سپریم کورٹ سے، کورٹ رپورٹنگ پر اردوکی پہلی کتاب —- نعیم الرحمٰن

0

سینئر صحافی الیاس چوہدری 18جون 1947ء کو جالندھرمیں پیدا ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد ان کے ایک رشتہ دار بریگیڈئر مظفر فوجی ٹرک پران کے خاندان کو بحفاظت پاکستان لے آئے۔ ہنستا بستا گھر چھوڑ کر لیکن جانیں اور عزتیں بچا کر پاکستان پہنچ گئے۔ کبھی خود کو مہاجر نہیں کہلایا۔ الیاس چوہدری نے میٹرک تک تعلیم مشن ہائی اسکول راولپنڈی سے حاصل کی۔ گورنمنٹ ڈگری کالج سے بی اے اور گارڈن کالج سے پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرز کی ڈگری لی۔ معاش کیلیے وزارتِ تجارت سے آغاز کیا اور بینک میں بھی ملازمت کی مگر دل و دماغ مطمئن نہ ہوسکے۔ دل فنونِ لطیفہ کی جانب مائل تھا۔ شاعری، موسیقی، ادب اور لکھنے پڑھنے میں دل لگتا تھا۔ دل کی مانتے ہوئے صحافت کی دنیامیں قدم رکھا۔ روزنامہ جنگ میں سترکی دہائی میں سٹی رپورٹر کی حیثیت سے تعینات ہوئے۔ چوبیس سال جنگ میں بطور رپورٹر کام کیا۔ سپریم کورٹ اور سیاست ان کی بیٹ تھیں۔ سرکاری خبررساں ایجنسی اے پی پی اورسینٹ آف پاکستان میں بطور ڈائریکٹر میڈیا بھی کام کیا۔ آخر میں اپنا اخبار Morning Mail نکالا۔ اشتہار مافیا سے تنگ آکر اسے ایک دوست کے حوالے کردیا۔ یوں الیاس چوہدری کی صحافت سے وابستگی کو نصف صدی ہونے کو آئی ہے۔ تمام امور سے فارغ ہوکر انہوں نے تصنیف و تالیف سے ناطہ جوڑا ہے۔ ان کی پہلی کتاب ’’سپریم کورٹ سے‘‘ شائع ہوگئی ہے اور اب سیاست پر دوسری کتاب لکھ رہے ہیں۔

انور جمال فاروقی نے بیک پیچ پر اظہارخیال کرتے ہوئے لکھا ہے۔ ’’تقویٰ کی تعریف یہ ہے کہ ناہموار راستوں اور خاردار کانٹوں سے خود کو اس طرح بچا کر نکال لیاجائے کہ دوست بھی بے اختیار کہہ اٹھیں۔
دامن پہ نہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ۔ ۔ تم قتل کرو ہو کہ کرامات کروہو

چاردہائیوںسے زیادہ صحافت میں رہنے کے بعدخود کو بچالے جانا، بیشک وہ اعزاز ہے جوکم کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ کردارکے اس وکٹری اسٹینڈ پر الیاس چوہدری پورے وقار اور اعتماد سے کھڑے ہیں۔ کسی بھی انسان (بیشک وہ صحافی ہی کیوں نہ ہو) کے لیے اپنے تجربات کاغذ پرمنتقل کرنا آسان نہیں ہوتا اور پھر سپریم کورٹ کے طریقہ کار پر لکھنا دشوار کام ہے۔ میراخیال ہے کہ یہ کتاب ایک تاریخی دستاویز کی حیثیت میں شمارکی جاسکتاہے۔‘‘

