تاخیر سے شادی اور اداس جوڑے —— جدید مسائل اور حل

0

حالیہ دنوں میں پیش آنے والے کچھ افسوسناک واقعات کے بعد شادی اور نوجوان نسل کے مسائل کے حوالے سے بحث نے پھر زور پکڑا ہے۔ اس موضوع پہ دو نوجوان لکھاریوں اطہر وقار اور احمد الیاس کی تحاریر پیش خدمت ہیں۔


آج کل پہلی شادی ہی مرد نما لڑکے اور عورتیں نما لڑکیاں تیس پینتیس سالوں میں کر رہے ہیں۔ چنانچہ پینتیس سال میں پہلا بچہ ہوتا ہے، جب یہ بچہ چلنے لگتا ہے والدین بوڑھے ہو چکے ہوتے ہیں، تھک چکے ہوتے ہیں اس پر مستزاد پینتیس سال کے بعد تولیدی صحت کے امکانات کم ہوتے جاتے ہیں۔ چالیس سال کی عمر کے قریب خاندان بڑھانے کی خواہش بھی تو در در لیے پھرتی ہے، پیر فقیر، تعویذ، درگاہ سے تولیدی صحت کے مراکز کی رونقیں ایسے بوڑھے والدین بحال رکھتے ہیں۔ ایسے بوڑھے والدین کا کرب دیکھنا ہو تو کبھی کسی تولیدی صحت کے مرکز کا چکر لگا لیجیے، ہزاروں روپے کے ٹیسٹ، تجزیاتی analysis اور رپورٹس اور لاکھوں روپے مالیت کے پروسیجیز اور ادویات۔۔۔ پھر بھی کامیابی کے امکانات 10 فیصد، 15 فیصد۔۔۔۔ ہر ماہ ادھیڑ عمر میاں بیوی کی آس کی ڈوری ٹوٹتی ہے اور پھر وہ ملکر دھیرے دھیرے اپنے آنسوؤں اسے اسے جوڑتے ہیں۔۔۔ اور پھر سے ٹیسٹ اور پروسیجیر کی ادائیگی کے لیے بچت کرنے لگتے ہیں۔ اداسی کی چادر اوڑھ کر کے پھر سے دنوں کی پلاننگ۔ اور اگر خدانخواستہ یہ جوڑا غریب ہو اور ذریعہ معاش کی وجہ سے ایک فریق گھر سے دور ہو تو پھر سٹریس لیول کس قدر بڑھ جاتا ہے اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ چھٹیوں کی پلاننگ اس طویل لسٹ میں شامل ہو جاتی ہے۔

Unhappy Couple Stock Illustrations – 2,488 Unhappy Couple Stock Illustrations, Vectors & Clipart - Dreamstimeایسے کمزور لمحوں میں برسوں انڈر سٹیڈنگ رکھنے والے یہ اوور ایج والدین ایک دوسرے سے جیسے باتیں کرنا بھول جاتے ہیں۔۔۔

ایسے لگتا ہے جیسے کہ شادی کے بعد ایک دوسرے سے کرنے والی ساری باتیں، شادی سے پہلے ہی کر کے تھک چکے ہوں۔ جیسے یہ اوور ایج والدین سارے موبائل پیکجز استعمال کر چکے ہوں، تمام ایپس ڈاؤن لوڈ کر چکے ہوں۔۔۔
ایسی ڈھیر ساری باتیں، لیکن مصنوعی باتیں، اور کھوکھلی باتیں، پروفیشنل موٹیویشننل سپیکرز کی تلقین اور تصور اخلاق کی طرح، وقتی کشش، لمحاتی جاذبیت اور پھر طویل اداسی لانے والی باتیں۔۔

لیکن برسوں پر محیط، مادیت سے آکاش بیل کی طرح لپٹی ہوئی، مادے کو پھیلانے والی اور روح کو سیکڑنے والی باتیں۔۔۔۔
ٹین ایج سے یونیورسٹی تک، یونیورسٹی سے مایوں تک۔۔۔۔
یوں لگتا ہے دونوں فریقین اس انڈرسٹیڈنگ کے مقابلے میں ایک ایسا پیاز بن چکے ہوں جس کی ہر پرت کو نوچا جا چکا ہو اور انڈرسٹیڈنگ کے بعد بکھری ہوئی خشک پرتوں کا ملن و ملاپ ہو رہا ہو۔۔۔۔۔
such a tragedy۔۔۔، such a irony۔۔۔

