محض ایک وجود یا علامت؟ —- دیکھنا ہو گا، ہم میں سے کون کس کے جیون کا ‘وَین ڈرائیور’ ہے۔

0

تعارف

پورا نام ہمایوں مجاہد تارڑ۔ دنیائے درس وتدریس و تحریر و تقریر میں معروف نام ہمایوں تارڑ۔ تعلیم ایم اے انگریزی زبان و ادب۔ تعلیم و تربیت کے میدان میں فعّال آپ ایک نامور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ، بلاگر، استاد، اور تربیت کار ہیں۔ رہائشی اعتبار سے دو مقامات پر بیک وقت پائے گئے ہیں: اسلام آباد پاکستان میں، اور ـــتخلیقی سوچ اور منفرد اندازِ بیاں کی بِنا پرـــ سامعین و قارئین کے دلوں میں۔ صاحبِ مطالعہ اور زرخیز دماغ، نئی چیزوں کو بہ سُرعت سیکھ لینے، مثبت فکر کو پروموٹ کرنے والے تارڑ مشہور جاسوسی ناول ‘جنید سیریز’ کے خالق ہیں۔ ‘ٹارزن سیریز’ میں ‘حضرت ٹارزن’ کو کپڑے پہنا کر نئے انداز میں پیش کر رکھا ہے۔ کہانی کاری یعنی فِکشن میں ہی’ عقلمند ببلُو’ جناب کی طرف سے ایک اور انوکھے انداز کی سوغات ہے جو عنقریب منظرِ عام پر آرہی۔ جبکہ تعلیم اور تربیتِ اولاد پر ایک معروف کتاب ‘نئے اِمکاں نئے نئے شب و روز’ بھی لانچ کر چکے۔ ISB JEEP کے نام سے بچوں اور والدین کے لیے مختلف تربیتی سیمینارز اور کورسز متعارف کروا رکھے ہیں۔ تخلیقی انداز میں سوچنا ایک شے ہے، بات کو سلیقے سے ابلاغ کرنے میں ملکہ ایک الگ شے۔تارڑ بھائی کو خالق نے دونوں اشیا وافر طور اَرزاں کر رکھی ہیں۔صد مسرّت کہ دین ودنیا کا بہترین امتزاج، ایک متواضع طبیعت کے مالک اصلاح کار تارڑ اب ہمارے ساتھ بھی جُڑ گئے ہیں۔تارڑ اپنے “جہان تازہ” کے در دریچوں کو ہمارے اذہان وقلوب پر کھولتے رہیں گے۔یہ ہفتہ وار کالم اب ‘دانش’ کا ایک مستقل فیچر ہے۔


سیاہ لباس غم اور ماتم کی علامت ہے ـــــ اگرچہ کالا کپڑا بس ایک کپڑا ہے، اور کالا رنگ بس ایک رنگ۔

‘دریا’ باہر کی مادّی دنیا میں محض ایک دریا ہے، ایک شے یعنی object ـــ جبکہ انسان کے تجربہ و شعور اور احساس کی دنیا میں یہ سفر، بہاؤ، نشوونما اور بالیدگی کا نمائندہ ہے، یعنی غیر مادّی تصوّرات کی علامت۔ اسی طرح، ‘طلوعِ آفتاب’ اُمّید، نئے مواقع اور نئے جنم کی علامت ٹھہرا۔ ایک ‘تہہ خانہ’ قید، اسیری اور تنگیِ ذہن کی علامت۔ ‘شاہین’ بلند پروازی، تحرّک، خود کفالتی، اور حکمتِ عملی کی علامت۔ ایک ‘قلعہ’ طاقت کی علامت۔ ‘روشنی’ بظاہر بس لائٹ ہے، جبکہ احساسی تجربہ میں یہ پاکیزگی، امّید، اور تقدّس کی علامت، جبکہ ‘اندھیرا’ مایوسی، احساسِ گناہ، فریب دہی، اور مذمّت کی علامت۔ ۔ ۔

علامتیں یعنی symbols کیا ہیں؟

یہ باہر کی مادّی دنیا کو ہمارے شعور و احساس کی غیر مادّی دنیا کے ساتھ جوڑنے میں پُل کا کردار ادا کرتی ہیں۔۔ گویا علامتیں خارجی دنیا میں رکھی اشیا کو ہمارے باطنی تجربہ کیساتھ connect کردیتی ہیں۔

کوئی 15 برس گذرے، کیمبرج یونیورسٹی نے او لیول انگلش کے امتحانی پرچے میں ایک عنوان یوں بھیجا تھا:

If you had a problem, to whom would you turn for advice, and why?

