ساخت، مرکزیت اور طاقت کا تصور —- قاسم یعقوب

0

انسانی فطرت ہے کہ وہ اشیا کو، ایک دوسرے کے تناظر، ضد اور تقابل سے پہچانتی ہے۔ نقوش اپنے اثبات کے لیے دوسرے نقوش کا وجود کا سہارا لیتے ہیں تو ذہن میں کوئی شبیہ جنم لیتی ہے۔ میں درخت کا تصور اپنے ذہن میں موجود لاکھوں تصورات کے افتراق سے پیدا کرتا ہوں، جو اپنی جسامت کے لحاظ سے درخت کی شبیہ سے مختلف ہوں گے۔ ضدیں اور تقابل کایہ سلسلہ فطری ہوتا ہے۔ البتہ اشیا کی خاصیت اور ماہیت جاننے کا علم اکتسابی ہو تا ہے۔ اشیاکی خاصیت کا علم بظاہر ضدین اور تقابل سے آسانی سے نمایاں ہوجاتا ہے اور عام انسانی عقل اسے ہی حتمی اور مستقل سمجھنے لگتی ہے مگر گہرائی میں اترنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی شے کی ماہیت اور اصلی حقیقت وہ نہیں جو کسی تقابل یا ضد سے سامنے آئی تھی۔ کسی ماہیت کو جاننے کے لیے اکتسابی علم کا سہارا لینا پڑتا ہے، کانٹ نے جس کے لیے فہم (Understabding) کا لفظ استعمال کیا جو Sensibility اور Reason کا درمیابی مرحلہ ہوتا ہے۔ جو اشیا کے تصورات کو جوڑتا ہے اور اُن کی فہم کو ممکن بناتا ہے۔ اسے تفصیل سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔

ہمیں معاشرے میں لاتعداد اشیا، قوانین، تصورات اور نظریات سے واسطہ پڑتا ہے۔ ہم اُن کو سمجھنے یا اُن کو اپنے اوپر لاگو کرنے کے لیے آسانی کی خاطر تقابل، ضدین یا تناظر کا سہارا لیتے ہیں۔ اس طرح ہمیں زیادہ سہولت سے اور فوری نتائج حاصل ہو جاتے ہیں۔ یہاں کچھ مثالیں دوں گا۔ جیسے پہاڑ اور زمین کا تقابلی تصور، خدا اور انسان کا تقابلی تصور، مرد اور عورت کا تقابلی رشتہ، ٹھوس اور مائع، گیس اور ٹھوس کے تقابلی تصورات وغیرہ۔ ہمیں یاد رہنا چاہیے کہ سائنس یا بشری علوم اشیا کو اُن کی حقیقت میں دیکھنے کا نام ہیں۔ جو چیز ظاہری آنکھ نہیں بتا سکتی وہ سائنس بتاتی ہے۔ محض تقابل یا ضدیں سے اشیا کی ماہیت متعین نہیں ہوسکتی جو کہ عام طور پر ہمارے ذہن کا پہلا اور معمولی نتیجہ ہوتا ہے۔ غور و غوض اور تحقیق کا سفر اشیا کو اُن کی اصلی حالت میں لانے میں کامیاب ہوجاتا ہے، یہی علم ہے اور یہی وہ بصیرت ہے جو انسان کا خاصا ہے۔

ہم پہاڑ کو زمین کے چٹیل پن کے تناظر سے جاننے کی کوشش کرتے ہیں اور اسی تناظر میں اپنے ذہن میں سوالات اور تاثرات قائم کر لیتے ہیں۔ اگر یہ انسان سدا سے پہاڑوں پر ہی بس رہا ہوتا، اُس نے زمین کو اسی ایک اجنبی سی نظر سے دیکھا ہوتا تو یقیناً اس انسان کے زمین کے بارے میں کچھ اسی قسم کے تصورات ہوتے جو اب پہاڑوں کے بارے میں ہیں۔ اسی طرح انسان کا خدا کے بارے میں سارا تصور انسان کے تناظر میں تیار ہوا ہے۔ گویا مذاہب اور بشری علوم خدا کو خدا کی ماہیت میں تلاشنے کی کوشش تو کرتے آئے ہیں مگر عام انسانی عقل اسے پہچان سکتی ہی نہیں۔ وہ ایک انسانی جیتے جاگتے تصور کو قائم کر کے خدا کی صفات کو تیار کرتی ہے۔ خدا کا غصہ، محبت اور فرشتوں کو احکام وغیرہ یہ سب تصورات انسان کے تصورات ہیں جن کی روشنی میں اُس کا تصورِ خدا مکمل ہوتا ہے۔ خدا تعالیٰ خود کیا ہے، اس تصور کو اُس کی ماہیت اور اصل میں دیکھنے کی کوشش کرنا بھی محال ہے۔ عورت اور مرد کی ذات کو اُس کی اصل میں دیکھنے کی بجائے تقابلی رشتوں سے ماپا جاتا رہا ہے۔ یعنی انسان نے عورت اور مرد کی صنف (Gender) کو ایک دوسرے کی ضدین سے جانا ہے۔ عورت خود کو مرد کے تقابل میں دیکھتی آئی ہے اور مرد نے بھی عورت کو اپنے تناظر میں دیکھا اور دکھایا ہے۔ عورت جسمانی طور پر کمزور قرار دی گئی تو اس لیے کہ وہ مردکے مقابل طاقت ور نہیں تھی۔ حالاں کہ عورت ہزاروں مخلوقات سے زیادہ طاقتور ہے، اسی طرح مرد ہزاروں مخلوقات سے کمزور تر ہے۔ یہ امتیازات انسانی ذہن کا ابتدائی عمل تھا جسے سماجیات کا ایک حصہ سمجھنے کی بجائے فطرت بنا کر پیش کیا گیا۔ بشری علوم (Social Sciences) نے ان امتیازات کو ضدین یا تقابل و تناظر میں دیکھنے سے منع کیا اور اشیا و اصناف کو اُن کے اپنے خدوخال میں دیکھنے کی اہمیت اجاگر کی۔ ظاہری بات ہے یہ ایک مشکل اور طے شدہ سماجی قوانین کے خلاف سوچنے اور تحقیق کرنے کا عمل ہے۔

