انڈیا میں ذبح پہ پابندی اور سیکولرزم: محمد آصف

0

یہ ایک دو سالوں کی بات ہے جب انڈیا کو ریپ سٹیٹ کے طور پر ہائی لائٹ کیا جارہا تھا۔ یہ بحث ہر جگہ جاری تھی کہ کیا ہندوستان ریپ کیپیٹل آف دی ورلڈ بننے جارہاہے؟ اب کے بار ایک نئی لہر اٹھی ہے جس نے بھارت کا ایک نیا چہرہ دکھایا ہےیہ مذہبی شدت پسندی کا چہرہ ہے۔ یہ چہرہ پہلے بھی دنیا کے سامنے آتارہا ہے مگر اس دفعہ حالات زیادہ سنگین دکھائی دیتےہیں۔ بھارتی ریاست اترپردیش کی اسمبلی میں گائے کےذبیحہ پرپابندی نے اقلیتوں اورخاص طور پہ مسلمانوں میں تشویش کی لہردوڑادی ہے۔چیف سیکرٹری کے حکم کے مطابق اترپردیش کی تمام 75 ڈسٹرکٹس میں کہیں بھی گائے کا گوشت فروخت نہ ہواس پر سختی سے عمل درآمد کیا جارہا ہے۔ البتہ ائرپورٹس، ریل اسٹیشنزفی الحال اس سے مستثنی ہیں۔ اس بل کو پیش کرنے والی حکومت کے چیف منسٹر ادیتیایوگی ہیں جن کی پارٹی 1955میں جواہرلعل نہروکی خواہش پر گائے کے ذبیحہ پر ایک بار پابندی لگاچکی ہے۔ دو دن قبل گورکھ ناتھ ٹیمپل میں عبادت سے دن کا آغاز کرنے اور اسی ٹیمپل میں چارسو سے زائد گائیوں کے ساتھ جہاں وہ اکثر وقت گزارتےہیں، کے بعد وہیں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انھوں نے عہد کیا کہ پورے ملک میں ایسی جگہیں جن کو گوشالہ کہاجاتاہے بنائی جائیں گی جہاں گائے کی مکمل حفاظت کی جائیگی۔ یہ بات قابلِ زکر ہے کہ گائے زبیحہ پر پابندی بھارتیہ جنتا پارٹی کے مینی فیسٹو میں پہلے سےدرج ہے۔حیرت ہے کہ پہلے اس طرف کسی کا دھیان نہیں گیا۔ دوسری پارٹیز کے راہنماوں کے مطابق بی جی پی پولرائزڈ پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اور یوگی ادیتیاناتھ کو زمامِ حکومت دینے سے بی جی پی کی مذہبی شدت پسندی اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی۔بی جے پی کی حکومت محض اترپردیش تک محدود نہیں لہذا اس سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ ان کی حکومت کا یہ فیصلہ کل کو دوسری ریاستوں میں بھی نافذالعمل ہوسکتا ہے۔
یہ پابندی محض گائے تک محدود نہیں بلکہ اس میں مچھلی،اور چکن کی انڈسٹری بھی خطرے میں ہے اور ان سے وابستہ ہزاروں خاندانوں کا روزگار داو پر ہے۔ اس ساری صورتحال میں بھارت کا خود کو دنیا کے سامنے سیکولر حیثیت میں پیش کرنا منافقت کی اعلی مثال ہے۔ریاست کا کسی بھی مذہبی طبقے کی طرف رجحان تفریق پیداکرتا ہے اور یہیں سے خرابی کی ابتدا ہوتی ہے۔ ذبیحہ کا مسئلہ چونکہ مسلمانوں سے براہِ راست تعلق رکھتا ہے اس لیے بھارت کے اس اقدم کا اثر پاکستان میں بھی محسوس کیا جارہا ہے۔ بھارتی مسلمانوں کا خود کو غیر محفطوظ سمجھنا پاکستان کے مسلمانوں میں پریشانی پیداکررہا ہے۔ مذہبی شدت پسندی اگر فرد یا شہری کی طرف سے پیدا ہوایسی صورت میں اس کا دائرہ کار محدود ہے لیکن اگر ریاست اس شدت پسندی کی سہولت کار بنتی ہے تو اس کے مذہبی، سماجی اور سب سے بڑھ کر معاشی اثرات میں اس کا قصور سب سے زیادہ گردانا جائےگا۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہاں ہندووں کی اکثریت نے مسلمانوں سے ایک مذہبی رسم کی ادائگی پر ریاستی جبر کے زریعے عمل درآمد ختم کروالیا اور یہاں مسلمان اکثریت میں ہوتے ہوئے ہندووں کے سامنے اس مذہبی رسم کو ادا کررہے ہیں۔ یہاں پاکستانی ہندووں کے سامنے جب ذبح ہوتا ہےتو ان کے بھی مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہیں، ایسی صورت میں ایسا کون سا راستہ اخیتار کیا جائے کہ اقلیتیں اپنی مکمل آزادی کو محسوس کرسکیں۔ اس ضمن میں چند گزارشات ہیں۔
1:ہندووں اور مسلمانوں کی الگ الگ کالونیاں ہوں اور ان میں حدِ فاصلہ کم از کم اتنا ہو کہ مذہبی رسوم کی ادائگی میں ایک دوسرے کےسامنے کم سے کم آیا جائے۔
2: اگر یہ ممکن نہ ہو تو ریاست کو عید بقر پر ایسے اقدامات کیئے جانے چاہییے کہ گلی محلوں میں اور خاص کر ان محلوں یا علاقوں میں جہاں ہندووں کی آبادی ہو، ایسے علاقوں میں گلی میں گائے کی ذبیحہ پر پابندی ہونی چاہیے، بلکہ ریاست ہر شہر میں ایسی مخصوص جگہیں متعارف کروائے جہاں یہ رسم ادا کی جاسکے۔
3: ایک طریقہ یہ بھی اپنایا جاسکتا ہے کہ ہندو اکثریت کے علاقوں میں ذبیحہ موقوف کردی جائے، اگرچہ یہ ایک مشکل امر ہے مگر ناممکن نہیں، اس کاحل یہ ہوسکتا ہے جو شق نمبر دو میں عرض کیا ہے کہ ایسی صورت میں شہر سے باہر یا مخصوص ذبیحہ خانے بنادیے جائیں اور وہیں سے گوشت لوگ اپنے گھروں کو لے جائین۔
4:جس طرح سعودی حکومت حج کے موقعے پر زائرین سے قربانی کے پیسے لے کر ذبح کی تمام زمہ داری خود ادا کرتی ہے ایسے ہی پاکستانی حکومت بھی اس ضمن میں قانون سازی کر کے اس مسئلے کا حل نکال سکتی ہے۔
5: قربانی کا اصل مقصد گائے یا بچھڑے کا ذبیحہ نہیں بلکہ اپنی خواہشات، وہ چیزیں جن سے ہم محبت کرتےہیں اللہ کی راہ میں ان سے آزاد اور خود کو تیاگ دینے کا نام ہے، ایسی صورت میں اگر کوئی ایسا طریقہ بھی ہمارے سامنے آجائے جس دین کا تقاضا بھی پورا ہوجائے اور ہمارے معاشرے میں اقلیتوں کے جذبات بھی نہ مجروح ہوں تو اسے خوش آمدید کہا جائے۔
6: ریاست جب تک اس معاملے میں فریق رہے گی، مسئلہ خوش اسلوبی سے حل نہیں ہوسکے گا، لہذا پاکستانی حکومت کو چاہیے کہ اقلیتوں کے ساتھ مکمل شہری ہونے کے ناطے ان کی ہر ممکن دل جوئی ہو اورکسی بھی معاملے میں ریاست فریق نہ بنے۔ جس طرح عمر اور رشتوں میں بڑے لوگوں کی زمہ داریاں زیادہ ہیں ایسے ہی اکثریت کی ذمہ داریاں اقلیتوں کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: