح ہونے اور نہ ہونے کے دونوں پہلوؤں پر تربیت کی ضرورت ہوگی لیکن دولت، خاندان، رنگ نسل کی وجہ سے نکاح کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنا ہونگی، والدین کو اپنی اولاد کا دوست بننا ہو گا اور انہیں بھی انسان سمجھ کر ان کے دکھ درد کوسمجھنا ہوگا، تاکہ صالح معاصر سماج بہترین امت کا مصداق بن سکے۔۔۔۔۔۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20