یعنی مشکل وقت میں آپ مشورہ و نصیحت کے لئے کس کی طرف رجوع کریں گے، اور کیوں؟

ناچیز نے طلبا کو بتایا کہ آپ ایک عدد شخصیت کو متعارف کرا کر اس کی دو تین خوبیاں مختصراً ڈسکرائب کردیں، بالخصوص دوسروں کے لیے مددگار ہونے والی خوبی۔ تب دو یا تین واقعات کی تفصیل دیں جو evidence یا illustration کا کام دے گی۔

پرِی رائٹنگ فیز (مرحلہ) میں مضمون کے متن اور عبارت کو مؤثر بنانے کے لئے روٹین کی کچھ ٹِپس دی گئیں۔ پھر عنوان کی نسبت سے کچھ خصوصی نکات اور متعلقہ الفاظ یعنی relevant vocabulary کا ذخیرہ وغیرہ کیا گیا۔

تاہم، اس بات پر تاکیدی زور کہ آپ اپنی اپنی زندگی میں جھانک کر پوری سچّائی کیساتھ وہ بندہ تلاش کریں، گھر میں، سکول میں، رشتہ داروں میں کہ جس کے ساتھ واقعتاً آپ اپنی پریشانی شیئر کرنا چاہیں گے۔

آپ یہ سُن کر حیران ہوں گے، ایک بچّے نے مضبوط لب و لہجہ میں، خوب جما کر اپنے ‘وین ڈرائیور انکل’ کو یاد فرمایا۔

نہ کوئی دوست، نہ استاد، نہ والدین، نہ کزنز، نہ کوئی محلّے دار۔۔۔ بلکہ وین ڈرائیور انکل۔

اب why کے لئے وجہ ملاحظہ فرمائیں۔

بچے نے کچھ اس طرح لکھا تھا:

…because he always keeps smiling, and never ever loses his temper against our delays and the kind of mess and fuss we make on the way …

پھر ایک دو عدد سچے واقعات لکھ کر اُس نے مہر ثبت کر دی کہ کیسےایک دو مرتبہ مشکل صورتحال پیش آگئی مثلاً ٹریفک جام ہو گیا، یا گاڑی کا ٹائر فلیٹ ہو گیا وغیرہ تو ڈرائیور انکل نہ صرف پریشان نہیں ہوئے بلکہ اپنے شاندار رویّے سے انہوں نے دوسروں کے لئے ماحول کو خوشگوار بنائے رکھا۔ نیز، بعض شرارتی اور غصیلے بچوں سے نبٹنے کا مشفقانہ و دانش مندانہ انداز۔۔۔

کہنا کیا ہے؟

مبارک ہے ایسی ایک زندگی، ایک ایسا وجود جو بظاہر تو بس ایک وجود ہے ـــ گوشت پوست کا بنا ـــ مگر ساتھ میں وہ کسی دوسرے شخص کے جیون میں ڈھارس بنا بیٹھا ہو ـــ اُس کے لئے امّید، خوشی، راحت، امن، طاقت اور مدد وغیرہ کی علامت۔

یہ بات یاد رہے کہ اِن سینکڑوں، ہزاروں علامات میں مؤثر ترین علامت خود حضرتِ انسان کی ذاتِ گرامی ہے۔ میرے لیے طاقتور ترین اِنسپریشن ایک جیتے جاگتے انسان کا رویہ و عمل ہے ــــ میرے باطن پر ضرب لگانے، میرے اندر کوئی تبدیلی پیدا کر دینے، میرے کسی پیراڈئم کو اڑا کر رکھ دینے والا مؤثر ترین ہتھیار!

کیا آپ کی زندگی میں ایسا کوئی کردار ہے جس کے لئے آنکھیں چھلک پڑیں؟دیکھنا ہو گا، ہم میں سے کون کس کے جیون کا ‘وَین ڈرائیور’ ہے۔ محض مجبوری کا ساتھ ہے یا اس سے بڑھ کر کچھ اضافی معنویت بھی رکھتا ہے؟

تو ‘وین ڈرائیور انکل’ گویا ایک علامت ٹھہری ــــــ مدد، تحفّظ، نرمی اور شفقت کی علامت!

اب آپ سوچیں، یہ کِس قدر ‘خطرناک’ بات ہے ـــ یعنی جس بچے نے یہ ریفلیکٹِو مضمون لکھا تھا، آپ اُس کے ہاتھ میں کسی روز ‘آسکر ایوارڈ’ دے کر فراخدلی سے کہہ دیں: ‘دے دو جسے دینا ہے’

تو وہ کیا کرے گا؟

نہ کوئی دوست، نہ اس کی ماں، نہ باپ۔ ۔ ۔ بلکہ وَین ڈرائیور انکل ـــ کیوں؟

اسی ‘کیوں’ کا تعاقب ہمیں یہ urge اور بھڑک دے سکتا ہے کہ ہم بھی وہ ڈیوائس اپنے اندر کہیں سے فِکس کرالیں جو بعض لوگوں میں built-in یا پیدائشی طور لگی ہوتی ہے۔۔۔ خلافِ مزاج اور خلافِ توقع صُورتِ حال پر بَلاسٹ نہیں کرتے۔ معاملات کو بیشتر نرمی اور دانائی سے نمٹاتے ہیں۔۔۔ ایسے لوگ سراپا رحمت ہوتے ہیں۔

بات بے بات پھٹ پڑنا، خلافِ توقع رویے پر ، کسی کی خطا یا بلَنڈر پر بھڑک اُٹھنا ایک آسان آپشن ہے، بالخصوص بچوں کے باب میں۔ مشکل آپشن خود کو روک لینا ہے، بچے کو یہ دکھانا اور باور کرانا کہ کیسے ہر غلطی اصل میں سیکھنے کا ایک عمدہ ذریعہ ہے۔ بہترین ذریعہ! نہ کہ پھٹکار سے اس کی تواضع کرنا تاکہ سند رہے۔

کیا آپ نے نوٹ کیا؟ ــــ ہمارے اِس سماج میں رویّے زیادہ تلخ ہیں، زبان درشت ہے، لب و لہجہ میں طنز اور تضحیک ہے ، دوسرے کو پچھاڑ دینے والی شدّت ہے۔ ایسی شدّت کا مظاہرہ آن گراؤنڈ گھر کی عمومی زندگی میں ہے تو آپ کی ورک پلیس پر بھی، اور اِس مزاج کا ایک بھڑکیلا مظاہرہ سوشل میڈیا پر زیادہ تر نمایاں ہے۔ آپ نے دیکھ رکھا ہو گا، سوشل میڈیا پر کوئی صاحب یا صاحبہ جب ایک سٹیٹس اَپ لوڈ کریں تو تبصرہ کرنے والوں میں سے بیشتر لوگ صاحبِ پوسٹ کو کوئی رعایت دینے کو تیار نہیں۔ ممکن ہے صاحبِ پوسٹ کا مؤقف غلط ہو، مگر یہ تبصرے اُسے اپنی سوچ کا ازسرِ نو جائزہ لینے، اپنے نکتہِ نظر پر نظر ثانی کرنے اور اصلاح کر لینے کی ترغیب دینے کی بجائے اُلٹا ایک منفی انا اور ضد کا شکار بنا دیتے ہیں۔

دیکھنا ہو گا فالٹ کہاں ہے؟ غالب نے کہا تھا، ‘مری تعمیر میں مضمر ہے اِک صورت خرابی کی’۔ یہ افسوسناک مزاج اِنجیکٹ کیا جاتا ہے پہلے گھر کی سطح سے۔ اور آگے چل کر سکول کے پلیٹ فارم سے جسے علم و آگہی اور تربیت کا گہوارہ کہا جاتا ہے۔

بالخصوص گھر کے بڑے، ماں باپ، گرینڈ پیرنٹس، بڑے بہن بھائی، یا اَنکلز اور آنٹس۔۔۔ وہ سارے care-givers جو بچے کے لئے جیتے جاگتے رول ماڈلز ہیں (جنہیں وہ دیکھتا سنتا، اُن کے ساتھ تعامل کرتا ہے) جانے انجانے میں ایک درشت اور explosive قسم کی شخصیت اس بچے اندر بھرنے میں مصروف رہتے ہیں تاوقتیکہ ذرا بڑا ہو کر وہ بچہ ردّ عمل دینے لگ جاتا ہے ــــ اُسی طرز کے رویّوں اور زبان کیساتھ۔ تب اُسے نافرمان، بد تمیز، اور ضدی وغیرہ کہہ دیا جاتا ہے۔

اب تربیت یا مینٹونگ mentoring کی بات جب چھڑتی ہے تو تب بھی سمجھ میں نہیں آتا کیا کِیا جائے، کیسے کیا جائے؟

