اشتہاری غلام ——– مبشر اکرام

0

اشتہارات کی کمپنیوں کو ڈیٹا دینے میں مسئلہ کیا ہے؟ دو مثالوں سے سمجھیں۔ کسی کو لگ رہا ہے کہ اسکی یا اسکی جانو کی وہ والی تصاویر لیک ہوجانی ہیں تو ایسا کچھ نہیں۔ ایسی حرکتیں کرکے انہوں نے بزنس سے اپنا بوریا بستر گول نہیں کروانا۔ بات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

آپکو ایک عدد بیگ کی ضرورت ہے۔ آپ بازار جاتے ہیں خریدتے ہیں استعمال کرتے ہیں یہ ہوگئی بالکل ٹھیک بات۔
آپکو ایک عدد بیگ کی ضرورت ہے آپ آن لائن کوئی سٹور کھولتے ہیں، وہاں تصاویر اصل یانقل ہیں۔ آپ لوگوں کے ریویو پڑھتے ہیں۔ بیگ خرید لیتے ہیں وہ اچھا نکلتا ہے تو استعمال کرتے ہیں۔ برا نکلا ہے تو منفی فیڈ بیک دیتے ہیں اور آئندہ ان سے چیز نہیں لیتے یہ بھی ہوگئی درست بات۔

آپکو بیگ کی ضرورت نہیں ہے لیکن آپ گوگل پر غلطی سے کسی بیگ کی تصویر پر کلک کر بیٹھتے ہیں یا اپنی بیوی کو میسج کرتے ہیں کہ میرا بیگ تھوڑا چھوٹا ہے اس لیے زیادہ سامان نہیں رکھا۔ یا آپ کسی دوست کو میسج میں پوچھ لیتے ہیں کہ تصویر میں جو بیگ پہنا ہوا ہے وہ کہاں سے لیا کتنے کا لیا۔ یاد رکھیے کہ آپ اپنے موجودہ بیگ سے خوش ہیں اور نیا نہیں خریدنا چاہ رہے۔ آپکے میسج کرنے کی دیر تھی کہ ایڈ کمپنیر کا سارا کا سارا فوکس اب اس بات پر ہے کہ آپکو بیگ بیچنا ہے۔ فیس بک کھولتے ہیں کچھ پڑھنے کے لیے تو بیگ کا اشتہار۔ گوگل پر کچھ سرچ کرتے ہیں تو بیگ کا اشتہار۔ نئے سے نیا بیگ آپکو اتنی بار دکھایا جاتا ہے کہ آپکی بیگ کے لیے بھوک جاگ اٹھتی ہے۔ آپکو اپنا پہلا بیگ ہر نیا بیگ دیکھنے کے بعد مزید پرانا لگنے لگتا ہے۔ آپ ایک چیز کو بار بار دیکھ کر ذہن کو یہ سمجھانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں کہ سیل میں لگا یہ بیگ نہ خرید کر میں خود کیساتھ ایک بڑی زیادتی کروں گا۔ بس خواہش انہوں نے پیدا کرنی تھی وہ انہوں نے کردی۔ آپ اشتہار نہ دیکھتے تو نہ خواہش کبھی نہ جاگتی۔ آپکا بجٹ ٹائیٹ ہے۔ اب وہ آپکو کریڈٹ کارڈ سے بیس فیصد ڈسکائونٹ کی آفر کرتے ہیں۔ آپ سوچتے ہیں کہ کیا ہوا اگلے مہینے دے دوں گا۔ آپ یہ نہیں سوچتے کہ اگلے مہینے تک انتظار کیوں نہ کرلوں۔ آپ یہ بھی نہیں سوچتے کہ اس مہینے دو ہزار نہیں بچے تو اگلے مہینے کیسے بچیں گے؟ لیکن آپ نہیں سوچیں گے کیونکہ آفر دو گھنٹے بعد ختم ہونے والی ہے۔ اتنا سوچنے کا تو وقت ہی نہیں۔ آپ بیگ خرید لیتے ہیں۔ یوں آپ کنزیومرازم consumerism کے اس سسٹم کا حصہ بنتے ہیں جو ضروریات کی بجائے خواہشات پر چلتا ہے۔ بیگ ضرورت ہو تو خریدنا برا نہیں۔ اچھا خریدیں اور خوب مضبوط خریدیں۔ لیکن برا تب ہے جب آپکو بلاوجہ اشتہا دلائی جائے۔

یہی کچھ کھانے میں ہوتا ہے۔ آپ بھوکے نہیں ہیں لیکن اشتہار دکھا کر، ڈسکائونٹ کا لالچ دیکر آپکو بتایا جاتا ہے کہ ابھی آرڈر کریں گے تو چار سو کی بچت ہوگی۔ یہ آپکو سمجھ نہیں آتی کہ جو ہزار بنا بھوک کے دے رہا ہوں وہ نہ صرف ہزار کا نقصان ہے بلکہ صحت کا بھی نقصان ہے۔

اب آپکو الماری فضول چیزوں سے بھر چکی۔ پیٹ جنک فوڈ کھا کھا کر بڑھ چکا۔ اب وہی ایڈ کمپنی آپ سے کہتی ہے کہ فلاں جم اتنی ڈسکائونٹ دے رہا ہے۔ پھر اشتہار میں مبالغہ آرائی ہوگی۔ اشتہار میں حسین چہروں سے لیکر حسین رانوں تک دکھایا جائے گا۔ وہی کمپنی جو آپکو ابھی کہ رہی تھی یہ پیزہ نہ کھانا زیادتی ہوگی اب وہی کہ رہی ہوگی کہ اس جم میں ممبر شپ نہ لینا زیادتی ہوگی جہاں ایسے پری چہرہ لوگ ٹریننگ کراتے ہیں اور ایسے خوبصورت جسم ٹریننگ کرتے ہیں۔ آپ پھر چکر میں آجاتے ہیں۔

آپ دس ہزار کا پیزا بھی کھاتے ہیں اور دس ہزار جم کے بھی دیتے ہیں لیکن مسئلہ حل نہیں ہوتا کیونکہ مشینوں نے آپ کے اندر سے اپنی قوت ارادی کو یکسر ختم کردیا ہے۔ آپ انجانے میں اپنے دماغ کی نہیں بلکہ اشتہاروں کی بات مانے چلے جارہے ہیں۔ موبائل آپکو جم کی ممبر شپ دلوا سکتا ہے لیکن زبردستی اٹھا کر جم نہیں بھیج سکتا۔ جم تو دور کی بات بلکہ وہ آپکو واک کروانے بھی نہیں لیجا سکتا۔ وہ اس کام کے لیے پروگرام ہی نہیں کیا گیا۔ اسکا دھرم ہے کہ آپکو سکرین سے جوڑے رکھے۔ سو وہ اپنا دھرم نبھا رہا ہے۔ آپکو اپنا دھرم نبھانا ہے۔ ایڈ کمپنی کو اپنا۔

اب سوال یہ ہے کہ آپ نے کیا فیصلہ کیا ہے۔ ان اشتہارات کا مزید غلام بننے کے لیے اپنا ڈیٹا انکو دینا ہے۔ یا آزاد رہنے کے لیے، صرف ضروریات کا سوچنے کے لیے، خود کو صحت مند رکھنے کے لیے انکو اپنا ڈیٹا نہیں دینا۔ بس یہ ایک سادہ سا سوال ہے جواب آپ خود تلاش کرلیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20