پہلے اٹھارہ سال میں پہلی شادی ہو جایا کرتی تھی، تیس سال کی عمر تک فیملی مکمل ہو چکی ہوتی تھی اور اس ہیجانی دورانیہ میں ساری بہیمی جبلتوں کی تشفی کے واسطے، میاں کو بیوی اور بیوی کو میاں دستیاب ہوتا تھا۔
اگرچہ تیس سے چالیس سال کی عمر میں مرد دوسری شادی بھی ضرورتاً کر لیا کرتے تھے، اس سے کسی کو سہارا بھی مل جاتا تھا۔ اور یوں بہت کم جوان بیوائیں یا طلاق یافتہ خواتین اپنے والدین یا بھائیوں کے گھر بیٹھی رہ جاتیں تھیں۔ اور پھر چالیس سال سے پینتالیس سال کی عمر کے والدین بھی اپنے جوان بچوں کی شادی کر رہے ہوتے تھے اور یہ سننا کتنا عام تھا کہ فلاں فلاں دادا دادی یا نانا نانی نے اپنے پوتے پوتیوں اور نواسی نواسیوں کی شادی میں شرکت کی اور اب یہ حال ہے کہ والدین اپنے بچوں کی شادی تک میں شرکت نہیں کر پاتے اور اس سے پہلے دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔

لیکن اس وقت ایسے ڈرامے نہیں بنتے تھے جس میں جلدی شادی یا دوسری شادی کو گناہ عظیم کے طور پر دکھایا جاتا ہو، اور تعلیمی نظام کا جبر اور معاشی سختیاں بھی نہیں تھیں، اور نہ ہی فرائیڈئین تصور ذات کے واہمے میں ہر انسان اپنا اپنا سچ تلاش کرنے اور اپنی ذات کی خیالی actualization کے زعم میں بال کم یا سفید کروا لیا کرتا تھا۔ نہ ہی کوئی پڑھی لکھی خوبصورت عورت یوٹوپین آئیڈیل کی تلاش میں، جھریاں آنے تک غرور نفس کی اسیر رہتی تھی۔۔۔

انسان بشریت کے تقاضوں کے قریب تھا، اور بشریت میں انسانیت نواز بندگی تھی، سب کچھ کتنا آسان تھا مگر کتنا بھرپور تھا اور سرشار کر دینے والا تھا۔
—— اطہر وقار


ہمارے نانا دادا کے زمانے تک ٹین ایج میں ہی شادی کروا دی جاتی تھی۔ شادی کا واحد تصور ارینج میرج کا ہی تھا اور عموماً شادی سے قبل دولہا اور دلہن ایک دوسرے کو جانتے بھی نہیں تھے۔ اس لاعلمی میں جو تجسس تھا وہ اس سارے معاملے میں جوش و خروش کو بڑھا دیتا تھا۔ وہ دونوں شادی کے بعد ایک دوسرے کو اور اپنی اپنی ذات کے جنسی پہلوؤں کو مل کر دریافت کرتے۔ اس کام کے لیے ان کے پاس بہت وقت بھی ہوتا تھا اور وہ ہمہ وقت ایک دوسرے کے لیے دستیاب بھی ہوتے تھے۔ ان کا ذوق اور مزاج بھی ایک دوسرے کے مطابق ہی بن جاتا تھا۔ لڑکوں کو وقت ہی نہیں دیا جاتا تھا کہ وہ اِدھر اُدھر دیکھیں اور کسی کی بہن بیٹی کو پھسلائیں اور لڑکیوں کو بھی محبت کی تلاش میں کسی لڑکے سے بے وقوف بننے کی حاجت نہیں رہتی تھی۔

جب بچے ہوتے تو ان کی پرورش میں ماں کے ساتھ دادی اور نانی بھی پوری طرح شریک ہوتیں کیونکہ ان کی شادیاں بھی کم عمری میں ہوگئی تھیں اور وہ پچاس سال کی عمر کے لگ بھگ ہی نانی دادی بن گئی تھیں۔ ابھی ان کے بازوؤں میں طاقت ہوتی تھی کہ وہ اپنے پوتے پوتیوں کو بھی سنبھال سکیں۔ یوں شادی کے بعد ماں پوری طرح بچوں کے جھنجھٹ میں پڑ کر شوہر کو بھول نہیں جاتی تھی بلکہ میاں بیوی کو پورا موقع ملتا رہتا کہ محبت کے پورے کو سینچتے رہیں۔
خوش باش اور باہم محبت کرنے والے والدین اپنے بچوں کو بھی بھرپور محبت اور توجہ سے پال پاتے تھے۔ یوں محرومی کی شکار ٹوٹی پھوٹی شخصیات کم ہی نظر آتی تھیں۔ آج اگر لڑکے جنگلی درندے بن جاتے ہیں تو اس کے پیچھے بچپن کی محرومیاں ہی کارفرما ہوتی ہیں۔ لڑکیوں اگر بہک جاتی ہیں تو اسی تحت الشعوری کمپلیکس کے سبب جو بچپن میں درکار محبت نہ مل پانے سے پیدا ہوجاتا ہے۔

