علم کیا ہے؟ اور کیا ایک نئی انسانی دانش کی تشکیل ناگزیر ہے؟ —– نعمان علی خان

0

زندگی کی اس وجودیت کی لامتناہی لا یعنیت (کے۔اوس) کے پیدہ کیئے ہوئے کرب کو کم کرنے کیلئے اس میں معنویت کے دائرے کری ایٹ کرنے کی صلاحیت، علم کا پہلا درجہ ہے۔ اس معنویت کو عظیم تر کے۔اوٹک امکانیت سے ھم آھنگ کرنے کی صلاحیت، اصل علم ہے۔ چونکہ ہماری عمومی منطق بتاتی ہے کہ امکانیت لامتناہی ہے اس لیئے علم بھی لامتناہی ہے۔ آپ اس اصل علم کے کس مرحلے میں ہیں اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ نے کس قدر عظیم کے۔اوٹک امکانیت کو اپنی وجودی معنویت سے ہم آھنگ کرنے کیلیئے ’’چنا‘‘ ہے۔ سو علم ’’چناوؑ‘‘ (Choice) کا مسلہ بھی ہے۔ اور اعلیٰ چناوؑ کرنے کی صلاحیت تخلیقی اور وہبی ہوتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔
عظیم کے اوٹک امکانیت بھی چوائس کا مسلہ ہے۔ یہ وجودیت کہ جسے معروضی کائنات کہا جاتا ہے، دراصل ہمارے “محدود” علم کا دائرہ ہے۔ اس دائرے کے دوسری جانب کے اوس کا غبار ہے۔ غیب کا یہ غبار نہ تو موضوعی ہےاور نہ معروضی۔ کیونکہ اس کی کچھ خبر نہ ہمارے شعور کو ہے اور نہ ہماری عقل کو۔ سوائے اس کے کہ جس حد تک ہمیں وہبی ذریعئیے سے اس “غیب” کی خبر مل جائے۔
معروضی کائنات تو اس کے اوس کا وہ حصہ ہے جسے ہم نے اپنے تعقل سے بامعنی بنایا ہے۔

یہ ہماری اور کے اوس کی فطرت ہے کہ جب بھی ہمارا تعقلی عمل اور یہ انکاؤنٹر ہوتے ہیں تو امکانات کی ایک لامتناہی زنجیر وجود میں آتی ہے۔ اب یہ ہماری وہبی کری ایٹو پلس پر منحصر ہوتا ہے کہ ہم کس امکان کو بامعنی حقیقت سمجھنے کا چناؤ کرتے ہیں۔

عظیم کے-اوٹک امکانیت، تب ہمارے پیش نظر آتی ہے اور امکان سے “واجب الوجود” کا حکم بن جاتی ہے جب ہمارا منطقی اور تعقلی عمل، کے-اوس کے اژدھام کو معروض کے دائرے میں محدود کرنے سے عاجز آ جاتا ہے۔ اگر “بدقسمتی” سے واجب الوجود منکشف نہ ہو تو یہی وہ مقام ہے جہاں، موضوع اور معروض کے تمام معقول کنسٹرکٹس، واپس کے-اوس کے غلبے میں آتے جاتے ہیں، اس مقام پراپنی استعداد کے مطابق حقیقت کا چناؤ یہ سوچ کر کرنا کہ اس سے زیادہ عظیم چناؤ نہیں ہوسکتا، یہ بھی “وہبی” افتاد طبع پر منحصر ہے۔ کچھ ہیں جنہیں ہر سو بے-مقصدیت نظر آنے لگتی ہے اور کچھ وہ ہیں جنہیں چہار سو بس ایک ہی جلوہ دکھتا ہے۔ کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں ہر جانب، اوپر نیچے، اندر باہر، بس مادہ ہی مادہ ٹپائی دیتا ہے اور کچھ وہ بھی ہوتے ہیں جنہیں موضوع میں، معروض میں اور کے-اوس میں بس مسلسل ایک ہی صدا سنائی دیتی ہے، کن-فیکون۔

حیات اور انسان کے وجود کے مقصد اور اصل پر سوال ایک عظیم کے- اوٹک سوال ہے۔ اس کے لامحدود امکانی جوابات ہیں۔ کچھ ذہین لوگوں نے اس میں زندگی کے ایک امکان کو عظیم ترین جواب پر محمول کرکے پیش کیا تاکہ زندگی کے کے-اوس میں معنویت پیدا ہوسکے؛ اور وہ جواب ہے نظریہ ارتقا۔

اس کائنات کے وجود کے بارے میں بہت طرح کے عظیم کے-اوٹک امکانات بھی فکر انسانی میں موجزن ہیں؛ مثلاً اٹرنل مادیت اور اس کے مقابل بگ بینگ تھیوری۔
لیکن، جیسا کہ اوپر عرض کیا، اب ان سب پر خود کے-اوس براہ راست حاوی ہوتا جارہا ہے۔ کوانٹم نظرئیے کی کائنات خود عظیم کے-اوس بن کر ابھررہی ہے۔

انسانی علم کی بنیاد، معروضی تعقل کے مقدمات کی تفہیم پر قائم ہے۔ اور معروضی تعقل سوائے منطقی ضابطوں کی دائروی توجیہات کے کچھ اور نہیں۔

کوانٹم کے-اوس کی ابھرتی ہوئی کائنات، ایک نئی انسانی منطق اور علمیات کا تقاضہ کررہی ہے۔ انسان کو ایک نئی “دانش” کی تشکیل کا مرحلہ درپیش ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20