مخلوط طرز تعلیم: لڑکوں کا دشمن۔ ایک سائنسی تجزیہ —- شریف اللہ محمد

0

مخلوط طرز تعلیم ہمیشہ سے مشرقی ممالک میں موضوعِ بحث رہا ہے۔ اور اس پہ سب سے زیادہ تنقید بھی ہمارے ہاں سائنسی سے زیادہ مذہبی بنیادوں پہ ہوتی رہی ہے۔ اس مضمون کا مقصد مخلوط طریقہ تعلیم پر مذہبی حلقوں کی جانب سے تنقید کا جائزہ لینا نہیں ہے، لہذا اس حوالے سے مضمون میں مواد شامل نہیں ہے۔ مذہبی نقظہ نظر شامل نہ کرنے کی وجہ مضموں کو پیجیدگی سے بچانا بھی ہے۔

موجودہ دور میں مخلوط طریقہ تعلیم کو اپنانے کی بنیادی وجوہات مندرجہ ذیل سمجھی جاتی ہیں۔

۔ طلباء میں اعتماد کے فقدان کو بہتر کرنا
۔ اسکول سے باہر کی زندگی کے لئے تیاری
۔ صحت مند مقابلے کے رجحان کو پروان چڑھانا
۔ جنس مخالف کا خوف دور کرنا
۔ دونوں اصناف کی کردار سازی

اس طریقۂ تعلیم کو اپنانے کے جتنے فائدے ہم نے سوچے تھے اتنے حاصل بھی کرپائے یا نہیں؟ یہ فقط ایک مضمون کے ذریعے تو واضح نہیں کیا جاسکتا مگر کم از کم مخلوط طریقۂ تعلیم کو ایک الگ زاویئے سے سمجھنے پر شاید ہم ان نقصانات سے آگاہ ہوسکیں جن سے ہماری نئی نسل انجانے میں دوچار ہے۔

اس مضمون کی بنیاد کچھ ایسی تحقیقات پر رکھی گئی ہے جو طلباء کی دونوں اصناف کو ایک دوسرے سے مختلف بناتی ہیں جسکے باعث مخلوط طریقۂ تعلیم فائدے کے بجائے نقصان کا سبب بن رہا ہے۔ موضوع کی طرف آنے سے پہلے میں اس بات پر بھی زور دینا چاہوں گا کہ تعلیم و تعلم کے میدان میں اگر پاکستان میں گراس روٹ لیول پر کوئی تبدیلی آسکتی ہے تو اسکے لئے موجودہ بندو بست میں جوہری تبدیلیوں کے ساتھ اس بات کو بھی یقینی بنانا ہوگا کہ یہاں پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کے تمام تعلیمی اداروں کی اکیڈمک پرفارمنس اور نتائج ایک مرکزی پلیٹ فارم پر مرتب کئے جائیں اور تعلیمی پلاننگ سے متعلقہ اداروں کی ان تک رسائی بھی یقینی بنائی جائے۔ جب تک ایسا نہیں کیا جائے گا اس نظام میں بہتری کی کوئی امید نہیں۔ وزرات تعلیم بہت آسانی سے اس مقصد کے لئے سفارشات وضع کرکے اس پر کام شروع کرسکتی ہے (یاد رہے میرا مقصد حقیقی اکیڈیمک پرفارمنس ڈیٹا کو ایک مرکزی پلیٹ فارم سے وزارت تعلیم کی دسترس میں دینا ہے)۔

مخلوط طرز تعلیم سب سے پہلے مغربی یورپ میں شروع ہوئی جس کی بنیاد پروٹسٹنٹ عیسائیوں کے وہ مطالبات بنے جس میں کہا گیا کہ لڑکوں کی مانند لڑکیوں کو بھی بائبل پڑھنا سکھایا جائے۔ تاریخی طور پر اس کا آغاز سکاٹ لینڈ سے کیا گیا۔ اٹھارویں صدی کے نصف کے بعد خاص طور پر اسے قبولیت ملنا شرع ہوئی اور آہستہ آہستہ قصبوں کے اسکولوں (اس زمانے میں چھوٹے بچوں کے لئے بنے پرائیوٹ اسکولوں کے لئے ‘ڈیم اسکول’ کی اصطلاح استعمال کی جاتی تھی، ان اسکولوں کو خواتین چلایا کرتی تھیں) میں لڑکیوں کو بھیجا جانے لگا۔

دنیا کا قدیم ترین کو ایجوکیشن اسکول ‘آرچ بشپ ٹینی سن چرچ آف انگلینڈ ہائی اسکول کرائڈن’ ہے۔ یہاں صبح کے وقت بچے آتے اور دوپہر کے بعد واپس جاتے تھے یعنی بغیر بورڈنگ۔

دنیا کا قدیم ترین بورڈنگ مخلوط اسکول ڈالر اکیڈمی ہے جو اسکاٹ لینڈ میں موجود ہے۔ یہاں 5 سال سے اوپر کے بچوں کو پڑھایا جاتا ہے۔ یہ اسکول 1818 سے قائم ہے۔ اس تمہید کا مقصد یہ ہے کہ ہمیں اندازہ ہو کہ مخلوط طرز تعلیم کی کل حیات ہی دو سو سال کے لگ بھگ ہے۔

میں بنیادی طور پر مخلوط نظام تعلیم کو ایک سیاسی اتفاق رائے سمجھتا ہوں جسے ہم نے مغرب سے جیسا ہے جہاں ہے کی بنیاد پر امپورٹ کیا۔ کو ایجوکیشن Co-education کو اپنانے کے پیچھے پاکستانی تناظر میں مجھے تو کوئی ایسی بڑی وجہ نظر نہیں آتی سوائے اس حقیقت کے کہ ہمارے پاس وسائل بہت کم ہیں اور ہم سنگل جینڈر طریقہ تعلیم کو فلحال افورڈ نہیں کرسکتے، دوسری وجہ یہ ہے کہ مغرب سے درآمد شدہ طریقہ اب باقاعدہ ایک بھیڑ چال میں ڈھل چکا ہے اسلئے ہم نے اسے پوری طرح اپنالیا ہے۔ تدریس سے وابستہ لوگ یقیناً اور وہ والدین جن کے بچے ایسے اداروں میں پڑھتے ہیں، کسی حد تک باخبر ہونگے کہ طلباء کی اردو انگریزی اور دیگر زبانوں میں لکھنے پڑھنے کی صلاحیت کے حوالے سے لڑکیاں, لڑکوں سے بہت آگے ہیں۔ اور یہ تعلیمی بُعد یا ‘لٹریسی گیپ’ اچانک نمودار نہیں ہوتا اور ابتدائی تعلیمی مدارج میں یہ گیپ بہت کم جبکہ کالج لیول تک یہ انتہائی نمایاں ہوچکا ہوتا ہے۔

لڑکے کبھی بھی لڑکیوں کی طرح نہیں ہوسکتے۔ لڑکے لڑکیوں کا رد عمل ایک دوسرے سے جداہے، جسمانی اور دماغی ساخت الگ ہے لیکن جب آپ اپنے چار پانچ سالہ بچے کو مخلوط سیٹنگز میں پڑھنے کے لئے بھیجتے ہیں تو اسکو جو پہلا تجربہ ہوتا ہے وہ یہ ہے!

طارق تم اتنی کرخت آواز کیوں نکالتے ہو، کتنا شور مچایا ہوا ہے تم نے، دیکھو نائلہ کتنی خاموش بیٹھی ہوئی ہے، اور تم اپنی سیٹ پر ہی نہیں ٹک سکتے! شرم کرو۔

یہاں سے کو سیٹنگز میں لڑکوں کے فہم و دانش یا ایٹیلکیچول سٹیٹس کے قتل عام کا آغاز ہوتا ہے۔ انکے روئیے کو ہر دوسرے منٹ لڑکیوں کے حوالے سے جانچا جائے۔ آج بھی آپ خود سے سوال کرلیں کہ آپ کے بچوں میں سے بیٹے کی اکیڈیمک پرفارمنس بہتر ہے یا بیٹی کی۔ تو اکثریتی جواب ہم سب کو پتہ ہے۔ کیا اس سے اندازہ نہیں ہوتا کہ لڑکا اسی ماحول میں پرورش پانے اور اسی سسٹم سے پڑھنے کے باجود اپنی کارکردگی لڑکیوں سے بہتر کرنے میں ناکام کیوں ہے۔ کہیں اسکول ہی تو وہ جگہ نہیں جہاں اس خرابی کو پروان چڑھایا جارہا ہے؟