’’سپریم کورٹ سے‘‘ رپورٹنگ، مشاہدات، تجربات، واقعات اور یادیں اردو میں کورٹ رپورٹنگ پرپہلی کتاب ہے۔ کتاب لکھنے کی وجہ اور ترغیب بارے میں الیاس چوہدری کہتے ہیں۔ ’’لکھنے کاسلسلہ کالم کے زمانے سے شروع ہوا۔ میری پہلی بائی لائین رپورٹ جنگ اخبار میں اس وقت شائع ہوئی جب میں نے کالج میں تقریری مقابلوں کی روئیداد لکھ کراخبار کو بھیجی، جس کی بہت زیادہ پذیرائی ہوئی اور مجھے مزید لکھنے کا شوق پیدا ہوا۔ سپریم کورٹ کی رپورٹنگ کرتے ہوئے اتنا عادی ہوگیا تھا کہ سوچتا تھا کہ ریٹائرڈ بھی ہوگیا تو سپریم کورٹ روزانہ آیا کروں گا۔ ایس ایم ظفر نے ’’میرے مشہور مقدمے‘‘ چوہدری اعتزاز احسن نے ’’انڈس ساگا‘‘ اور میاں رضا ربانی نے ’’Invisible People‘‘ لکھیں۔ تو مجھے بھی ایک کتاب لکھنے کی تحریک ملی۔ رپورٹنگ کی ہمہ وقتی ذمہ داریوں کی وجہ سے کتاب نہ لکھ پایا۔ بیوی آڑے آگئی۔ اس کا موقف تھاکہ دن رات خبروں میں گھسے رہتے ہو گھر آکر بھی لکھنا شروع کر دیا۔ اب جبکہ رپورٹنگ سے فارغ ہوا تو اپنی یادداشتیں مرتب کرنے کا موقع مل گیا۔‘‘

الیاس چوہدری کورٹ رپورٹنگ کے بانی ہیں۔ اس بارے میں وہ لکھتے ہیں۔ ’’1983ء میں جب سوائے پی ٹی وی کے کوئی چینل نہیں ہوتا تھا، اخبارات بھی گنتی کے تھے یعنی جنگ، نوائے وقت، ڈان، دی نیوز، پاکستان ٹائمزاوربس۔ اسلام آباد، راولپنڈی میں میری سماجی حیثیت نمایاں تھی۔ ضیاالحق کے دور میں سیاست پر پابندی تھی۔ اخبارات مقامی خبریں ہی نمایاں طور پر شائع کرتے تھے۔ سپریم کورٹ کی خبروں کا کوئی تصور ہی نہ تھا، اس وقت سپریم کورٹ کی پشاورروڈ پر واقع ایک عمارت میں ہوتی تھی۔ سپریم کورٹ کی عمارت سے ذرا آگے میرا گھر تھا۔ سٹی رپورٹرہونے کے ناطے سپریم کورٹ کی کوریج میری ہی بیٹ تھی۔ گھرسے موٹر سائیکل پر جاتے ہوئے جب سپریم کورٹ کے احاطے میں زیادہ گاڑیاں کھڑی نظر آتیں تو میں سمجھتا کہ کوئی اہم کیس ہے اورمیں رپورٹنگ کرنے سپریم کورٹ چلا جاتا تھا۔ شرو ع شروع میں کارروائی سر کے اوپر سے نکل جاتی اور مجھے نیند آنے لگتی۔ جب کارروائی سمجھ میں آنے لگی اوردلچسپی پیدا ہوگئی تو نیند بھی آنابند ہوگئی۔ میں سپریم کورٹ کابے تاج بادشاہ تھاکوئی اخبار مقابل نہ تھا۔ ایک دن کی خبریں دوسرے اور تیسرے دن فائل کرتا۔ ان دنوں جسٹس حلیم چیف جسٹس تھے جوبڑے اپ رائٹ جج گزرے ہیں۔ ایک دن کوئی خبرمعلوم کرنے کے لئے چیف جسٹس کے گھر فون کردیا، چیف جسٹس نے صبح دفترمیں ملنے کو کہا۔ اگلے روزچیف جسٹس سے ملاقات کے شوق میں ٹوپیس سوٹ پہن کرگیا۔ رجسٹرار کو بتایا کہ مجھے چیف جسٹس نے بلایا ہے، انہوں نے کہاکہ آپ ہیں جنہوں نے چیف جسٹس کو گھر پر فون کیا تھا۔ آپ کے لیے بہترہے کہ خاموشی سے نکل جاؤ اور چار پانچ روز نظرنہ آؤ۔ چیف جسٹس سخت ناراض ہیں۔ اسی طرح ایک تقریب میں چیف جسٹس کے قریب چلا گیا اور زیرِ التوا مقدمات کے حوالے سے سوال بھی جڑدیا، اتنے میں چیف جسٹس کے سیکریٹری نے پیچھے سے میرے دونوں بازو پکڑے اور ایک طرف لے جاکر کہا کہ آپ جج صاحب سے بات نہیں کرسکتے۔ گویا جج میڈیا اور لوگوں سے الگ تھلگ رہتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے حوالے سے میری خبریں تواترسے شائع ہونے لگے تو دوسرے اخبارات نے بھی اپنے رپورٹر سپریم کورٹ بھیجنا شروع کیے۔ شاید میں یہ دعویٰ کرنے میں حق بجانب ہوں کہ سپریم کورٹ کوریج کی ابتداء میں نے کی۔ چیف جسٹس عبدالحلیم انتہائی کم گو اور دھیمے لہجے میں گفتگو کرتے تھے۔ میں نے ایک ملاقات میں ان سے کہاکہ جناب جج صاحبان کوئی بات کرتے ہیں توہیں سنائی نہیں دیتی اور رپورٹنگ میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ چیف جسٹس نے اسی وقت عملے کو ہدایت کی کہ بنچ میں شامل ہرجج کے سامنے مائیک ہوناچاہیے۔ جسٹس ارشاد چیف جسٹس بنے تواس وقت تک نئے اخبارات اور نجی چینل بھی آچکے تھے، رپورٹرز کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتاچلاگیا۔ ایک دن بار روم میں سیکریٹری فنانس سے میری تلخ کلامی ہوگئی۔ میں نے اس کی شکایت چیف جسٹس ارشاد سے کی، وہ اخباری رپورٹرز کو بڑی عزت دیتے تھے۔ انہوں نے کہاکہ آپ کی اس شکایت کاحل نکالتا ہوں کیوں نہ آپ کو ایک کمرہ الاٹ کردوں جس میں رپورٹر آکر بیٹھیں اور اپنی خبریں وغیرہ تیارکرلیں۔ ان کے حکم پر رجسٹرارنے سپریم کورٹ بارکے صدرکے کمرے سے ملحق کمرہ الاٹ کردیا، ایک میز اور چند کرسیاں بھی دیدیں۔ میں نے رپورٹرز کے مشورے سے باقاعدہ تنظیم سپریم کورٹ رپورٹرایسوسی ایشن قائم کرلی۔‘‘

