خالد: فکر فراہی و سلسلہ اصلاحی کا پیام بر — ذاتی زندگی کے روزن سے —– تیمیہ صبیحہ

0

“منشی رام لبھایا، منشی رام لبھایا”
اچانک اک پوپلے منہ سے کمزور آواز میں تان ابھری۔ مجھے حیرت کا شدید جھٹکا لگا،
“منشی رام لبھایا
چکی اتے بٹھایا
اوتوں ماری موگلہی
تھلوں نکل آیا”

ہم دونوں کی ہنسی چھوٹ گئی۔ کچھ کہ نہیں سکتی کہ وہ میرا ہونق چہرہ دیکھ کے ہنسیں یا اسّی سال پیچھے یادوں کی رِیل گھماتے خود کو نو دس سال کا بچہ محسوس کر رہی تھیں۔ ہم ایک دوسرے کے برابر چارپائیاں بچھائے قیلولہ کرنے لیٹے تھے۔
“نانی اماں! یہ کیا کہ رہی ہیں؟” وہ پھر ہنسنے لگیں اور دوبارہ رباعی گنگنائی۔ منشی صاحب سے ہماری واقفیت تھی نہ چکی اور اسکی موگلہی سے۔

“تعلیم کا عام رواج کہاں تھا۔ انگریزی تعلیم کم کم لوگ حاصل کرتے تھے۔ مسلمان جو دینی علم پڑھتے تو مسجد سنبھال لیتے۔ باقی اکثر لکھت پڑھت ہندو کرتے تھے۔ مسلمانوں میں ایک ہمارے ابا جی اور دوسرے للہ کے پیر تھے جو ہمارے علاقے سے انگریزی تعلیم حاصل کرنے نکلے تھے۔ گدی نشیں پیروں نے سوچا کہ اگلی گدی کسی ایک بیٹے کے پاس ہی جاسکے گی، دوسرا کہاں سے کماے گا تو یوں انہوں نے اپنے دوسرے لڑکے کو پڑھایا۔ گاؤں میں سکول بہت بعد میں کھلا۔ ہمارے ابا جی اس سے پہلے ہی مولوی فاضل کا امتحان دے کے سرکاری نوکری کرتے تھے۔ گھر سے دور تعیناتی تھی۔ بچوں کو پڑھانے کا شوق تھا اور کہا کرتے تھے کہ اب اس تعلیم کے بغیر گزارا نہیں ہے۔ چونکہ گاؤں میں کوئی سکول نہ تھا، ہم لڑکیوں نے اپنی گھر کی خواتین سے ہی قاعدہ شروع کیا البتہ بڑے بیٹے خالد کی ابتدائی تعلیم کے لیے جو غیر رسمی انتظام ہوا اس میں قاعدہ حروف کی پہچان گھر میں کرا دینے کے بعد حساب سیکھنے کے لیے خانقاہ کے پاس بازار میں پرچون فروش تھے، انکے پاس بھیجا۔”
“منشی صاحب رہ گئے۔ نانی اماں! وہ کون تھے؟”
میں نے کان کے پاس جا کے پکار کے کہا کہیں بولتے بولتے سو نہ جائیں۔ وہ اٹھ بیٹھیں۔

دونوں بھائی: خالد مسعود اور محمود الحسن

“منشی ادھر سب سے زیادہ پڑھا لکھا تھا۔ چکی پیستا تھا۔ سارا دن اناج مسالوں کی پسائی کے ساتھ بچوں کو حساب سکھاتا تھا۔ سلیٹ پر سوال حل کراتا۔ پِیروں کے ایک کمرے میں ہی رہائش تھی۔ ادھر پڑھانے کی دس آنے اجرت لیتا تھا۔ خالد اس سے دکان پر سبق لیتا اور پھر سوال حل کرتے ہوے زور زور سے گاتا،
منشی رام لبھایا…”
“پھر پٹائی نہیں ہوتی تھی؟”

