ادبی تحقیق کی زبوں حالی کے ذمہ دار مدیر کیوں نہیں؟ — قاسم یعقوب

0

اکیسویں صدی کے آغاز کے ساتھ ہی ہمارے ہاں جامعات کی ایک فصل اُگنے لگی۔ پاکستان کے تعلیمی حالات کی جانب سے دیکھیں تو یہ ایک نیک شگون تھا۔ یہ حکومت کی طرف سے اعلیٰ تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کرنے کی سہولت تھی۔ تقریباً ہر بڑے شہر میں جامعہ بنانے سے پورے ملک میں جامعات کا ایک جال بچھا دیا گیا۔ یہ صرف جامعات کی تعمیر تک ختم ہو جانے والا سلسلہ نہیں تھا بلکہ اس کے ساتھ ہی اعلیٰ تعلیم کے مسائل بھی جنم لینے لگے۔ اہل سکالر کی تلاش، تحقیق کااعلیٰ معیار اور اہم اساتذہ کی کمی جیسے مسائل نے جامعاتی نظام کو شدید دھچکا لگایا۔ اس سارے عمل میں اعلیٰ تعلیمی کمیشن (HEC) کا کردار اہمیت اختیار کرتا گیا۔

جہاں دیگر علوم کو اہمیت ملنے لگی، وہیں ادب اور زبانوں کی اعلیٰ تعلیم بھیج جامعات کا حصہ بننے لگی۔ تحقیق کے عالمی معیار کی نقل کرتے ہوئے ہمارے ہاں بھی اعلیٰ تعلیمی کمیشن نے کچھ اصول مرتب کیے اور لگ بھگ دو دہائیاں پیشتر انھیں جامعات میں لاگو کردیا گیا۔ ادبی تحقیق کے ضمن میں کمیشن نے انھی معیارات کو ہوبہو نقل کیا، جو سوشل سائنسز کی تحقیق کے لیے لازمی تھی۔ حالاں کہ زبان وادب کی تحقیق سماجی اور فطری سائنسوں کی طرح نہیں ہوتی۔ یہاں سپروائزر کا کردار محض معلومات کی فراہمی سے زیادہ نہیں ہوتا۔ ایک سکالر جب تحقیق کر رہا ہوتا ہے تو اسے معلومات کا ایک بڑا ذخیرہ درکار ہوتا ہے جو وہ اپنے تئیں جگہ جگہ سے اکٹھا کر رہا ہوتا ہے۔ اس لیے صرف سپروائزر یا نگران ہی معلومات کا بنیادی یا واحدذریعہ نہیں ہوتا۔ ادبی تحقیق میں اصل کام اُن خیالات یا نتائج کاہوتا ہے جو ہمیشہ داخلی (Subjective) ہوتے ہیں۔ سماجی یا فطری سائنسز کی تحقیق میں تحقیقی اشتراک ممکن ہے یعنی دو یا دو سے زیادہ افراد مل کر بھی تحقیق کر سکتے ہیں مگر ادبی تحقیق چوں کہ نظریاتی دلائل پر مشتمل ہوتی ہے اس لیے اسے دو یا زیادہ افراد کے اشتراک سے ممکن نہیں بنایا جا سکتا۔ مثال کے طور پر ایک محقق کے نزدیک غالب کی نسبت میر زیادہ بڑا شاعر ہے جب کہ اس کے نگران کو سکالر کی رائے سے اتفاق نہیں تو کیا آپ جانتے ہیں کہ تحقیقی نتائج کیا ہوں گے؟ وہی ہوں گے جو سپروائزر کے خیالات ہوں گے۔ ہم نے اپنے اردگرد ایسے تحقیقی نتائج مرتب ہوتے دیکھے ہیں جو سکالر کے اپنے نہیں تھے یا وہ انھیں ’’اون‘‘ ہی نہیں کرتا۔ اس لیے کہ وہ صرف تحقیق کے مختلف مراحل میں قید تھا جو نگران کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔ اس کے نظریات سے اس کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ میرے خیال میں نگران کا تصور ادبی تحقیق کے لیے نہایت غیر موزوں اور غیر ضروری ہے۔ البتہ رہنما کی ضرورت ہو سکتی ہے مگر یاد رہے کہ اصطلاحی زبان میں رہنما اور نگران میں بہت فرق ہے۔ رہنما یا گائیڈ کوئی بھی ہو سکتا ہے اور وہ سکالرکے نظریاتی خیالات کو بدلنے کا اختیار بھی نہیں رکھتا۔ جب کہ نگران اس کے نظریاتی خیالات و نتائج پر قابض ہستی ہے جو اس کی تحقیق کے معیار کے نام پر ذمہ دار بنایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اعلیٰ تعلیم: ایک بین الاقوامی صنعت --------- جہاں تاب حسین

