قومی تشکیل اور ہمارا المیہ —- اظہار احمد باچہ

1

(یہ تحریر، ہر اس شخص کے نام جو شعور و آگہی کے رمز کا مارا ہوا ہے)


کسی بھی مجمعے کو ایک قوم بنانے کے لیے فطری طور پر جو چیز سب سے زیادہ ضروری ہوتی ہے وہ دولت کی منصفانہ تقسیم ہے، اگر ایک ملک میں دولت کی تقسیم منصفانہ ہو تو ایک قوم کی تشکیل نسبتاً انتہائی آسان ہوتی ہے۔

لیکن پچھلی ایک صدی سے سرمایہ داری نے دنیا پر اپنے طاغوتی شکنجے کو اتنا مضبوط کیا ہے کہ دنیا کا کوئی بھی علاقہ اس ناسور سے بچ نہیں پایا ہے جس کی وجہ سے دنیا کے تمام ممالک میں سے ایک بھی ایسا نہیں ہے جہاں معاشرے کے تمام افراد میں دولت کی منصفانہ تقسیم واقع ہوئی ہو، تاہم سرمایہ داری نظام کے شکنجے میں جکڑے معاشی نظام کے باوجود بھی مغربی جمہوریت میں فلاحی ریاستیں موجود ہیں جنمیں دولت کی منصفانہ تقسیم تو نہیں البتہ ریاست شہریوں کی دادرسی کرنے میں کامیاب ضرور ہوئی ہے اور لوگوں کی احساس محرومی نسبتاً کم یا نا ہونے کے برابر ہے، مگر اس سب کے باوجود کچھ عوامل اور بھی ایسے ہوتے ہیں جو کسی ملک کے تمام باشندوں کو ایک قوم بنانے کے لیے انتہائی کارآمد ثابت ہوتے ہیں اور جنکے تاریخی شواہد بھی موجود ہیں!

“ویسٹفیلئین وارز” اور “ٹریٹی آف ویسٹفیلیا” یا آسان زبان میں سولہویں صدی کے بیچ مغرب کے اندر سامراجیت کا موجودہ قومی ریاستی تصور (Nations-State) میں تبدیل ہو جانے کے بعد اقوامِ عالم کی تشکیل میں سب سے نمایاں کردار “حادثات” کا رہا ہے پچھلے ایک یا قریب دو یا تین صدیوں میں جن جن خطوں کے باشندے ایک عظیم قوم بن کر ابھرے ہیں ان تمام کا معاملہ حادثات سے ہی جڑا ہے چاہے وہ ایک بڑے پیمانے پر قتل عام کو انقلاب امریکا یا انقلاب فرانس کا نام دینا ہو، ہیروشیما ناگاساکی کی تباہی کی صورت میں جاپان کی قومی تشکیل ہو یا پھر عظیم جنگوں کے بعد افق پر چمکتے یورپی اقوام کے بنائے فلاحی ریاستیں اور انسانی ترقی کے انقلاب، عرض جہاں جہاں پر بھی کسی بڑے پیمانے پر کوئی حادثہ رونما ہوتا ہے تو اس حادثے کے نتیجے میں ہوئے نقصان کو اس خطے کے باشندے اپنی قومی حمیت مضبوط کرنے اور ایک مضبوط قوم کے تشکیل میں منتقل کر دیتے ہیں اور پھر انکے عزم کو آنے والے سالوں میں کوئی بھی بڑا حادثہ متزلزل نہیں کر پاتا!

لیکن دنیا میں ایک خطہ ایسا ہے جہاں کے باشندے مسلسل اس فطری عمل کے خلاف برسرپیکار ہیں اور بدقسمتی سے وہ ہمارا ملک ہے وطن عزیز پر اپنے پہلے دن سے لے کر آج تک کئی ایسے حادثات کا سایہ پڑا ہے جو کہ ہیروشیما اور ناگاساکی کے حادثات سے کسی بھی صورت کم نہیں تھے۔

