شادی، انقلاب اور فیمینزم —– سحرش عثمان

1

بہت سی شادیاں اٹینڈ کرتے دلہنیں دیکھتے تصویریں بنواتے عجیب دل گرفتگی سے خاموش بیٹھے اچانک ایک نند نے کہا “بھابھی آپ تو اتنی اچھی ڈیبیٹر ہیں۔ (یہ ہمارے ہی کالج میں پڑھا کرتی تھیں) اب اتنی ہی چپ رہتی ہیں کیا گھر میں؟”

ہم نے بے خیالی میں اردگرد دیکھا کسی “آشنا” کو نہ پاکر اطمینان بھری سانس لی اور بچی کو لگے بہکانے۔

میرا جی چاہا اس سے کہوں سنو لڑکی جن موضوعات پر میں تقریریں کرتی تھی اور ٹرافیاں جیتا کرتی تھی میں انہیں تمام موضوعات کی عملی شکلوں کا خاموش حصہ بن رہی ہوں۔
پیاری میں جن انقلابی خیالات پر داد کی مستحق ٹہرتی تھی۔ وہ سارے انقلاب میں مسکارے کے ڈبل کوٹ میں چھپا کر آتی ہوں۔
سنو میری پلکوں پر یہ لائنر نہیں لگا یہ دنیا نے ان آنکھوں پر پہرا بٹھا رکھا ہے خواب نہ دیکھنے کا۔ یہ جو زیور پہن رکھا ہوتا ہے یہ زیور نہیں زنجیریں ہیں بیڑیاں ہیں جو تم لوگوں کی ڈیبیٹر کو یہ سب ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرنے پر مجبور کرتا ہے۔

دماغ میں یہ ساری تقریر تیار کرکے کھنکھار کے گلا صاف کیا ہی تھا کہ اندر سے کسی نے سرگوشی کی۔۔ اب ایسا بھی نہیں۔ بہت کچھ میسر ہے مرضی والا۔
خوابوں پر لائنر تو نہیں لگایا ہر وقت کی کچھ ریکوائرمنٹس ہوا کرتی ہیں۔ زیور تم پہنتی کب ہو جو دہائیاں دے رہی۔
ہم نے بھی “رواجی فیمنسٹ” بننے کی بجائے انسان بننے کا فیصلہ کیا اور سوچا ایک ہلکی سی سچی تحریر لکھی جائے خود پر چیزوں پر حالات و واقعات پر۔

تو یوں ہے کہ مکمل فرشتہ اور مکمل شیطان تو کوئی بھی نہیں ہوتا۔ کسی کو بھی یہاں خالص جنت اور مکمل دوزخ نہیں ملتا۔
بس ملتا جلتا درمیانہ سا ٹیکسچر لیا ایگزیمینشن حال ترتیب دے رکھا ہے اس نے۔
ہماری آپ کی کامیابی یہ ہی ہے کہ اپنی شیٹ پر فوکس کریں پورے وقت تک بیٹھے رہیں نیت صاف رکھیں اور سوالوں کے ممکنہ جواب دیتے رہیں۔

یہ ہی حال ہمارا ہے۔ جن انقلابی خیالات پر ٹرافیاں ملا کرتی تھیں اب ان کے اظہار پر بدتمیزی کے سرٹیفکیٹس نہ بھی ملیں تو ہلکی سی ناپسندیدگی کی سند ضرور مل جاتی ہے۔ خیر یہ ایسی کوئی قابل ذکر بات بھی نہیں کیونکہ جتنی خوشی ان ٹرافیوں پر ملا کرتی تھیں یہ سندیں بھی ویسے ہی خوش کرتی تھیں۔ خود کو احساس ہوتا رہتا ہے ابھی مکمل نمک نہیں بنے اس کان میں ابھی ہلکا سا شعلہ جل رہا ہے۔ اس لحاظ سے خود کو خوش قسمت تصور کرتی ہوں کہ یہ شعلہ منتقل کرنے کا ایک چھوٹا سا وجود میسر ہے۔
یہ شعلہ جلتا رہے کسی صورت یہ ہی انقلاب ہوگا چھوٹا سا انقلاب اپنی حثیت والا انقلاب۔