قیام ِ پاکستان سے دوہزاربیس تک سپریم کورٹ کے ستائیس جج تعینات ہوچکے ہیں۔ 27جون 1949ء کو پہلے چیف جسٹس سر عبدالرشید نے عہدے کاحلف لیا۔ موجودہ چیف جسٹس گلزار احمد نے دسمبر2019ء کو ستائیسویں چیف جسٹس کا حلف اٹھایا۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اے آر کارنیلس کرسچن اور رانا بھگوان داس ہندو تھے۔ سب سے زیادہ مدت چیف جسٹس محمدحلیم 3205دن عہدے پر فائز رہے۔ افتخار محمد چوہدری 2408 دن چیف جسٹس رہے۔ چیف جسٹس شہاب الدین صرف نو دن چیف جسٹس رہے۔ وہ 12مئی 1060ء کوحلف لینے کے صرف نودن بعدآفس ہی میں انتقال کرگئے۔ آئین کے تحت سپریم کورٹ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت ہے۔ ملک کے چاروں صوبوں اوراسلام آباد میں ایک ایک ہائی کورٹ قائم ہے۔ سپریم کورٹ ایک چیف جسٹس اورسولہ جج صاحبان پرمشتمل ہے۔ ججوں کی تعداد، تقرری کا طریقہ کار، اہلیت، ریٹائرمنٹ سب کچھ آئین میں درج ہے۔ آئین عدلیہ کی آزادی کی بھی ضمانت دیتاہے۔ ریاست کے تینوں ستون عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ کے درمیان ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے سپریم کورٹ گاردین کا کردار بھی اداکرتی اور تمام ستونوں کو اپنے اپنے دائرہ کارنے اندر رہ کرکام کرنے کاپابندبناتی ہے۔ آئین کی تشریح کا اختیار صرف سپریم کورٹ کو حاصل ہے۔ صوبائی اور مرکزی حکومت کے درمیان تنازع ہویاکسی فردکاریاست کے ساتھ جھگڑا ہو تو سپریم کورٹ ثالث کا کردار بھی ادا کرتی ہے، گویا ریاست کو متحد رکھنا اور بنیادی حقوق کا تحفظ سپریم کورٹ ہی کا کام ہے۔ اللہ کے بعد زمین پر آخری حکم سپریم کورٹ کا ہی چلتا ہے، بشمول فوج تمام ادارے اس کے احکاما ت کی بجاآوری کے پابند ہیں۔

