قومی مسائل اور ادیب کی بے حسی — تاریخی مذاکراتی انٹرویو – 3

0

متعین الرحمن مرتضیٰ: میں یہ پوچھنا چاہ رہا تھا کہ عرب شاعر یا ادیب عرب میں رہتا ہے۔ امریکی ادیب امریکہ میں رہتا ہے لیکن ہمارا ادیب جو پہلے ایران میں رہتا تھا اور اب امریکہ چلا گیا ہے وہ واپس پاکستان کب آئے گا؟

سجادمیر: متین صاحب کے سوال کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کا مطلب کیا ہے؟ پاکستان جس میں ہم لوگ رہتے ہیں وہ خود کیا ہے؟ آپ یہ سوال کریں کہ پاکستانی، پاکستان میں کب واپس آئے گا۔ یہ سوال بہت نازک ہے۔

سلیم احمد: جو پاکستانی پاکستان میں رہ رہا ہے وہ پاکستان میں رہنے کے لیے تیار نہیں ہے اور جو پاکستان سے چلا گیا ہے وہ واپس نہیں آنا چاہتا۔

متین الرحمن: مگروہ پاکستان سے باہر رہ کر بھی ذہنی طور پر پاکستان میں رہتا ہے اور پاکستان کو یاد کرتا ہے تو پاکستان سے اس کا رشتہ باقی رہتا ہے۔ ہمارا کہنا یہ ہے کہ ادیبوں کا پاکستان سے رشتہ قائم کیوں نہیں ہو رہا؟

سلیم احمد: قربت دوری پیدا کردیتی ہے، دوری قربت پیدا کردیتی ہے، یہ عجیب انسانی نفسیات ہے، دور جاکر پاکستان نزدیک ہوجاتا ہے اورپاکستان میں رہ کر ہائے پاکستان ہائے پاکستان کرتے رہتے ہیں۔

متین الرحمن مرتضیٰ: جو ادیب باہر چلا جاتا ہے مثلاً احمد فراز صاحب باہر چلے گئے۔ سوال یہ ہے کہ وہ باہر جاکر پاکستانی کیوں نہیں ہوجاتے؟

سجاد میر: (ہنستے ہوئے) احمد فراز اور فیض کی بات کرکے آپ ہمارے جذبات مجروح نہ کریں۔

متین الرحمن مرتضیٰ: آپ نے اور سلیم صاحب نے کہا کہ ماہر القادری صاحب اور نعیم صدیقی صاحب بڑے شاعرہیں یا نہیں۔ ادیب کا ادیب ہونا اس کی تخلیق کے ادبی معیارپر متعین ہے۔ ٹھیک ہے ہم کہتے ہیں کہ وہ معیاری ادیب یا معیاری شاعر نہیں ہوںگے لیکن ہمیں شکایت یہ ہے کہ بعض ادیبوں کے ہاں جو تعصب ہے مثلاً وہ فلسطینیوں کے بارے میں لکھ سکتے ہیں لیکن ان کے قریب آس پاس جو کچھ ہو رہا ہے اُس کے متعلق کچھ نہیں لکھتے؟

سجاد میر: (باآواز بلند) اسی لیے تو چھوٹے ادیب ہیں۔ آپ کا جتنا جھگڑا ترقی پسندوں سے ہے اس سے زیادہ ہماراہے۔

متین الرحمن مرتضیٰ: آپ گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں ہم تو بحیثیت مجموعی ادیب کی بات کر رہے ہیں۔

سلیم احمد: میں نے بیان کیا ہے کہ سرسید کی تحریک قومی تھی اس کے بعد ۱۹۳۶ء کی تحریک آئی تو ہمارا حوالہ بدل گیا۔

ابن الحسن: فیض صاحب کی جو ادبی تخلیقات ہیں ان کی ممتاز حیثیت اس لیے ہے کہ وہ ادبی معیارات پر پوری اترتی ہیں۔ فیض صاحب نے جو چیزیں عمداً ایک خاص نقطۂ نظر سے لکھنے کی کوشش کی ہے وہ کمتر درجے کی ہیں۔

سجادمیر: ایک بات اور نوٹ کرلیں کہ ہم فیض صاحب کو کوئی بہت بڑا شاعر نہیں مانتے، انہیں ہم بس ایک اچھا شاعرمانتے ہیں۔

ابن الحسن: دنیائے ادب کی تاریخ میں اس وقت فیض صاحب نہایت ممتاز ہیں۔
سجاد میر: یہ بات بالکل درست نہیں ہے۔
(سجاد میر اور ابن الحسن اس موضوع پر اُلجھ جاتے ہیں)۔

طاہر مسعود: فیض صاحب پر گفتگو کرنے سے بحث موضوع سے ہٹ جائے گی، لہٰذا فی الحال اس بحث کو ملتوی کردیں۔ شمیم احمد صاحب کچھ کہنا چاہ رہے ہیں۔

شمیم احمد: صاحب! میں نے جو کچھ عرض کیا تھا اس میں ایک بات کی وضاحت کردوں۔ آپ کا جو سوال ہے اس کا ایک پہلو تو موضوع سے متعلق ہے، بیچ میں سجاد میر صاحب نے جو سوال اُٹھایا ہے اس پربھائی صاحب نے (سلیم احمد صاحب نے) تفصیل سے گفتگو کی۔ وہ مسئلہ تھا، تخلیق کا کہ تخلیق کا معاشرے سے کیا تعلق ہوتا ہے؟میرے سوال کا پس منظر یہ تھا کہ ادیب مختلف تحریکات سے یا اس لمحے سے جب اس نے رول ادا کرنا شروع کیا ہے معاشرے میںوہ بے حسی کی منزل تک کیسے پہنچا؟ اب سجاد میر صاحب نے بھائی صاحب کے سوالات کے پس منظر میں تخلیقی ادب کا جو بنیادی سوال ہے اسے اٹھایا ہے۔ اب میں قدیم ادب سے اپنی بات شروع کروںگا۔ بھائی صاحب نے حسن عسکری صاحب کے حوالے سے بتایا کہ ادیب کی دو حیثیتیں ہوتی ہیں۔ ایک تو وہ معاشرے کا فرد ہوتا ہے اور دوسرے فنکار کی حیثیت میں اس کی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ وہ تخلیق کیسے کرے اور وہ تخلیقی عمل ہی کو تمام چیزوں پر اوّلیت و اہمیت دے گا۔ اس کی پہچان اسی سے ہوگی۔ بعد میں جو وضاحتیں سجاد میر صاحب نے کی ہیں اس میں وہ تضاد کا شکار ہوگئے اور ان بحثوں کو تازہ کردیا جو ادب برائے زندگی اور ادب برائے ادب کے حوالے سے ماضی میں ہوتی رہیں۔ اب قدیم ادب کو آپ دیکھیے توکیا میرؔ اور حافظ کا کسی تحریک سے تعلق تھا؟ نہیں تھا۔ ظاہر ہے معاشرے کی وہ صداقتیں جس میں وہ فرد کی حیثیت سے شریک تھا۔ اور جب لکھتا تھا تو اس میں وہ تمام صداقتیں اور حققیتیں ازخود آجاتی تھیں۔ لہٰذا ہم نے ترقی پسندوں کو اسی لیے ردکردیا کہ یہ سوال ہی بوگس ہے۔ یہ سوال اس اکائی کو تقسیم کرتا ہے کبھی زندگی کو قدیم ادب سے کاٹنے کا تصور نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ اگرآپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ قدیم ادب کا زندگی سے تعلق نہیں تھا تو اس سے زیادہ بوگس بات اور کیا ہوسکتی ہے۔ شاہ ولی اللہ کا زمانہ جب میں کہتا ہوں تو شاہ ولی اللہ کے بعد ہی تو آپ کے ہاں ادب پیدا ہونا شروع ہوا۔ آپ یہ دیکھیے کہ معاشرے کے جن سوالات کو سرسید احمد خان یا جسے آپ دانشور کہہ کرادیبوں سے الگ کر رہے ہیں۔ ان سب کا مسئلہ مشترک ہے۔ معاشرے کی بنیادی اقدار بنیادی سوالات تو آپ کو میرؔ، قلی قطب شاہ یا ولیؔ کے ہاں نظر آئیں گے جسے وہ دانشور کی سطح پر بیان کر رہے ہیں اس میں کوئی تضاد نظرنہیں آئے گا۔ لیکن جب ہم تحریکات میں داخل ہوتے ہیں تو اس میں قصہ یہ ہوگیا کہ آپ نے ان تحریکات کے زیرِاثر اور بین الاقوامی اثرات کے زیرِاثر اسے قبول کیا لیکن آپ نے ان بنیادی اقدارکی طرف سے نظر پھیر لی جو آج تک عوامی سطح پر موجود ہیں اور وہ آپ کی تخلیق کا اسی طرح حصہ نہیں بنیں۔ دیکھیے اکبرکی شاعری ردِّعمل کی شاعری سہی لیکن ان کے پیچھے وہ ان محرکات سے رشتہ جوڑنا چاہتا ہے جسے سرسید کاٹنا چاہتے ہیں۔ جس کو وہ ردعمل میں خطرناک چیز سمجھ رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ یہ ہماری قومی اقدار ہیں اگرآپ اس سے اپنا رشتہ توڑیںگے تو اپنے قومی شعور سے رشتہ توڑیں گے۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ میراؔ جی نے یا میراجیؔ کے حوالے سے آپ نے ان سمتوں سے موڑ کر اپنا رُخ یک طرفہ کیوں کرلیا؟ آپ سے تقاضا یہ تھا کہ ان بنیادی اقدار سے اپنا رشتہ قائم رکھیں گے لیکن وہ آپ کے ادب کا موضوع کیوں نہ بنا۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ یہ شعوری طور پر کرنا چاہیے تھا۔ آپ کو معلوم ہے کہ میں ترقی پسند تحریک کا اسی بنیاد پر مخالف ہوں اور اسی بنیاد پراسلامی ادب کا انکار کرتا ہوں کہ وہ جس مقصد کو تخلیق پر حاوی کر رہی ہیں وہ کبھی بھی تخلیقی محرکات کا باعث نہیں بن سکتیں۔ آپ دنیا بھر کی تحریکات کے پیچھے تو پڑے رہتے ہیں اور انہیں اُٹھا کر اپنے ملک میں لے آتے ہیں اور رواج دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ سمجھے بغیرکہ معاشرہ انہیں قبول کرنے کے لیے تیار ہے یا نہیں ہے۔

یہ میں مانتا ہوں کہ ادیب کی جو منیٹل فضا ہوتی ہے جس کا ذکر بھائی صاحب نے کیا وہ ایک بالکل فطری تقاضا ہے۔ لیکن کیا اس معاشرے کے تقاضے کچھ نہیں تھے۔ جس میںادیب زندگی بسر کر رہا تھا۔ آپ کا باربار موضوع یہ بنتاہے کہ قدیم ادب کے پیچھے ایک بہت بڑی روایت ہے تو ہم اس روایت کو سمجھے بغیر اور اس سے اپنا رشتہ جوڑے بغیر کیا کوئی ادب تخلیق کرسکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آپ اس جوڑنے کے عمل کو دکھاتے کیوںنہیں؟ اس معاشرے میں جسے آپ ماسی کلچر کہہ رہے ہیں کیا وہ براہِ راست مغرب کے زیرِاثر یہاں پیدا ہوا؟ یا وہ ہمارے ادیب اور دانشور کے حوالے سے یہاں پہنچا۔ آپ منٹیل فضا کے حوالے سے ساری دنیا کو اون کیے جا رہے ہیں لیکن جس معاشرے میں آپ زندگی بسر کرتے ہیں اس کا کوئی مسئلہ آپ کے ہاں نظر نہیں آتا۔ آپ کے ہاں تضاد ہے۔ جو رول جدید ادب کا بننا چاہیے تھا وہ یک طرفہ رول ہے۔ ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ بجائے اس کے کہ رلکےؔ، ایلیٹ یا کافکا کے حوالے سے بات کریں آپ یہ کیوں نہیں دیکھتے کہ میرؔ یا غالبؔ کی روایت کیا ہے؟ یہ بہت بڑا بنیادی سوال ہے۔

سجاد میر: دیکھیے اب بات آگئی ہے جدید ادب پر۔ شمیم بھائی کا خیال ہے کہ میں یا سلیم بھائی میراجیؔ کی تحریک کی حمایت میں ہیں۔

شمیم احمد : میں نے انفرادی طور پر کسی کی بات نہیں کی ہے بلکہ اجتماعی طور پر ایک سوال اُٹھایا ہے کہ ہمارا سارا جدید ادب …

سجادمیر: (بات کاٹ کر) میں عرض کرتا ہوں میرا اعتراض صرف ترقی پسندی پر نہیں ہے۔ بلکہ اس کے ردِّعمل میں جو نظریہ سازی ہوتی ہے اس پر بھی ہے۔ ادب برائے ادب اور ادب برائے زندگی کی بحث بہت پرانی ہے، مغرب کا سارا لٹریچر اسی بحث سے بھرا پڑا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شاہ ولی اللہ کے بعد ہمارے یہاں لٹریچر پیداہوا۔ حالاں کہ بیدل، وارث، بھٹائی اس سے پہلے شعر کہتے تھے۔

شمیم احمد: میں نے سعدی، حافظ کے حوالے سے بات کہی ہے کہ انہوں نے کہیں نظریہ سازی نہیں کی۔

سجادمیر: نہیں، نہیں یہ بات نہیں ہے جب آپ شاہ ولی اللہ کی بات کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کے بعد ادب پیدا ہواتو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اردو زبان کی تاریخ بیان کرتے ہیں۔ مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ اعتراض صرف یہ ہے کہ جب آپ کسی چیز کی فارمولیشن کرتے ہیں تو بہت سی باتیں رہ جاتی ہیں۔

شمیم احمد: سجاد میر صاحب! جب آپ گفتگو کریں گے تو اسے Relevent ہونا چاہیے، بحث برائے بحث نہیں ہونی چاہیے۔ میں یہ نہیںکہہ رہا ہوں کہ تاریخ کیا کہہ رہی ہے بلکہ میں یہ کہہ رہا ہوں کہ شاہ ولی اللہ کی تحریک اور علماء کے درمیان جو رابطہ تھا وہی رابطہ ادب میں بھی موجود تھا۔

سجاد میر: معاشرے میں جتنے سوالات ہیں…
شمیم احمد: آپ کا پیدا کردہ سوال تھا جس پر میں نے …
سجاد میر: آپ میری بات سنیں …
طاہر مسعود: میرا خیال ہے بحث بہت اُلجھ گئی ہے۔

سجاد میر: جب آپ بات کر رہے تھے تو میں سن رہا تھا۔ اب آپ میری بات سنیں۔ طاہر! مجھے اپنی بات واضح کرنے دیں۔ مجھے بات دوبارہ کرنی پڑ رہی ہے۔ میں یہ کہہ رہا تھا کہ آپ جو یہ مسئلہ دوبارہ اُٹھا رہے ہیں …
شمیم احمد: (زور سے) میں نے ہرگز یہ مسئلہ نہیں اُٹھایا مسئلہ آپ نے اُٹھایا ہے۔
سجاد میر: (ناراض ہوکر) آپ مجھ پر الزام تراشی نہیں کرسکتے۔
سجادمیر: (بلندآوازمیں) طاہر مسعود سے مخاطب ہوکر آپ ٹیپ ریکارڈ نہ بنائیے مجھے اپنی بات کہنے دیں بے شک اسے بعد میں ریزکردیجیے گا۔

طاہر مسعود: شمیم بھائی آپ انہیں موقع دیجیے اپنی بات کہنے کا۔
شمیم احمد: ٹھیک ہے آپ مسئلہ بیان کریں۔
سجاد میر: مسئلے کی وضاحت یہ ہے کہ آپ نے کہا کہ میرا جی نے یہ کہا یاذات میں گھس گئے اور فلاں نے یہ کہا ہے۔
شمیم احمد:میں نے یہ ہرگز نہیں کہا ہے۔
سجاد میر: (طاہر مسعودسے) آپ ٹیپ ریکارڈ کو دوبارہ چلائیے۔

شمیم احمد: ٹھیک ہے، انہیں سنا دیجیے۔ میں یہ کہتا ہوں کہ یہ روایت جسے آپ اُٹھا رہے ہیں۔ سب سے زیادہ تخلیقی عمل کواہمیت دیتی ہے، معاشرے میں جوقدریں میرا جی اس سے کیوں نہیں کوشچن کرتے ہیں۔ اس سے ربط کیوں نہیں پیدا کرتے ہیں۔
سجاد میر: مجھے جواب دینے کی اجازت ہے؟
شمیم احمد: جی ہاں بالکل۔
سجاد میر: اس کا جواب یہ ہے کہ آپ نئی نظم اور پورا آدمی پڑھ لیجیے۔
شمیم احمد: میں اس سے اتفاق نہیں کرتا۔
سجاد میر: آپ اس سے اتفاق نہیں کرتے ہیں نا…!
شمیم احمد: آپ اپنے سوال ہی کے اندر جواب تلاش کریں۔

طاہر مسعود: میراخیال ہے کہ آپ نے گفتگو کردی کہ نئی نظم اور پورا آدمی پڑھ لیجیے۔ اب جنہیں اس سوال کا جواب جاننے سے دلچسپی ہوگی۔ وہ پڑھ لیں گے بہتر ہے کہ ہم اپنے اصل موضوع کی طرف لوٹیں۔

سجادمیر: نہیں ابھی میں نے گفتگو نہیں کی ہے۔ پہلے آپ گفتگو سن لیجیے۔ جس بات سے پورا معاشرہ ڈرتاہے وہ یہ ہے کہ لٹریچرمعاشرے کی جن برائیوںکو بیان کرتا ہے اس پر آپ چیخ اُٹھتے ہیں کہ یہ ہماری تعدادکوتوڑ رہا ہے۔

شمیم احمد:کون چیختا ہے؟

سجادمیر: آپ گفتگو کرنے دیجیے۔ آپ چیختے ہیں کہ لٹریچر ہماری اقدار کو توڑرہا ہے۔ میراجی یا منٹو نے جو باتیں بیان کی تھیں اس پر انہیں مطعون کیا گیا، کیا وہی برائیاں معاشرے میں اب پیدا نہیں ہوگئی ہیں۔ مقدمہ آپ منٹو اورلارنس پرچلاتے ہیں اور فحش ادب کے گٹر کے گٹر پی جاتے ہیں۔ میرا کہنا ہے کہ میرا جی اور منٹو نے جو کچھ بیان کیا وہ معاشرے میں پہلے سے موجود تھا اورآپ کا کہنا ہے کہ وہ موجود نہیں تھا۔

شمیم احمد: دیکھیے آپ نے پھر الزام لگادیا۔ میں نے اپنی تقریر میں کہیں یہ نہیں کہا ہے کہ موجود نہیں تھا۔ میں نے بھائی صاحب کے حوالے سے کہا ہے کہ وہ ذہنی فضا موجود ہے۔ اور میں تائید کرتاہوں کہ ادیب ان مسائل کو نظرانداز نہیں کرسکتا۔

سجاد میر: بس؟
شمیم احمد: بس نہیں۔ بس ہی تو نہیں ہے، آپ ہمیشہ بس کر دیتے ہیں۔
سجاد میر: جی! جی!!
شمیم احمد: مسئلہ یہ ہے کہ جس معاشرے میں وہ زندہ ہے اس میں کچھ بنیادی اقدار موجود ہیں جس کا رونا آپ دینی اقدارکے حوالے سے روتے ہیں وہ آپ کو کہاں ادب میں نظر آتا ہے۔
(یہاںپر پہنچ کر ہر دوحضرات میں اتنے زور و شور سے بحث چھڑ جاتی ہے کہ کان پڑی آواز نہیں سنائی دیتی)۔

ابن الحسن: آپ نے ایک بڑا اچھا نام لیا منٹو کا اس کی وجہ یہ ہے کہ منٹو پاکستان سے پہلے کا آدمی تھا۔ اس نے فسادات پر جس طرح سے لکھا اور جس طرح سے رویا وہ آپ سب کو معلوم ہے۔ سب سے اہم بات جو منٹو کے ساتھ تھی، وہ اس کا سبجیکٹ ہے۔ خواہ اس نے جنسیات کا سبجیکٹ لیا ہو یا کوئی اور یا اس نے کسی شخصیت پر بھپتی کسی ہو۔ اس کی جو انسانی اور معاشرتی تہذیب تھی اس میں اس نے ہر چیز کو سموکر پیش کیا تھا۔ ۱۹۳۶ء سے ۱۹۴۰ء کے درمیان جتنے ادیب آئے تھے۔ انہوں نے مغرب کی طرف دیکھنے کی تو کوشش کی تھی۔ لیکن معاشرے سے کٹے نہیں تھے۔ ادیب سے پاکستان بننے کے بعد ملک کے مسائل کو سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے۔

سلیم احمد: دو مختصر سی باتیں کہنا چاہتا ہوں۔ ایک بات یہ کہی گئی ہے کہ سیکولارائزیشن آف ویلیوز ہوا تو میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ کام ادیبوں نے کیا؟ کیا یہ پورے معاشرے کی صورتِ حال کا حصہ نہیں ہے۔ دوسرا سوال شمیم احمد صاحب سے ہے کہ وہ اکائی اگر ٹوٹ گئی تو کیا ادیبوں نے توڑی؟ اور اگر ہم ٹوٹی ہوئی صورتِ حال میں ہیں اور ہم ایک ایسی صورتِ حال میں ہیں جس میں اقدار ٹوٹ پھوٹ گئی ہیں تو یہ ادیب کا پیدا کردہ نہیں ہے۔ بلکہ ادیب اس صورتِ حال کا حصہ ہے۔ ادیب سے یہ سمجھنا کہ وہ چھومنتر کرکے معاشرے کی قلب ماہیت کردے گا…!

اور اس معاشرے کو شاہ ولی اللہ کا معاشرہ بنادے گا۔ تو یہ ادیب سے ایک ایسی ڈیمانڈ ہے جو حیرت انگیز ہے۔ ادیب کا کام یہ ہے کہ وہ جس صورتِ حال میں ہے اور اس کا جو انفرادی کیریکٹر ہے اور ساتھ ہی جو تخلیقی صلاحیت و اہلیت غرض کہ یہ تین چیزیں ملاکر وہ ادب پیداکرے۔ اگر میں اپنی سچوئیشن سے بے نیاز ہوکرحافظؔ جیسا ادب پیدا کرنے لگوں تو یہ جھوٹا ادب ہوگا۔ میں تو روایتی شاعر ہونے کی گالیاں سنتے سنتے بوڑھا ہوگیا ہوں۔ مجھ سے جدیدیت کی بات کیا کرتے ہیں۔ میں نے تو اس روایت کو زندہ کرنا چاہا جسے سرسید اور حالیؔ نے ردکردیاتھا۔ یعنی لکھنوی شاعری اور وہاں سے سوداؔ تک چلا گیا۔ لیکن مجھے معلوم ہوا کہ یہ Irreleventشاعری ہوگی۔ معاشرے سے کٹی ہوئی شاعری ہوگی۔ یہی وہ سوال تھا جو میں نے عسکری صاحب سے کیا تھا اور انہوں نے جواب دیا تھا کہ ایک غیر روایتی معاشرے میں روایتی شاعری نہیں ہوسکتی۔ جس پر میں نے ان سے کہا تھاتو پھرآپ مجھ سے روایتی شاعری کیوں کرانا چاہتے ہیں؟ اس کا انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ یہ جواب ان پر واجب تھا۔

شمیم احمد: میں یہ کہتا ہوں کہ کیا ایک ایسے معاشرے میں جس کی اقدار اب تک زندہ ہیں اورجس پرآپ پاکستان اور اسلام کے حوالے سے گفتگو کرتے ہیں۔ کیا تخلیقی عمل میں وہ محرکات اب باقی نہیں رہے۔

سلیم احمد: شمیم احمد صاحب نے مجھ سے ایک دفعہ اور کہا تھا کہ آپ کالموں میں اور زبانی گفتگو میں تواقدار کی باتیں کرتے ہیں لیکن جب تخلیقی ادب لکھنے بیٹھتے ہیں تواس کا دامن چھوڑدیتے ہیں…

شمیم احمد: (بات کاٹ کر) میں ذاتی حوالے سے کوئی بات نہیں کہہ رہا ہوں… میں نے اپنے مضمون میں …

سلیم احمد: (ناراض ہوکر) جب تم بات کر رہے ہوتے ہو تو ہم سنتے ہیں جب ہم گفتگو کریں تب تم بھی تو سنو۔ مجھے جواب تو دینے دو۔

شمیم احمد: چلیں ٹھیک ہے آپ بات کریں۔

سلیم احمد: قصہ یہ ہے کہ اخلاقی اور اقداری اعتبار سے عقلی فارمولیشن بہت آسان کام ہے جب میں اپنے مضامین میں اس بات کو بیان کرتا ہوں تو اس میں میرا تعقل کام کرتا ہے لیکن اس عہد میں میرا جسم زندہ ہے۔ اس سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ میرے اردگرد ٹیلی ویژن ہے، ریڈیو ہے۔ میرا جسم عہدِ جدید میں زندہ ہے۔