اس خطے کے باشندوں پر سب سے پہلا بڑا حادثہ اس کے وجود میں آنے کے اگلے 2 سے 5 مہینے بعد تب آیا جب انہیں باشندوں میں سے انہی کے ہم عقیدہ، ہم نظریہ اور ہم خیال تقریبا دس لاکھ انسانوں کو تقسیم اور نقل مکانی کے دوران فسادات میں گاجر مولی کی طرح کاٹا گیا اور اس دوران لاکھوں جوان بیٹیوں کی عصمت دری ہوئی، یہ حادثہ کسی صورت چھوٹا حادثہ نہیں تھا، یہ حادثہ کسی بھی خطے کے پانچ مختلف اکائیوں اور مختلف لسانی بنیادوں پر تقسیم باشندوں کو ایک قوم بنانے کے لیے کافی ہونا تھا! بدقسمتی کے ساتھ ایسا نہیں ہوا اور ہم آنے والے سالوں میں قومی حمیت اور ایک پاکستانی قوم کی تشکیل کیلئے ہوئے اس فطری عمل کی راہ میں رکاوٹ بن گئے!

وقت کا پہیہ گھومتا رہا اور ہم لسانی اور جغرافیائی بنیادوں پر مزید تقسیم در تقسیم ہوتے گئے، سن انیس سو پینسٹھ سر پر آپہنچا قومی سلامتی خطرے میں پڑگئی اور ہمیں مجبوراً دشمن کو یہ دکھانا پڑا کہ ہم ایک قوم ہیں حقیقت میں ایسا نہیں تھا، بلکہ حقیقت یہ تھی کہ ہمیں سلامتی کا ڈر تھا ادھر اس ڈر کے بادل ہمارے سروں سے چھٹ گئے اور ادھر ہم نے پرانی روش دوبارہ اپنا ڈالی! سال 1971 آگیا ہاں بلکل اتنا بھاری سال جتنا جرمنی کے لیے 1945 تھا جب اسکے دو ٹکڑے کئے گئے تھے لیکن جرمن خوش قسمت تھے ان کے دو بازو ہم پلا تھے اور وہ کبھی بھی ایک دوسرے سے جدا نہ تھی لہذا وہ روزِ آخر آپس میں جڑ گئے۔

“ہمارا پاکستان دولخت ہوگیا”

وہی پاکستان جو کبھی بھی بحیثیت قوم پاکستانیوں کا نہیں تھا مشرقی پاکستان والوں کو ہمیشہ یہ گِلا رہا کہ لاہور کی سڑکوں اور چوراہوں سے پٹ سن کی خوشبو آتی ہے (یعنی انکے وسائل یہاں کی شہہ خرچیوں پر صَرف ہوتے ہیں) جبکہ ڈھاکہ میں سیلاب کے بعد لوگ بھوک سے مرتے ہیں، مغربی پاکستان کی چار اکائیاں کاغذ کے نقشے پر تو سرحدات میں جڑی ہوئی تھی لیکن کبھی بھی ایک پاکستانی قوم نہیں تھی کوئی سندھی تو کوئی بلوچ کوئی پنجابی تو کوئی پختون یا پھر قبائلی، ایک اور حادثہ ہاتھ سے گیا اور ہم ویسے ہی قدرت کے ساتھ برسرپیکار رہے! سقوطِ ڈھاکہ بھی ہمارے لئے ہیروشیما اور ناگاساکی سے کہیں بڑا حادثہ تھا، مشرقی پاکستان والوں کے ہاں تو یہ جنوبی افریقی اپارتھائیڈ یا انقلاب سے کم نہ تھا ان کے بونے چھوٹے قد اور کالی چھمڑی والے بنگالیوں کو لمبے خوبصورت پاکستانیوں سے آزادی ملی تھی اور شیخ مجیب الرحمان انکا نیلسن منڈیلا ٹہرا تھا، ان کے بھی کئی لاکھ لوگ مرے لیکن وہ حادثہ انکی قومی تشکیل کر پایا! ہم البتہ باقی ماندہ پاکستان میں پرانے رویوں کے دہانے ہی کھڑے تھے جیسے کچھ نیا تو ہوا ہی نہیں تھا..!

سال گزرتے گئے اور ہم تقسیم در تقسیم کے نئے طریقے تراشتے رہیں علاقائی اور لسانی تقسیم کے ساتھ ساتھ اب مذہبی تقسیم بھی سر چڑھ کر بولنے لگا تھا پہلے پہل جب جب حادثات ہوتے تو ہم علاقائیت اور لسانئیت چھوڑ کر وقتی طور پر اکٹھے ہو جاتے تھے، اب مصیبت زدہ کا مسلک پوچھا جانے لگا، انقلاب ایران میں آیا اور فرقوں کا ظہور پاکستان میں ہوا، پہلی مرتبہ علاقے بھی ایمان لے آئیں اور ان کے بھی مسالک بنے، یہ سنی علاقہ تو وہ شیعہ علاقہ، یہ دیوبندی علاقہ اور وہ بریلوی علاقہ اور..!