خیر__یہ تو ایک الگ موضوع ہے، جس پر کسی اور وقت تفصیل سے بات کی جائے گی، سرِ دست میں ادبی رسائل میں شائع ہونے والی تحقیق کے معیار اور ضرورتوں پر ماتم کرنا چاہ رہا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اعلیٰ تعلیمی کمیشن نے تحقیق کے اس کھیل کا ڈول ڈالا اور سب کچھ برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ طرح طرح کی پالیساں اور مضامین کی تعداد بڑھانے کے چکر میں اعلیٰ معیار کی تحقیق ناپید ہوتی جا رہی ہے۔ ذرا کچھ دیر کے لیے رکیے اور جواب دیجیے کہ کیا یہ اعلیٰ تعلیمی کمیشن کا قصور ہے؟ اُن کا کوئی قصور نہیں، جو مدیران یہ تحقیقی مضامین شائع کر رہے تھے؟ ان کی کوئی ذمہ داری نہیں جنھوں نے تحقیق کے نام پر ایک دوسرے کو نوازا اور تحقیقی مضامین کے نام پر ان جرائد پر قبضہ جما لیا۔ کیا ان کی ذمہ داری نہیں تھی کہ کوئی معیار بناتے اور صرف ایک دوسرے کی ’’ضرورت‘‘ کو پورا کرنے کی بجائے بڑے ادبی سوالوں پر مبنی مباحث کو فروغ دیتے؟ کیا ہم نے بھی ان مدیران کو بری الذمہ قرار دے کے اپنی ذمہ داری پوری کر دی ہے؟ادارے تو صرف پالیسی دیتے ہیں مگر ان پر عمل درآمد کروانا تو ان افراد کا کام ہوتا ہے جو اس کی ذمہ داری کا بیڑہ اٹھاتے ہیں۔
کچھ سال پہلے کی بات ہے کہ ایک دن میں ایک یونیورسٹی استاد کے پاس بیٹھا تھا۔ ان کے سامنے ایک ادبی جریدہ پڑا تھا۔ اس میں ان کا آرٹیکل شائع ہوا تھا۔ میں عرصے سے اسی مخمصے میں تھا کہ ایک ادبی مضمون کو دو افراد مل کر کیسے لکھ سکتے ہیں؟ اتفاق سے ان کے آرٹیکل کے ساتھ بھی معاون سکالر کا نام لکھا تھا۔ میں نے ان سے استفسار کیا کہ آپ نے اپنے اس آرٹیکل میں کون سا حصہ لکھا اور ان کا کون سا ہے؟ اور ایسی کیا ضرورت پیش آگئی کہ بارہ صفحات کے مضمون کو دو افراد مل کر ’’پایۂ تکمیل‘‘ تک پہنچا نے میں لگے رہے۔ تو ان کا جواب تھا کہ ’’اصل میں جب یہ آرٹیکل شائع ہونے جا رہا تھا تو مدیر نے مجھے درخواست کی کہ ایک سکالر کو آرٹیکل کی ضرورت ہے، اس کا وائیوا رُکا ہوا ہے۔ وہ خود لکھ نہیں اور اگر لکھ بھی لے تو کون اسے شائع کرے گا۔ براہِ مہربانی اسے شریک لکھاری بنا نے کی استدعا قبول کریں۔ تاکید اور منت اس قدر شدید تھی کہ میں رہ نہ سکا۔‘‘ یوں مجبوراً ان کا یہ مضمون شریک لکھاری کی وجہ سے دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ ایک مضمون کے دو مصنف بن گئے۔

آج آپ ادبی تحقیقی جرائد کو ایک نظر دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ کسی بھی جریدے میں کوئی ایک آدھ آرٹیکل ہی نظر آتا ہے جو کسی ایک سکالر کا لکھا ہوا ہو، ورنہ سب مضامین دو یا دو سے زیادہ سکالرز مل کر لکھتے ہیں۔ یہ ایک قسم کا کھلا دھوکہ اور بد دیانتی کا بازار سجایا گیا ہے۔ ایک سکالر کو مجبوراً اپنے ساتھ دوسرے سکالرز کے نام لکھنے پڑ رہے ہیں۔ اس کھیل میں ادیب حضرات اور اساتذہ پیش پیش ہیں۔ اعلیٰ تعلیمی کمیشن نے ششماہی رسائل پر پندرہ مضامین کی حد مقرر کی تھی مگر ہمارے ’’ذہین‘‘ مدیران نے اس حد کو نہایت ’’چالاکی‘‘ سے چاک کر دیا اور ایسا توڑ نکالا کہ پندرہ سے تیس افراد کی گنجائش نکل آئی اور اگر ان سے تحقیق کی زبوں حالی کا پوچھیں تو کہیں گے کہ اعلیٰ تعلیمی کمیشن ہی تحقیق کے ان غیر معیاری حالات کاذمہ دار ہے۔

پروفیسر اور جامعات کیوں ذمہ دار نہیں؟

تھوڑی سے محنت کی ضرورت ہے، ورنہ گریبان میں جھانکنا اتنا مشکل کام نہیں۔

یہ بھی پڑھیے: اعلیٰ تعلیم کا نظام : نیو لبرل ازم حکمت عملی
(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20