عمومی نوعیت کے جملے بول دئیے جاتے ہیں: “بچوں سے پیار کرو، پازیٹو رہو، اُن کی اچھی تربیت کرو۔” وغیرہ۔ جبکہ ایک ماں کے لئے، اسی طرح ایک باپ کے لئے وہ آزمائشی یا چیلنجنگ صورتحال جب عملاً پیدا ہوتی ہے تو وفورِ جذبات میں، نیز کم علمی اور ناواقفیت کی بنا پر وہ اُسی رویّے کیساتھ پھٹ پڑنے پر مجبور ہو تے ہیں، جس رویّے اور زبان نے خود اُن کیساتھ بچپن سے جوانی تک سفر کیا ہوتا ہے۔

شاید اُن کا بھی زیادہ قصور نہیں۔ وہ اسی ‘درجہ حرارت’ پر چارج کئے گئے تھے۔۔۔ اِس لئے ضروری ہے کہ پیرنٹنگ یا تربیتِ اولاد کے چیپٹر پر اسی طرح کام کیا جائے جیسے کوئی طالب علم اپنے امتحان کی تیاری کرتا ہے۔ یا جیسے ایک کمانڈو کو ایسی مشقوں میں سے گذارا جاتا ہے جن کے نتیجہ میں وہ ہر طرح کی غیر متوقع صورتحال کا کامیابی سے سامنا کر سکے۔ کہنا یہ ہے کہ پیرنٹنگ ایک باقاعدہ ایجوکیشن ہے۔ اِسے سنجیدہ لیا جائے۔

 

اگلے روز ایک ماں کو دیکھا جو بچے کے ہاتھ سے اپنا موبائل فون چھینتے ہوئے چیخ رہی تھی:

‘پھر اُٹھا لیا!! کسی کی بات سنتے ہو!۔۔۔ منہ توڑ دوں گی تمہارا۔۔۔ کسی خنزیر کی اولاد!! کتنی بار سمجھایا ہے میرے فون کو ہاتھ نہ لگاؤ۔ ابھی چارجر پر لگایا تھا۔۔۔ ٹوٹل نائن پرسنٹ بیٹری ہے اس میں۔۔۔ ‘گویا بچے کے لیے پیغام ہے کہ خلافِ توقع وقوعے پرآپ نے اس طور ردّ عمل دینا ہے۔ وہ عمر بھر اس رویے، لب و لہجے، اور زبان کا سفیر بنا رہے گا۔ کیا سماج کو آپ ایسا ایک انسان دیں گی جو بات بات پر دوسروں کو پچھاڑ دے؟ جو دوسروں کی خطا و مستی پر اس طور بَلاسٹ کرتے ہوئے گذرے؟ یا اُن کو برداشت کر سکے اور اصلاح کر سکے؟

اس کمیونیکیشن کے اجزائے ترکیبی یہ ہیں:

“پھر اُٹھا لیا!!” (گذشتہ گناہوں/غلطیوں کا حوالہ دے کر احساسِ جرم کا شکار کرنا۔ لب و لہجہ کی تربیت الگ سے۔)
“منہ توڑ دوں گی تمہارا۔۔۔ کسی خنزیر کی اولاد!” (ردّ عمل دینے کا طریقہ اور الفاظ کا انتخاب۔ لب و لہجہ کی تربیت اس پر مستزاد)
” بتایا تھا نا میرے فون کو ہاتھ نئیں لگانا۔ ” ( طعنہ زنی)
“ابھی چارجر پر لگایا تھا۔۔۔ ٹوٹل نائن پرسنٹ بیٹری ہے اس میں۔” (اصل پیغام، ہدایت سے گریزاں)
ہونا کیا چاہئیے؟۔ ۔ ۔ کہ اصل پیغام پر فوکس کِیا جائے۔ کیسے؟
ذرا فاصلے پرسیدھی تن کر کھڑی ہو جائیں۔ سنجیدہ لب و لہجہ میں، چیخے بنا، مختصرترین الفاظ: “فون چارجر پر لگائیں!” گھور کر دیکھے جائیں، اور خاموشی۔ اس خاموشی کو بولنے دیں۔ اسی میں دھمکی ہے، پچھلی خطاؤں کی یاددہانی ہے، ساری تاریخ ہے، اور اصل پیغام بھی۔۔۔

اگلے مرحلے میں، چند سیکنڈز بعد:

” آپ سے کچھ کہا۔ ۔ ۔ ؟” بچہ سر اُٹھا کر دیکھے گا۔ اب آپ سنجیدہ صورت، تنے ہوئے بدن کے ساتھ صرف انگلی سے اشارہ کریں گی کہ اُسے کیا کرنا ہے۔ ۔ ۔ اس طور بچے کے ساتھآپ اپنے رابطے کو مؤثر رابطہ بنائیں۔ یعنی ایفیکٹو کمیونیکیشن !