پھر نائن الیون ہوا اور وطن عزیز پر ایک اور حادثے کا ظہور؛ دہشتگردی! قبائلی علاقوں میں علاقہ مکین ڈرون حملے سے ریزہ ریزہ ہوئے اپنے جگرگوشوں کے لوتھڑے اکھٹے کرنے میں مصروف ہوتے، اہل پشاور ایک دن میں چار چار دھماکوں سے خون میں نہاں جاتے، بلوچستان میں دور دراز شاہ نورانی کے مزار کے مجاور وہاں ہوئے دھماکے سے جاں بحق “پاکستانی باشندوں” کو خچروں پر لاد لاد کر ہسپتال، یا یوں کہے کہ ایک ہسپتال نما عمارت میں منتقل کرنے لگتے لیکن کچھ بھی نہیں بدلا! پھر 16 اگست 2014 بھی آیا، اس کے بار یہ حادثہ کچھ عجیب ہی نوعیت کا تھا، جیسے کوئی جنونی طوفان باغیچے کے سارے کلیوں کو مسل ڈالے۔

لیکن ہم فطرت کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کیطرح کھڑے رہے، جو قسم ہم نے روزِ اول اٹھائی تھی کہ ہم علاقائی، لسانی، مذہبی اور مسلکی بنیادوں سے نکل کر کبھی بھی ایک قوم کی تشکیل نہیں ہونے دینگے اس قسم پر ہم آج بھی ثابت قدمی کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے کیونکہ اس کے بعد اور کونسا ایسا حادثہ ہونا ہے جو زمین کے اس ٹکڑے کی پر بسنے والے باشندوں کو ایک قوم بنا ڈالے گی!

پچھلے کچھ دنوں سے مہنگائی سے نالاں بہت سے پاکستانیوں کو دیکھا لیکن ان میں سب سے مطمئن ان کو پایا جو دن کو کما کر شام کو کھاتے ہیں اور جن جنکو سب سے زیادہ نالاں پایا وہ انتہائی کھاتے پیتے، لیکن جو چیز نظر آنی چاہیے تھی اور نظر نہیں آئی وہ قومی تشکیل کے بعد وہ بار ذمہ داری اور جذبہ تھا جو قوم کے آسودہ حال قوم کے پسماندہ طبقہ کے لئے رکھتے ہیں، کسی ایک میں بھی نہیں! کسی نے غلطی سے بھی یہ نہیں دہرایا کہ میں مہنگائی کے اس طوفان میں اس غریب کا مسیحا بنوں گا جو کہ دن کو کما کر شام کو کھاتا ہے اور جسکی کمائی و اخراجات میں تغیر کا خدشہ ہے جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ قومی تشکیل کے ساتھ ساتھ ہم اخلاقی اقدار کے معیاروں کے ساتھ بھی برسرپیکار ہیں اور نا جانے کب اس طرز پر قوم کی تشکیل ممکن ہوگی جب قوم کا ایک فرد دوسرے کی ذمہ داری اٹھانے کے لیے تیار ہوگا اور کب ہم اخلاقی اور معاشرتی اقدار کے اس مقام تک پہنچیں گے جہاں پر جدید فلاحی ریاستوں میں بستے اقوام موجود ہیں! ہمارے بارے میں جون ایلیا مرحوم نے لکھا تھا:

“قومیں اپنے اپنے راستوں پر دور تک آگے بڑھ چکی ہیں اور ہم ہیں کہ وقت کے ٹھیلوں پر کھڑے ہو کر یہ دعا مانگ رہے ہیں کہ یا تو تہذیب و تمدن کے یہ آگے بڑھتے ہوئے قافلے راستے میں کہیں لُٹ جائے یا واپس لوٹ آئے”۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. نعمان ملنگ on

    زبردست میرے بھائی آپ نے بجا فرمایا۔ لیکن ہمیں بڑے لمبے عرصے سے واپس گزرنا ہوگا

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20