اوائل عمری سے لیکر چار، پانچ سال کے بچوں کو آپ ایک کاغذ کا ٹکڑا اور رنگ دے دیں اور انکو کچھ بھی ڈرا کرنے کے لئے کہیں۔ اکثر لڑکے کسی متحرک چیز کی ڈرائنگ بناتے ہیں۔ مثلا کسی گاڑی کا ٹکرا جانا، کسی جانور کا دوسرے کو کھاجانا، متحرک گیند وغیرہ۔ جبکہ اس کے برخلاف لڑکیاں کسی ساکن چیز کو ڈرا کرتی ہیں۔ جیسے پالتو جانور، کوئی چہرہ وغیرہ۔ یہاں تک کہ انکا مخصوص رنگوں کے انتخاب بھی ایک پیٹرن لئے ہوئے ہوتا ہے۔ یہ سروے نہ صرف امریکہ میں ہوچکے ہیں بلکہ برطانیہ، افریقہ، جاپان اور تھائی لینڈ میں بھی ہوچکے ہیں اور ان کا نتیجہ اسی پیٹرن پر مبنی ہے۔ ان سروے کی سائنسی وجہ لڑکوں اور لڑکیوں کی آنکھ کی ریٹینا کی ساخت میں فرق کا ہے۔

لڑکوں کے ریٹینا میں ایم گینگلیون خلیات لڑکیوں کے مقابلے مین زیادہ تعداد میں ہوتے ہیں جن کا بنیادی کام حرکت کو نوٹ کرنا ہوتا ہے، جبکہ لڑکیوں کی انکھ کے ریٹینا میں پی-سیلز کی زیادہ تعداد موجود ہوتی ہے جس کا بنیادی فعل رنگوں کی تفریق اور شناخت ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر تین سے چھ مہینے کے بچے کے سامنے رنگوں یا حرکت کرتی اشیاء کے مابین بچے کے رد عمل کو نوٹ کیا جائے تو وہ بھی ہمیں مختلف نظر آتا ہے۔ یعنی لڑکے حرکت کی طرف زیادہ متوجہ ہوتے ہیں جبکہ لڑکیاں حرکت کے مقابلے میں ساکن اشیا ء یا رنگوں کی جانب۔

کسی بھی کلاس کی پلاننگ میں یہ بات واضح طور پر مد نظر رکھی جاتی ہے کہ تمام طلباء ہم جنس ہوں۔ مثال کے طور پر عمروں کی مخصوص رینج، ایک جیسا اکیڈیمک معیار، کلاس روم کے اندر ہدایات یا پڑھانے کی زبان کی ایک جیسی سمجھ بوجھ (انٹرنیشنل اسکولوں میں فرینچ، چائینیز، سپشنش ہدایات کی زبان کی ایسی سمجھ کو بھی ہوموجینس کلاس کا فیکٹر سمجھا جاتا ہے) کے حوالے سے ترتیب دیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ڈیموگرافی، جنس اور سوشیو اکانومی سے متعلقہ اسباب بھی اس کوشش پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ 2007 میں نیشنل انسٹییوٹ اف مینٹل ہیلتھ میریلینڈ میں دماغی بڑھوتری پر ایک ریسرچ شائع کی گئی جس کا آغاز 1990 میں شروع کیا گیا تھا۔ بچوں کے دماغ کی بڑھوتری کو ایم آر آئی اسکینز سے جانچا جاتا رہا۔ مخصوص بچوں کو سال ڈیڑھ سال کے بعد دوبارہ اس پورے عمل سے گزار کر انکے دماغ میں ہونے والی تبدیلیوں کو دیکھا جاتا رہا۔ ایک حیرت انگیز بات یہ نوٹ کی گئی تھی کہ لڑکیوں کا دماغ بہت جلدی میچیور یا بالغ ہوجاتا ہے جبکہ لڑکوں کا دماغ میچور ہونے میں بہت دیر لگاتا ہے۔ (دماغ پر اس زاویئے سے تحقیق کی یہ پہلی منظم کوشش ہے) اب آپ خود سوچیں کہ ایک کلاس روم ہی ہومو جینس نہیں ہے اور اس میں حقیقتا مختلف دماغی بالیدگی کے حامل افراد موجود ہوں تو انکی اکیڈیمک پرفارمنس ایک جیسی کیسے ہوسکتی ہے۔ اس کا فطری نتیجہ لڑکوں کی بددلی پر منتج ہوتا ہے۔ ( ریفرنس دستاویز لنک پر موجود ہے)۔