بعض احباب کو شکایت ہے کہ آجکل کی پیرنٹنگ والی درس و تدریس بچوں کو بدتمیز بنانے پر مصِر ہے، اور یہ کہ ڈانٹ ڈپٹ بہت ضروری ہے ورنہ بچے ہاتھ سے نکل جاتے ہیں۔ مجھے اتفاق ہے۔ ضرور ڈانٹیں! مشہور انگریزی ضرب المثل ہے:

Spare the rod, and spoil the child.

سختی کرنا ہو گی، کرنا پڑتی ہے جو سراسر بچے کے اپنے مفاد میں ہے۔ تاہم یاد رہے، ڈانٹ ڈپٹ وحشت و پھٹکار نہیں۔ بےقابو ہو کر چانٹے رسید کرنے، اور گالی گلوچ کرنے کا نام نہیں۔ بلکہ تربیتِ اولاد والی تعلیم آپ کی ڈانٹ ڈپٹ کو تہذیب یافتہ بناتی ہے۔ زور اس نکتے پر ہے کہ کب، کیوں، کتنی، کیسے؟ یہ بچے کے مفاد میں تب ہو گی جب ذرا تدریج کا خیال رکھا جائے۔ جیسا کہ اوپر مذکور مثال پر دئیے تجزیے میں عرض کیا گیا ہے۔

گردو پیش پر اچٹتی سی ایک نظر ڈالیں۔ اس میں بکھرے رویّے اس امر کا ثبوت ہیں کہ تربیت کے باب میں کوئی بھیانک خلا رہ گیا ہے۔ پاس کھڑے اور قریب سے گذرتےبیسیوں، سینکڑوں افراد اپنے من میں گویا ٹائم بم لیے پھرتے ہیں۔ بات کرو تو کاٹ کھانے کو دوڑتے ہیں۔ تسلیم کہ پاک و ہند کے سماج میں ایک عنصر مہنگائی، معاشی مجبوری اور محرومی کا بھی ہے، تاہم خود کو سنبھالنے manage کرنے کا فلسفہ اور غرض و غایت ہے ہی یہ کہ مشکل وقت میں manage کیا جائے۔ ورنہ حادثہ در حادثہ! کسی نے کیا خوب کہا، ” بہتر ہے آپ اپنے اشتعال کو لگام دیں، غصّے کو سنبھال لیں ـــ کیونکہ غصّے کی زد میں آنے والے اپنی حماقت کو سنبھالنے سے قاصر ہیں۔ ”

ترقی یافتہ ممالک کے ائیرپورٹوں پر اتریں، طبیعت نہال ہو جاتی ہے۔ وہاں جگہ بہ جگہ مسکراتے چہرے اور نرم خو ئی والے مظاہرے کیوں دِکھا کرتے ہیں؟ وہاں پہنچتے ہی دنیا یکسربدل جاتی ہے، کیوں؟ وہاں ‘پلیز’ تھینک یُو، سوری’ کہنے والی تہذیب کیا ہے، کہاں سے آئی؟

یہ ادب آداب اور اخلاق اُن اقوام کے تعلیمی اداروں کی ابتدائی جماعتوں میں مشق ہوتے دیکھے جا سکتے ہیں۔

اوپر مذکورہ مثال میں اُس بچے نے وَین ڈرائیور انکل کو اپنا نفسیاتی سہارا قرار دیا تھا۔ گویا یقین سے کہا جا سکتا ہے وہ بچہ اپنے ماں باپ کے رویوں کو بےلچک پاتا ہو گا۔ پھر دوہرا دوں۔۔۔ ہمیں دیکھنا ہو گا، ہم میں سے کون کس کے جیون کا ‘وَین ڈرائیور’ ہے۔ محض مجبوری کا ساتھ ہے یا اس سے بڑھ کر کچھ اضافی معنویت بھی رکھتا ہے؟ تو ‘وین ڈرائیور انکل’ گویا ایک علامت ٹھہری ــــــ مدد، تحفّظ، نرمی اور شفقت کی علامت۔ ایسی سب علامت نما ہستیوں کو راقم کے دل کا سلام۔

یہ بھی پڑھیں: آٹو میشن ایج کی دستک اور تھری ڈی پرنٹر ---------- ہمایوں مجاہد تارڑ
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20