سیاحت یا ٹورازم: صبیح گل

0

سیاحت یا ٹورازم،،، سیر و تفریح،، پہاڑ،، سر سبز باغات،، اونچی اونچی عمارات، دریا، نہریں، ٹھاٹھے مارتے سمندر،، رنگا رنگ میلے،، مختلف زائقوں کے کھانے،، مختلف لوگ،، انکا رہن سہن،، انکے مزاج،، کھیل کود،،، چاندنی راتیں،، جنگل،، بیانان،، صحرا،، سرحدیں!!

اگر کوئی شخص آپکے سامنے سیاحت کا صرف نام لے تو آپکے دماغ میں کیا آئے گا؟؟ میرا خیال ہے ایک عام آدمی کے دماغ میں بھی یہی ساری چیزیں آئیں گی۔۔ سیاحت کے معنی ہی تفریحی، فرحت بخشانہ، صحت افزائی، اطمینان بخشی یا قدرتی نظاروں کو دیکھنے کے مقاصد کے لئے سفر کا نام ہے۔۔ دل کو لبھا دینے والا سفر،، ایسا سفر جس میں صرف سکون پہناں ہو خوشیاں چھپی ہوں یقیناً صحت بخش سفر!

ابھی کل ہی کی بات ہے کہ میں نے ایک ویب سائٹ وزٹ کی جس میں غربت میں اضافے کا سبب ٹورازم کو صنعت کو قرار دیا جا رہا تھا میں نے مذید آگے پڑھا تو تجزیہ کار نے کیا خوب تجزیہ پیش کیا ہوا تھا پہلی ہی سطر ایسی تھی کہ کوئی ایسا شخص جس کو سیاحت میں دلچسپی بالکل بھی نہ ہو وہ بھی کہہ اٹھے گا کہ یہاں لکھنے والے نے بہت ہی نا انصافی کر دی موصوف کیا فرماتے ہیں آپ بھی ملاحظہ فرمایئے؛

’’ٹورازم انڈسٹری صرف عیاشی کی صنعت ہے۔ لوگ بھوکے مر رہے ہیں یہاں عیش ہو رہے ہیں۔ عیاش انسان کا ضمیر مر چکا ہے۔ لوگوں کے پاس اتنا پیسہ ہے کہ بارہ بارہ لاکھ روپے خرچ کرکے دنیا کے سفر کرتے رہتے ہیں۔ بارہ لاکھ روپے تو صرف کرایہ وغیرہ۔ دیگر اخراجات اس کے سوا۔ نیو یارک ٹائمز کا اشتہار پڑھئے۔دنیا میں غربت، بھوک، افلاس کا سبب یہ بے شرم عیاش ہیں جو صرف عیاشی کرتے ہیں۔ پاکستان میں بھی بعض مذہبی سیرو فی الارض کے نام پر سیاحت اسلام کے لئے سالانہ کروڑوں روپے عیاشی پر خرچ کرتے ہیں اور اسے اسلام سے جوڑتے ہیں۔شرم تک نہیں آتی‘‘۔

چلیئے مان بھی لیا جائے کہ ایک شخص 12 لاکھ سے زائد کا خرچہ کر کہ گھوم پھر رہا ہے عیش بھی کر رہا ہے۔۔ مگر سوچنے والی بات تو یہ ہے کہ اسکے ان تمام اخراجات سے کتنے لوگ مستفید ہورہے ہیں اگر وہ کسی مقامی ہوٹل میں پناہ لے رہا ہے اگر وہ گھومنے پھرنے کے لئے گاڑٰی/ جیپ وغیرہ بک کر رہا ہے،، اگر وہ راستے میں ناشتے پانی کےلئے رک رہا ہے،، اگر وہ وہاں کے لوگوں سے مل رہا ہے،، اگر وہ اپنی خوشی سے انکی امداد بھی کر رہا ہے اگر وہ یہ سب کر رہا ہے تو اس میں صرف دوسروں کو فائدہ اور اسکی روح کو تسکین حاصل ہو رہی ہے،،ورلڈ ٹریزم آرگینائزیشن کے اعداد و شمار کے مطابق،

‘’ایک سے دوسرے مُلک سفر کرنے والے لوگوں کی تعداد 1997 ء میں 631 ملین سے سنہ 2020 ء تک 1 اعشاریہ 6 بلین تک بڑھ جائیگی۔ جس میں تاحال کوئی کمی نظر نہیں آتی۔‏ طلب کی اس افزائش کی وجہ سے کاروبار،‏ تفریح‌گاہوں اور سیاحوں کیلئے خدمات فراہم کرنے والے ممالک کی تعداد میں افزائش کی گئی تھی۔‏سیاحت نہ صرف سیر و تفریح اور صحت افزائی کے لیے مفید ہے بلکہ سیاحت سے مقامی آبادی اور اس ملک کے اقتصاد کو تقویت ملتی ہے۔ لوگوں کو کام کے مواقع فراہم ہوتے ہیں۔ سیاحت سے مختلف ثقافتوں اور خطے سے تعلق رکھنے والے لوگوں ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے اور مختلف اچھی چیزیں ایک معاشرے سے دوسرے میں رائج ہوجاتی ہیں۔ سیاحت کی مختلف اقسام ہیں جیسے قدرتی نظاروں کو دیکھنے والا سیاحت، مذہبی سیاحت جس میں لوگ مختلف مذہبی جگہوں کو دیکھنے جاتے ہیں،تاریخی سیاحت جس میں لوگ آثار قدیمہ وغیرہ دیکھتے ہیں۔’’دنیا بھر میں تمام ممالک کی پہلی کوشش ہی یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے ملک میں سیاحت کو فروغ دیں نا صرف اس سے ملک میں سرمایہ کو فروغ ملتا ہے ساتھ ساتھ لوگوں میں زہنی ہم آہنگی بھی پیدا ہوتی ہے،، سیاحت ایک دوستانہ تفریح ہے اس میں کسی بھی قسم کا کوئی منفی پہلو نہیں۔

اللہ نے اس کائنات کو تخلیق کیا اور انسان کو کہا کہ مسخر کرو،، انسان کوشش کرتا رہا ہے اور تا قیامت کرتا رہے گا،، یہ زمین تخیلق کی جوکہ اپنے نطام شمسی میں سب سے زیادہ حسین اور مکمل ہے اس میں انسان کے لئے صرف اور صرف فائدے ہیں مگر وہ ان تمام فوائد سے اسی وقت مستفید ہو سکتا ہے جب تک وہ اپنی تلاش جاری رکھے گا،، اگر سیاحت نہ ہوتی تو انسان کبھی نہ جان پاتا کہ کاغان میں جھیل سیف الملوک اپنے روح پرور مناظر صدیوں سے بکھیر رہی ہے،، اگر سیاحت نہ ہوتی تو کوئی نہیں جان پاتا کہ سطح سمندر سے 8000 ہزار میٹرز کی بلندی پر ہمالیہ، ہندوکش، کے ٹو اور راکا پوشی کے پہاڑ صدیوں سے چاندی کی برف سے ڈھکے ہوئے ہیں اور صرف پاکستان ہی نہیں دنیا بھر کے دیگر ممالک کی بھی ایسی مثالیں ہیں اگر سیاحت نہ ہوتی تو شاید زمین پر انسان تو ہوتے مگر کوئی بھی کسی تک رسائی حاصل نہ کر پاتا۔ آج انسان جو اتنا علم رکھتا ہے ساری دنیا کے چپے چپے کو چھان مارا ہے اس میں سیاحت کا بڑا ہاتھ ہے۔۔ ٹورازم کی صنعت قطعی طور پر غربت میں اضافے کا سبب نہیں بن سکتی۔۔۔۔

 

 

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: