مُک مُکا کی سیاست اور تھر کی اجڑی بستی: ثمینہ رشید

0

پاکستانی عوام کے لئیے پچھلے چند روز حیران کردینے والے قصوں سے بھرپور رہے۔ ہر روز ایک نئی ہلچل ہر روز ایک نیا قصہ۔

ایان علی کی دوبئی روانگی سے شرجیل میمن کی گرفتاری کے ڈرامے تک، سابق وفاقی وزیر حامد سعید کاظمی کی رہائیی سے لے کے ڈاکٹر عاصم کی ضمانت تک ہر خبر حیران کردینے والی ہے۔ اور ایان علی کے قضیے میں تو ایک آفیسر جان بھی گنوا بیٹھا اور ایان علی کا کچھ نہ بگڑا۔ تماشے تو اور بھی ہوئیے جب شرجیل میمن کی تاج پوشی و گل پاشی کی گئی اور رینجرز پولیس کے ساتھ مل کر ان کی حفاظت کرتی نظر آئی اور چشمِ فلک ہی حیران رہ گئیی۔

Samina Rasheed

عام آدمی ہے کہ ضمانتوں اور رہائی کے اس گھناؤنے کھیل کہ پسِ منظر میں ہونے والی ڈیل سمجھنے کی کوشش میں ہے۔ تو دوسری طرف سندھ کے ایک سینئر سیاستدان کا یہ کہنا کہ ڈاکٹر عاصم کی ضمانت پہ رہائی انصاف کی فتح ہے سن کر ہر باشعور پاکستانی سوچ میں ہے کہ اربوں کی کرپشن کے الزام میں ضمانت پہ رہائی ملنا کون سے انصاف کی فتح ہے۔

لیکن کیا کیا جائیے جناب جب تک اربوں کا فراڈ اور عربوں کے آشیرواد حکمرانوں کے سروں پہ ہے یہ نظامِ عدل یونہی چلتا رہے گا۔ اور بے انصافیوں کی سنہری تاریخ یونہی رقم ہوتی رہے گی۔

دوسری طرف تھر کے باسی ایک مرتبہ پھر موت کے سائیے کی زَد میں ہیں۔ بھوک کی دیوی نے اجل کا رقص شروع کردیا ہے۔ پچھلے چند دنوں میں تھر کے بیس بچے زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ تھر کے باسیوں پہ ہی کیا موقوف تھر کے خوبصورت اور نایاب نسل کے موروں میں بھی رانی کھیت کی بیماری پھیلنے سے صرف چند دن میں سو سے زائید مور ہلاک ہوچکے ہیں۔ لیکن فی الحال تھر کسی مک مکا کی سیاست کے ثمرات سے محروم ہے۔ اور دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کی نظر عنایت ابھی اس پہ نہیں پڑی ہے۔

مک مکا اور نظریہ ضرورت کی سیاست کا دور دورہ ہے۔ بلین روپے کے کیسوں میں لاکھوں روپے دے کر ضمانت کرانے والوں کا جشن منانا، تاج پوشی و گل پاشی کرنا واقعی تھر کے بھوک سے مرتے ہوئیے عوام سے زیادہ اہم ہے۔ حکومتی جماعت سندھ کی ترقی کے منصوبوں اور سنہری مستقبل کے وعدوں سے عوام کو لبھانے میں مشغول ہے تو دوسری طرف پیپلز پارٹی پنجاب میں بھی “سندھ کی طرح ترقی دلانے” کے دعوے کرنے میں مصروف۔

تو جناب دونوں بڑی جماعتیں ڈیل کرکے بظاہر دشنام اور الزام تراشی میں مصروف ہے اور اپنے اپنے مفادات کا تحفظ بھی پسِ پردہ جاری ہے۔ اب سندھ حکومت کی اس مبینہ ڈیل کے بدلے اگر پاناما پہ ڈیل بھی شامل ہے تو ملک کا مستقبل کیا ہونے والا ہے یہ پہیلی بُوجھنا کسی کے لئیے مشکل نہیں۔

جہاں عدل و انصاف پہ حکمران ڈیل کرنے لگیں، غریب کا انصاف اور امیر کا انصاف الگ الگ ہو وہاں ملک میں بھوک اور فقر کا ہی راج ہوا کرتا ہے۔ ایران کا ایک مشہور بادشاہ نوشیرواں بھی اپنی نا انصافی اور ظلم کے لئیے مشہور تھا۔ وزیروں اور مشیروں میں بھی خوشامد پرستوں کی کمی نہ تھی۔ لیکن جب اس نے بزرجمہر کو اپنا وزیرِ اعظم بنایا تو اس کی کایا ہی پلٹ گئی۔ تاریخ کا یہ بہت مشہور واقعہ ہے کہ ایک دن بادشاہ نوشیروان اور اس کا وزیر اعظم بزرجمہر کسی ویرانے میں درخت کے نیچے بیٹھے تھے۔ بزرجمہر کو خدا نے جانوروں کی بولیاں سمجھنے کی صلاحیت عطا کی تھی۔ اسی درخت پر دو الو آ کر بیٹھ گئے اور آپس میں بولنے لگے، جب کافی دیر تک وہ درخت پہ بیٹھے بولتے رہے تو نوشیروان نے بزرچمہر سے پوچھا کہ ”یہ پرندے کیا باتیں کر رہے ہیں؟”

اس نے کہا ”یہ دونوں آپس میں رشتہ کرنا چاہتے ہیں،لیکن بیٹی کا باپ لڑکے کے باپ سے دس ویران بستیاں مانگ رہا ہے۔” نوشیروان نے پوچھا ”پھر؟ آگے کہو۔”

بزرجمہر نے کہا ”وہ بات گستاخی کی ہے، اگر جان کی امان پاؤں تو عرض کروں۔”

نوشیروان نے جان بخشی کا وعدہ کیا تو وزیر نے کہا۔”دوسرا اُلّو کہہ رہا ہے کہ یہ کون سی بڑی بات ہے، جب تک نوشیروان اس ملک کا بادشاہ ہے، اجڑی بستیوں کی کیا کمی ہے۔ تم دس مانگ رہے ہو میں سو دینے کو تیار ہوں۔”

نوشیروان یہ سن کر لرزگیا، پرندوں کی بات کو غیبی تنبیہہ سمجھا اوراس دن سے ایسا بدلا اورعدل و انصاف کا ایسا بول بالا کیا کہ ”عادل” اس کے نام کا حصہ بن گیا اور تاریخ میں ”نوشیروان عادل” کے نام سے امر ہوگیا۔

آج تھرمیں جاری بھوک کی جنگ سے متاثر بچے اور عورتیں اور رانی کھیت کی بیماری کا شکار ہوکہ مرنے والے مور بھی اجڑی بستی کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ جہاں ایک طرف شیخو پورہ جیسے شہر میں ٹرین میں لگی آگ کو بجھانے کے لئیے کوئی انتظام نہیں تھا اور اکیسویں صدی میں سگنل اور کراسنگ کے مسئلے سیاستدانوں اور حکمرانوں کی نظرِکرم کے منتظر ہوں۔ اور دوسری طرف حکمرانوں کے محلوں کے طرف جانے والی سڑکوں پہ اربوں خرچ کئے جاتے ہوں وہاں بستیاں اجڑ ہی جایا کرتی ہیں۔

لیکن نہ آج کوئی بزرجمہر ہے جو ظالم بادشاہ کو اسکی نا انصافیوں اور مظالم کا احساس دلا سکے۔ جو اقتدار کو بچانے کے داؤ پیچ میں مشغول حکمرانوں کے سامنے کلمۂ حق کہہ سکے اور نہ ہی نوشیرواں بادشاہ جس پہ اسطرح کی کسی نصیحت اثر انداز ہوسکے۔

تماشہ جاری تھا، جاری ہے اور جاری رہے گا۔

اور عوام جب تک سچ کو پہچاننا نہیں سیکھیں گے ہمیشہ تماشائی ہی رہے گے۔

 

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: