معاشی حالات اور خواتین کی مزدوری —- اسرار احمد یوسفزئی 

0
کل پنڈی کی شاہراہ سے گزر ہوا راستے میں گاڑی گڑ بڑ کرنے لگی ۔ قریب ہی ایک ورکشاپ تھی ۔ گاڑی وہاں لے جا کر کھڑی کی۔ عموما یہی ہوتا ہے کہ کوئی نوسیکھیا لڑکا ہاتھ منہ کالک سے رنگے آکر ایک طائرانہ نظر گاڑی پہ ڈال کر جائزہ لیتا ہے کہ گاڑی میں مسلئہ کیا ہے۔
گیراج یا ورک شاپ جہاں ہر طرح کی پبلک اپنی گاڑی صحیح کروانے آتے ہیں۔
کوئی چھوٹو  کسی گاڑی کے نیچے لیٹا ہے تو کوئی بونٹ کھولے اس کے آئل چیک کررہا یا بونٹ پہ چکھا نٹ کس رہا ہے۔
کہیں کوئی ٹائر بدل رہاہے۔
 او چھوٹے۔۔۔۔۔پانا لا
ابے تیری ۔۔۔۔۔
چل نکل ۔۔۔۔۔
اور بے شمار عجیب و غریب انداز گفتگو  ان ورک شاپ میں سننے کو ملتی ہے۔
میں بات کررہا تھا اپنی گاڑی گیراج میں لاکر کھڑی کرنے کی۔
مجھے لگا عموما جیسے کوئی چھوٹو  گاڑی دیکھنے آئے گا۔۔ لیکن اس وقت میری حیرت کی انتہاہ نہی رہی جب ایک خوبرو حسین وجمیل لڑکی پانا لئے میری گاڑی کی جانب بڑھی ۔۔
اس نے بڑی مہارت سے بونٹ کھولا پلک نکالا اور کچرا صاف کرکے گاڑ ی اسٹارٹ کردی ۔
میں اس کا معاوضہ ادا کرنے کے بعد آگے بڑھ گیا لیکن میرے ذہن میں کئی سوالات نے جنم لیا ۔
ملک میں بڑھتی بے روزگاری اور تیزی سے بڑھتی مہنگائی نے معاشی معاملات کو باعزت طریقے سے چلانے کے لئے گھر کے ہر فرد کو ہی کمانے کے لئے گھر سے باہر نکلنا پڑ رہا ہے۔
ایک وقت تھا گھر کی خواتین کو اگر نوکری کرنا پڑتی تو وہ زیادہ تر اسکول کا رخ کرتی تھیں ۔
آج کل کیلے فروخت کرتی خواتین کئ مرتبہ نظروں سے گزری ہیں ان سے سودا بھی لیا۔
مارکیٹ میں پونیاں اور چھوٹی موٹی چیزیں بیچتی خوانچاں فروخت خواتین بھی نظر آتی ہیں ۔
ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ اچھی بات ہے کہ خواتین ہر شعبے میں آگے بڑھ رہیں ہیں ۔ کہیں اگر وہ گھر میں کپڑے سی رہیں ہیں تو کہیں آن لائن ٹیکسی چلا رہی ہیں۔
پرائیوٹ کوچز میں گراؤنڈ ہوسٹس کے فرائض ادا کررہی ہیں ۔اور گیراج میں خاتون کو کام کرتے دیکھ کر تو حیرت کے پہاڑ ٹوٹ گئے ۔
جہاں یہ ایک حوصلہ افزاء بات ہے وہاں کافی حد تک یہ ہمارے معاشرے کی ضد ہے۔ ہم جس ماحول میں رہتے ہیں وہاں عورت ذات اس طرح کے کام کرے تو ہماری مردانگی مجروح ہوتی ہے ۔ ہمیں عورت کی مجبوری سے پہلے اس کی شکل اور جسامت نظر آتی ہے۔
ہم عورتوں کی آزادی کے قائل ہیں لیکن بہت سارے معاش کے طریقے مرد کو ہی زیب دیتے ہیں لیکن اگر پھر بھی کوئی عورت ایسا ذریعہ معاش اپنائے ہوئے ہے تو یہ ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے۔
کیا ہم معاشی بدحالی کا شکار ہیں یا ہماری حکومت سوئی ہوئی ہے۔
حکومتی سطح پر ایسے حالات سے مجبور خواتین کو باعزت روزگار فراہم کرنا حکومت وقت کی ذمہ داری ہے۔ باعزت روزگار ہی اس معاشرے کے اقدار کی ضامن ہے۔
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20