بشری علوم کی دریافت سے ایک فائدہ یہ ہُوا ہے کہ اُن تصورات کو بھی سائنس کی طرح ماہیتی و تحقیقی انداز سے دیکھا جانے لگا ہے جو ازلی قوانین کی شکل اختیار کر گئے تھے۔ ہمارے بہت سے سماجی تصورات اور قوانین بھی ضدین اور تقابل و تناظر کے اصول پر بنائے گئے ہیں۔ اچھائی برائی کے اصول، اخلاقیات کے قوانین، زندگی اور موت کے تصورات وغیرہ ہمارے روزمرہ زندگی میں ہمیں اپنی اصلی حالت کی بجائے ایک دوسرے کی ضد اور تناظر میں اپنا اثبات کرواتے ملتے ہیں۔ وہ خود کیا ہیں، اُن کی حقیقت اُن کے اندر کیا ہے، اُن کی ماہیت اُن کے اپنے وجود میں کیسی پڑی ہوئی ہے، ہم اس کو جاننے کی بہت کم کوشش کرتے ہیں۔ تقابل و تناظر کا پردہ پھاڑ ڈالنا اتنا آسان نہیں۔ ذہن کے ابتدائی فطری عمل سے آگے سوچنے کاعمل بہت مشکل اور خاص اذہان کا شیوہ ہے۔ تقلیدی اورعام ذہن اسی میں عافیت محسوس کرتا ہے جو ظاہریت اُسے دکھاتی ہے۔

ہم تقابل کیوں کرتے ہیں؟
ہم اشیا کو اُس کی ضد کے ساتھ کیوں دیکھتے ہیں؟
ہم ہر شے کا تصور کسی تناظر میں کیوں بناتے ہیں؟
بہت سے تناظرات، ضدوں اور تقابلات میں ہم کچھ تناظرات، تقابلات اور ضدوں کا ہی سہارا کیوں لیتے؟ بعض اوقات ہمیں ایک ہی طرح کا تناظر دکھائی دیتا ہے ایک ہی طرح ہی ضد ہر شے کے لیے ملتی ہے۔ ہم اُسی سے تقابل کرتے ہیں اور اُسی کے تناظر سے سوچتے ہیں۔

اصل میں یہ سارا کھیل طاقت کا ہوتا ہے۔ طاقت فیصلہ کرتی ہے کہ یہ مرکز ہے یہ حاشیہ ہے۔ طاقت ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ یہاں سے اشیا کو ماپو، یہاں سے چیزوں کے بارے میں تصورات قائم کرو۔

ماہر لسانیات ساسئیر نے ساخت کے تصور میں مرکز کو لامرکز قرار دیتے ہوئے پوری ساخت کو مرکزیت سے الگ کر دیا تھا۔ کسی بھی سماج کو اگر ایک ساخت تصور کر لیا جائے تو اُس کا مرکز کوئی نہیں ہوتا۔ البتہ طاقت اُس کا مرکز بناتی ہے۔ یہ طاقت ثقافتی بھی ہوسکتی اور سیاسی بھی۔ مذہبی بھی ہو سکتی اور تاریخی جبرکی بھی۔ کتنی عجیب بات ہے کہ ہم نے کامیابی اور ناکامی کے تمام تصورات اسی طاقتوں کے دیے گئے مراکز سے متعین کر رکھے ہیں۔ طاقت ایک مرکز بنا دیتی ہے اور ہم اُسی مرکز کے تناظر سے اپنی اپنی ترجیحات کو متعین کرتے ہیں۔ بعض اوقات ایک مرکز کی بجائے ہر تناظر میں نیا مرکز بنا دیا جاتا ہے جو مقامیت کو اُسی کے تقابل سے اپنی ضروریات اور کامیابیاں متعین کرنے کا جبر پیدا کرتا ہے۔