8اکتوبر 1958ء کو جنرل ایوب خان نے ملک کا پہلا آئین توڑ کرمارشل لاء لگادیا۔ تین دن تک ملک میں کوئی آئین نہیں تھا، پھر نیولیگل آرڈر آیا جس کے تحت عدالتیں بحال ہوئیں تو مشہور دوسو کیس جو ایک قتل کا مقدمہ تھا اور اسمبلی توڑنے کے اقدام کو چیلنج بھی نہ کیا گیا تھا۔ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار چیف جسٹس منیر نے قتل کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ چیف آف آرمی اسٹاف کو مارشل لاء لگا نے کا آئینی اختیارحاصل ہے کیونکہ کامیاب فوجی انقلاب خود اپنا آئینی جواز پیدا کرتا ہے۔ اس لیے فیڈرل کورٹ مارشل لاء کو تسلیم کرتی ہے۔ عدلیہ کی یہ کمزوری آخر کار عدالتی نظام کی خرابی کی بنیاد بنی۔

’’سپریم کورٹ سے‘‘ میں الیاس چوہدری نے بے شمار دلچسپ واقعات تحریر کیے ہیں۔ ان کے مطابق 1988ء پاکستان کی تاریخ کا ہنگامہ خیز سال تھا۔ چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ضیاءالحق، ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل کرانے کے بعد اپنے اقتدار کو طول دیتے رہے۔ 1988ء میں عالمی سطح پر افغانستان میں روسی جارحیت کا خاتمہ ہوگیا اور اس ضمن میں جنیوا معاہدہ سائن ہوا۔ میں نے معاہدے کی خبرفائل کی تو ہمارے نیوز ایڈیٹر ہارون رشید نے کہاکہ ’’لو بھئی ضیاء الحق کا رول ختم ہوگیا‘‘ پھر 17اگست کوطیارہ حادثے میں وہ مارے گئے۔ اس سے پہلے ضیاء الحق نے جونیجو حکومت کا خاتمہ کر دیا، اور غیر جماعتی انتخابات کرانے کااعلان کیا۔ جسٹس محمدحلیم کی سربراہی میں سپریم کورٹ بنچ نے حکومت کے خاتمے کی سماعت کی۔ سپریم کورٹ نے صدرکے اسمبلی توڑنے کے اقدام کو غیر قانونی قراردیا، لیکن اسمبلی بحال نہیں کی۔ کچھ مدت بعد یہ بات کھلی کہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل مرزا اسلم بیگ نے سینئر ایڈوکیٹ وسیم سجادکے ذریعے اسمبلی بحال نہ کرنے کا پیغام بھجوایا تھا۔ تاہم الیکشن جماعتی بنیادوں کرائے گئے۔ پیپلز پارٹی کی چیئرمین محترمہ بےنظیر بھٹو مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم بن گئیں۔

بے نظیرحکومت اٹھارہ ماہ بعد ہی ختم کردی گئی اور الیکشن میں آئی جے آئی بنا کر اسے پیپلزپارٹی کے سامنے لا کھڑا کیا گیا۔ آئی جے آئی کو فنڈز بھی آئی ایس آئی نے فراہم کیے۔ ایئرمارشل اصغر خان کیس میں جنرل اسد درانی نے نواز شریف، عابدہ حسین، غلام مصطفٰے جتوئی اور دیگر کو کیش رقوم دینے کا اقرار کیا۔ ایئرمارشل اصغرخان یہ معاملہ سپریم کورٹ لے گئے، جہاں جنرل اسد درانی اور دیگرنے بیانات ریکارڈ کرائے۔ طویل عرصہ زیرِالتوا رہنے کے بعد چیف جسٹس افتخار چوہدری کریڈت لینے کی خاطراسے زیرسماعت لائے اور 19اکتوبر 2012 ء کواس کا فیصلہ سنایا۔ یہ عدلیہ کی تاریخ کا کمزور ترین فیصلہ تھا جس میں پیسے دینے والوں، یعنی ریٹائرڈ جرنیلیوں کے خلاف کارروائی کرنے اور پیسے لینے والے سیاستدانوں کے بارے میں کہاکہ حکومت ایف آئی اے کے ذریعے ان کے خلاف ایکشن لے۔ اس کے برعکس دیگر مقدموں میں سپریم کورٹ نے براہ راست نااہلی کے حکم سنائے۔ دوہری شہریت رکھنے والوں کو اپیل کاآئینی حق دیئے بغیر نااہل کردیا۔ 3نومبر کو جنرل پرویزمشرف نے عدلیہ پرشب خون مارا تو سپریم کورٹ کے ایک بنچ نے اپنے حکم کے ذریعے ججوں اور چاروں کور کمانڈروں کو متنبہ کیاکہ وہ جنرل پرویز مشرف کے حکم پرعمل درآمدنہ کریں مگر عمل درآمد ہوگیا جب عدلیہ بحال ہوئی تو اس نے حکم عدولی پر ججوں کو توہین ِ عدالت کے نوٹس دیے مگر کور کمانڈروں کی حکم عدولی کو گول کردیا۔

6اگست 1990ء کو غلام اسحاق خان نے بے نظیرحکومت برطرف کردی۔ اسمبلی توڑتے ہوئے کرپشن اور اقرباپروری کے الزامات لگائے اور یہ کہیں ثابت نہ کیا آئین کے مطابق امورِ سلطنت چلانے مشکل ہوگئے تھے، خواجہ طارق رحیم کیس میں عدالت نے بھی ان الزامات کو جوں کا توں تسلیم کرلیا۔ 18اپریل 1993ء غلام اسحق خان نے نوازشریف اسمبلی کو بھی انہیں الزامات پر توڑ دیا۔ اقدام چیلنج ہوا، تو اس مرتبہ سپریم کورٹ نے اپنے ہی فیصلے کو الٹا دیا۔ بے نظیر کیس میں کہا کہ کرپشن کو اسمبلی توڑنے کا جواز بنایا جاسکتا ہے مگرنوازشریف کیس میں کہا کہ کرپشن کو اسمبلی توڑنے کی وجہ نہیں بنایا جاسکتا۔ جبکہ یہ فیصلہ اتنا غلط تھاکہ بحال اسمبلیوں اور وزیراعظم کوصرف باون دن بعد دوبارہ گھرجانا پڑا۔

زرداری دور میں صدر اور وزیراعظم صلح جوئی اور قومی مفاہمت کے پیغامات دے رہے تھے اور عدلیہ محاذآرائی پرتلی ہوئی تھی۔ سپریم کورٹ میں اٹھارہ ہزارمقدمات زیرِ التوا تھے مگر سپریم کورٹ کاسترہ ججوں پر مشتمل فل کورٹ اس بات کا جائزہ لیتا رہا کہ 18ویں ترمیم کے تحت ججو ں کی تقرری کا اختیار جوڈیشل کمیشن کونہیں صرف چیف جسٹس کو ہونا چاہئے۔ آئینی اصلاحات کمیٹی نے توازن پیداکرتے ہوئے مختلف ارکان پرمشتمل کمیشن کو اختیار دینے کو کہا۔ پی ایم ایل ن نے کمیشن کا سربراہ چیف جسٹس کوبنانے کی تجویز دی۔ حکومت نے یہ تجویز بھی مان لی۔ لیکن عدلیہ یہ اختیار کمیشن کو دینے کو تیار نہ تھی۔ چنانچہ سب کام چھوڑ کر جوڈیشل کمیشن کے خلاف دائر درخواستوں کو سننے کا فیصلہ کیا گیا۔ گویا دنیا بھر کے کام چھوڑ کر اختیارات کے حصول کے مقدمے کو ترجیح دی گئی۔ نوے کی دہائی کے مقدمے زیرِ التوا تھے اور دو ہزار دس میں دائر مقدموں کی پہلے سماعت کے لیے فکس کردیاگیا۔ پھر سپریم کورٹ نے وفاقی سیکریٹریوں کی ترقی کے مقدمے کو ترجیح دیتے ہوئے سنا۔ پھر ایف نائن پارک میں ایک معروف کمپنی کو جگہ دینے کو سنا۔ اس سے پہلے پی سی او ججوں کو فارغ کرنے کے مقدمے کی سماعت کی۔ روایت ہے کہ تاتاریوں نے بغداد پرحملہ کیا تو شہرمیں یہ بحث زور و شور جاری تھی کہ کو احرام ہے یاحلال۔ اس سے پہلے یہ بحث تھی کہ فرشتے مذکرہوتے ہیں یا مونث۔ ادھر تاتاریوں نے بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ تاریخ سے یہی سبق ملتاہے کہ جو قومیں فروعی بحثوں میں الجھی رہتی ہیں وہ تباہ ہوجاتی ہیں۔ یہی منظر آج ہمارے ملک کے پچاس ٹی وی چینلز پر جاری ہے، جہاں پورے ملک کو فروعی بحثوں الجھا کر نظام کوہائی جیک کیا ہوا ہے۔ وزیراعظم سے لے کر کابینہ ارکان، اپوزیشن لیڈر اور سیاسی جماعتوں کے تمام رہنما فروعی بحثوں میں مصروف نظر آتے ہیں۔

