جدید دور کی غلامی —- نعیم صادق

0

وہ روزانہ صبح سویرے 7 بجے گھر سے نکلتا ہے۔ اس کی ڈیوٹی 12 گھنٹے کی ہے۔ جو صبح 8 بجے سے شروع ہوکر رات 8 بجے ختم ہوتی ہے۔ اسے ہر مہینے 30 دن برابر ڈیوٹی پر رہنا ہوتا ہے۔ اس کی نوکری میں کوئی چھٹی نہیں ہے۔ مجموعی طور پر امیر اشرافیہ کے گھروں اور کاروباری جگہوں کو تعطیلات کے دوران غیر محفوظ نہیں چھوڑا جاسکتا۔ اس سب کام کے بدلے میں اسے ہر ماہ 12ہزار روپے ملتے ہیں، وہ بھی پہلی تاریخ گذررنے کے پندرہ دن بعد۔ اس کی نوکری میں ایک دن کی بیماری کا مطلب ہے کہ وہ اس دن کی تنخواہ سے محروم رہے گا۔ چھٹی والے دن کی تنخواہ کاٹ لی جاتی ہے۔ وہ نہ تو سوشل سیکورٹی میں رجسٹرڈ ہے اور نہ ہی ملازمین کے ’اولڈ ایج بینیفٹ انسٹی ٹیوشن (ای او بی آئی) میں اس کا اندراج ہے۔ وہ اپنی اہلیہ اور چار بچوں کو پالنے اور ایک کمرے کے ایک ٹھکانے کا کرایہ ادا کرنے کے لئے جدوجہد کر رہا ہے۔ وہ زندگی کے اس کنارے پر جی رہا ہے – جہاں زندگی کو زندگی کہنا بھی مناسب نہ ہوگا۔ اس کی تکلیف دہ زندگی بیان نہیں کی جاسکتی ا ہے۔ اسے آپ ایک نجی سیکیورٹی گارڈ کے طور پر ہر جگہ دیکھتے ہیں۔ لیکن حقیقت میں وہ “جدید دور کا ایک غلام” ہے۔

جدید غلامی بے بس لوگوں کا ذاتی یا تجارتی فائدہ کے لئے شدید استحصال ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں نجی سیکیورٹی کمپنیوں اور افرادی قوت کے ٹھیکیداروں کے ذریعہ ملازمت حاصل کرنے والے تین لاکھ سے زیادہ سیکیورٹی گارڈز اور ایک لاکھ سے زیادہ جینیٹر(صفائی کا عملہ) ہیں۔ وہ بڑی بڑی سرکاری اور نجی تنظیموں کو سیکیورٹی اور نگرانی کی خدمات مہیا کرتے ہیں، جنھیں یہ انتظام آسان اور سستا لگتا ہے۔ کسی ٹھیکیدار کو ایک ہی مد میں اکھٹا معاوضہ ادا کرنے کے بعد، وہ خود کو معاہدہ کے تحت کام کرنے والے ملازمین کے بارے میں کسی اور ذمہ داری سے بری الذمہ سمجھتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ٹھیکیدار سخت ضرورت مندوں کو غلام بنادیتے ہیں، انھیں قلیل معاوضہ دیتے ہیں۔ اور ای او بی آئی یا سوشل سیکیورٹی میں نہ رجسٹریشن کراتے ہیں اور نہ ہی کنٹری بیوشن ادا کرتے ہیں۔

کسی ملازم کو کم سے کم قانونی اجرت سے کم ادائیگی اور ای او بی آئی اور سوشل سیکیورٹی کے ساتھ ملازمین کا اندراج نہ کرانا ایک سنگین جرم ہے۔ اس جرم کا دوسرے بھی بہت سے ادارے ارتکاب کررہے ہیں۔ سینکڑوں پیٹرول پمپ اسٹیشن اور ہزاروں نجی اسکول بلاشرکت اس زمرے میں آتے ہیں۔ غریبوں کے حقوق پر دن دھاڑے ہونے والی اس ڈکیتی کا سلسلہ بدستور برقرار ہے۔ کیوں کہ وزارت محنت، لیبر ڈائریکٹوریٹ اور کم سے کم اجرت بورڈز کی ملی بھگت اس میں شامل ہے۔

