فیمنزم کا قضیہ اور ہم — ضیاء الرحمن فاروق

0

گزشتہ ہفتہ ایک محفل میں فیمنزم کا قضیہ چھڑا تو عرض کیا کہ فیمنزم کے حوالے سے تاریخی ورثے میں فرانس کا شمار ان ممالک میں کیا جاتا ہے جہاں فیمنزم کی تحریک اور فلسفہ کے ابتدائی چشمے پھوٹے۔

یہ انیسویں صدی کے قریباً وسط کا زمانہ ہے جب دنیا کے افق پر دو ایسے واقعات نمودار ہوئے جس نے اس کرہ ارض کے تمدنی دھارے میں دور رس اور گہرے نقوش چھوڑ دیے ہے۔

ان میں ایک مشینی انقلاب (industrial revolution) ہے اور دوسرا جمہوری نظام حکمرانی شمار کیا جاتا ہے۔

مشینی انقلاب سے پیداواری کھپت کئی گنا بڑھنے لگی۔ اسی لئے کارپوریٹ سیکٹر میں “برانڈ” کی ضرورت محسوس کی گئی۔ اسی مقصد کے حصول کیلئے سرمایہ داروں نے لاشعوری طور پر انسانوں کو بحیثیت “گاہک” راغب کرنے کیلئے ایک شاطرانہ چال چلتے ہوئے “عورت” کو جنس کے طور “کارپوریٹ اٹریکشن” کیلئے متعارف کروادیا۔

چونکہ انسان فطری طور پر حسن پرست ہے اسی لئے معاشرے کا ایک غالب طبقہ اس پیش رفت کو زمانے کی گردش سمجھتے ہوئے خاموش رہا۔ رفتہ رفتہ یہ کاروبای ٹوٹکہ تمدن کا رنگ اوڑھنے لگا۔ بیسویں صدی کے آغاز تک انہی کے اپنے اقوام میں سے اخلاقی اقدار کا نعرہ لگاتے ہوئے اختلاف کی آوازیں ایک حد تک توانا ہوچکی تھی لیکن تب تک عورت بطور “شو ہیس” سرمایہ داروں کی مجبوری بن گئی تھی۔ اسی لئے اپنے مکروہ دھندے کو قائم رکھنے کیلئے “نسوانی حقوق” کے نام پر عورت کی آزادی کو جدیدیت کا منہج قرار دینے کے جتن شروع کردیے۔ تب سے لیکر اب تک یہ لڑائی وقت کے دھارے پر مختلف صورتوں میں سر اٹھانے لگا ہے۔ جس میں ہمیشہ تین قسم کے گروہ سامنے آجاتے ہیں۔ دو وہ گروہ ہوتے ہیں جو آپس میں گتھم گتھا ہوجاتے ہیں اور تیسرا یعنی سرمایہ دار دونوں کو اپنے اشیاء بیچنے کیلئے اس لڑائی کو قائم رکھنے بلکہ مذید مستحکم کرنے کیلئے نت نئے ڈھونگ رچاتے ہیں۔ گویا شطرنج کے بساط پر پیادوں کی قطاریں اسے اپنی لڑائی قرار دے کر لڑ رہے ہوتے ہیں لیکن اصل چال چلانے والا پیچھے بیٹھا وہ بادشاہ گر ہوتا ہے جس کے ہاتھوں میں میدان کارزار کی لگامیں موجود ہوتی ہے۔

بادشاہ گر کبھی مذہبی فصیل میں نقب زنی کرتے ہوئے اسے دقیانوسی سوچ قرار دے کر مذہبی اقدار پر گولہ باری کرتے نظر آتے ہیں اور کھبی انسانی آزادی کا فلسفہ اٹھا مرد اور عورت کو ذاتی حیثیت میں بطور جنس اس لڑائی کیلئے بطور ایندھن جھونک دیتے ہیں۔

چونکہ ہمارا تعلق خطہ ارضی کے اس علاقے سے ہیں جہاں مذہبی عقائد عملاً سوسائٹی میں کسی نہ کسی صورت موجود ہیں، لیکن یہاں کے داعیان مذہب اکثر و بیشتر اسے بالاصل مذہب کی لڑائی سمجھ کر بحث میں لگ جاتے ہیں اور باقاعدہ دفاعی پوزیشن لیتے ہوئے ایک بیانیہ سامنے لیکر آتے ہیں جو فیمنزم کے علمبردار اپنے حق میں استمعال کرتے ہوئے اس فلسفیانہ معاملہ کو مذہبی رنگ چڑھا دیتے ہے۔