جی چاہا اسے بتاؤں۔ مسلسل مقابلے کی اس فضاء میں خود کو مقابلے سے آزاد کرلینا انقلاب ہے۔
جی چاہا سرگوشی کروں اپنے ساتھ زیادتی نہ ہونے دینا کسی کے ساتھ زیادتی نہ کرنا کسی کے ساتھ ہوتی زیادتی کو صاف واضح الفاظ میں زیادتی کہنا انقلاب ہے دراصل جسے عرف عام میں بدتمیزی بھی کہا جاتا ہے لیکن دیکھو پیاری ایسی بدتمیزیوں میں جو سکون ہے وہ تمیز تہذیب میں کہاں۔

جی چاہا اسے کونے میں لے جاکر سمجھاؤں “دیکھو ہماری تمہاری صنف کا پہلا حق فیصلے کی آزادی ہے۔ جب کبھی زندگی موقع دے ملکیت کو چیلنج کردینا، دیکھو تمہارا اپنے حق کے لیے آواز اٹھانا ہی انقلاب ہے۔ اور یہ ضروری کہاں ہے ہر انقلاب منزل پائے لیکن وہ جسے کہتے ہیں نا سیلف سیٹسفیکشن، وہ بڑی بری بلا ہے، کم کم میسر آتی ہے، آجائے تو کیا بات۔۔ سنو آزادی کی مئے چکھنے کی کوشش کرنا۔ اس جام کو پی نہ بھی سکو تو اس کے پینے کی خواہش زندہ رکھنا۔ یہ ہی انقلاب ہے۔

سنو! انقلاب کا مطلب قتل عام نہیں نہ ہی اس کا مطلب بربادی ہے۔ ہاں توڑ پھوڑ تو ہوتی ہے نا جسے کولیٹرل ڈیمج کہتے ہیں، وہ تو ہوتا ہی ہے نا اندر ہو یا باہر۔۔ سنو اس رستے میں بہت سے بت ٹوٹ سکتے ہیں۔۔لیکن یہ بھی دیکھو یہ کیسا موحد بنا دیتا ہے اور احد احد کرنے والے تپتی ریتوں بھاری پتھروں سے کب ڈرا کرتے ہیں۔

سنو ان ساری باتوں پر ایمان قائم ہونا ہی دراصل کامیابی ہے۔ تقریر و تحریر ہی کی نہیں زندگی کی بھی کیونکہ پیاری لڑکی تقریر اور زندگی میں ہلکا سا فرق ہوتا ہے۔ وہاں تالیاں نہ بجانے والوں کو آسانی سے نظر انداز کیا جاسکتا ہے۔ زندگی میں اکثر تالیاں نہ بجانے والے میسر آجاتے ہیں۔ جن کے لیے آپ کا جی چاہتا ہے تالیاں پیٹنے کا (ان کا چہرہ درمیاں رکھ کر) لیکن آپ یہ کر نہیں پاتے وجہ وہی شعور ہلکی سے آگاہی۔

جی چاہا اسے بتاؤں۔ مسلسل مقابلے کی اس فضاء میں خود کو مقابلے سے آزاد کرلینا انقلاب ہے۔ اور دیکھو تالیاں نہ پیٹنے والوں کو اگر پیٹ نہ سکو تو بہتر ہے نظر انداز کرو۔

لیکن یہ سب باتیں بتانے سے پہلے ہی روٹی “کھل” گئی اور ہم ہمیشہ کی طرح یہ ساری دانشوری یہاں جھاڑنے پر مجبور ہوئے۔

یہ بھی پڑھیئے: مقبول اور جارحانہ فیمنزم : عورتوں کی خوشیوں کا قاتل
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20