میں بذات خود پچھلے انیس سالوں سے مخلوط اور سنگل جینڈر تعلیمی اداروں میں تدریس سے وابستہ ہوں اور جب بھی اپنے اسٹوڈنٹس کو فری ٹایم دیا ہے تو لڑکے حرکت کرنے کو ترجیح دیتے ہیں جبکہ لڑکیا ں ڈرا کرنے اور ایک جگہ ساکن بیٹھنے یا بیٹھ کر باتیں کرنے کو ترجیچ دیتی ہیں۔ استثنائی کیسز Exceptionla Cases کی بات نہیں کر رہا۔

جسمانی تفریقات لڑکیوں کو ادب، آرٹ اور زبان کے مضامین کے لئے موزوں بناتے ہیں جبکہ لڑکوں کو سائنس، ریاضی اور تجزیاتی مضامین کے لئے۔ اب اگر ہم پچھلے کچھ سالوں کا رجحان دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ لڑکوں کی استعداد موزوں ترین مضامین میں بھی گر رہی ہے۔ یعنی جو لڑکوں کا فطری مضبوط دائرہ کار ہے اس میں ان کی صلاحیت زوال کا شکار ہے۔ میں دوبارہ یہ بات دہرارہا ہوں کہ پاکستان کے تعلیمی نظام اور انفرا سٹرکچر کی خرابیاں اپنی جگہ مگر یہ بھی ایک بہت بڑے سانحے سے کم نہیں کہ ہمارے پاس اسکولوں کے حوالے سے ایک تو ڈیٹا دستیاب نہیں اور اگر کچھ ہے تو وہ زیادہ مستند نہیں۔ اسی لئے اس وقت کینیڈین اسکولوں کے دستیاب ڈیٹا کے مطابق آج کی طالبات کی پڑھنے اور لکھنے کی صلاحیت میں تیس سال پہلے کی طالبات کی پڑھنے اور لکھنے کی صلاحیت کے مقابلےمیں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے مقابلے میں لڑکوں میں یہ تناسب الٹا ہے۔ یعنی تیس سال پہلے کے طلباء آج کے طلباء کے مقابلے میں بہتر کارکردگی دکھایا کرتے تھے۔ (ریفرنس: ایجوکیشن کوالٹی اینڈ اکاونٹ ایبلیٹی آفس 2007)

یعنی جتنا زیاد عرصہ طلباء مخلوط طریقہ تعلیم میں رہتے ہیں انکی تعلیمی قابلیت گرتی رہے گی۔ کو ایجوکیشن لڑکوں کو تعلیم سے لاتعلق کر رہی ہے۔ اور انکی پرفارمنس نہ صرف آرٹ اور لینگویجز میں گر رہی ہے بلکہ اب یونیورسٹیز میں کمپیوٹر، سائنسز اور ریاضی میں بھی لڑکوں کی تعداد اور پرفارمنس بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ ستر کی دہائی میں لڑکوں کی نمائندگی ہائی اچیورز میں کافی زیادہ تھی، جبکہ تقریبا ًپچاس سال بعد ہائی اچیورز میں لڑکوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ یاد رکھئے یہ کہنا انتہائی سادگی ہوگی کہ لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیا ں بہتر کارکردگی دکھاتی ہیں اسلئے انکا آوٹ پٹ بہتر ہے، کہیں ایسا تو نہیں کہ اس سارے زوال کی جڑ کو ایجوکیشن ہو؟ یہی بات ڈاکٹر لیونارڈ سیکس اپنی کتاب ‘بوائز ا ے ڈرفٹ’ میں واضح کرتے ہیں (انکی چند دیگر کتابیں بھی اس حوالے سے بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہیں)۔ یاد رکھیں یہاں ہم لڑکوں کی ذہنی استطاعت نہیں بلکہ موٹیویشن کو زیر بحث لارہے ہیں۔ کیوں کہ وہی تعلیمی نظام لڑکیوں کے معاملے میں بہتر کارگزار ہے مگر لڑکوں کے سلسلے میں ناکام ہے۔ کو ایجوکیشن ہی وہ کڑی ہے جس سے یہ مشکل پہیلی حل ہوسکتی ہیں۔

ایک اہم چیز جو میں نے کو ایجوکیشن سیٹنگز میں نوٹ کی، وہ لڑکیوں کی غیر معمولی اورئنٹیشن یا نمائندگی ہے۔ مثال کے طور پر کسی بھی کوایجوکیشن سیٹنگز میں ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ، کوارڈینیٹرز سے لیکر پرنسپل وائس پرنسپلز تک اکثریت خواتین کی ہوتی ہے۔ اسکی بنیاد یہی ہے کہ لڑکیوں کے جسمانی مسائل ان تمام جگہوں پر لڑکیوں کے لئے ان خواتین کی موجودگی کو ضروری بنا دیتے ہیں۔ اور لڑکوں کے بارے میں یہی تصور کرلیا جاتا ہے کہ وہ اپنے مسائل خواتین سے شئیر کرسکتے ہیں۔ یہ صنفی امتیاز کی بد ترین شکل ہے۔ اب اسکا نقصان یہی ہوتا ہے کہ لڑکے جارحیت میں اپنی فرسٹریشن نکالتے ہیں مگر وہ اپنے انتہائ آسانی سے حل ہونے والے مسائل بھی اپنی مینجمنٹ کے سامنے نہیں لاتے۔ اسکولوں کی جارحیت کے حوالے سے زیرو ٹالیرنس پالیسی اس معاملے پر مزید تیل چھڑک کرلڑکوں کو دیوار سے لگادیتی ہے۔ جارحیت دکھانا لڑکوں کی فطرت ہے مگر آپ نے اسکے لئے زیرو ٹالیرنس پالیسی کے نام پر گرفت کا نظام بنادیا ہے۔ لڑکے اور لڑکیوں کا مختلف معاملات میں رد عمل ہی بلکل مختلف ہے مثال کے طور پر لڑکے بھی اسکولوں میں مسائل کا شکار رہتے ہیں مگر آپ کو سب سے زیادہ روتی ہوئی لڑکیاں ہی دکھائی دیتی ہیں۔

اپنے تجربے کی بنیاد پر دعوے سے کہتا ہوں کہ جب آپ لڑکوں کو کوئی ایسا کام دیتے ہیں جس میں ہار جیت شامل ہو تو لڑکوں کی کلاس بہت اچھا پرفارم کرتی ہے مگر لڑکیوں کی کلاس لاتعلق رہتی ہے۔ فہد اور یاسر اگر بہترین دوست ہوں تو وہ کسی بھی مقابلے میں ایک دوسرے کے سامنے آنے سے نہیں کترائیں گے، لیکن صائمہ اور تابندہ ایک دوسرے کو کبھی ہرانے کے لئے تیار نہیں ہونگی جب تک دونوں نفرت کی حد تک ایک دوسرے کی حریف نہ ہوں یعنی ایک استاد کسی کو سیٹنگز میں کبھی اپنی مکمل استطاعت سے نہیں پڑھا پائے گا۔ موٹیویشن کے لئے مقابلے کی کیفیت بہت اہم ہتھیار ہوتی ہے۔ جو بات لکھنا چاہ رہا ہوں وہ یہ ہے کہ صحت مند مقابلے کی کیفیت آپکو صرف لڑکوں کےآپس کی مسابقت میں نظر آتی ہے۔

پچھلے تیس پینتیس سالوں سے ایک عنصر بڑی شدت سے سامنے آیا ہے کہ طلباء کی ان جسمانی تفریقات کے باعث اور مخلوط طرز تعلیم کی وجہ سے لڑکوں میں بہتر سے بہتر کی تحریک بہت گر گئی ہے، اپنے مشاہدے کی بنیاد پر اس بات میں مجھے شبہ نہیں کہ لڑکوں کی تعلیمی کارگزاری بہت تیزی سے گر رہی ہے۔ اور اگر مداخلت نہ کی گئی تو سب سے زیادہ متاثر لڑکے ہوں گے۔ دوسری صورت میں میرے کہنے کا مقصد یہی ہے کہ موجودہ تعلیمی نظام لڑکیوں کے لئے انتہائی موزوں اور لڑکوں کے لئے ایک وباء کی حیثیت رکھتا ہے۔

ساتھ یہ بات بھی اہم ہے کہ لڑکیوں کا دماغ لڑکوں کی نسبت جلدی میچیور ہوتا ہے۔ تعلیم و تعلم سے وابستہ لوگ اچھی طرح اس بنیادی فیکٹر کو جانتے ہیں کہ کسی بھی کلاس میں تنوع جتنا زیادہ ہوگا پڑھانا اتنا ہی مشکل اور اوسط سے کم اوٹ پٹ کا حامل ہوگا۔