یورپ بیانیے نے ہمیں بتایا کہ ہم تیسری دنیا ہیں، کیوں کہ ہم پہلی دنیا کے مقابل اپنی دنیا کا تصور قائم کر رہے تھے۔ ہم نے اپنی زبان کو گھٹیا زبان سمجھا کیوں کہ ہم انگریزی کی طاقت کے تناظر میں خود کو ماپنے لگے تھے۔ ہمارے روایتی کپڑے، کھانے، بازار اور تعمیرات سب کچھ گھٹیا ہو جاتا ہے کیوں کہ ہم کسی ضد کو ان کے ساتھ پیدا کر لیتے ہیں۔ مرکز اب لامرکز ہو چکا ہے، ہر شے، ہر تصور اور ہر نظریہ ساخت کے اندر کسی مرکز کا محتاج نہیں۔ ساخت کا ہر حصہ مل کر مرکز کی تعمیر کرتا ہے یعنی پورا سماج ایک کُل ہے سماج کا ہر عنصر(Component) اپنی جگہ مکمل اور بذات خود مرکز ہے۔ اُسے کسی مرکزی تصور کے ساتھ اپنی پہچان بنانے کی ضرورت نہیں۔

ساخت کا یہ تصور ریاضیاتی ساخت سے ملتا ہے۔ ریاضی میں بھی ہر عدد (Digit) ریاضی کے پورے نظام میں اپنی الگ پہچان رکھتا ہے جس کے بغیر ساخت مکمل ہی نہیں ہو سکتی۔ کیا ۹ کے بغیر ۹۹ کا تصور قائم کیا جا سکتا ہے؟ ریاضی میں ہر عدد کی قیمت دوسرے ساتھ متعین تو ہوتی ہے مگر ایک عدد کی قیمت کا تصور اپنی تئیں بھی موجود ہے اُسے کسی دوسرے کے ساتھ اپنی قیمت متعین کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

کیسی عجیب بات ہے کہ ہم نے کامیابی اور ناکامی کے تصورات بھی قومی تصورات بنا رکھے ہیں۔ بزرگی، تعلیم یافتگی اور خوبصورتی کے تصورات بھی مرکز کے دیے ہوئے تصورات کے ساتھ بنتے ہیں۔ حالاں کہ گائوں کا بزرگ کئی پروفیسروں سے زیادہ تعلیم یافتہ ذہن رکھ سکتا ہے۔ ہمارے ماں باپ اور گلی محلوں کے بزرگ کسی بھی مشہور کامیاب شخص سے زیادہ کامیاب ہوسکتے ہیں۔ گائوں اور صحرائوں کی میلی سی دوشیزائیں شہروں کی پاوڈر میں لتھڑی میموں سے زیادہ خوبصورت ہو سکتی ہیں۔ مگر یہ تب ممکن ہے جب ہم تناظر، تقابل اور ضدوں سے اشیا کو دیکھنا بند کریں۔ کامیابی، بزرگی، خوبصورتی اور تعلیم یافتگی کا ایک فارمولہ بنانے کے بعد اُسے اُسی تناظر میں دیکھنا ہوگا جس میں وہ تصور پروان چڑھ رہا ہے تقابل اور ضدوں سے تو ہم پہلے سے ہی یہ طے کر چکے ہوتے ہیں ایک اعلیٰ اور برتر (Superior) ہے اور دوسرا کم تر اور کمزور، سو ایسے میں کبھی بھی اشیا اور اُن کے تصورات کادرست علم ممکن نہیں۔

ساخت کو لامرکز کر دینے سے ہم ساخت کے ہر عنصر کو مرکز قرار دینے لگتے ہیں جس سے انفرادی شناخت سامنے آنا شروع ہوتی ہے اور طاقتوں کے متعین بیانیوں کو منہ کی کھانی پڑتی ہے جو مہا بیانیوں میں سوچنے پر مجبور کرتی ہیں۔
انفرادی سطح پر اشیا کے اندر جھانکنے سے شاید ہمیں اپنی مائیں، اپنا کلچر اور اپنا آپ زیادہ کامیاب نظر آئے، ورنہ دنیا کا کامیاب ترین آدمی بل گیٹس اور مہذب ترین عورت لیڈی ڈیانا ہی نظر آتی رہے گی۔

یہ بھی پڑھیں: طاقت ور: یعنی نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھنے والا؟ ------ قاسم یعقوب
(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20