“پٹائی کیوں ہوتی؟ پانچ چھے سال کا چھوٹا بچہ تھا۔ راہ گیر ہنستے اور خود منشی صاحب مسکرایا کرتے تھے۔” پھر گویا وقت بیسویں صدی کی تیسری چوتھی دہائی میں جا کے ٹھہر گیا۔ نانی اماں دور کوہستان نمک کے سلسلے میں واقع للہ بھروانہ میں گھومنے لگیں۔ “بعد میں ابا جی خالد کو اپنے ہمراہ لے گئے۔ پرائمری اس وقت چوتھی کے امتحان کو کہتے تھے۔ چاوہ میں ماسٹر نے ان کی ذہانت بھانپ کے خود امتحان دلایا اور اسکا وظیفہ نکلا۔ سب علاقے میں شہرت ہو گئی کہ مولوی صاحب کا لڑکا، اول نہ آئے تو کیا آئے۔ لیکن اسکا وظیفہ روک لیا گیا کہ دوسرے ضلع کا بچہ ہے۔ پھر مڈل بھیرہ سے کیا اور دسویں کا امتحان نوشہرہ سون سے دیا۔ وہ تقسیم کا وقت تھا۔ ہندو یہاں سے جا رہے تھے۔ ابا جی کی تعیناتی اپنے ضلع میں ہو گئی۔ خالد کو انٹر کے لیے سرگودھا بھیج دیا گیا۔ میرا بھائی! اتنا محنتی اور ذہین تھا۔ ارد گرد سب دیہات میں اس جیسا کوئی نہ تھا۔ ابا جی تو للہ آ گئے اور وہیں سے ریٹائر ہوئے لیکن خالد مزید تعلیم کے لیے لاہور چلا گیا”۔

محدود آمدنی کے ساتھ والدین کا فیصلہ کہ جیسے بھی بن پڑے انکی پڑھائی میں تعطل نہ آئے۔ خود انکی محنت، وظیفہ حاصل کرنا اور انگلینڈ میں مزید تعلیم کے لیے جانا۔ اسلامیہ کالج اور پھر جامعہ پنجاب کی تعلیم کے دوران برصغیر کی فکر و سیاست کے اتار چڑھاؤ میں عملی حصہ ڈالنا۔ مولانا مودودی کی فکر سے وابستگی، اسلامی جمعیت طلبہ میں شمولیت، لاہور کی نظامت، پھر مولانا اصلاحی سے تعلق، اور انہی کے حلقہ بگوش ہو رہنا۔ وزارت سائنس میں ملازمت اور اسکے اتار چڑھاؤ کے ساتھ ساتھ خالد کا بیاہ، لاہور میں مکان بنانا، اسکی تعمیر میں کیسی فن کاری، نفاست اور کتنے آرٹ کا اظہار کیا گیا، سب باتیں چلتی رہیں۔ خالد کی سوانح عمری تھی یا نانی اماں کی آپ بیتی۔ خالد– نانی اماں کے بھائی جنہیں دنیا علامہ خالد مسعود کے نام سے جانتی ہے، ہمارے لیے بڑے ماموں جی تھے۔ چمکتی آنکھیں، چوڑی پیشانی، مسکراتے لب، شفیق چہرہ۔ سمن آباد میں ان کے گھر جانا ایک خوش کن ضیافت ہوا کرتا تھا۔ بچپن میں وہاں ہونے والی آؤ بھگت کے علاوہ چھپن چھپائی، اونچ نیچ اور پکڑن پکڑائی کھیلنا ایک بڑا پُر لطف پیکج تھا، جیسے گھر خاص اسی مقصد کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہو۔ اس ہلکی سبز دیواروں، سفید چھتوں والے مکان کی ڈیوڑھی سے لے کے اگلے پچھلے برآمدے، کمروں کے اندر کمرے، ستونوں پر چڑھی بیلوں، جا بجا بنائی کیاریوں اور دیواروں کے ساتھ دھرے گملوں کی قطاروں نے وہ نقش سکیچ کر دیا جو ناول افسانے پڑھتے ہوے لاشعوری بیک گراؤنڈ فراہم کیا کرتا تھا۔ گھر میں خالاؤں کے کشیدہ و دست کاری کے شاہکار کہیں دیوار پر ٹنگے ہوتے اور کہیں میز پوش، غلافوں پر بہار دکھاتے، کرسیاں اور صوفے کڑھائی کیے ہوے غلافوں سے سجے ہوتے۔ میں ان کے کمرے کے کارنس پر چڑھ کے چھلانگیں لگانا اور کھڑکی کی چوکھٹ سے ماموں جی کے بستر پر کودنا فرض عین سمجھتی تھی۔ اپنے ہمراہ دو تین چھوٹے بھی اس اچھل کود کی ٹیم میں شامل کیا کرتی تھی مگر یہ یاد نہیں کہ اس وقت ہماری امی اور خالائیں کیا کرتی تھیں اور ہم کیسے اسقدر آزادی سے غل غپاڑہ بپا کیا کرتی تھیں۔ اس کھیل کود میں نہیں معلوم تھا کہ وقت کے کس عبقری سے ملاقات ہوا کرتی تھی۔ ہمارے نام امی کے ذوق مطالعہ کا نتیجہ تھے مگر ان پر صحت کی سند ماموں جی سے ثبت ہوئی۔ امی نے عینیہ کا نام سفیان بن عيينة کے نام پر رکھا۔ ماموں جی نے لغوی تحلیل کرتے ہوے مشورہ دیا کہ عیینہ (چھوٹی آنکھوں والی) کی بجاے عینیہ (آنکھوں والی) رکھ لیں۔ ابا کے پیر صاحب نے طاہرہ تجویز کیا اور یوں عینیہ طاہرہ۔ پاک آنکھوں والی نیک نہاد بی بی موسوم ہوئیں۔

دائیں سے: جاوید احمد غامدی، محمد نعمان علی، خالد مسعود، محمود احمد غازی، خالد ظہیر صاحبان

ہم جب کھیل کود کی عمر سے ذرا بڑے ہوے تو خاندان کے ان سب بزرگوں سے انتہائی انسیت محسوس ہوتی جہاں سے کسی کتاب یا رسالے کا تحفہ پانے کی امید ہوتی۔ نظر زیدی صاحب کے وحدت کالونی والے سرکاری فلیٹ میں کتنی دیر امی کے پہلو میں صبر سے بیٹھتی کہ شاید ابھی کچھ عنایت ہوگی۔ اسی طرح ماموں جی سے ملاقات میں ایک بڑا لالچ ان سے ملنے والا کتاب کا تحفہ تھا۔ جن دنوں وہ قائد اعظم لائبریری میں تھے، اس طمع میں امی کے ہمراہ جانے کی ضد کی۔ ادھر بچوں کا داخلہ منع تھا۔ ہم استقبالیے پر کھڑی روتی تھیں اور امی پریشان کہ کیا حل نکالیں۔ آخر ماموں جی کے نام پرچی بھجوائی گئ وہ جانے کن ضمانتوں سے ہمیں لے کے گئے اور سیدھا اپنے دفتر میں لا بٹھایا۔ وکٹورین سٹائل کا وہ کمرہ اور لائبریری کا ہال کیپ ٹاؤن کے کتاب مرکز (سنٹر آف دا بک) میں بہت یاد آیا۔ صد شکر کہ واپسی پر ہماری خواہش بھی پوری ہوئی اور ہم ان کی تالیف کردہ “کرہ زمین” کے ساتھ ساتھ “ہمارا نظام شمسی” بھی لے کر لوٹے۔ اس زمانے میں رنگین سکیچ والی کتاب بہت گراں قدر سوغات تھی جسے سینت سینت کے رکھا اور بارہا پڑھ کے ابتدائی فلکیات از بر کیں۔ اس کتاب کے سب مجموعے اور نقشے رات چھت پر سوتے ہوے آسمان پر ڈھونڈتے نیند کی آغوش میں چلے جاتے۔ بعد میں جب اردو سائنس بورڈ میں تھے تب بحر پیمائی پر انکی تالیف کردہ کتابوں نے سمندر میں غوطے لگانے کا شوق پیدا کیا۔ ان کی برطانیہ سے حاصل کردہ کیمیائی انجینرنگ کی ڈگری اس دور میں کم کم ہی تھی مگر انہیں اس کتاب سے عشق ہو گیا جو ابدی و سرمدی ہے۔ لاہور کے علمی و سائنسی حلقوں میں گردش کرتے جب مولانا اصلاحی کا دامن تھاما تو تا دم آخر اسی میدان کو اوڑھنا بچھونا بنایا۔

یونیورسٹی داخلے کے بعد جب علوم اسلامیہ کے چودہ سو سالہ ورثے کا تعارف ہوا تو معلوم ہوا کہ مطالعہ اسلام، اسلامیات لازمی کی چنی منی بور کرتی ہوئی کتاب کے علاوہ ایک بحر بے کنار ہے۔ جہاں روایت، درایت، عقل، دانش، فکر، فن، لطافت، کثافت، سپردگی، سرافگندگی کے سب رنگ ملے جلے ہیں۔ تب قدرے اندازہ ہوا کہ بڑے ماموں جی کا قد ابتدائی فلکیات سے بہت بلند ہے۔ ہم تازہ بتازہ مسلم rational thought کا تعارف پڑھ رہے تھے۔ معتزلہ پر دشنام تو بہت سنا تھا، مگر انکی فکر سے نابلد تھے۔ انہی دنوں ایک شام وہ پنڈی میں مقیم اپنے اکلوتے بھائی کے گھر وارد ہوے۔ چھوٹے ماموں، ممانی کے ہمراہ گاؤں سدھارے تھے۔ میں اور فائزی خالی گھر میں اونگے بونگے تجربے کرنے کے علاوہ گپیں مار کے وقت ضائع کر رہی تھیں۔ کسی بڑے کے موجود نہ ہونے کی بنا پر آٹا گوندھنے ہنڈیا پکانے جیسے کاموں کو سات سلام کر رکھے تھے۔ بڑے ماموں کی آمد پر شرافت اختیار کر کے انہیں پانی پلایا۔ اور کہا کہ آپ آرام فرمائیں ہم ابھی کھانا پیش کرتی ہیں۔ انہوں نے انتظار کا وہ وقت کسی کتاب کے مطالعے اور نوٹس لینے میں گزارا۔ جبکہ ہم نے پریشر ککر میں پانی ڈال کے گوبھی گلائی، ڈونگے میں تین پیڑوں کا آٹا گوندھنے کے بعد تازہ تازہ گندھے آٹے سے مختلف نمونے کی روٹیاں پکا کے اپنے تئیں شاندار دعوت تیار کی۔ اب بس یہ یاد ہے کہ مسکراتے ہوے وہ ہماری دعوت شیراز سے شوق فرما رہے تھے اور ساتھ ساتھ مجھے معتزلہ کے ظہور، انکی تاریخ، انکے اہم افکار بتاتے جا رہے تھے۔ معتزلہ کی فکر جن عوامل کے نتیجے میں پروان چڑھی، اسکا دیگر کلامی مذاہب فکر سے تقابل کا ایک خلاصہ اس کھانے کے دوران میں سمجھایا۔ ہماری جامعہ میں ہونے والی کسی کانفرنس میں اپنے مقالے کے نکات مجھ کم علم کو بتائے۔ وہاں ساجد الرحمن، خالد مسعود اور محمود غازی صاحبان سے اپنی ملاقات کا ذکر کیا۔