شمیم احمد: میں نے ایک مضمون لکھا ہے اور اس میں سلیم احمد صاحب کا نام لے کر لکھا ہے کہ سلیم احمدصاحب جن اقدارکی اور اکائی کی بات کرتے ہیں وہ ہمارے قدیم ادبیات سے تعلق رکھتی ہیں لیکن جب وہ ادبی طور پر ان کا تجزیہ کرتے ہیں اور میراؔجی کے حوالے سے نظم لکھتے ہیں تو اس کے تقاضے تو معلوم ہوجاتے ہیں لیکن یہ معلوم نہیں ہوتا کہ میرؔ کے حوالے سے جو چیز سلیم احمد کے پاس پہنچی ہے وہ کیا ہے؟

احمد جاوید: ایک سوال میں سلیم بھائی سے کروں گا کہ جو جسم آپ کا زندگی بسر کرتا ہے کیا وہی آپ کے تخلیقی عمل کا موضوع ہے کیا آپ کی تعقلاتی زندگی آپ کے تخلیقی عمل کا موضوع نہیں ہے۔

سلیم احمد: میں تو یہ نظریہ رکھتا ہوں کہ آپ جوجنسیات کی جذبات کی جبلتوں کی زندگی بسر کرتے ہیں اور جو تعقل کرتے ہیں یہ دونوںایک کل بناتے ہیں ان دونوں کے ملاپ سے ادب تخلیق ہوتا ہے اور جب یہ ٹوٹ جاتا ہے تو کسری ادب پیدا ہوتا ہے یعنی صرف حسیاتی ادب صرف جبلی ادب پیدا ہوتا ہے اسی کی وجہ سے تضاد پیدا ہوتا ہے لیکن اگر آپ کا Whole in Anگم ہوگیا ہے تو میں اپنے وجود میں اس کے احیاء کی جنگ لڑا رہا ہوں۔ تو یہ آسان نہیں ہے۔

ابن الحسن: ہم قرآن کے حوالے سے بہت سی باتیں کرتے ہیں تو قرآن میں بھی شاعروں کے بارے میں ایک سورت آئی ہے۔ اور کہا گیا کہ یہ لوگ جو کچھ کہتے ہیں، کرتے نہیں ہیں۔

معاشرے میں ادیب کی تخلیق اور ذاتی تجربات سے ایک گرمی اورتحریک پیدا ہوتی ہے۔ اس لیے معاشرے کی ادبی ضروریات کا سراغ لگانا چاہیےؒ۔ کیوں کہ اسی طرح سے ادیب کے فن میں سچائی اور زندگی پیدا ہوسکتی ہے۔ اور وہ معاشرے کو اون کرسکتا ہے۔ اور یہیں سے وہ بات آتی ہے کہ جو تم کہتے ہو وہ کرتے بھی ہو۔ یعنی تمہیں اس کا ذاتی تجربہ ہے۔ جس کو تم بیان کررہے ہو۔

سلیم احمد: جہاں ایک دیانتدار، حلال، اور ادیب کا کام معاشرے کو اون کرنا ہے وہاں بعض حالات میں معاشرے کو ڈس اون کرنا بھی ہے۔ میں ایک کرپٹ معاشرے پر تھوکتا ہوں۔ ایک منافق اور کرپٹ معاشرے کو اگر میں رد کرتا ہوں تومیری زندگی کیا بنے گی۔ آپ اس کا اندازہ لگالیں۔

متین الرحمن مرتضیٰ: جو گفتگو ہوئی اس سے میرا تاثر یہ ہے اور ممکن ہے یہ غلط ہو کہ ادیب معاشرے کا حصہ ہے، ادیب معاشرے کے حصار میں بند ہے۔ معاشرے کا اسپیکٹ ادیب پر ہے اور ادیب سے یہ توقع کرنا کہ وہ معاشرہ پر کوئی اسپیکٹ ڈالے، بعید از قیاس بات ہے۔ ادیب معاشرے کو رد کردے گا لیکن اسے بدلنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ اس کو ہم بے حسی کہہ رہے ہیں۔

سجادمیر: آپ ساری بحث دوبارہ شروع کرائیں گے۔

متین الرحمن مرتضیٰ: مجھے ایک بات وضاحتاً کہنا ہے ڈاکٹر جمیل جالبی صاحب نے اپنی گفتگو میں کہا کہ اخبار کے ادبی صفحات نے ادیب کی مٹی پلید کردی۔ ادیبوں کو گلہ تھا کہ اخبارات کھلاڑیوں اورگویوں کو اچھال رہے ہیں اور ادیبوں کو نظرانداز کررکھا ہے۔ ادبی رسائل کی اشاعت محدود ہوچکی تھی اس لیے اخبارات نے سوچا کہ معاشرے کے ایک معزز رکن کی حیثیت سے ادیبوں کو بھی ایک باعزت فورم ملنا چاہیے۔ لہٰذا ادبی صفحات نکلے، ان میں ادیبوں سے لکھوایا گیا لیکن اگر ادیب انٹرویو اورتبصرے میں اپنی سطح نیچے لے آئیں تو اس میں دوش صحافیوں کا نہیں ہے۔