میں ہرگز یہ نہیں کہہ رہا کہ ہمارے پرانے خاندانی نظام میں کوئی مسائل نہیں تھے۔ مجھے یہ بھی علم ہے کہ اب وہ نظام اسی شکل میں بحال کرنا ممکن نہیں ہے۔ لیکن کم از کم ہم اتنا تو کرسکتے ہیں کہ دولہا اور دولہن اسی عمر میں بنائیں جب وہ دولہا دولہن بنے اچھے بھی لگیں۔ آج کل ہر طرف تیس پینتیس سال کے انکلز اور آنٹیاں دولہا دلہن کے روپ میں نظر آتے ہیں جو بالکل نہیں جچتے۔ ان کے چہروں پر شادی کی کوئی excitement ہی نہیں ہوتی کیونکہ وہ سب کچھ دیکھ چکے ہوتے ہیں، اپنی اپنی جوانی کا عذاب جھیل چکے ہوتے ہیں۔ جی ہاں، جوانی جو اللٰہ کی خوبصورت ترین نعمت ہے، ہمارے ٹوٹتے پھوٹتے سماجی ڈھانچے میں عذاب بن کر رہ گئی ہے۔

ہمارا معاشرہ معلق معاشرہ ہے۔۔۔ پرانے اور نئے سماجی و معاشی ڈھانچوں کے درمیان معلق۔ ہمارا صنعتی انقلاب آتے آتے رک گیا ہے۔ ہم ماڈرن ہورہے ہیں لیکن نہیں ہورہے۔ ہم بیک وقت شدید مذہبی بھی ہیں اور شدید سیکولر بھی۔ درمیان میں لٹکے رہنے کی اس کیفیت نے بہت سے اضطراب پیدا کیے ہیں، بہت الجھنوں کو جنم دیا ہے۔ ایک طرف ہم شرم و حیاء کے روایتی تصورات سے بیزار ہیں تو دوسری طرف بے شرم بھی نہیں ہو پارہے۔ بچوں بچیوں کو آزادی دے بھی رہے ہیں لیکن باندھ بھی رکھا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ بھاگتے ہیں اور پھر پاؤں میں پڑی رسی کے باعث منہ کے بل گر جاتے ہیں۔

مغرب کا خاندانی تصور گزشتہ سوا سو سال میں بالکل تبدیل ہوگیا ہے۔ اس تصور میں سے نئی نسل کی افزائش نکل گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں جہاں مکمل شخصی آزادی ممکن ہوئی ہے وہیں انسان جذباتی، سماجی اور معاشی طور پر اکیلا بھی رہ گیا ہے، بہت سے خطرات اور اندیشوں کا بھی شکار ہوگیا ہے، بہت سی ذہنی الجھنوں میں بھی پڑ گیا ہے۔ آزادی کی قیمت تو بہرحال ہوتی ہے۔

اگر ہمیں یہی تصور اختیار کرنا ہے تو ٹھیک ہے، ہمیں چاہیے کہ پوری طرح اسے اختیار کرلیں۔ بچوں کو سولہ سترہ سال کی عمر سے کام کرنے اور کمانے پر لگا دیں۔ اٹھارہ سال کے بعد انہیں الگ کردیں۔ سیکس کی مکمل سماجی آزادی دے دیں۔ ابارشن کی اجازت دیں۔ شادی کے بغیر جوڑوں کو اکٹھا رہنے دیں۔ ہم جنس پرستوں کو شادی کی اجازت دیں۔ بس rape اور جنسی ہراسانی کے خلاف قوانین پر عملدرآمد کرواتے رہیں۔

لیکن اگر ہم اتنی بڑی تبدیلی نہیں چاہتے یا افورڈ نہیں کرسکتے تو درمیان میں لٹکنے کی بجائے ہمیں کچھ نہ کچھ اپنا روایتی خاندانی ڈھانچہ بحال اور محفوظ کرنا پڑے گا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ مادہ پرستی سے نکلیں۔ یہ مت سوچیں کہ لڑکا معاشی طور پر مستحکم ہوجائے گا تو ہی اس کی شادی کریں گے یا اسے بیٹی دیں گے۔ ویسے بھی سرکاری نوکریاں اور خاندانی وراثتوں کا یہ نیم فیوڈل، نیم سوشلسٹ معاشی نظام جس نے ہمیں کمفرٹ زون میں بٹھا رکھا تھا، مزید نہیں چل سکتا۔ ہمیں آخر کار سرمایہ دارانہ نظام کی طرف جانا اور جارہے ہیں۔ اس میں ایک لمبے عرصے تک جدوجہد کرنی ہی پڑتی ہے۔ ایسے میں اگر لڑکوں کے مستحکم ہونے کا انتظار کریں گے تو جلد چالیس پینتالیس سال کے دولہا دولہن عام ہو جائیں گے۔ اس کے ساتھ جنسی جرائم میں کئی گنا اضافہ ہوگا۔
—— احمد الیاس

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20