جب ان سے ملاقات ہوتی کچھ پڑھتے یا لکھتے ہوے ہی پایا۔ کبھی رسالہ “تدبر” کی تدوین کرتے ہوے، کبھی مولانا فراہی کی کسی کتاب کا ترجمہ اور تسہیل کرتے ہوے، کبھی مولانا اصلاحی کے رشحات فکر کو جمع کر کے کتابی صورت دیتے ہوے۔ جو کتاب چھپتی امی کو ضرور اہتمام سے مرحمت فرماتے۔ یونیورسٹی جانے کے بعد اس عنایت میں میرا حصہ بھی شامل ہو گیا۔ مولانا فراہی کی “آسان قواعد نحو ” دیتے ہوے کہا کہ عربی زبان کو لسانیات کی تدریس کے جدید ڈائریکٹ میتھڈ سے سمجھنے کے لیے یہ آپ جیسے بچوں کے لیے مفید ہے جو مدارس دینیہ کے طریقہ تدریس کی بجاے عصری بلکہ انگریزی سکولوں کے انداز سے مانوس ہیں۔ کبھی میں کہتی ماموں جی! اب ان پرانے زمانے کی چیزوں کو پڑھنے والا کون رہا تو میری جہالت پر مسکرا دیتے۔

کچھ عرصہ بعد جب وہ جان لیوا بیماری کا شکار ہوے تب بھی وہی ازلی مسکراہٹ اور دھیما دھیما لہجہ انکے ساتھ رہا۔ ہم عیادت کو جاتے اور وہ اپنے صاف شفاف بستر کے ساتھ رکھی تپائی پر کاغذ پنسل لئے ہوتے۔ تکیے سے سہارا لگاے کبھی بیٹھے کبھی لیٹے اور جب ہمت ہوتی بیٹھک میں اپنی کتب کے ذخیرے کے ہمراہ “حواشی تدبر قرآن” اور “حیات رسول امی” کی تکمیل میں محو ہوتے۔ ادھر ممانی بیماری کی کیفیت اور تکلیف کی شدت بتانے لگتیں ادھر ماموں جی اس موضوع کو چھیڑ دیتے جس پر ان دنوں لکھ رہے ہوتے۔ مولانا مودودی کے حواشی قرآن پر تبصرہ، اس کے ایجاز کا محاکمہ اور خود وہ تدبر قرآن سے آیات کے ترجمہ و تشریح کا استخراج کس اصول کے تحت کرتے رہے کہ مولانا اصلاحی کا نظم قرآن اور لغوی استدلال پر مبنی مرکزی منھج نمایاں رہے۔ سیرت نبوی کی تالیف کے دوران میں کئی مرتبہ اختلافی نکات زیر بحث رہتے جیسے حضرت عائشہ کی نکاح و رخصتی کے وقت عمر کے مسئلہ پر سیرت کی دیگر کتابوں کے حوالے کے ساتھ وہ ابتدائی مصادر سیرت کا بطور خاص ذکر کرتے۔ فلاں سیرت نگار کا یہ طریقہ دوسرے کا وہ منھج۔ اس مؤلف کے یہ اصول اور دوسرے کے وہ۔ عروہ بن زبیر، ابن سعد، واقدی، ابن ہشام وغیرہ کے نام تبھی کانوں میں پڑے۔ انکا اپنا منھج اس زمانے میں تو سمجھ نہ آتا تھا لیکن جب انہوں نے اٹھارہ سال والی راے پر شرح صدر اختیار کیا تو اسکے دلائل بہت اطمینان کے ساتھ ذکر کرتے۔ ہجرت حبشہ و ہجرت مدینہ، غزوات، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ و صحابہ کے ساتھ انکا تعلق، اس سب میں قبائلی غیرت و حمیت کا اتار چڑھاؤ جیسی اہم باتیں بکھرے بکھرے پزل کے ٹکڑوں کی صورت کانوں میں پڑتیں۔ مجھے اپنے آخری سمسٹر سے پہلے گرمی کی چھٹیوں میں دو مرتبہ ملنے کا اتفاق ہوا۔ امی کے ہمراہ گئے تو ان کی طبیعت بہت بشاش تھی۔ اپنی بیٹھک میں بٹھایا۔ میں ان دنوں شبلی نعمانی کی جو کتاب پڑھ رہی تھی اس کی روشنی میں کوئی سوال کیا شاید معجزات نبوی سے متعلق۔ ماموں جی حیات طیبہ کے تذکرے میں ڈوب کے اسکا جواب بتلاتے ہوے تاریخ کے مختلف ادوار اور ان میں تالیف سیرت، مختلف کلامی مذاہب انکا معجزات نبوی پر موقف بتاتے رہے۔ یوں جیسے کوئی کتاب خود بول رہی ہو۔ یہاں تک کہ میں سنتے سنتے جھولنے لگی اور مامی جی کو دخل دینا پڑا کہ چاے کب سے ٹھنڈی ہو رہی ہے۔

آخری ملاقات بھی وفات سے دو ماہ قبل ہوئی۔ جب عذرا خالہ اوکاڑہ میں اپنے اسپتال کی مصروفیت سے وقت نکال کے لاہور کے طوفانی دورے پر آئیں اور خوبئ قسمت سے میرا ان کے ساتھ سمن آباد جانا ہوا۔ تب صحن میں بچھی چارپائیوں پر مختصر مجلس جمی۔ خاندانی امور سے زیادہ قرآن مجید، عورت، حجاب، سیرت مبارکہ جیسے موضوع زیر گفتگو رہے۔ چہرے کے پردے پر ان کی راے میں توسع تھا۔ تصویر کے جواز کے قائل تھے۔ خالہ اور ماموں جی کھل کے مولانا مودودی، برصغیر کے حنفی اور اہل حدیث علما کی راے رکھتے رہے۔ ہنس ہنس کے اختلاف ہوتا رہا۔ اور مامی جی کے پیش کردہ لوازمات کے ساتھ امرت بنتا رہا۔ صحت تب بہت خراب تھی۔ چہرہ پر کمزوری کے اثرات تھے۔ وزن کم ہو چکا تھا۔ خالہ ان کی رپورٹیں بھی دیکھ رہی تھیں۔ اور چہرہ سنجیدہ ہوتا جارہا تھا۔ ان کے اٹھنے کے بعد شاید خود سے مخاطب ہو کے کہنے لگیں، “اللہ جی! اگر ممکن ہوتا تو میں دعا کرتی کہ میری زندگی بھی ماموں جی کو عطا کر دے” “ہائیں! خالہ کیا کہ رہی ہیں؟” بولیں، “علما سے ہی دین کا تسلسل قائم ہے۔ آج امت کو بڑی ضرورت ہے کہ دین کی سمجھ بوجھ رکھنے والے عالم بڑی تعداد میں ہوں۔ اللہ تعالی! ماموں جی کو صحت اور عافیت دیں۔”

تب کیا خبر تھی کہ ایک ماہ بعد ہی تین ہفتے کے وقفے سے دونوں ماموں بھانجی اس جا کو روانہ ہو جائیں گے جہاں ان کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم مسکراتے ہوے استقبال کرتے ہوں گے۔ علما کی مجلسیں سجی ہوں گی۔ شرابا طھورا کے جام چھلکتے ہوں گے اور ہنس ہنس کے روایت درایت میں اسناد صحت، تحلیل لغوی اور استنباط عقلی ہوتا ہوگا۔ ادھر میں کوتاہ قد اپنی یادداشت کے ذخیرے سے کھنگال کے سالوں بعد ان جیسے پرشکوہ ذی قامت علامہ کی خدمت میں یہ چند بکھرے بکھرے گہر پارے ہی رولتی ہوں۔

یہ بھی پڑھیں: جاوید غامدی کی تکفیری مہم: وحدت الوجود اور دبِستانِ شبلی------ نادر عقیل انصاری
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20