سائنس ڈیلی کے ایک آرٹیکل کا حوالہ دوں گا جو جنسی تفریق کے بارے میں بہت اہم سوالات اٹھاتا ہے۔ اس آرٹیکل کی دستاویز شئرڈ لنک پر ڈال دی ہے۔

1۔ لڑکوں اور لڑکیوں کے دماغی افعال اور سننے کی صلاحیت میں ایک بنیادی فرق ہے اور لڑکا اور لڑکی دنیا کو ایک بہت مختلف نظر اور طریقے سے دیکھتے اور سوچتے ہیں۔ مجھ سمیت بہت سارے افراد یہ بات جانتے ہیں کہ لڑکیوں کی لینگویج سکلز لڑکوں کے مقابلے میں بہت بہتر ہوتی ہیں۔ اور کچھ دیگر چیزیں ایسی ہیں جو واضح انداز میں سائنس ثابت کرتی ہے۔ مخلوط طریقہ تعلیم سے اس تعلق کی وضاحت بعد میں کرتا ہوں۔ اس ریسرچ آرٹیکل کے مطابق لڑکوں میں زبان سے متعلقہ تعلیمی مواد کی پروسیسنگ سینسری sensory یا حسیات کے دماغی خلیات یا حصوں کے ذریعے ہوتی ہے۔ جبکہ لڑکیوں میں پروسیسنگ کافی تجریدی یا ایبسٹریکٹ ہے۔ اس مقصد کے لئے محققین نے ایک پیچیدہ شماریاتی ماڈل استعمال کرتے ہوئے 9 سے 15 سال کی کی عمر کے 31 لڑکوں اور 31 لڑکیوں میں ایم آر آئی کے ذریعے دماغی فعال کو ماپنے کی کوشش کی۔ نتائج حیران کن تھے۔ محققین نے یہ بات نوٹ کی کہ لڑکیاں لڑکوں کے مقابلے میں زیادہ دماغی تحریک دکھاتی ہیں۔ یعنی جب انکے سامنے کچھ لکھے الفاط پیش کئے جاتے ہیں یا سنائے جاتے ہیں تو انکے دماغ کے تجریدی حصے متحرک ہوتے ہیں جبکہ لڑکوں میں ایسا نہیں ہے۔ لڑکوں کے دماغ صرف سینسری پروسیسنگ کے بعد ردعمل دیتے ہیں۔ نتیجتا لڑکیوں کی کارکردگی زیادہ بہتر ہوتی ہے۔

ایک چھوٹی سی مثال سے یہ واضح کرنے کی کوشش کروں گا۔ “سامنےچلتے جائیں، آخر پر بائیں مڑیں سو میٹر چلنے کے بعد بائیں طرف تیسرے دروازے سے داخل ہوکر دائیں طر ف پہلا کمرہ” یہ ہدایت نامہ لڑکیوں کے لئے موثر ہوسکتا ہے اور لڑکیاں ان ہدیات پر من و عن عمل کرتی ہیں چاہے آپ ہاتھ کے اشاروں سے ان ہدایات کے برخلاف ہی کیوں نہ بتارہے ہوں۔ مگر لڑکوں کے لئے ان ہدیات کے دوران اگر آپ نے کسی جانب ہاتھ کا اشارہ کردیا تو لڑکے اسی جانب جانا شرع ہوجائیں گے اور دیگر ہدایا ت نظر انداز کردیں گے۔

میں سمجھتا ہوں کہ موجود تعلیمی ادارے لڑکوں کے ساتھ زیادتی کے مرتکب ہورہے ہیں۔ دیگر بہت سارے معاملات سمیت لڑکوں کی فطری ردعمل پر پابندی کے بجائے اسے استعمال کرتے ہوئے انکو پڑھایا جائے ورنہ یا تو مغرب ہمیں کوئی اور ماڈل بیچ دیگا اور ہم دوبارہ ایک نئی بھیڑ چال میں مبتلا ہوکر مزید غلطیاں کریں گے یا ہمیں ملکر کسی ایسے طریقے پر اتفاق رائے کرنا ہوگا جو ہماری نئی نسل کے لئے موزوں ثابت ہوسکے۔

1۔ لڑکے لڑکیوں کی دماغی تفریقات کی ایک ریسرچ:
https://bit.ly/3tuk00N

2۔ مضمون کی تیاری کے لئے استعمال ہونے والا میٹیریل
https://bit.ly/3jogpg6

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20