’’سپریم کورٹ سے‘‘ میں یہ اور ایسے بے شمار حقائق اور دلچسپ واقعات موجود ہیں۔ کتاب کے ہرصفحے پر ایک نیا انکشاف اور کوئی انوکھی بات موجود ہے، جوقاری کی توجہ ہٹنے نہیں دیتی۔ کتاب کے آخر میں سپریم کورٹ سے متعلق چند دلچسپ واقعات پیش کیے گئے ہیں۔

’’ڈاکٹر بابر اعوان کی حاضرجوابی کا واقعہ ہے کہ سپریم کورٹ بنچ قتل کے مقدمے کی سماعت کررہاتھا۔ ایک جج نے استفسار کیا کہ آپ جو ریلیف مانگ رہے ہیں اس کی تو استدعا ہی نہیں کی گئی۔ ڈاکٹر بابر اعوان نے برجستہ کہا۔ ’سر میں ظفر علی شاہ کیس پر انحصار کر رہا ہوں۔ بنچ کے جج مسکرائے بغیر نہ رہ سکے۔ ظفر علی شاہ کیس میں جنرل پرویز مشرف نے آئین میں ترمیم کا اختیار نہیں مانگا تھا جبکہ سپریم کورٹ نے ان کے بارہ اکتوبر کے اقدام کو درست قرار دیتے ہوئے آئین میں ترمیم کا اختیار بھی دیدیا۔‘‘

’’جسٹس فقیرمحمد کھوکھر اپنے حافظے کے لیے بہت مشہور تھے۔ انہیں دن مہینوں کے علاوہ قانون کی کتابوں کے صفحہ نمبر بھی یاد رہتے تھے۔ ایک قتل کے مقدمے میں سینئر وکیل نے اہم قانونی نکتہ اٹھایا تو بنچ میں شامل تینوں ججوں اس نکتہ پر اتفاق کرتے ہوئے ریلیف دیدیا۔ جسٹس فقیرمحمدنے اپنا حافظہ بروئے کارلاتے ہوئے کہاکہ قتل کے فلاں مقدمے میں (جو ابھی زیرِ التوا تھا) بھی یہی نکتہ تھا۔ کورٹ اسسٹنٹ کو حکم ہوا کہ اس مقدمے کی فائل نکال کر لاؤ۔ فائل آئی تو فاضل بنچ نے اسی قانونی نکتہ پر زیرِالتوا مقدمے کے ملزم کوبھی وہی ریلیف دیتے ہوئے آرڈر لکھوایا اور جیل میں بیٹھا ملزم بھی بغیر کسی دلیل اور وکیل رہا ہوگیا۔‘‘

’’حب کو مقدمے میں عبدالحفیظ پیرزادہ نے تقریباً چھ کروڑ روپے فیس لی تھی جبکہ واپڈا کے سینئر ایڈوکیٹ فخرالدین جی ابراہیم چند ہزارفیس لے کرپیش ہو رہے تھے۔ چیئرمین واپڈا بھی کارروائی سننے آیا کرتے تھے۔ ایک دن چیئرمین واپڈا گپ شپ کر رہے تھے کہ ایک طرف سے بلیوکلر کی لش پش مرسیڈیز گاڑی آئی۔ چیئرمین واپڈا نے پوچھا یہ کس کی گاڑی ہے تو انہیں بتایا گیا کہ عبدالحفیظ پیرزادہ کی کارہے توان کی آنکھیں پھٹی رہ گئیں۔ کہنے لگے پیرزادہ تو پپو ہیں اور ہم ڈبو کے ڈبورہے۔‘‘

اردو میں کورٹ رپورٹنگ پرپہلی کتاب ’’سپریم کورٹ سے‘‘ انتہائی دلچسپ اور قابل مطالعہ ہی نہیں بہت معلوماتی بھی ہے۔ جس میں ہماری عدالتوں اورسیاست کی بوالعجبیوں کا بیان قاری کی توجہ جذب کرلیتاہے۔ الیاس چوہدری کی اگلی کتاب کا انتظار رہے گا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20