قومی مسائل اور ادیب کی بے حسی — تاریخی مذاکراتی انٹرویو – 2

0

طاہر مسعود: ڈاکٹر جالبی صاحب! آپ نے اب تک کی گفتگو سنی۔ زیرِبحث موضوع اور ان سوالات کے حوالے سے آپ ان مسائل کا کیا تجزیہ کرتے ہیں؟

ڈاکٹر جمیل جالبی: آپ سب لوگوں نے زیرِبحث موضوع پر اتنی ساری باتیں کرڈالی ہیں کہ میں سوچ رہا ہوں کہ اب میں کیا کہوں؟ لیکن ایک بات میری سمجھ میں آتی ہے کہ جب دوسری جنگِ عظیم ختم ہوئی تو انگلستان میں ادیبوں اور دانشوروں کے درمیان ایک جھگڑا پیدا ہوا کہ صاحب ایک جنگ ہوئی، دوسری جنگ ہوئی تو آیا ان جنگوں کا ذمہ دار کون ہے؟ آیا ادیب اور دانشور ہیں یا سیاستدان ہیں۔ اس سلسلے میں سیاستدانوں نے اپنے دفاع میں اور ادیبوں نے اپنے دفاع میں کچھ کہا تو طے یہ پایا کہ یہ جنگ اس لیے ہوئی کہ سیاستدانوں اور حکمرانوں نے اور معاشرے کے افرادنے اپنے ادیبوں اور دانشوروں کو پڑھنا چھوڑ دیا تھا۔ اگر جیمس جوائس اور ایلیٹ کی تحریروں کو چرچل صاحب اور دوسرے حکمران پڑھ لیتے تو ان کی سوچ بدلتی اور اس کے نتیجے میں جو یہ جنگ اور قتل و غارت گری ہوئی، وہ نہ ہوتی تو ایک مسئلہ جو وہاں پیدا ہوا وہ یہاں بھی پیدا ہوا کہ جب آپ یہ سوال اُٹھا رہے ہیں کہ ادیب بے حس ہوگئے ہیں۔ اس کا ایک تجزیہ تو شمیم احمد صاحب نے پیش کیا اور بتایا کہ اس مسئلے کی جڑیں ماضی میں پیوست ہیں اور دوسرا سبب یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ادب کو ایک سنجیدہ سرگرمی کے طور پر قبول کرنا یا اختیار کرنا بند کردیا گیا، اس کے بہت سے اسباب ہیں لیکن اگر آپ اسے وسیع پس منظر میں دیکھیں تو اس کا تعلق پورے نظام سے ہے جس میں ادب کا احترام ہوتا ہے، اس کا تعلق ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے ان پروگراموں سے ہے جس میں ادب کو اہمیت دی جاتی ہے اور سیاسی، معاشی اور تمدنی مسائل پر نقطۂ نظر پیش کیا جاتا ہے جس میں عموماً ہوتا یہ ہے کہ اوپر سے ایک لائن آگئی اور اس کے مطابق ادیبوں کو پکڑ کر ان سے تقریریں کرالی گئیں، اگر اس میں دوچار جملے ایسے آگئے جسے نشر نہیں کیا جاسکتا تھا تو اسے معذرت کے ساتھ کاٹ دیا گیا۔ نتیجہ کیا ہوا کہ نام تو ٹیلی ویژن پر سلیم احمد کا آرہا ہے لیکن سلیم احمد پورے نہیں بول رہے ہیں بلکہ سلیم احمد کا وہ حصّہ بول رہا ہے، وہ کٹا ہوا حصہ جسے ایک تو ٹیلی ویژن اور اخبارات چھاپنا چاہتے ہیں اور نشر کرنا چاہتے ہیں، نتیجہ یہ ہوا کہ فکر کی وہ روایت جو معاشرے میں ادب کے حوالے سے ہونی چاہیے تھی وہ نہیں ہوئی تب ادیبوں نے کہا: ٹھیک ہے ہم دوسرے بہتر کام کریں گے کسی ادیب نے ایکسپورٹ امپورٹ کا کام کرلیا۔ کوئی مقابلے کے امتحان میں بیٹھ کر بیوروکریٹ بن گیا۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے جو میرے سامنے کا واقعہ ہے، وہ ایوب خان کے زمانے میں پاکستان رائٹرز گلڈ کے قیام کا ہے وہ کوئی الگ تھلگ چیز نہیں تھی۔ وہ اصل میں ادیبوں کو خریدنے، انہیں کرپٹ کرنے کا ایک طریقہ کار اختیار کیا گیا تھا۔ مثلاً ہم سلیم احمد، شمیم احمد اور فلاں اورفلاں تین ہٹی کے ہوٹل میں بیٹھ کر اور ایک پیسے کی چائے پی کر معلوم ہوتا تھا کہ فلک افلاک کی باتیں کر رہے ہیں۔ ہم مست اور مگن تھے تب ہمیں معلوم ہوا کہ بھئی پریس کانفرنس بھی کوئی چیز ہوتی ہے، کانفرنسوں میں شرکت کرنا بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔
ادیب کو پہلی بار اس وقت احساس ہوا کہ اچھا عہدہ حاصل کرکے شہرت کمانے کا یہ بھی ایک راستہ ہے۔ اب کوئی اس سے اتفاق کرے یا اختلاف کرے لیکن ایوب خاں کے زمانے میں سب سے بڑا اور سب سے بُرا کام یہ ہوا کہ ادیب کی جو فکر تھی اسے الگ کرکے ایک دوسرے راستے پر ڈال دیا گیا، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دس بیس سال کے بعد آپ کو محسوس ہو رہا ہے کہ اس معاشرے میں نہ کوئی سنجیدہ بات کی جا رہی ہے اور نہ سنی جا رہی ہے۔ اب مثلاً عسکری صاحب ہیں، انہوں نے اپنا کام ختم کردیا لیکن اب یہ ہمارا اور آپ کا کام ہے۔ کہ اسے پڑھیں اور سمجھیں۔ اس پر بحث کریں۔ لیکن ہم نے یہ محسوس کیا کہ اس معاشرے میں کوئی بات سنجیدگی سے کی جائے تو معاشرہ اُسے سنتا ہے اور سمجھتا ہے۔ اب آپ بہروں کے معاشرے میں کتنی دیر تک بولتے رہیں گے آپ کے ماس میڈیا کا ایک حصہ اخبار ہے۔ اخبار نے یہ فائدہ اُٹھایا کہ صاحب ادب پڑھاجا رہا ہے تو ادب کو ادب رسائل کی سطح سے اُتار کر اخبار کی سطح پر لے آیا۔ آج جب میں اخبار پرھتا ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ ادیب بھی کوئی فلم ایکٹر کی طرح ایکٹر ہے جس کا چلنا پھرنا …موضوع بنتا ہے۔ اور خبر کاموضوع ہمیشہ ابنارمل باتیں ہوتی ہیں، لہٰذا اب کوئی بات نارمل تو رہی نہیں۔ ادب کو گزشتہ چارپانچ برس میں جس طرح سے برباد کیا گیا ہے۔ اس میں آپ کے ادبی صفحوں کا بہت بڑا حصہ ہے۔ آپ کسی بھی محفل میں جائیے وہاں کبھی کسی سنجیدہ موضوع پر کسی نئی کتاب پر گفتگو نہیں ہوتی، گفتگو ہوتی تو ٹیلی ویژن کے موضوع پر یا کسی نئی چھپنے والی خبر کے بارے میں اخبار نے ساری سنجیدہ سرگرمیوں کو ختم کر دیا ہے۔ جب یہ صورتِ حال ہے تو ٹھیک ہے پھر آرام سے بیٹھے ’’ڈگڈگی‘‘ بجائیے، ہم تو بیٹھے ہیں آرام سے۔

طاہر مسعود: اب تک کی گفتگو میں قومی مسائل اور ادیب کی بے حسی کے موضوع پر سب نے اپنی اپنی رائے کا اظہار کیا ہے، میں سلیم احمد صاحب سے درخواست کروں گا کہ وہ اس ضمن میں اپنے خیالات کا اظہار کریں۔

سلیم احمد: طاہر مسعود! میں گفتگو وہاں سے شروع کروں گا جہاں سے تم نے سوال اُٹھایا ہے، اصل میں ہر سوال ایک صورتِ حال میں پیدا ہوتا ہے او راسی صورتِ حال کے اندر اس کا جواب موجود ہوتا ہے جب تک اسی صورتِ حال کو نہ سمجھ لیں اس کے جواب کا پانا ناممکن ہے۔ مثلاً میں کہوں گا کہ ایک سوال وہ تھا شمیم احمد نے جس کا حوالہ دیا، سرسید تحریک کا آپ کا ادب ایک ایسے معاشرے کا پروردہ تھا جس میں سب سے زیادہ اہمیت مابعد طبیعیاتی مسائل کو حاصل تھی چناں چہ تصوف، اخلاقیات، اقدار اور ان سے متعلق چیزیں تو معاشرے میں غالب تھیں، وہ معاشرہ جن تصورات کا اظہار کرتا تھا، وہ یہ تھا کہ انسانی زندگی ناپائیدار ہے انسان میں خودداری ہونی چاہیے۔ آپس میں محبت ہونی چاہیے۔ وغیرہ سرسید کی تحریک نے یہ سوال اٹھایا کہ مابعد الطبیعیاتی اور مسائل بے محل ہوگئے ہیں ہمارے سامنے اہم مسئلہ زندگی کی ناپائیداری کا نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ ہمیں جو زندگی دی گئی ہے۔ اسے ہم کیسے بسرکریں۔ اس کے اندر اخلاقیات سمیت ان تمام قدروں کا جو فرد اور معاشرے کے تعلق پر مبنی ہیں، ان سب کا ازسرِنو تعین کیسے کیا جائے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ یہ ساری چیزیں دو تصورات میں بٹ گئیں۔ اوّل ادب کو سوشیو پولٹیکل ہونا چاہیے۔ اسے میٹافزیکل نہیں ہونا چاہیے۔ اس ادب کا نام افادی ادب رکھا گیا وہ ادب جس سے معاشرے کو فائدہ پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ادب جو میٹافزیکل تصورات سے بحث کرتا تھا اور اسی کے لیے استعارے تلاش کرتا تھا۔ وہ سارے غیر متعلق (Irrelevent) تھے اور زندگی سے تعلق نہیں رکھتے تھے لہٰذا زندگی سے تعلق رکھنے کے معنی یہ ہوئے کہ آپ افادی ادب پیدا کریں یعنی وہ ادب جو پولٹیکل مسائل سے متعلق ہواس کے نتیجہ میں قومی، سیاسی اور افادی ادب پیدا ہونا شروع ہوا، اس کے بعد ایک وقت ایسا آیا۱۹۲۰ء میں جب چند ادیب کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ ادب افادی پہلوؤں کا بیان نہیں ہے بلکہ جمالیاتی پہلوؤں کا بیا ن ہے۔ چناں چہ آپ نے دیکھا کہ جمال پرستوں کا ایک گروپ سامنے آیا اور انہوں نے بجائے سوشیو پولیٹیکل ادب پیدا کرنے کے خیالی تخیئلی… ادب پیدا کرنا شروع کیا۔ جب یہ ادب اس طرح چھا گیا۔ جس طرح سرسید کا ادب، نیاز صاحب Myth بن گئے۔ ان کی ’’پارسی لڑکیاں‘‘، بمبئی اور پھر اختر شیرانی بھی رومانی تحریک لے کر آگئے۔ یہاں تک کہ اس کا اینٹیں تھیسیس، یہ ہوا کہ ۱۹۳۶ء میں وہ جو سوشیوپولیٹیکل مسائل پر ادب تخلیق کرنے کی تحریک سرسید نے شروع کی تھی اور اس کا ایک By Product ہوا جو گویا …بین الاقوامی نصب العین کو پیش کرنے لگا اور بین الاقوامی نصب العین کا مطلب یہ تھا کہ قوم کے بجائے عوام کی باتیں کی جائیں اور عوام کے مسائل کو انقلاب کے ذریعے حل کیا جائے۔

اس کا مقصد یہ تھا کہ افادی اصلاحی اور انقلابی ادب پیدا ہو، اس کے سوا جو ادب ہے وہ ادب نہیں ہے جب یہ تحریک فضا پر چھاگئی تو اس کے بطن سے کچھ لوگ یہ کہنے کے لیے کھڑے ہوگئے کہ صاحب کا ادب کا مطلب سوشیوپولیٹیکل مسائل کو لکھنا نہیں ہے بلکہ اپنے ذاتی آشوب کو اپنے نفسیات کے گہرے مسائل کو اور اجتماعیت کے بجائے فرد کی تقدیر کو بیان کرنا ہے۔

چناں چہ اس سے حلقہ اربابِ ذوق کی شاخ پیدا ہوئی۔ اب یہاں پر محمد حسن عسکری صاحب جو ترقی پسند تحریک میں شامل تھے۔ وہ ترقی پسندوں سے باغی ہوگئے اور اعلان کیا کہ یہ جینوئن ادب پیدا کرنے کے بجائے ایک منشوری ادب پیدا کر رہے ہیں۔ اور یہ نظریہ بازی پر منتج ہے۔ حالاں کہ ادب کو نظریے پر نہیں تجربے پر قائم ہونا چاہیے۔ انہوں نے ترقی پسندوں سے لڑائی لڑی کہ تم جو یہ کہتے ہو کہ معاشرے کی ذمہ داری تم پر ہے تو ادیب معاشرے کی کوئی ذمہ داری نہیں۔ ادیب کی شخصیت کے دو پہلو ہیں۔ ایک شہری کی حیثیت سے، ایک فنکار کی حیثیت سے، شہری کی حیثیت سے اس پر پوری ذمہ داری قوم و ملت کی ہے، جب جنگ ہوگی تو محاذ پر میں جاؤں گا۔ خندقیں کھو دوںگا۔ پانی پہنچاؤں گا جو فرائض معاشرہ سپرد کرے گا تو اسے ادا کروں گا۔ لیکن جب ادیب کی حیثیت سے بات کروں گا تو ساری چیزیں Irrelevent ہیں۔ پھر میں ہوں اور میرا تخلیقی پروسس ہے۔

ترقی پسندوں نے اس خیال کی مخالفت کی لیکن رفتہ رفتہ وہ ادیب پیدا ہوگئے جو ترقی پسندوں کے ردِّعمل سے پیدا ہوئے تھے۔ وہ ادیب اب تک چل رہے ہیں۔ جب آپ کہتے ہیں کہ ادیب فانی آشوب لکھ رہے ہیںؒ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ترقی پسندی کی اجتماعیت پرستی سے اپنا رشتہ کاٹا تھا۔ اور اپنا رشتہ راشدؔ، میراؔجی، اور میرؔ سے ملاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا کام پولیٹیکل ایجنٹیٹر کا نہیں ہے۔ معاشرے کی اصلاح کا نہیں ہے۔ ہم نذیر احمد اور حالیؔ نہیں ہیں کہ ’’اے ماؤ، بہنوں، بیٹیوں‘‘ کریں، ہم ترقی پسند نہیں ہیں کہ جو انقلاب انقلاب کے نعرے لگائیں۔ ہم ادیب ہیں اور ہمارا کام یہ ہے کہ فرد کے انفرادی تجربے کو بیان کریں۔ میں سمجھتا ہوں کہ میں اس گروپ میں شامل رہا ہوں کہ وہ چیز جس کا معاشرہ پولیٹیکل پارٹی یا حکومت مطالبہ کرنے لگے۔ اور کہنے لگے کہ ادب یہ ہوتا ہے اور ادب وہ نہیںہوتا اور تم پارٹی کی لائن پر لکھو گے۔ ریاست کے مسائل پر لکھو گے اور اگر ذاتی مسائل پر لکھو گے تو تمہارا ادیب جنیوئن نہیں ہوگا اور سچا ادب نہیں ہوگا۔ اور ہم اسے یہ کہتے تھے کہ صاحب ہم لکھیں گے وہ جو ہمارے تخلیقی تجربے کا حصہ ہوگا۔ اور وہ جو تخلیقی تجربے کے بغیر ہے اور کسی ڈیمانڈپر ہے اسے ہم نہیں لکھیں گے۔

آپ نے یہ دیکھا کہ ایک گروہ وہ تھا جو سرسید گروپ میں شامل تھا اور ترقی پسند تحریک میں بھی شامل تھا اور کہتا تھا کہ ہمارے نظریے اور خیال کے مطابق ہماری، تعریف ادب کے مطابق جو تخلیق نہیں کر رہا ہے وہ ادیب ہی نہیں ہے۔ یعنی اگر ادیب ترقی پسند نہیں ہے تو ادیب نہیں ہے۔ اس کے جواب میں دوسرا گروہ وہ پیدا ہوا جس کا تصور یہ تھا کہ اگر کوئی ادیب مقصدی، اخلاقی اور افادی ادب تخلیق کر رہا ہے۔ تو وہ ادیب نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ذاتی تجربے کے بجائے نظریے سے لکھ رہا ہے۔ ہمارا تعلق اسی گروہ سے تھا جو کہہ رہا تھا کہ افادی اور ذاتی ادب بھی جنیوئن ہوسکتا ہے۔ اگر وہ تخلیقی عمل کا حصہ ہو۔ لہٰذا ہم میرا جی کو بھی مانتے ہیں اور اقبال کو بھی جانتے ہیں اور فیض کو بھی۔ آپ کے سوال میں ادب کے اس تخلیقی طریقہ کار کی طرف کوئی واضح اشارہ نہیں ہے اصل سوال تو یہ ہے کہ ادب کی ماہیت کیا ہے؟ ادب پیدا کیسے ہوتا ہے۔

سجاد میر: جی ہاں، میں نے اپنی گفتگو میں سب سے پہلے اس جانب اشارہ کیا تھا۔

سلیم احمد: جب تک آپ ادب کی ماہیت کا یقین نہیں کرلیں گے سارے سوالات بے معنی رہیں گے۔ اس کے چھوٹے اور گھٹیا پرابلم ہیں جو بعد میں پیدا ہوتے ہیں۔ وہ یہ ہیں کہ گویا قوم یہ کہے کہ ادیب بے حس ہیں اور قومی معاملات میں حصہ نہیں لیتے اور ادیب کہیں کہ یہ قوم ہی چپڑ قنات ہے۔ یہ ادیبوں کو کیا جانے؟ اس نے ادیبوں کو کیا دے دیا ہے۔ اس نے کھلاڑیوں، طوائفوں اور فلم ایکٹروں کو جو کچھ دے دیا ہے وہ کسی ادیب کو دیا ہے۔ شہرت میں، عزت میں، دولت میں، یہ اس کے چھوٹے مسائل ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ادب مقصدی ہو یا غیر مقصدی، جب تک معاشرہ اس کے تخلیقی عمل کو نہیں سمجھ لے گا۔ اس وقت تک ادب کے نام پر غیرادب پیدا ہوتا رہے گا۔ ایک مسئلہ میں آپ کے سامنے اور رکھتا ہوں جس کا ذکر جمیل جالبی صاحب نے کیا، وہ یہ ہے کہ ٹیلی ویژن ہو یا ریڈیو، میں سمجھتا ہوں کہ ایک ایسے کلچرل موڑ پر جس میں ہم ہیں اس میں کیاآپ یہ سمجھتے ہیں کہ سارے ذرائع ابلاغ عامہ اور ساری وہ چیزیں جو عوام میں پاپولر ہوتی ہیں کیا وہ سب اپنے کلچر کی بلند ترین سطح سے گر کر اپنی پست ترین سطح پر نہیں اُترآئی ہیں؟ اگر وہ پست ترین سطح پر اتر آئی ہیں تو ادیب اس سے بچ کیسے سکتا ہے۔ کلچر تو سمندر کی مچھلی ہے اور اسی میں تیرے گی۔ ادیب پیشے کے لیے نام وری کے لیے، سوشل اسٹیٹس کے لیے کیوں نہ کریں جو آپ کا معاشرہ کررہا ہے…سب کا تو روک سکتے ہیں لیکن ادیب کو کچھ کرنے سے روک نہیں سکتے، اسے آپ نہیں کرسکتے اس سے گویا احمد جاوید کامسئلہ پیدا ہوا کہ وہ قدر جو ادیب کو ادیب بناتی ہے، جب وہ معاشرے میں ٹوٹ جائے تو کسی بڑے سے بڑے ادیب کہ بس کی بات نہیں رہتی کہ وہ اس قدر پر قائم رہ سکتے۔ یا اسے Re-Create کرسکے وہ اس کی حدوں سے باہر نکل جاتی ہے۔ یہ اس کلچر سے، جس میںکلچر اعلیٰ سطحوں سے گر کر پست ترین سطح پر آجاتی ہے، یہ کلچر حسی ترغیبات کا حسی لغات کا، حسی سنسنیوں کا، حسی دلچسپیوں کامظہر ہے۔ اس کلچر میں کھلاڑیوں کو، باکسروں، فوٹو گرافر کو اہمیت ملتی رہے۔ اس میں ذہنی کام کرنے والوں کو اہمیت نہیں ملتی۔

جب آپ ماس کلچر کا حصہ ہیں تو یہاں سے آپ کا سوال Re-Define ہوگا۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ اس صورت احوال کے اندر رہ کر سوال کریں۔ یعنی آپ اس کو تو تسلیم کرلیں کہ ہم اپنے میٹا فزیکل معاشرے سے سرسید کے معاشرے میں داخل ہوئے سرسید کے معاشرے سے ۲۰ء کے معاشرے میں داخل ہوئے۔ ۲۰ء کے معاشرے سے ۳۶ء کے معاشرے میں داخل ہوئے۔ پھر ہم ۴۷ء کے بعد جدید معاشرے میں داخل ہوئے۔ اس معاشرے کی مخصوص نوعیت کیا ہے، اس میں ادیب کیا کرسکتا ہے؟ فرض کیجیے میں اس معاشرے میں شریک نہیں ہونا چاہتا۔ میں اپنے بچوں کا پیٹ کیسے پالوں؟ یہ بڑا سخت مسئلہ ہے۔ میں گوشہ نشین ہوجاؤںتو نہ ریڈیو سے میرا نام نشر ہوگا نہ اخبار میں آئے گا۔ میرا مجموعہ بھی نہیں آئے گا اور میں گم نام مرجاؤںگا۔ اس صورتِ حال میں آپ کو اپنا سوال Re-Define کرنا ہوگا۔

سجادمیر: جو سوال میں نے شروع میں اٹھایا تھا جسے شمیم صاحب نے کہا کہ یہ ایک ضمنی سوال ہے، میری اس بات کو آپ نے تفصیل اور وضاحت سے بیان کیا۔ اب میں اپنی بات پر سیدھی طرح سے آتا ہوں۔ کیوں کہ بحث کافی ہوچکی ہے۔ (بیٹھے بیٹھے) اب یہی دیکھیے کہ ادب کی ہمارے سامنے دو تعریفیں بیان ہوئی ہیں۔ جن میں ایک شمیم بھائی نے بیان کی جس میں شاہ ولی اللہ آئے، دیوبند ہند آیا۔ سرسید کی تحریک کا ذکر ہوا۔ میرؔنہیں آئے، غالبؔ نہیں آئے، تخلیقی ادب لکھنے والوں کی پوری تاریخ کا ذکرنہیں آیا۔ دانشور اور ادیب کو انہوں نے ایک حقیقی ادیب میں اور ایک …
دیکھے یہ میر مسئلہ یہ ہے کہ شاہ ولی اللہ جو لکھتے ہیں اسے آپ تخلیقی سطح پر ادب کے فارم میں بیان کرسکتے ہیں یا نہیں۔

سلیم احمد: یہ ایک بنیادی رق ہے ایک ادیب میں اور ایک انٹلکیچوئیل میں اور دانش ور میں۔

ساجد میر: جی ہاں، شمیم احمد صاحب، سلیم بھائی یا میں اس کو مضمون میں لکھ دیتے ہیں، لیکن غزل میں یا افسانے میں ادا نہیں کرپاتے تو یہ ایک مختلف ایشوع ہوسکتا ہے۔ پھر مسئلہ ہوسکتا ہے کہ ہمارے دانشورنے اس طرح کیوں سوچا۔ اس طرح کیوں نہ سوچا۔ اس میں آپ فلسفی کوسوشل سائنسٹسٹ اور مذہبی آدمی کو شامل کرلیں۔ لیکن ایسا کرنے میں آپ ادیب کو بحیثیت ادیب ختم کردیں گے اوراس سے وہ بے حسی پیداہوگی آپ کہہ رہے ہیں کہ قومی معاملات میں سرسیّداور حالی نے Contribute کیا۔

اور سلیم بھائی کہہ رہے ہیں اس سے مسائل پیدا ہوئے یہ میں اپنے آپ کو Associate کر رہا ہوں۔ اس پوری بحث کیساتھ جو سلیم بھائی نے کی ہم ادیب کی بے حسی کا جو سوال پیدا کرتے ہیں تو سب سے پہلے جو مسئلہ اُٹھتا ہے، آپ ادب کے ذریعے کہنا کیا چاہتے ہیں؟ کیا آپ قومی معاملات پرلکھنا چاہتے ہیں؟ یا آپ مذہبی معاملات پر اپنی رائے دیناچاہتے ہیں؟

آپ ترقی پسند تحریک کے میری طرح مخالف ہیں تو ان کے رجحان کی تو آپ مذمت کرتے ہیں لیکن وہی انتہا پسندی وہی نظریہ سازی، وہی سوشیوپولیٹیکل ادب پیدا کرنے کی خواہش کسی ایسے ادبی گروہ میں پیداہوجائے جو نظریاتی لحاظ سے بہت مضبوط ہو، یعنی جس کا اسلام، نظریۂ پاکستان کا ہم سب کے خیالات سے بہت اچھا تعلق ہو تو کیا وہ ادب پیدا کرسکتے ہیں۔ میں نام لیتا ہوں، معاف کیجیے متین صاحب اورطاہر مسعود صاحب، کیا ماہر القادری صاحب اورنعیم صدیقی صاحب بڑے ادیب ہیں؟ آپ کے اخبار پڑھنے والے بھی فیض کو پڑھتے اور داددیتے ہیں۔ یعنی یہ سوچنے کا مسئلہ ہے کہ جب ادب کا مسئلہ آتاہے تو نظریہ پہلے آتا ہے یا بعد میں آتا ہے۔ جب تک آپ بڑے ظالمانہ طریقے سے اس کا تجزیہ نہیں کریںگے اور جب تک آپ نہیں مان لیں گے کہ تخلیقی عمل نظریے سے بلند ہے اس وقت تک آپ حقیقت کی تہہ تک نہیں پہنچ سکتے ہیں۔

سلیم احمد: تخلیقی عمل سارے مقاصد سے، سارے فکشن سے ساری چیزوں سے بلند ہے۔

ابن الحسن: میرے کہنے کا مقصد یہ نہیں تھااور نہ ہی میں ادب میں کسی منصوبہ بندی کا ذکر کر رہاتھا۔ اور نہ ہی میں یہ کہہ رہا تھا کہ ادیبوں نے ہماری سیاسی زندگی کو کیوں بہتر نہیں بنایا، یا ہماری معاشی زندگی کو کیوں استحکام نہیں پہنچایا۔ کہنے کی بات یہ تھی کہ ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی میں کچھ مدارات ہیں اس میں کچھ ہمارا مزاج ہے، ہمارے معاشرے کا کچھ اپنا خمیر ہے۔ اس کے مطابق ہمارے معاشرے کی تشکیل ہوتی تھی۔ معاشرے میں جو انحطاط آیا وہ بتدریج آیا۔ یہ تو ہوا نہیں کہ مثلاً ۱۹۴۷ء میںجیسے ہی پاکستان بنا ساری اقدار مٹ گئیںاورادیب ان سے کٹ گیا۔
پاکستان جو بنا تھا وہ شعوری کوشش سے بنا تھا، ادیب اور عالم ان دو کا آپس میں علم اور تخلیق کے ناتے سے بڑا گہرا تعلق ہے وہ لوگوں کی تربیت کرتا ہے، پاکستان کو جو ادبی ورثہ ملا، اس وقت سیکولرائزیشن آف سوسائٹی اس پورے برصغیر میں برطانیہ کے ہاتھوں مکمل ہوچکا تھا، دوسری جنگِ عظیم نے مغربی طریقۂ زندگی کو اس طرح ہماری زندگی میں دخیل کردیاتھا کہ ہمارے اعتقادات، نظریات اور اپنے دین کے سلسلے میں ہمارے اندر ایک بُعد اور اجنبیت سی آگئی تھی اور آپ معذرت خواہ ہوگئے۔ نتیجے میں آپ اچھا ادب اچھی تخلیق اسے کہتے تھے جن کا ناتا ان چیزوں سے ہوجوآپ کے ملک سے باہر ہیں، چاہے آپ سمجھتے بھی نہ ہوں۔ ادیبوں نے اپنے آپ کو اپنی ضروریات سے بلند کیا اور سمجھنے لگے کہ ہماری ضروریات بین اقوامی ہیں۔ ہماری اپنی کوئی قومی ضروریات نہیں ہیں۔ آپ کا محلہ، آپ کا شہر، آپ کا معاشرہ بے معنی ہوگئے۔ اور وہ معاشرہ اہم ہوگیاجس میں ایلیٹ رہتا تھا۔ آپ تو اس جگہ پہنچ گئے تھے جہاں ولیم بولی میکنز اور اسٹیفن اسپینڈر کی باتیں کرتے تھے۔ آج پتہ چل گیا کہ وہ نچلے درجے کے ادیب تھے۔ لیکن وہ چلتی ہوئی چیز تھے۔ اس لیے سب اس کی باتیں کرتے تھے۔

میں یہ عرض کر رہا تھا کہ ادیب نے اپنے معاشرے سے اپنے آپ کو کاٹا، پاکستان بننے سے پہلے جو ادیب تھے انہوں نے تخلیقی ادب تو لکھا۔ شمیم احمد صاحب نے شاہ ولی اللہ کا ذکر ے صل میں ان تحریکوں کا ذکر کیا جن کا ادب پر اور لوگوں پر اثر پڑ رہا تھا۔

سجادمیر: ابن الحسن صاحب! یہ عجیب بات ہے کہ تحریکروں کا اثر آپ ادب پر ڈال رہے ہیں۔ لیکن ادب کا جواثر تحریکوں پر پڑتا ہے انہیں آپ نظرانداز کررہے ہیں۔ ایک زمانہ تھا ہم ادیبوں کے بارے میں کہتے تھے کہ وہ فکر اور سوچ کو بدل دیتے ہیں۔ وہ سیاست اور نظریے کی انگلی پکڑ کر نہیں چلتے۔ بلکہ دوسرے لوگ ان کا پیچھا کرتے ہیں۔ شیکسپیئر کو پڑھ کر فرائڈ نظریہ نکالتا ہے۔

ابن الحسن: یہ الگ بات ہے کہ آج شیکسپیئر کی کس طرح تفیہم کی جاتی ہے لیکن شیکسپیئر کا سارا ادب بنیادی اور اٹل اقدار کے متعلق ہے۔ شیکسپیئر سچائی، دیانتداری، زندگی اور مذہب کی بات کرتا ہے۔

سجادمیر: آپ نے ان ساری چیزوں کے نام گنوادیے جن کی شیکسپیئر بات کرتا ہے لیکن وہ لٹریچر نہیں ہوگا۔
ابن الحسن: لٹریچرکے معیار کا تعیّن تو اس کی Creationکے Statusکے حساب سے ہوگا مثلاً ملٹن کی ایگروپٹیجی کا لٹریچر بھی لٹریچرہوگا حالاں کہ سو فیصد سیاسی لٹریچر ہے۔
سجادمیر: میں کہناچاہتا ہوں…
ابن الحسن: دیکھیے اصل مسئلہ …
سجادمیر: جی نہیں، شیکسپیئر…
ابن الحسن: میں سمجھتا ہوں کہ …
(تیز تیز گفتگو کے شور میں کچھ سنائی نہیں دیتا)

سجاد میر: شیکسپیئر میں جتنی باتیں بیان کی جاتی ہیں مثلاً اخلاقیات یا دوسرے موضوعات، یہ اس کے لٹریچر کی قدروقیمت کو ظاہر کرتی ہیں لیکن اس کے لٹریچر ہونے کا فیصلہ قطعی طور پر ادبی بنیادوںپر ہوگا۔ آپ ایلیٹ کی باتیںکر رہے ہیں تو بتائیے کہ ’’ویسٹ لینڈ‘‘ کس نے لکھی ہمارے ہاں دیکھیے کتنے بڑے بڑے سانحے ہوگئے لیکن ہمارے ادیب اتنے بے حس ہوگئے کہ ان میں سے کوئی ’’ویسٹ لینڈ‘‘ نہیں لکھ سکا۔

سلیم احمد: سجادمیر! تم نے بنیادی بات کہہ دی۔ ہمارا اقبال سے بنیادی اختلاف کیا ہے؟ وہ ساری باتیں اسلام کی اقدار کی فرد کی، فلاں کی ڈھمک کی اس لیے درست ہیں کہ اقبال پہلے شاعر ہیں۔

لیکن اگر اقبال شاعر نہیں ہے تو کسی چیز کے کوئی معنی نہیں ہیں۔ اگر یہی باتیں نعیم صدیقی، اسدملتانی کہیں تو ان کے کوئی معنی نہیں ہیں۔ دوسری بات یہ ہے اوروہ بات میں اپنے ابّن بھائی (میجر ابن الحسن) سے کہوں گا کہ آپ نے کہا کہ قومی مسائل سے ادیب کا کوئی تعلق نہیں رہا بلکہ پیرس اور لندن سے اورنیویارک سے تعلق قائم ہوگیا۔ آپ نے ایک بہت پرانا اعتراض سنا ہوگا جو سرسید کی تحریک کے وقت سے دہرایا جا رہا ہے کہ اردو شعر وادب کا کوئی تعلق ہندوستان سے نہیں ہے بلکہ سارے کا سارا ایران سے آیا ہوا ہے۔ تو پتہ کیا ہوا؟ پتہ یہ ہوا کہ ایک تو ہم جسمانی طورپر وجود رکھتے ہیں اور دوسری زندگی ہماری ذہنی ہوتی ہے۔

سجاد میر: جی ہاں! ایک زمین ہوتی ہے اور ایک آسمان ہوتا ہے۔

سلیم احمد: جب ہم ذہنی طور پر ایران میں رہتے تھے توایران کا گلاب، ایران کا بلبل ہماری شاعری کا موضوع تھا۔ لیکن اب ہم ذہنی طور پر امریکہ اور لندن اور پیرس میں رہتے ہیں تو گویا ایک طرح سے ہماری ذہنی زندگی ہمارے ادب میں منعکس ہو رہی ہے۔ آپ کہہ رہے ہیں کہ ادب میں ایلیٹ آگیا۔ (جمیل جالبی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے)۔ ایلیٹ کا ترجمہ کرنے والے تو یہ بیٹھے ہوئے ہیں۔ دن رات ایلیٹ، ایلیٹ، ایلیٹ کا، ڈی ایچ لارنس کا، آؤن کا، ایمرسن کا مجھ پرایک قرض ہے اور وہ قرض ادا کیے بغیر اگر میں یہ کہوں کہ میں صرف بُلھے شاہ کی یا بابافریدکی بات کروں گا اور آج سے ولکےؔ اور شیکسپیئر کا نام لینا چھوڑ دوںگا۔ تو ڈاکٹر جمیل جالبی صاحب! ہماری ذہنی تعمیر میں ان لوگوں کا کنٹری بیوشن شاہ ولی اللہ سے زیادہ ہے۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔

تیسرا اور آخری حصہ اس لنک پہ پڑھیے

پچھلا حصہ پڑھنے کے لئے اس لنک پہ کلک کیجئے

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20