پاکستان کا وفاقی ادارہ ای او بی آئی اور صوبائی سوشل سیکورٹی کے محکمے بجٹ چٹ کرنے والے سفید ہاتھیوں کی طرح ہیں۔ پاکستان میں تقریبا 73 ملین کارکنوں کی افرادی قوت کام کرتی ہے۔لیکن اس میں سے صرف 8 ملین ای او بی آئی کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں، جب کہ سندھ کے 15 ملین سے زیادہ کارکنوں میں سے صرف 0.65 ملین سوشل سیکیورٹی (سی سی ایس آئی) میں رجسٹرڈ ہیں۔ کیا ہمارے پس ماندہ شہریوں کی فلاح و بہبود کے لئے نظراندازی کا اس سے زیادہ کوئی اور تکلیف دہ عکاس ہوسکتا ہے؟

کارکنوں کی بڑھاپے کے فوائد اور سماجی تحفظ کے جال کو مستحکم بنانے کے لئے ورلڈ بینک سے پاکستان کی 600 ملین ڈالر قرض کے لئے حالیہ درخواست غیر مناسب، غیرضروری اور بیکار ہے۔ اس کے بجائے پاکستان کو اپنے موجودہ EOBI، سوشل سیکیورٹی اور لیبر ڈیپارٹمنٹ کو درست ہموار اور اس کی اصلاح کرنا چاہئے۔ ان کی سربراہی مجاز اور دیانتدار لیڈر کو دینی چاہئے جو اس بات کو یقینی بناسکیں کہ 100 فیصد افرادی قوت ای او بی آئی، سوشل سیکیورٹی کے ساتھ رجسٹرڈ ہو۔ اور انھیں کم سے کم قانونی اجرت ادا کی جائے۔ ای او بی آئی کی شراکت فی الحال سندھ میں 8ہزارروپے، پنجاب میں 13 ہزار روپے اور کے پی کے میں 17ہزار500 روپے پر مبنی ہے جو پورے پاکستان کے کارکنوں کے لئے یکساں ہونی چاہئے۔ مزدوروں کو تنخواہ بینک چینلز کے ذریعہ ادا کی جانی چاہئے تاکہ بڑے پیمانے پر “مڈل مین کے کردار” کو ختم کیا جاسکے۔

پاکستان کینیا کا ماڈل اپنا سکتا ہے، جہاں 18 سال سے زیادہ عمر کے ہر شہری کو ہمارے EOBI کے مساوی کینیا کے ادارے NSSF میں اندراج کرنا ضروری ہے۔ یہ اسکیم خود ملازمت کرنے والے افراد کو بھی اپنی پنشن اور صحت کے منصوبوں میں حصہ ڈالنے کے قابل بناتی ہے۔ اندراج اور ادائیگی کے پورے عمل کو ڈیجیٹلائز کیا گیا ہے اور سیل فون کا استعمال کرکے تمام لین دین آسانی سے کیا جاسکتا ہے۔ ہر کارکن کے EOBI اور سماجی تحفظ کو نادرا کے ساتھ مربوط کیا جانا چاہیئے۔ اس کے علاوہ پاکستان میں ہر شخص کو چاہے وہ خود اپنی ملازمت کرتا ہو۔ اس کو بھی بڑھاپے کے فوائد حاصل کرنے کے لیے ای او بی ٓئی میں رجسٹریشن کی اجازت ہونی چاہیئے۔

پاکستان نے اپنے غریبوں کو بری طرح نظر انداز کردیا ہے۔پاکستان اپنے بہت سے پروگرام جیسے ‘بی آئی ایس پی’، ‘احسان’، اورورلڈ بنک قرضوں کے بجائے اگر اپنے یہاں کم از کم اجرت، ای او بی آئی اور سوشل سیکیورٹی رجسٹریشن کے پہلے سے موجود میکانزم کو اور زیادہ فعال کرے تو یہ پاکستان کے لیے بہت موثر ہوگا۔ کیا پاکستان کے حکمران اور اشرافیہ جدید دور کی غلامی کی اپنی نشہ آورعادت سے نجات پاسکتے ہیں؟

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20