ازل سے یہ ایک فلسفی بحث رہی ہے۔ اور اب بھی اس پر کھل کر بحث ہی ہونی چاھئیے۔ مذہب نے جو آزادی چودہ سو سال پہلے عورت کو عطاء کی تھی۔ فیمنزم کے علمبردار صدیوں میں اس کا عشر عشیر نہیں دلا سکیں۔ مذہب نے اسی دن اس قضیے کا قصہ تمام کیا تھا جب عرفات کے میدان میں یہ اواز گونج اٹھی کہ “مرد کو عورت پر، کالے کو گورے پر اور عربی کو عمجی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں”۔ ازل کے سامنے فوقیت کا منہج صرف اور صرف تقوی کو قرار دیا گیا ہے۔

دوسری بدقسمتی ہماری یہ رہی کہ جس وقت ہمارے علاقے میں یہ بیج درآمد کیا گیا اس وقت ہم ایک محکوم قوم کی حیثیت سے ذہنی احساس کمتری کے کرب سے گزر رہے تھے۔ اسی لئے عام سوسائٹی نے شعوری اور لاشعوری دونوں حیثیتوں سے جوں کا توں قبول کیا۔ انگریزوں کے دیس میں تو بہت پہلے مذہب کو رسم و رواج سے نکال دیا گیا تھا۔ وہ اپنے اس سوچ میں کتنے ٹھیک ہے یا غلط ہے اس ایک الگ بحث ہے۔ لیکن بہرحال ہم مذہبی حوالے سے یکسوں تھیں اور ہیں لیکن ہم نے اس نکتے کو سمجھنے میں تاریخی غلطی کر ڈالی۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ رفتہ رفتہ ہو کوئی اپنی حیثیت میں اس طوفان کے زد میں آچکا ہے۔

بحث کے اصل کی طرف لوٹتے ہوئے عرض ہے کہ انیسویں صدی کے اخر تک عام اخلاقی اقدار میں مرد کو قریباً اخلاقی اوارہ گردی کی آزادی حاصل تھی اور عام سوسائٹی میں عفت تقاضا صرف عورت کے ذات تک محدود کیا گیاتھا۔ صرف عورت کی عصمت کو قیمتی چیز سمجھی جاتی تھی۔

والدین اپنے لڑکے کی آوارہ گردیاں جوانی کا ترنگ سمجھ کر گوارا کرتے تھے لیکن اپنی لڑکی کے دامن پر داغ دیکھنے کے روادار نہیں تھے۔ ایک عرصہ بعد اسی کو بھی قبول کیا جانے لگا اور اب اسی پر وہ “عورت کی آزادی” کا نام چسپاں کرتے ہیں۔

سوچتا ہوں تو لاشعوری طور پر محسوس ہوتا کہ یہ دو رنگی تو ابھی ہمارے معاشرے کا بھی حصہ ہے۔ اور اگر ہم نے بحثیت مجموعی بطور انسان اس طوفان کا تجزیہ کرکے اس کے گہرائی ماپنے کی کوشش نہیں کی تو کیا بعید کہ پچاس یا سو سال بعد دوسرا گڑھا ہمارے گرنے کے انتظار میں ہو۔

اس تحریک کے جڑوں دوسرا امر واقعہ جمہوری نظام حکومت ہے۔ جو لگ بھگ اسی زمانے کا واقعہ ہے۔ کالم کا دامن تنگ ہونے کے باعث فی الحال یہاں تک اکتفا کرتے ہیں۔ باقی انشاءاللہ اگلی نشست میں۔

مصنف کا مختصر تعارف:
راقم پیشہ کے لحاظ سے ڈاکٹر ہے۔ پڑھنا اور لکھنا اوڑھنا بچھونا اور مرغوب مشغلہ ہے۔ قدرتی حسن اور گھومنے پھرنے کا دلدادہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مقبول اور جارحانہ فیمنزم : عورتوں کی خوشیوں کا قاتل ------ وحید مراد
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20