آپ ادیب آپس میں لڑلڑ کر جس قسم کا امیج پیش کرتے ہیں اس کی ذمہ داری آپ پر ہے آپ اخبارات پر یہ الزام نہیں لگائیے کہ ادیبوں کو انہوں نے نظرانداز کر رکھا ہے۔

طاہر مسعود: سلیم بھائی ایک بات یہ سوچنے کی ہے کہ روس میں ڈکٹیٹرشپ ہے لیکن وہاں کے ادیبوں نے اس جبر کے نظام کے خلاف لڑائی لڑی، کسی نے وہاں سے نکل کر ڈاکٹر ژواگولکھا اور کسی نے ’’کینسروارڈ‘‘ لکھا اسی طرح جب فرانس اورالجزائر میں جنگ ہوئی تو سارتر نے الجزائر کا ساتھ دیا۔ لیکن ہمارے ہاں جبر اور ظلم کے نظام کے خلاف ادیبوں کا سرے سے کوئی کردار ہی نہیں ہے۔

سلیم احمد: میں بتاتا ہوں، جب سارتر نے الجزائرکا ساتھ دیا تو صدر ذیگال کو مشورہ دیا گیا کہ وہ سارتر کو گرفتار کرلیں۔ جس پر ڈیگال نے کہا کہ سارترتو فرانس ہے، فرانس کو کیسے گرفتار کیا جاسکتا ہے؟ لیکن یہاں مجھے ایک معمولی کانسٹیبل آکر پکڑکر لے جائے گا پشت پر تین ڈنڈے مارے گا اور بند کر دے گا۔ آپ سمجھ رہے ہیں کہ اگر ادیب کی آواز معاشرے میں ہو کہ میں جیل جاؤں تو پورا معاشرہ اُٹھ کھڑا ہو، …تو بات ہے۔

ابن الحسن: اور یہ کبھی نہیں ہوگا کیوں کہ ادیب کی آواز عوام تک پہنچے گی ہی نہیں۔ اس لیے کہ آپ کے ہاں تعلیم کا تناسب 7فیصد ہے۔

ڈاکٹر جمیل جالبی: ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ ایک آدمی جیسے ہی تعلیم پاتا ہے اپنے معاشرے سے کٹ جاتا ہے۔

طاہر مسعود: آپ کے خیال میں قومی مسائل کو ادیب کے ایک تجربے کی حیثیت سے وسیع تہذیبی، اقتصادی، فکری اور نفسیاتی پس منظرمیں پیش کیا جائے۔ تو کیا کوئی اعلیٰ تخلیقی فن پارہ وجودمیں آسکتا ہے؟

ڈاکٹر جمیل جالبی: اصل میں تخلیقی سطح پر ان بڑے مسائل کو پیش کیاجاسکتا ہے۔ مثلاً ’’واراینڈپیس‘‘ ہے اس میں اس دور کا کون سا مسئلہ ایسا نہیں جسے پیش نہیں کیا گیا۔ لیکن بنیادی بات وہی ہے جو سلیم احمد نے کی کہ ادب کو جس سطح پرپیش کیاجا رہا ہے وہ سطح باقی رہنی چاہیے۔ اگر وہ سطح ختم ہوگئی تو وہ بس ایک تحریر ہوگی ادب نہیں ہوگا

سلیم احمد: یعنی اس تجربے سے ’’وار اینڈ پیس‘‘ لکھی جاسکتی ہے اور اسی سے ایک گھٹیا درجے کی چیز۔

سجاد میر: (ہنستے ہوئے) اچھا اب آپ اس ٹیپ ریکارڈ کوبند کردیں تاکہ ہم کھل کر گفتگو کرسکیں۔
(جسارت، ادبی ایڈیشن، ۵؍ اگست ۱۹۸۳ء)

ختم شد۔۔۔۔

دوسرا حصہ اس لنک پہ اور پہلا حصہ اس لنک پہ دیکھا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: قوم اور دانش ور ---------------- سلیم احمد
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20